حدیث نمبر: 38260
٣٨٢٦٠ - حدثنا معتمر بن سليمان عن (شعيب) (١) (أبي زياد) (٢) عن أبي رجاء قال: كان هذا المكان من ابن عباس مجرى الدموع، مثل الشراك البالي من الدموع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آنسو بہنے کی جگہ آنسوؤں کے بہنے سے بوسیدہ تسموں کی طرح ہوچکی تھیں۔
حدیث نمبر: 38261
٣٨٢٦١ - حدثنا (عبدة) (١) بن سليمان عن الأعمش عن (شمر) (٢) بن (عطية) (٣) عن (المغيرة) (٤) بن (سعد) (٥) بن الأخرم قال: (ما) (٦) (خرج) (٧) عبد اللَّه إلى السوق فمر على الحدادين فرأى ما يخرجون من النار (إلا) (٨) (جعلت) (٩) عيناه تسيلان (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن سعد بن اخرم کا کہنا ہے کہ عبداللہ جب بازار میں لوہاروں کے پاس سے گزرتے تو ان کی آگ سے نکالی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر ان کے آنسو نکل آیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 38262
٣٨٢٦٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح قال: لما قدم أهل اليمن في زمان أبي بكر فسمعوا القرآن (فجعلوا) (١) يبكون فقال أبو بكر: هكذا كنا، ثم قست القلوب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی صالح فرماتے ہیں کہ جب اہل یمن ابوبکر کے زمانے میں تشریف لائے اور انہوں نے قرآن سنا تو رونے لگے۔ ابوبکر نے فرمایا ہم بھی اس طرح ہوا کرتے تھے پھر دل سخت ہوگئے۔
حدیث نمبر: 38263
٣٨٢٦٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد مولى أبي أسيد قال: كان عمر إذا صلى أخرج الناس من المسجد فأخذ إلينا، فلما رأى أصحابه ألقى الدرة وجلس فقال: ادعوا، فدعوا، قال: فجعل يدعو ويدعو حتى انتهت الدعوة إليَّ، فدعوت وأنا مملوك، فرأيته دعا وبكى بكاء (١) لا تبكيه الثَّكْلى، ⦗٥٣⦘ فقلت في نفسي: هذا الذي (تقولون) (٢) (لم هو) (٣) غليظ؟ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسید کے مولی ابوسعید سے منقول ہے کہ عمر نے جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور ہماری طرف کو چل پڑے۔ جب اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو ” درۃ “ کو رکھا اور بیٹھ گئے، فرمانے لگے کہ دعا کرو تو وہ سب لوگ دعا کرنے لگے۔ پھر وہ باری باری دعا کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دعا کی میری باری آگئی اور میں نے بھی دعا کی اور میں اس وقت غلام تھا۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے دعا مانگی اور اتنا روئے کہ کوئی عورت جس کا بچہ گم ہوگیا ہو وہ بھی اتنا نہیں روتی۔ میں نے اپنے جی میں سوچا کہ ” کیا یہی وہ شخص ہے کہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ بہت غصہ والا ہے۔
حدیث نمبر: 38264
٣٨٢٦٤ - حدثنا ابن مبارك عن الربيع بن أنس عن أبي داود عن أبي بن كعب قال: عليكم بالسبيل والسنة، فإنه ليس (من) (١) عبد على سبيل وسنة: ذكر الرحمن ففاضت عيناه من خشية اللَّه (فمسته النار أبدا، وليس من عبد على سبيل وسنة: ذكر اللَّه فاقشعر جلده من خشية اللَّه) (٢) إلابيان مثله كمثل شجرة يَبس ورقها فهي كذلك (إذ) (٣) أصابتها ريح، فتحات ورقها عنها إلا تحاتت خطاياه (٤) كما يتحات (عن) (٥) هذه الشجرة ورقها، وإن اقتصادا في (سنة) (٦) وسبيل خير من اجتهاد في (غير) (٧) سنة و (٨) سبيل، فانظروا أعمالكم، فإن كانت اقتصادا واجتهادا أن تكون على منهاج الأنبياء وسنتهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب کا ارشاد ہے کہ تم پر سنت اور درست راستہ کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ جو سنت اور درست راستہ پر ہو اور اس کی خشیت الٰہی کی وجہ سے آنکھیں بہہ پڑیں پھر اس کو جہنم کی آگ چھوئے۔ اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو سنت اور درست راہ پر ہو اور اس کی کھال اللہ کے خوف سے کانپ اٹھے مگر اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے کہ جو خشک ہوچکا تھا اور وہ اسی حالت میں تھا کہ اچانک ہوا چلی اور اس کے پتے کے پتے اس سے جھڑ کر گرگئے۔ اسی طرح اس کے بھی صرف گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں۔ سنت اور درست راستہ میں میانہ روی بہتر ہے سنت اور درست راستہ کے علاوہ میں جدوجہد کرنے سے بس تم اپنے اعمال کا جائزہ لو اگر ان میں میانہ روی اور مجاہدہ موجود ہے تو یہ اعمال انبیاء اور ان کی سنت پر ہی ہیں۔
