کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت عکرمہ کے آثار
حدیث نمبر: 38201
٣٨٢٠١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن الحكم بن أبان عن عكرمة في قوله (تعالى) (١): ﴿(لِلَّذِينَ) (٢) (يَعْمَلُونَ) (٣) السُّوءَ بِجَهَالَةٍ﴾ [النساء: ١٧]، قال: الدنيا كلها قريب، كلها جهالة.
مولانا محمد اویس سرور
حصرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ ارشاد { لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السُّوئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِنْ قَرِیبٍ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ دنیا تمام کی تمام قریب ہے اور تمام کی تمام جہالت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38201
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38201، ترقيم محمد عوامة 36612)
حدیث نمبر: 38202
٣٨٢٠٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن رجل عن عكرمة: ﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ﴾ [الفتح: ٢٩] قال: (السهر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد { سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ } سے مراد شب بیداری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38202
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38202، ترقيم محمد عوامة 36613)
حدیث نمبر: 38203
٣٨٢٠٣ - حدثنا حكام الرازي عن أبي (سنان) (١) عن ثابت عن عكرمة: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [الكهف: ٢٤]، قال: إذا (عصيت) (٢) وقال بعضهم: إذا (غضبت) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ { وَاذْکُرْ رَبَّک إذَا نَسِیتَ } کا مطلب ہے کہ جب تو اللہ کی نافرمانی کرے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ جب تجھے غصہ آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38203
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38203، ترقيم محمد عوامة 36614)
حدیث نمبر: 38204
٣٨٢٠٤ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة: ﴿وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ﴾ [الأحزاب: ٨]، قال: إن القلوب لو تحركت أو زالت خرجت نفسه، ولكن إنما هو الفزع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ قرآن مجید کی آیت { وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ دل اگر حرکت کریں تو سانس نکل جائے، وہ صرف گھبراہٹ ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38204
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38204، ترقيم محمد عوامة 36615)
حدیث نمبر: 38205
٣٨٢٠٥ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: أخبرنا شعبة عن سماك عن عكرمة: ﴿كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ﴾ [الممتحنة: ١٣]، قال: الكفار إذا دخلوا القبور (فعاينوا) (١) ما أعد اللَّه لهم من الخزي يئسوا من رحمة اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ } کے بارے میں منقول ہے کہ کافر لوگ جب قبروں میں داخل ہوتے ہیں اور اس عذاب کو دیکھتے ہیں جو اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38205
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38205، ترقيم محمد عوامة 36616)
حدیث نمبر: 38206
٣٨٢٠٦ - حدثنا أبو معاوية عن أبي (عمرو) (١) (بياع) (٢) (الملاء) (٣) عن عكرمة: ﴿إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا﴾ [المزمل: ١٣]، قال: قيودا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد {إنَّ لَدَیْنَا أَنْکَالاً } سے مراد بیڑیاں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38206
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38206، ترقيم محمد عوامة 36617)
حدیث نمبر: 38207
٣٨٢٠٧ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: دخلنا على محمد بن سوقة فقال: أحدثكم بحديث لعله ينفعكم فإنه قد نفعني، قال: قال (لنا) (١) عطاء بن أبي رباح: يا ابن أخي، إن من (٢) قبلكم كان يكره فضول الكلام، ما عدا كتاب اللَّه تعالى: أن تقرأه، أو أمرا بمعروف أو نهيا عن منكر، وأن تنطق بحاجتك في معيشتك التي لا بد لك منها، أتنكرون أن ﴿عَلَيْكُمْ (لَحَافِظِينَ) (٣) (١٠) كِرَامًا كَاتِبِينَ﴾ [الانفطار: ١٠]، وأن ﴿عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (١٧) مَا (يَلْفِظُ) (٤) مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ [ق: ١٧ - ١٨]، أما يستحي أحدكم لو نشر صحيفته التي (أملى) (٥) صدر نهاره، وأكثر ما فيها ليس من أمر دينه ولا دنياه.
