کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت عکرمہ کے آثار
حدیث نمبر: 38241
٣٨٢٤١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت عن مسلم ابن يسار أنه قال: (ما) (١) أدري ما (حسب) (٢) إيمان عبد لا يدع شيئًا يكرهه اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن یسار کا ارشاد ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس شخص کے ایمان کا کیا درجہ ہوگا کہ جو ایسی چیزوں کو نہیں چھوڑتا کہ جن کو اللہ ناپسند کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38241
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38241، ترقيم محمد عوامة 36652)
حدیث نمبر: 38242
٣٨٢٤٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد عن ثابت عن مسلم بن يسار قال: كان أحدهم إذا برأ قيل له: ليهنئك الطهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ اسلاف میں سے جب کوئی بیماری سے صحت یاب ہوتا تو اسے کہا جاتا تھا : بیماری سے پاک ہونا تمہارے لیے راحت کا سبب بنے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38242
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38242، ترقيم محمد عوامة 36653)
حدیث نمبر: 38243
٣٨٢٤٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد قال: أخبرنا ثابت أن أبا بكر كان يتمثل هذا البيت: ⦗٤٦⦘ لا (تزال) (١) (تنعى) (٢) (حبيبا) (٣) حتى تكونه … وقد يرجو الفتى (رجا) (٤) يموت دونه (٥)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ثابت نے بتایا ہے کہ ابوبکر کی مثال شعر کی سی ہے۔ ” تو ہمیشہ اپنے محبوب کو پکارتا رہا۔ یہاں تک کہ تو خود محبوب بن گیا، اور کبھی انسان ایسی چیز کی خواہش کرتا ہے کہ اس کے حصول سے قبل اس کو موت آجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38243
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38243، ترقيم محمد عوامة 36654)
حدیث نمبر: 38244
٣٨٢٤٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا مالك بن دينار قال: سألت جابر بن زيد قلت قول اللَّه (تعالى) (١): ﴿وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا (٧٤) إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: ٧٤ - ٧٥]، (ما ضعف الحياة وضعف الممات قال جابر: ضعف عذاب الدنيا وضعف عذاب الآخرة: ﴿ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا﴾) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے اللہ کے ارشاد { وَلَوْلاَ أَنْ ثَبَّتْنَاک لَقَدْ کِدْت تَرْکَنُ إلَیْہِمْ شَیْئًا قلِیلاً إذًا لأَذَقْنَاک ضِعْفَ الْحَیَاۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَک عَلَیْنَا نَصِیرًا } میں ضعف الحیات اور ضعف الممات کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ دنیا کے عذاب کا دگنا اور آخرت کے عذاب کا دگنا مراد ہے۔ پھر تو اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38244
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38244، ترقيم محمد عوامة 36655)
حدیث نمبر: 38245
٣٨٢٤٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: سمعت ثابتا قال: كنا عند جابر بن زيد فرأى جملا فقال: لو قلت لكم: أني (لا أعبد) (١) هذا (٢) الجمل ما أمنت أن أعبده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت جابر بن زید کے پاس تھے آپ رحمہ اللہ نے ایک اونٹ دیکھ کر فرمایا : اگر میں تم لوگوں سے کہوں کہ میں ہرگز اس اونٹ کی عبادت نہیں کروں گا میں پھر بھی مامون نہیں ہوں گا اس کی عبادت کے بچنے سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38245
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38245، ترقيم محمد عوامة 36656)
حدیث نمبر: 38246
٣٨٢٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن (زيد) (١) عن أيوب عن (الحسن) (٢) قال: ما أشبه القوم بعضهم ببعض، ما أشبه الليلة بالبارحة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ قوم ایک دوسرے کے مشابہ نہیں ہوتی اور نہ ہی گزشتہ رات موجودہ کے مشابہہ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38246
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38246، ترقيم محمد عوامة 36657)