حدیث نمبر: 38265
٣٨٢٦٥ - حدثنا ابن عيينة عن إسماعيل بن محمد بن سعد بن أبي وقاص عن عبد اللَّه بن شداد (أنه) (١) قال: سمعت (نشيج) (٢) عمر وأنا في آخر الصف وهو يقرأ سورة يوسف: ﴿قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ [يوسف: ٨٦] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کی ہچکیوں کی آواز سنی جبکہ میں آخری صف میں تھا اور وہ سورة یوسف کی آیت {إنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَی اللہِ } تلاوت کررہے تھے۔
حدیث نمبر: 38266
٣٨٢٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن سالم بن عبد اللَّه أن ابن عمر قرأ: ﴿(وَ) (١) إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ﴾ [البقرة: ٢٨٤] الآية، فدمعت عيناه فبلغ صنيعهُ ابن عباس فقال: يرحم اللَّه أبا عبد الرحمن لقد صنع كما صنع أصحاب رسول اللَّه ﷺ حين أنزلت، فنسختها الآية (التي) (٢) بعدها: ﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾ [البقرة: ٢٨٦] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے قرآن پاک کی آیت { وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ ، أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللَّہُ } پڑھی اور رونے لگے تو ان کو یہ عمل ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے انہوں نے وہی کہا جو اس آیت کے نزول کے وقت اصحابِ رسول اللہ e نے کیا تھا۔ پھر اس آیت کو بعد میں اس آیت نے منسوخ کردیا تھا : { لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ }
حدیث نمبر: 38267
٣٨٢٦٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (ابن) (١) عون عن عرفجة السلمي قال: قال أبو بكر: (ابكو) (٢)، (وإن) (٣) لم تبكوا فتباكوا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ” تم رویا کرو اگر رو نہ سکو تو رونے کی صورت بنا لیا کرو۔
حدیث نمبر: 38268
٣٨٢٦٨ - حدثنا أبو أسامة عن بن جريج قال: أخبرني ابن (أبي) (١) مليكة قال: أخبرني علقمة بن (٢) وقاص قال: كان عمر يقرأ في صلاة العشاء الآخرة بسورة يوسف وأنا في مؤخر الصفوف حتى إذا ذكر يوسف سمعت نشيجه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن وقاص فرماتے ہیں عمر عشاء کی نماز میں سورة یوسف تلاوت کیا کرتے تھے اور میں آخری صف میں تھا حتی کہ جب یوسف علیہ السلام کا ذکر آیا تو میں نے ان کی ہچکی کی آواز سنی۔
حدیث نمبر: 38269
٣٨٢٦٩ - حدثنا (ابن) (١) إدريس عن أبيه عن المنهال عن شقيق بن سلمة قال: دخلنا على خباب نعوده فقال: في هذا التابوت ثمانون ألفا ما شددتها بخيط ولا منعتها من سائل، فقالوا: علام تبكي؟ قال: مضى أصحابي ولم تنقصهم الدنيا شيئًا، وبقينا حتى ما نجد لها موضعا إلا التراب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم خباب کے پاس عیادت کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا کہ اس صندوق میں اسی ہزار ٨٠٠٠٠ گرہیں باندھ کر رکھی ہوئی ہیں اور میں نے ان سے کسی سائل کو نہیں روکا۔ ہم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کس بات پر روتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے ساتھی چلے گئے اور دنیا نے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا اور اب ہم باقی رہ گئے ہیں حتی کہ اب ہم اس کی سوائے مٹی کے اور کوئی جگہ نہیں دیکھتے۔
حدیث نمبر: 38270
٣٨٢٧٠ - حدثنا أبو أسامة عن موسى بن عبيدة عن أخيه عبد اللَّه بن عبيدة قال: (رأت) (١) صفية زوج النبي ﷺ قوما قرأوا سجدة فسجدوا، فنادتهم: هذا السجود والدعاء فأين البكاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ صفیہ آپ e کی بیوی نے لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے آیت سجدہ تلاوت کی پھر سجدہ کیا تو انہوں نے آواز دی کہ یہ تو محض سجدہ اور دعا ہے لیکن رونا کہاں چلا گیا ؟ “
حدیث نمبر: 38271
٣٨٢٧١ - حدثنا أبو أسامة عن داود الليثي قال: حدثنا البختري بن زيد بن خارجة أن رجلا من العباد مر على كور حداد مكشوف، فقام ينظر إليه فمكث ما شاء اللَّه أن يمكث، ثم شهق شهقة فمات.