مولانا محمد اویس سرور
حصرت یعلی رضی اللہ عنہ بن عبید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ محمد بن سوقہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں امید ہے کہ وہ تم کو نفع دے گی۔ اس لیے کہ اس بات سے مجھ کو نفع ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ عطا بن رباح نے ہمیں فرمایا کہ ” اے میرے بھتیجے تم سے پہلے لوگ فضول باتوں سے بچتے تھے۔ سوائے اس کے کہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کرے یا کسی نیک کام کا حکم کرے یا برائی سے روکے اور یہ کہ تو اپنی ضروری معیشت کو خاطر بقدر ضرورت بات کرے۔ کیا تم لوگ قرآن پاک کی آیت { عَلَیْکُمْ حَافِظِینَ کِرَامًا کَاتِبِینَ } اور { عَنِ الْیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیدٌ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ} کا انکار کرسکتے ہو۔ کیا تم کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ اگر تمہارے سارے دن کے اعمال ناموں کا صحیفہ کھولا جائے تو اس میں اکثر باتیں ایسی ہوں کہ جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی دنیا سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38207
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38207، ترقيم محمد عوامة 36618)
حدیث نمبر: 38208
٣٨٢٠٨ - حدثنا معتمر بن سليمان عن عمران عن (الرديني عن) (١) يحيى بن يعمر قال: ما (هاجت) (٢) الريح إلا (بعذاب ورحمة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ تیز ہوا عذاب یا رحمت ہی کی وجہ سے چلتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38208
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38208، ترقيم محمد عوامة 36619)
حدیث نمبر: 38209
٣٨٢٠٩ - حدثنا معتمر بن سليمان عن شبيب عن مقاتل بن حيان: ﴿اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [مريم: ٧٨]، قال: العهد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَن عَہْدًا } سے مراد عہد نماز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38209
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38209، ترقيم محمد عوامة 36620)
حدیث نمبر: 38210
٣٨٢١٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن أبي عون قال: كان أهل الخير إذا التقوا يوصي بعضهم بعضا بثلاث، وإذا غابوا كتب بعضهم إلى بعض بثلاث: من عمل (لآخرته) (١) كفاه اللَّه دنياه، ومن أصلح ما بينه وبين اللَّه كفاه اللَّه الناس، ومن أصلح سريرته أصلح اللَّه علانيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی عون فرماتے ہیں اچھے لوگ جب ملا کرتے تھے تو تین چیزوں کی نصیحت کیا کرتے تھے اور جب دور ہوتے تھے تو بھی تین چیزوں کو لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ جو شخص آخرت کے لیے عمل کرتا ہے اللہ اس کی دنیا کی کفایت کرتا ہے۔ B جو شخص اپنے اور اللہ کے درمیان معاملات کو درست کرتا ہے اللہ اس کو لوگوں سے کفایت کرتا ہے۔ C جو شخص اپنی پوشیدہ حالت کو درست کرتا ہے اللہ اس کی ظاہری حالت کو بھی درست کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38210
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38210، ترقيم محمد عوامة 36621)
حدیث نمبر: 38211
٣٨٢١١ - حدثنا سعيد بن شرحبيل عن (خلاد) (١) بن سليمان الحضرمي قال: سمعت خالد بن أبي عمران يقول: كان عبد اللَّه بن الزبير لا يفطر من الشهر إلا ثلاثة أيام، قال خالد: مكث أربعين سنة لم ينزع ثوبه عن ظهره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی عمران فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر مہینہ میں صرف تین دن افطار کرتے تھے۔ خالد فرماتے ہیں چالیس سال تک انہوں نے اپنی کمر سے کپڑا نہیں اتارا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38211
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعيد بن شرحيل صدوق، وأخرجه ابن معين كما في رواية الدروي ٣/ ٥٠، وابن عساكر ٢٨/ ١٧٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38211، ترقيم محمد عوامة 36622)
حدیث نمبر: 38212