حدیث نمبر: 38247
٣٨٢٤٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير عن شعيب عن أبي العالية قال: أكثر رياحين الجنة: الحناء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی العالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنت کے اکثر خوشبو دار پودے سبز رنگ کے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38247
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38247، ترقيم محمد عوامة 36658)
حدیث نمبر: 38248
٣٨٢٤٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا عبد (الواحد) (١) بن زياد قال: حدثنا عبد اللَّه ابن الربيع بن خثيم قال: حدثنا أبو عبيدة بن عبد اللَّه (قال: كان) (٢) الربيع بن (خثيم) (٣) إذا دخل على عبد اللَّه لم يكن عليه يومئذ إذن حتى يفرغ كل واحد منهما من صاحبه، قال: وقال له عبد اللَّه: يا أبا يزيد إن رسول اللَّه ﷺ لو رآك أحبك، وما (رأيتك) (٤) إلا ذكرت المخبتين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم جب عبداللہ کے پاس آتے تو کسی کو ان کے پاس جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی تاوقتیکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے فارغ ہوجائیں۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ ان کو عبد اللہ نے کہا کہ اے ابویزید اگر رسول اللہ آپ کو دیکھتے تو آپ سے محبت کرتے اور میں نے آپ کو عاجزین کا ذکر کرتے ہی دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38248
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38248، ترقيم محمد عوامة 36659)
حدیث نمبر: 38249
٣٨٢٤٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا مالك بن مغول عن طلحة قال: قيل: من الذي يسمن في الخصب والجدب؟ ومن الذي يهزل في الخصب والجدب؟ ومن الذي هو أحلى من العسل ولا ينقطع؟ قال: أما الذي يسمن في الخصب ⦗٤٨⦘ والجدب فالمؤمن الذي إن أعطي شكر، وإن ابتلي صبر، وأما الذي يهزل في الخصب والجدب فالكافر أو الفاجر إن أعطي لم يشكر، وإن ابتلي لم يصبر، وأما الذي هو أحلى من العسل ولا ينقطع (فهي) (١) ألفة اللَّه التي ألف بين قلوب المؤمنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سی چیز ہے جو قحط اور فراوانی دونوں حالتوں میں پھلتی پھولتی ہے ؟ اور وہ کون سی شے ہے جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے ؟ اور وہ کون سی چیز ہے جو شہد سے بھی میٹھی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں پھلتی اور پھولتی ہے وہ مومن ہے کہ اگر اس کو مل جائے تو شکر کرتا ہے اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر کرتا ہے اور وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے وہ کافر ہے یا گناہ گار شخص ہے کہ جس کو دیا جائے تو شکر نہیں کرتا اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر نہیں کرتا۔ اور وہ چیز جو شہد سے بھی زیادہ میٹھی اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ کی الفت ہے جس نے تمام مومنین کے دلوں میں محبت پیدا کردی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38249
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38249، ترقيم محمد عوامة 36660)
حدیث نمبر: 38250
٣٨٢٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي ثامر وكان رجلا عابدا ممن يغدو إلى المسجد فرأى في المنام كان الناس قد عرضوا على اللَّه، فجيء بامرأة عليها ثياب رقاق، فجاءت ريح فكشفت ثيابها، فأعرض اللَّه عنها وقال: اذهبوا بها إلى النار، فإنها كانت من المتبرجات حتى انتهى الأمر إلي فقال: دعوه، فإنه كان يؤدي حق الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوثامر سے مروی ہے جو کہ ایک عابد انسان تھے اور مسجد کو صبح سویرے چلے جایا کرتے تھے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ گویا لوگوں کو اللہ جل شانہ کے روبرو پیش کیا جارہا ہے۔ پس ایک عورت لائی گئی جس پر بہت باریک کپڑے تھے اچانک ہوا چلی اور اس کے کپڑے کھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے روگردانی کرلی اور حکم دیا کہ اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ کیونکہ یہ زینت کرنے والوں میں سے تھی یہاں تک کہ میری باری آئی تو اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ شخص جمعہ کا حق ادا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38250