مولانا محمد اویس سرور
حصرت بختری بن زیاد بن خارجہ فرماتے ہیں کہ عباد قبیلہ کا ایک آدمی کسی لوہار کی کھلی ہوئی دو کان کے پاس سے گزرا تو کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ پھر جتنا دیر اللہ نے چاہا وہ دیکھتا رہا بالآخر ایک چیخ ماری اور مرگیا۔
حدیث نمبر: 38272
٣٨٢٧٢ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن ابن أبي مليكة قال: رأيت عبد اللَّه بن عمرو وهو يبكي فنظرت إليه فقال: (أتعجب) (١) (ابكوا) (٢) من خشية اللَّه، فإن لم تبكوا (فتباكوا) (٣) حتى يقول أحدكم: إيه إيه، إن هذا القمر ليبكي من خشية اللَّه (تعالى) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ رو رہے تھے۔ پس وہ مجھے دیکھ کر کہنے لگے۔ کیا تم تعجب کرتے ہو میرے اللہ کے خوف سے رونے پر۔ پس اگر تم رو نہیں سکتے تو کم از کم رونے کی صورت ہی بنا لو۔ یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کہہ دے۔ اسے دیکھو اسے دیکھو۔ بیشک یہ چاند بھی اللہ کے خوف سے روتا ہے۔
حدیث نمبر: 38273
٣٨٢٧٣ - حدثنا محمد بن بشر (قال) (١): حدثنا مسعر قال: (حدثني) (٢) علقمة ابن مرثد عن ابن بريدة قال: لو عُدل بكاء أهل الأرض ببكاء داود ما عدله، ولو عُدل بكاء داود وبكاء أهل الأرض ببكاء آدم حين أهبط إلى الأرض ما عدله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ کا ارشاد ہے کہ اگر تمام روئے زمین والوں کے رونے کا داود علیہ السلام کے رونے سے تقابل کیا جائے تو پھر بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا اور اگر داود علیہ السلام کے رونے کا اور تمام زمین والوں کے رونے کا آدم علیہ السلام کے رونے سے تقابل کیا جائے جس وقت ان کو زمین کی طرف اتار دیا گیا تھا تو پھر آدم علیہ السلام کا رونا بڑھ جائے گا۔
حدیث نمبر: 38274
٣٨٢٧٤ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش قال: كان أبو صالح يؤمنا فكان لا يجيز (القراءة) (١) من (الرقة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوصالح رحمہ اللہ ہم کو نماز پڑھایا کرتے تھے اور رقت قلبی کی وجہ سے ان سے قراءت نہ کی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 38275
٣٨٢٧٥ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن علي بن (الأقمر) (١) قال: حدثني فلان قال: أتيت (على) (٢) ربيعة وهو يبكي على الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن احمر فرماتے ہیں کہ مجھ کو فلاں شخص نے بتایا ہے کہ میں ربیعہ کے پاس آیا تو وہ نماز میں رو رہے تھے۔
حدیث نمبر: 38276
٣٨٢٧٦ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن عبد اللَّه بن رباح عن صفوان بن محرز أنه كان إذا قرأ هذه الآية بكى حتى أرى أن قصص زوره (سيندق) (١) ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾ [الشعراء: ٢٢٧].