٣٨٢١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون وهشام جميعا عن محمد ابن سيرين قال: كنا عند أبي عبيدة بن (حذيفة) (١) في قبة له، فأتاه رجل فجلس معه على فراشه، فسارّه بشيء لم أفهمه، فقال له أبو عبيدة: [فإني أسألك أن تضع إصبعك في هذه النار، وكانونٌ بين أيديهم فيه نار، فقال الرجل: سبحان اللَّه! فقال (له) (٢) أبو عبيدة: تبخل] (٣) عليّ بأصبع من أصابعك في نار الدنيا، وتسألني أن أجعل جسدي كله في نار جهنم، قال: (فظننا) (٤) أنه دعاه إلى القضاء.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ کے پاس ان کے گنبد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان کے ساتھ ان کے بستر پر بیٹھ گیا۔ اس نے ابوعبیدہ رحمہ اللہ سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کی جو ہم نہ سمجھ سکے۔ ابوعبیدہ نے اس سے کہا کہ اپنی انگلی اس آگ میں ڈالو۔ ہمارے درمیان ایک انگیٹھی میں آگ جل رہی تھی۔ اس آدمی نے کہا ” سبحان اللہ “ تو ابوعبیدہ نے فرمایا کہ تو میرے لیے اس دنیا کی آگ میں ایک انگلی کے بارے میں بھی بخل کرتا ہے اور مجھ سے سوال کرتا ہے کہ میں اپنے تمام جسم کو جہنم کی آگ میں ڈال دوں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں اس آدمی نے ابوعبیدہ کو قاضی بننے کی دعوت دی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38212
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38212، ترقيم محمد عوامة 36623)
حدیث نمبر: 38213
٣٨٢١٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن القاسم (أن) (١) عبيد اللَّه بن عدي بن الخيار قال: اللهم سلمنا (وسلم) (٢) المؤمنين (منا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ عبید اللہ بن عدی بن خیار کا ارشاد ہے کہ ” اے اللہ ہمیں سلامتی میں رکھ اور مومنین کو ہم سے سلامتی میں رکھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38213
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38213، ترقيم محمد عوامة 36624)
حدیث نمبر: 38214
٣٨٢١٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي سنان قال: سمعت عبد اللَّه بن الحارث (١) يقول: الزبانية رؤوسهم في السماء وأرجلهم في الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ ” الزبانیہ “ سے مراد فرشتے ہیں کہ جن کے سر آسمان میں اور پاؤں زمین میں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38214
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38214، ترقيم محمد عوامة 36625)
حدیث نمبر: 38215
٣٨٢١٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن هشام عن عكرمة عن ابن عباس: ﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ (١)﴾ [ق: ١٨]، قال: (٢) يكتب من قوله الخير والشر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ } کی تفسیر منقول ہے کہ آدمی کی ہر اچھی اور بری بات لکھی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38215
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38215، ترقيم محمد عوامة 36626)
حدیث نمبر: 38216
٣٨٢١٦ - [حدثنا يحيى بن سعيد عن عمران عن عكرمة قال: يكتب ما عليه وماله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کے نفع اور نقصان کی ہر بات لکھی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38216
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38216، ترقيم محمد عوامة 36627)
حدیث نمبر: 38217
٣٨٢١٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عوف عن سعيد بن أبي الحسن: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [الذاريات: ١٧]، قال: قل ليلة أتت عليهم (هجعوها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن حسن سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ بہت کم ہی کوئی ایسی رات آتی تھی کہ جس میں وہ سوتے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38217
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38217، ترقيم محمد عوامة 36628)
حدیث نمبر: 38218
٣٨٢١٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: بينما رجل راكبا على حمار إذ (عثر به) (١) فقال: تعست، فقال صاحب اليمين: ما هي بحسنة فأكتبها، وقال صاحب الشمال: ما هي بسيئة فأكتبها، فنودي صاحب الشمال: أن ما ترك صاحب اليمين فأكتبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی گدھے پر سوار تھا اچانک وہ گرگیا تو اس نے کہا کہ میں گدھے سے گرگیا۔ تو دائیں جانب کے فرشتے نے کہا کہ یہ کوئی نیکی تو نہیں ہے کہ جس کو میں لکھوں اور بائیں جانب کے فرشتے نے کہا کہ یہ کون سی برائی ہے کہ جس کو میں لکھوں تو بائیں جانب کے فرشتہ کو آواز دی گئی کہ جس قول کو دایاں چھوڑ دے اس کو لکھ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38218