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38250، ترقيم محمد عوامة 36661)
حدیث نمبر: 38251
٣٨٢٥١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي ثامر زعم أن امرأة قالت: واللَّه لا يعذبني اللَّه أبدا، ما سرقت، ولا زنيت، ولا قتلت ولدي، ولا أتيت ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن، فرأت في المنام أنه قيل لها: (قومي) (١) إلى مقعدك من النار يا مقللة الكثير (و) (٢) مكثرة القليل، وآكلة لحم الجار (الغريب) (٣) بالغيب، قالت: يا رب بل أتوب، بل أتوب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوثامر فرماتے ہیں کہ غالباً کسی عورت نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے عذاب نہیں دیں گے کیونکہ میں نے نہ کبھی چوری کی اور نہ ہی کبھی زنا کیا اور نہ ہی کبھی میں نے اپنی اولاد کو قتل کیا اور نہ میں نے کوئی اپنی طرف سے الزام تراشا ہے تو اس نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کہا جا رہا ہے کہ ” اٹھ اور اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے اے کم کو زیادہ اور زیادہ کو کم کرنے والی، اے پوشیدہ طور پر غریب پڑوسی کا گوشت کھانے والی، تو اس نے عرض کی کہ اے میرے رب بلکہ میں رجوع کرتی ہوں، میں رجوع کرتی ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38251
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38251، ترقيم محمد عوامة 36662)
حدیث نمبر: 38252
٣٨٢٥٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت أن أبا ثامر [(رأى) (١) فيما يرى النائم: ويل (للمتسمنات) (٢) من فترة في العظام يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ابوثامر نے خواب میں دیکھا کہ ہلاکت ہے ان عورتوں کے لیے قیامت کے دن جو کمزور ہڈیوں کے باوجود موٹی بنتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38252
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38252، ترقيم محمد عوامة 36663)
حدیث نمبر: 38253
٣٨٢٥٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت (أن) (١) أبا ثامر] (٢) كان رجلا عابدا، فنام ذات ليلة قبل أن يصلي العشاء، فأتاه ملكان أو رجلان في منامه، فقعد أحدهما عند رأسه، والآخر (عند) (٣) رجليه، فقال الذي عند رأسه للذي عند رجليه: الصلاة قبل النوم [ترضي الرحمن وتسخط الشيطان، وقال الذي عند رجليه للذي عند رأسه: (إن) (٤) النوم قبل الصلاة] (٥) يرضي الشيطان ويسخط الرحمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے مروی ہے کہ ابوثامر ایک عابد آدمی تھے تو ایک دن نماز عشاء پڑھنے سے قبل سوگئے۔ تو ان کے پاس دو فرشتے آئے یا دو آدمی خواب میں آئے اور ایک ان میں ان کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر سر والے نے پاؤں والے سے کہا کہ سونے سے قبل نماز پڑھنا رحمن کو راضی کرتا ہے اور شیطان کو ناراض کرتا ہے۔ اور پاؤں والے نے سر والے سے کہا کہ نماز سے قبل سوجانا یہ شیطان کو راضی کرتا ہے اور رحمن کو ناراض کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38253
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38253، ترقيم محمد عوامة 36664)
حدیث نمبر: 38254
٣٨٢٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت البناني عن صلة بن أشيم أنه قال: واللَّه ما أدري (بأي) (١) يوميّ أنا أشد فرحا: يوم أبا كر فيه إلى ذكر اللَّه (أو يوم) (٢) خرجت فيه لبعض حاجتي فعرض لي ذكر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ بن اشیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ ان دو دنوں میں سے کون سا میرے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہے۔ ایک وہ دن کہ جب میں اللہ کے ذکر سے دن کی ابتداء کروں اور ایک وہ دن کہ جب میں اپنی کسی حاجت کے لیے نکلوں تو مجھے اللہ کا ذکر درپیش ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38254
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38254، ترقيم محمد عوامة 36665)