مولانا محمد اویس سرور
حصرت صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ربیعہ نے جب قرآن پاک کی آیت { وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ } تلاوت کی تو روپڑے حتی کہ مجھے اس طرح محسوس ہورہا تھا کہ ان کا سینہ پس رہا ہے۔
حدیث نمبر: 38277
٣٨٢٧٧ - حدثنا هاشم بن القاسم عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن أمه وكانت (تسحق) (١) الكحل لعبد اللَّه بن عمرو (أنه) (٢) كان (٣) يطفئ (السراج) (٤) ويبكي حتى (رسعت) (٥) عيناه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن عطاء رحمہ اللہ اپنی والدہ سے جو کہ عبداللہ بن عمرو کے لیے سرمہ پیسا کرتی تھیں نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو چراغ کو بجھا دیا کرتے تھے اور رویا کرتے تھے حتی کہ ان کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔
حدیث نمبر: 38278
٣٨٢٧٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد اللَّه قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "اقرأ علي القرآن"، قال: قلت: يا رسول اللَّه أقرأ عليك وعليك أنزل؟ قال: "إني أشتهي أن أسمعه من غيري"، قال: فقرأت النساء حتى إذا بلغت ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: ٤١]، رفعت رأسي (أو) (١) غمزني رجل إلى جنبي فرأيت دموعه تسيل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ e نے حکم دیا کہ مجھے تلاوت سناؤ تو انہوں نے عرض کیا کہ میں آپ کو سناؤں جبکہ آپ پر ہی تو اترا ہے تو آپ e نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے سے سنوں عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سورة النساء شروع کی یہاں تک کہ جب میں { فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا } پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا یا کسی نے مجھ کو ایک جانب سے ٹٹولا تو میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 38279
٣٨٢٧٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن هلال بن يساف عن أبي حيان عن عبد اللَّه -رفعه بنحو منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 38280
٣٨٢٨٠ - حدثنا محاضر قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم التيمي قال: لقد أدركت ستين من أصحاب عبد اللَّه في مسجدنا هذا أصغرهم الحارث بن سويد وسمعته يقرأ: ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ حتى بلغ: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ﴾ [الزلزلة: ١، ٧]، (فبكى) (١)، ثم قال: إن هذا (الإحصاء) (٢) شديد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساٹھ ساتھیوں کو اس مسجد میں پایا جس میں سے سب سے چھوٹے ” حارث بن سوید “ تھے اور میں نے سنا کہ وہ {إذَا زُلْزِلَتْ… الخ } کی تلاوت کررہے تھے۔ یہاں تک کہ جب (فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ ) پر پہنچے تو رو پڑے پھر فرمایا کہ یہ تو بہت سخت حساب ہے۔
حدیث نمبر: 38281
٣٨٢٨١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سلام بن مسكين (قال) (١): حدثنا الحسن قال: مر رجل من أصحاب النبي ﷺ على رجل يقرأ آية ويبكي ويرددها، (قال) (٢): فقال: ألم تسمعوا إلى قول اللَّه تعالى: ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ [المزمل: ٤]، قال: (هذا الترتيل) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ آپ e کے صحابہ میں سے ایک شخص دوسرے کے پاس سے گزرا جو آیت کرسی پڑھ رہا تھا اور رو رہا تھا اور اسی کو بار بار پڑھ رہا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے اللہ کا ارشاد { وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً } نہیں سنا یہی ہے وہ ترتیل۔
حدیث نمبر: 38282