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38218، ترقيم محمد عوامة 36629)
حدیث نمبر: 38219
٣٨٢١٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: من عادى أولياء اللَّه فقد آذن اللَّه بالمحاربة، ومن (حالت) (١) شفاعته (دون) (٢) حد من حدود اللَّه فقد ضاد اللَّه في أمره، ومن أعان على خصومة لا علم له بها كان في سخط اللَّه حتى ينزع، ومن (قفا) (٣) مؤمنا بما لا علم له به (وقفه) (٤) اللَّه في ردغة الخبال حتى يجيء منها بالمخرج، ومن خاصم لضعيف حتى يثبت له حقه ثبت اللَّه قدميه يوم (تزل) (٥) الأقدام، وقال: اللَّه ما ترددت في شيء أريده تردادي في قبض نفس عبدي المؤمن: يكره الموت وأكره مساءته ولا بد له منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے تو اللہ اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہے اور جس شخص کی سفارش اللہ کے قانون وحدود میں آڑے بنتی ہے تو وہ شخص اللہ کے حکم میں رکاوٹ بن رہا ہے اور جو کوئی شخض کسی ایسے جھگڑے کی معاونت کرتا ہے جس کا اس کو علم ہی نہیں تو وہ اس جھگڑے سے نکلنے تک اللہ کے غصہ میں رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان پر ایسی تہمت لگاتا ہے جس کا اس کو علم ہی نہیں تو اللہ اس کو ہلاکت کی دلدل میں پھنسا دیتا ہے حتی کہ وہ خود اس سے راستہ نکال لے۔ اور جو کوئی شخص کسی کمزور کے حق میں جھگڑا کرتا ہے تاکہ اس کو اس کا حق دلوا دے تو اللہ ایسے دن کہ جب قدم لڑ کھڑائیں گے اس کو ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو کوئی تردد نہیں کرتا۔ سوائے اپنے مومن بندے کی جان قبض کرنے کے وقت کیونکہ وہ موت اور اس کی تکلیف سے گھبراتا ہے جبکہ اس سے کوئی چارۂ کار نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38219
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38219، ترقيم محمد عوامة 36630)
حدیث نمبر: 38220
٣٨٢٢٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي (بن) (١) عبد ربه من (زيتون) (٢) عن ابن محيريز أنه قال: الكلام في المسجد لغو إلا ⦗٤١⦘ (لمصل) (٣) (أو) (٤) ذاكر ربه، أو سائل خير، أو معطيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن محریریز فرماتے ہیں کہ مسجد میں نمازی یا اللہ کے ذکر یا کسی اچھی چیز کی طلب یا عطا کے علاوہ تمام باتیں لغو ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38220
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38220، ترقيم محمد عوامة 36631)
حدیث نمبر: 38221
٣٨٢٢١ - حدثنا ابن علية عن رجاء بن أبي سلمة قال: بلغني أن ابن محيريز دخل على رجل من البزازين فاشترى منه شيئًا فقال رجل للبزاز: أتدري من هذا؟ هذا ابن محيريز، فقام فقال: إنما جئنا نشتري بدراهمنا، ليس بديننا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن محریز ایک مرتبہ ایک کپڑا فروش کے پاس گئے اور اس سے کچھ خریدا تو ایک آدمی نے کپڑے فروش سے کہا کہ یہ تو جانتا ہے یہ کون ہیں ؟ تو یہ ابن محریز ہیں تو وہ کپڑا فروش کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابن محریز نے فرمایا کہ ہم اپنے دراہم کے بدلہ میں خریدنے آئے ہیں اپنے دین کے بدلے خریدنے نہیں آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38221
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38221، ترقيم محمد عوامة 36632)
حدیث نمبر: 38222
٣٨٢٢٢ - حدثنا أبو أسامة عن (وهيب) (١) عن موسى بن عقبة قال: (سمعت) (٢) ابن محيريز ونحن معه بالرملة وهو يقول: أدركت الناس (وإذا) (٣) مات منهم الميت من المسلمين قالوا: الحمد للَّه (الذي) (٤) (توفى) (٥) فلانا على الإسلام، ثم انقطع ذلك فليس أحد اليوم يقول ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ریتلی زمین میں تھے کہ میں نے ابن محریز رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ” میں نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جب کوئی مسلمان مرتا تو لوگ کہتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو اسلام پر موت عطا کی۔ پھر یہ زمانہ ختم ہوگیا اور اب کوئی بھی اس طرح نہیں کہتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38222