حدیث نمبر: 38255
٣٨٢٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: كان أبو رفاعة العدوي يقول: (ما عزبت) (١) (عني) (٢) سورة البقرة منذ علمنيها (رسول) (٣) اللَّه أخذت معها ما أخذت من القرآن، وما أن وجعت ظهري من قيام ليل قط (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابورفاعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سے مجھ کو رسول اللہ e نے سورة بقرہ سکھائی ہے اس وقت سے مجھے یہ سورت بھولی نہیں ہے اور جو کچھ میں نے پورے قرآن میں پایا وہ اس سورة میں بھی مذکور ہے اور میں نے کبھی بھی رات کے قیام کی وجہ سے کمر کی تکلیف محسوس نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38255
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الجهاد (١٥٩)، وابن سعد ٧/ ٦٩، والمروزي في التهجد (٤٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38255، ترقيم محمد عوامة 36666)
حدیث نمبر: 38256
٣٨٢٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا (سليمان عن) (١) حميد (بن هلال) (٢) قال: قال صلة: رأيت أبا رفاعة بعد ما أصيب في النوم على ناقة سريعة، وأنا على جمل ثقال (قطوف) (٣)، وأنا أجد على أثره، قال: فيعرجها عليّ (فأقول) (٤) (الآن) (٥) أسمعه الصوت (فيسرحها) (٦)، وأنا (أتبع) (٧) (أثره) (٨)، (قال) (٩): فأولت (رؤلاي) (١٠) أن آخذ طريق أبي رفاعة، فأنا أكد (بعده العمل) (١١) كدا (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت ابو رفاعہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہوں اور میں ایک بوجھل اونٹ پر ہوں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں۔ وہ مجھے لے کر جھول رہا ہے۔ میرے اس خواب کی یہ تعبیر کی گئی کہ میں ابو رفاعہ کی پیروی کروں گا اور اس میں مشقت اٹھاؤں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38256
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38256، ترقيم محمد عوامة 36667)
حدیث نمبر: 38257
٣٨٢٥٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا حميد بن هلال قال: كان أبو رفاعة -أو رجل منهم- يسخن في السفر لأصحابه الماء ويعمد إلى البارد فيتوضأ به ثم يقول: (أحسوا) (١) من هذا (فسأحس) (٢) من هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابو رفاعہ سفر میں اپنے ساتھیوں کے لیے پانی گرم کرتے تھے اور خود ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے تھے۔ پھر فرماتے کہ تم اسے محسوس کرو اور میں اسے محسوس کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38257
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38257، ترقيم محمد عوامة 36668)
حدیث نمبر: 38258
٣٨٢٥٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان قال: قال ثابت: قال مطرف: إن كان أحد من هذه الأمة ممتحن القلب (١) لقد كان مذعورٌ لممتحنَ القلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس امت میں کوئی صاف اور پاکیزہ دل والا آدمی ہوتا تو وہ مذعور ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38258
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38258، ترقيم محمد عوامة 36669)
حدیث نمبر: 38259
٣٨٢٥٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان عن ثابت قال: قال مطرف: رآني أنا ومذعورا رجلٌ فقال: من سره أن ينظر إلى رجلين من أهل الجنة فلينظر إلى هذين، فسمعها مذعور فرأيت (الكراهية) (١) في (وجهه) (٢)، ثم قال: اللهم إنك تعلمنا ولا يعلمنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ میں اپنے آپ کو اور مذعور کو ایک آدمی شمار کرتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ جس کو یہ بات اچھی لگے کہ وہ دو جنتی آدمیوں کو دیکھے تو وہ ان دونوں کو دیکھ لے۔ اس بات کو مذعور نے سن لیا تو میں نے ناپسندیدگی کے اثرات ان کے چہرے پر دیکھے۔ تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ تو ہم کو جانتا ہے اور یہ ہم کو نہیں جانتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38259
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38259، ترقيم محمد عوامة 36670)