٣٨٢٨٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا مهدي بن ميمون عن الجريري عن عبد اللَّه ابن شقيق العقيلي قال: سمعت كعبا يقول: لأن أبكي من خشية اللَّه (تعالى) (١) حتى (يسيل دمعي) (٢) على وجنتي؛ أحب إلي من أن أتصدق بوزني ذهبا، والذي نفس كعب بيده: ما من عبد مسلم يبكي من خشية اللَّه (٣) حتى تَقْطُرَ قطرة من دموعه ⦗٥٩⦘ (إلى) (٤) الأرض فتمسه (النارُ) (٥) أبدا حتى يعود قطر السماء الذي وقع إلى الأرض من حيث جاء ولن يعود أبدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی فرماتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کے خوف سے روؤں یہاں تک کہ آنسو میرے رخسار پر بہنے لگیں یہ مجھ کو اس سے زیادہ پسند ہے۔ میں اپنے وزن کے بقدر سونا صدقہ کروں۔ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں کعب رضی اللہ عنہ کی جان ہے کہ جو بھی کوئی مسلمان اللہ کے خوف سے روتا ہے اور اس کے آنسو زمین پر گرتے ہیں اس کو جہنم کی آگ اس وقت تک نہیں چھو سکتی جب تک آسمان سے پانی کا زمین پر ٹپکا ہوا قطرہ دوبارہ اپنی جگہ پر نہ چلا جائے اور وہ ہرگز نہیں جاسکتا۔
حدیث نمبر: 38283
٣٨٢٨٣ - حدثنا أسود (بن) (١) عامر قال: حدثنا مهدي بن ميمون قال: سمعت محمدا يقول: كان الرجل من أصحاب محمد (٢) (تأتي) (٣) عليه الثلاثة الأيام لا يجد شيئًا يأكله (فيجد) (٤) الجلدة فيشويها فيجتزئ بها، وإذا لم يجد شيئًا عمد إلى حجر فشد به بطنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
مہدی بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ e کا صحابی تین تین دن تک کھانے کی کوئی چیز نہیں پاتا تھا تو چمڑا لے کر اس کو بھون لیتا اور ٹکڑے کرلیتا اور جب کوئی چیز بھی نہ ملتی تو پتھروں سے اپنے پیٹ کو باندھ لیتا تھا۔
حدیث نمبر: 38284
٣٨٢٨٤ - حدثنا هوذة بن خليفة (قال) (١): حدثنا عوف عن أبي الورد بن ثمامة عن وهب بن منبه قال: كان في بني إسرائيل رجال أحداث الأسنان (مغمورون) (٢) فيهم، قد قرأوا الكتاب وعلموا علما، وإنهم طلبوا بقراءتهم الشرف والمال، وإنهم ابتدعوا بدعا أخذوا بها الشرف والمال في الدنيا فضلوا وأضلوا كثيرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں چند جاہل نوجوان تھے۔ انہوں نے کتاب کو پڑھا اور علم حاصل کیا اور انہوں نے اس کے پڑھنے پر مال اور شرافت مانگنا شروع کردی۔ اور انہوں نے ہی اس بدعت کو شروع کیا۔ وہ اس کے بدلہ میں عزت اور مال دنیا میں طلب کرتے پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
حدیث نمبر: 38285
٣٨٢٨٥ - حدثنا أبو أسامة عن يحيى بن المهلب عن (خالد بن صالح) (١) عن ⦗٦٠⦘ معاوية بن قرة قال: قال أبو الدرداء: إن القلب (يربد) (٢) كما (يربد) (٣) الحديد، قيل: وما جلاؤه؟ قال: يذكر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوداؤد کا ارشاد ہے کہ دل کو بھی لوہے کی طرح زنگ لگ جاتا ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ پھر اس کے لیے کیا علاج ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ آدمی اللہ کا ذکر کرے۔
حدیث نمبر: 38286
٣٨٢٨٦ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا جرير قال) (١): حدثني عبد اللَّه بن عبيد ابن عمير قال: كان لأيوب النبي ﷺ أخوان (فجاءا) (٢) (جميعًا) (٣) فلم يستطيعا (أن يدنوا منه) (٤) من ريحه، فقال أحدهما للآخر: لو كان اللَّه علم لأيوب خيرا ما بلغ به هذا، فجزع أيوب من قولهما جزعا شديدا لم (يجزعه) (٥) من شيء قط، فقال أيوب: اللهم إن كنت تعلم أني لم (أبت) (٦) ليلة قط (شبعا) (٧) وأنا أعلم مكان جائع فصدقني، فصدق وهما يسمعان، ثم قال: اللهم إن كنت تعلم أني لم ألبس قميصا قط وأنا أعلم مكان عار فصدقنى، فصدق وهما يسمعان، ثم خر ساجدا، ثم قال: اللهم إني لا أرفع رأسي حتى تكشف عني، قال: فما رفع رأسه حتى كشف اللَّه عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب کے دو بھائی تھے۔ وہ دونوں اکٹھے آئے تو ایوب سے آنے والی بو کی وجہ سے اس کے قریب نہ ہوسکے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ ایوب علیہ السلام میں کوئی بھلائی دیکھتے تو اس کو یہاں تک نہ پہنچاتے۔ تو ایوب علیہ السلام ان کے اس قول کی وجہ سے اتنا شدت سے روئے کہ اتنا کبھی نہ روئے تھے۔ پھر ایوب علیہ السلام نے فرمایا کہ ” اے اللہ اگر تو جانتا ہے میں کسی بھی رات پیٹ بھر کر نہیں سویا جبکہ میں ایک بھوکے کے مقام کو بھی جانتا ہوں تو تو میری تصدیق کر چناچہ ان کی تصدیق کی گئی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے کبھی قمیص نہیں پہنی اور میں ننگے کے مقام کو بھی جانتا ہوں تو میری تصدیق کر چناچہ اس کی تصدیق کی گئی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر ایوب علیہ السلام سجدہ میں گرگئے پھر دعا کی کہ اے اللہ ! میں اس وقت تک سر نہیں اٹھاؤں گا کہ جب تک تو میرے غم کو نہیں دور کردے گا۔ پھر انہوں نے اس وقت تک اپنا سر نہیں اٹھایا کہ جب تک اللہ نے ان کا غم دور نہیں کردیا۔
حدیث نمبر: 38287
٣٨٢٨٧ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن هلال بن يساف قال: حدثت أن عيسى بن مريم كان يقول: إذا تصدق أحدكم فليعط بيمينه وليُخفِ من شماله، ⦗٦١⦘ وإذا كان يوم صوم أحدكم فَلْيَدَّهنْ وليمسح شفتيه من دهنه، حتى ينظر إليه الناظر فلا يرى أنه (صائم) (١)، وإذا صلى في بيته (فليتخذ) (٢) عليه (سترة) (٣) فإنه يقسم الثناء كما يقسم الرزق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن یوسف فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ بات منقول ہے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی صدقہ کرے تو دائیں ہاتھ سے کرے اور اپنے بائیں ہاتھ سے بھی اس کو پوشیدہ رکھے۔ اور جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہو تو تیل لگایا کرے اور اپنے ہونٹوں کو تیل سے مسح کرلیا کرے تاکہ دیکھنے والے کو یہ گمان نہ ہو کہ یہ روزے دار ہے۔ اور جب تم میں کوئی آدمی اپنے گھر میں نماز پڑھے تو کوئی سترہ ضرور بنا لیا کرے کیونکہ رزق کی طرح ثنا بھی تقسیم کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 38288
٣٨٢٨٨ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه بن الربيع بن (خثيم) (١) عن (نسير) (٢) بن (ذعلوق) (٣) عن (بكر) (٤) بن ماعز قال: كان عبد اللَّه بن مسعود إذا رأى الربيع بن (خثيم) (٥) مقبلا قال: ﴿وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ﴾ [الحج: ٣٤]، أما واللَّه لو رآك رسول اللَّه ﷺ لأحبك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن ماعز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب ربیع بن خثیم کو آتے ہوئے دیکھتے تو کہتے کہ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو اللہ کی قسم اگر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو آپ سے محبت کرتے۔
حدیث نمبر: 38289
٣٨٢٨٩ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه بن الربيع بن (خثيم) (١) عن (نسير) (٢) عن (بكر) (٣) بن ماعز قال: جاءت بنت الربيع بن (خثيم) (٤) وعنده أصحاب له فقالت: يا أبتاه أذهب ألعب، قال: لا، فقال له أصحابه: يا (أبا) (٥) يزيد اتركها، ⦗٦٢⦘ قال: لا (يوجد) (٦) في صحيفتي (أني قلت لها: اذهبي) (٧) ألعبي (لكن) (٨) اذهبي، فقولي خيرا، وافعلي خيرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن ماعز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بنت خثیم کی بیٹی آئی جس وقت ان کے پاس ساتھی بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے پوچھا کہ اے ابا جان ! میں کھیلنے چلی جاؤں تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابویزید اس کو جانے دیجیے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے صحیفہ میں یہ نہیں دیکھا کہ اس سے کہا گیا ہو کہ جا اور کھیل بلکہ اس میں ہے کہ جا اور اچھی بات کہہ اور اچھا کام کر۔
حدیث نمبر: 38290
٣٨٢٩٠ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع يقول: يا بكر بن ماعز (يا بكر) (٢) اخزن عليك لسانك إلا مما لك ولا عليك، (فإني) (٣) اتهمت الناس في ديني، أطع اللَّه فيما علمت، وما استؤثر به عليك فكله إلى عالمه، لأنا عليكم في العمد أخوف مني عليكم في الخطأ، ما خيركم اليوم (بخيره) (٤)، ولكنه خير من آخر شر منه، ما كل ما أنزل اللَّه على محمد ﷺ أدركتم، ولا كل ما تقرؤون تدرون ما (هو) (٥)، السرائر التي (يُخفين) (٦) من الناس وهن للَّه بواد، (التمسوا) (٧) دواءها، ثم يقول لنفسه: وما دواؤها؟ أن (تتوب) (٨) إلى اللَّه ثم لا (تعود) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے تھے کہ اے بکر بن ماعز ! اپنی زبان کو مفید کاموں میں استعمال کرو۔ نقصان دہ باتوں سے بچو۔ میں لوگوں کو اپنی دین داری کے بارے میں لاعلم سمجھتا ہوں۔ ان چیزوں میں اللہ کی اطاعت کرو جنھیں تم جانتے ہو۔ جو بات تم تک پہنچے اسے اس کے جاننے والے پر موقوف کرو۔ اس لیے کہ جان بوجھ کر غلطی کرنا خطا سے زیادہ خطرناک ہے۔ تمہاری ہر چیز خیر نہیں بلکہ شر سے بہتر ہے۔ حضور ﷺ کو دی جانے والی تمام باتیں تم تک نہیں پہنچیں اور وہ سب کچھ جو تم پڑھتے ہو سمجھتے نہیں ہو۔ جو چیزیں لوگوں کے لیے پوشیدہ ہیں لوگوں کے لیے ظاہر ہیں۔ ان کا علاج ڈھونڈو پھر اپنے آپ سے خطاب کر کے فرماتے کہ اس کی دوا یہ ہے کہ اللہ کے دربار میں توبہ کرو اور پھر گناہ نہ کرو۔
حدیث نمبر: 38291
٣٨٢٩١ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن نسير بن (ذعلوق) (١) عن بكر قال: لما ⦗٦٣⦘ انتهى الربيع بن (خثيم) (٢) إلى مسجد قومه قالوا له: يا ربيع لو قعدت (فحدثتنا) (٣) اليوم، قال: فقعد فجاء حجر فشجه فقال: ﴿(فَمَنْ) (٤) جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ (مَا) (٥) سَلَفَ﴾ [البقرة: ٢٧٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ جب ربیع بن خثیم اپنی قوم کی مسجد میں گئے تو ان کو لوگوں نے کہا کہ اے ربیع آج ہمارے پاس بیٹھ کر بات چیت کرو۔ بکر فرماتے ہیں کہ ربیع ان کے پاس بیٹھے تو کسی جگہ سے پتھر آیا اور اس نے ان کا سر زخمی کردیا تو انہوں نے فرمایا کہ { فَمَنْ جَائَہُ مَوْعِظَۃٌ مِنْ رَبِّہِ فَانْتَہَی فَلَہُ مَا سَلَفَ } کہ جس شخص کے پاس اپنے رب کی طرف سے نصیحت آگئی پھر وہ رک گیا۔
حدیث نمبر: 38292
٣٨٢٩٢ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع ابن (خثيم) (٢) يقول: لا خير في الكلام إلا في تسع: تهليل اللَّه، وتسبيح (اللَّه) (٣)، وتكبير اللَّه، وتحميد اللَّه، وسؤالك الخير، وتعوذك من الشر، وأمرك بالمعروف، ونهيك عن المنكر، وقراءتك القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے تھے کہ کسی کلام میں خیر نہیں سوائے نو چیزوں کے : اللہ کی تہلیل، اللہ کی تسبیح، اللہ کی تکبیر، اللہ کی حمد، اور تیرا کوئی اچھا سوال کرنا، اور تیرا شر سے پناہ مانگنا اور تیرا بھلائی کا حکم کرنا، اور تیرا برائی سے روکنا، اور تیرا قرآن پاک کی تلاوت کرنا۔
حدیث نمبر: 38293
٣٨٢٩٣ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع إذا قيل له: كيف أصبحت يا (أبا) (٢) يزيد؟ يقول: أصبحنا ضعفاء مذنبين نأكل أرزاقنا، وننتظر آجالنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ جب ربیع سے پوچھا جاتا کہ آپ نے کیسی صبح کی اے ابویزید تو وہ جواب دیتے کہ ہم نے کمزوروں اور گناہ گاروں کی سی صبح کی۔ ہم اپنا رزق کھاتے ہیں اور اپنی موت کا انتظار کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38294
٣٨٢٩٤ - [حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: قال ابن الكواء (للربيع) (٢) بن (خثيم) (٣): ما نراك تذم أحدا ولا تعيبه؟ قال: ويلك يا ابن ⦗٦٤⦘ الكواء، ما أنا (عن) (٤) نفسي براض، فأتفرغ من ذمي إلى ذم الناس، إن الناس (خافوا) (٥) اللَّه على ذنوب العباد (وأمنوا) (٦) على ذنوبهم] (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ابن الکواء رحمہ اللہ نے ربیع بن خثیم سے کہا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ نہ تو آپ کسی کی برائی بیان کرتے ہیں اور نہ ہی کسی پر کوئی عیب لگاتے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ تیرے لیے ہلاکت ہو اے ابن الکواء میں تو اپنے نفس سے بھی راضی نہیں کہ میں اپنی برائی سے فراغت پا کر لوگوں کی برائی کروں۔ لوگ بندوں کے گناہوں کی وجہ سے اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنے گناہوں سے بےخوف رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38295
٣٨٢٩٥ - [حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن نسير عن بكر قال: كان الربيع يقول: الناس رجلان: مؤمن وجاهل، فأما المؤمن فلا تؤذه، وأما الجاهل فلا تجاهله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ لوگ دو طرح کے ہیں مومن اور جاہل۔ مومن کو تکلیف نہ دو اور جاہل سے جہالت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 38296
٣٨٢٩٦ - [حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع إذا قيل له: ألا تداوى؟ قال: (قد أردت (ذلك)) (٢) (٣)، ثم (ذكرت) (٤) عادا وثمودا وأصحاب الرس وقرونا بين ذلك كثيرا، فعرفت (أنه) (٥) قد كانت فيهم أوجاع، ولهم أطباء، فمات المداوي والمداوى] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب ربیع سے سوال کیا گیا کہ آپ دوا استعمال کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ اول میں نے اس کا ارادہ کیا تھا پھر میں قوم عاد اور قوم ثمود اور اصحابِ رس اور اس کے درمیان بہت سی اقوام کو یاد کیا تو مجھ کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ ان لوگوں میں بھی تکالیف تھیں اور معالج بھی تھے۔ پس علاج کرنے والا اور کروانے والا دونوں ہی چل بسے ہیں۔
حدیث نمبر: 38297
٣٨٢٩٧ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع يقول إذا أصبح: اعملوا خيرا، وقولوا خيرا، ودوموا على صالح، وإذا أسأتم ⦗٦٥⦘ فتوبوا، وإذا أحسنتم فزيدوا، (ما) (٢) علمتم فأقيموا، وما (شككتم) (٣) فكلوه إلى اللَّه، (المؤمن) (٤) فلا تؤذوه، والجاهل فلا تجاهلوه، ولا (يطل) (٥) عليكم الأمد فتقسوا قلوبكم ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ﴾ [الأنفال: ٢١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم صبح کو کہا کرتے تھے کہ اچھے اعمال کرو اور اچھی بات کہو۔ اور نیک آدمی کی صحبت پر مداومت کرو اور جب تم کوئی گناہ کرلو تو توبہ کرو اور جب تم کوئی نیکی کرلو تو مزید آگے بڑھو جو عمل کرو اس پر قائم رہو، اور جس چیز میں تم شک کرو اس کو اللہ کے سپرد کردو۔ مومن کو تکلیف نہ دو اور جاہل سے جہالت مت کرو۔ اور تمہاری امیدیں لمبی نہ ہونے پائیں ورنہ دل سخت ہوجائیں گے۔ { ولا تکونوا … الخ } اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور وہ نہیں سنتے تھے۔
حدیث نمبر: 38298
٣٨٢٩٨ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع يقول: أكثروا (٢) ذكر هذا الموت الذي (لم) (٣) (تذوقوا) (٤) قبله مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ موت کو کثرت سے یاد کیا کرو جس سے قبل تم اس طرح کی تکلیف نہیں چکھو گے۔
حدیث نمبر: 38299
٣٨٢٩٩ - حدثنا أبو أسامة عن ابن (عون) (١) عن (عمير) (٢) بن إسحاق قال: أدركت من أصحاب رسول اللَّه ﷺ أكثر (ممن) (٣) سبقني منهم، فلم أر قوما أهون سيرة، ولا أقل تشديدا منهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسحاق کا ارشاد ہے کہ جو لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں میں نے ان سے زیادہ صحابہ کرام کو دیکھا ہے پس میں نے کوئی قوم بھی ان سے زیادہ بردبار اور نرمی کرنے والی نہیں دیکھی۔
…