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38222، ترقيم محمد عوامة 36633)
حدیث نمبر: 38223
٣٨٢٢٣ - حدثنا حسين بن علي عن مجمع بن يحيى قال: كان مجمع بن (جارية) (١) يقول: اللهم إني أسألك موتا سجيحا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجمع بن جاربہ رحمہ اللہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں تجھ سے نرم وآسان موت کا سوال کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38223
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38223، ترقيم محمد عوامة 36634)
حدیث نمبر: 38224
٣٨٢٢٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن أسامة بن زيد عن أبيه في قوله: ﴿خَافِضَةٌ﴾ [الواقعة: ٣]، من انخفض يومئذ لم يرتفع أبدا ومن ارتفع يومئذ لم ينخفض أبدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید اپنے والد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (خَافِضَۃٌ) کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اس دن پست ہوگیا وہ کبھی بھی بلند نہیں ہوسکے گا اور جو شخص اس دن بلندی حاصل کرے گا وہ کبھی بھی پست نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38224
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38224، ترقيم محمد عوامة 36635)
حدیث نمبر: 38225
٣٨٢٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن مسلم عن عثمان بن عبد اللَّه بن ⦗٤٢⦘ أوس عن (عمرو) (١) بن أوس قال: (المخبتون) (٢) الذين لا يظلمون وإن ظلموا لم ينتصروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احسان کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظلم نہیں کرتے اور اگر ان پر ظلم کیا جائے تو بدلہ نہیں لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38225، ترقيم محمد عوامة 36636)
حدیث نمبر: 38226
٣٨٢٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمران عن أبي العلاء بن الشخير قال: قال (فلان) (١): تمشون على قبوركم؟ قلت: نعم، قال: (فكيف) (٢) تمطرون؟
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو علاء بن الشخیر فرماتے ہیں کہ فلاں شخص نے کہا : تم لوگ تو اپنی قبروں پر چلتے ہو۔ میں نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : تو پھر کیسے تم پر بارش اترے ! ! !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38226، ترقيم محمد عوامة 36637)
حدیث نمبر: 38227
٣٨٢٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عبد اللَّه بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله (تعالى) (١): ﴿فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ﴾ [الصافات: ١٤٢]، قال: لما التقمه ذهب به حتى وضعه في الأرض السابعة، فسمع الأرض تسبح، قال: فهيجته على التسبيح فقال: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أنت سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: ٨٧]، قال: فأخرجه حتى (ألقاه) (٢) على الأرض بلا شعر ولا ظفر مثل الصبي المنفوس، فأنبت اللَّه عليه شجرة تظله، ويأكل من تحتها من حشرات الأرض، فبينما هو نائم تحتها (فتساقط) (٣) عليه ورقها قد يبست، فشكى ذلك إلى ربه، فقيل له: أتحزن على شجرة، ولا تحزن على مائة ألف أو يريدون (قد) (٤) يعذبون (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب پیغمبر کو مچھلی نے نگل لیا تو ان کو ساتویں زمین میں لے جا کر رکھ دیا۔ وہاں انہوں نے زمین کو تسبیح کرتے ہوئے سنا۔ اس بات نے ان کو تسبیح کرنے پر برانگیختہ کیا تو انہوں نے { لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَک إنِّی کُنْت مِنَ الظَّالِمِینَ } کہنا شروع کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مچھلی نے پیغمبر کو نکالا اور زمین پر بغیر بالوں اور ناخنوں کے پیدائشی بچہ کی طرح ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک درخت سایہ کرنے کے لیے ان کے پاس اگا دیا۔ اور وہ اس درخت کے نیچے کیڑے مکوڑے کھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ اس درخت کے سائے میں سوئے ہوئے تھے کہ اس درخت کا ایک پتہ جو کہ خشک ہوچکا تھا گرا تو پیغمبر علیہ السلام نے اپنے رب سے اس کی شکایت کی تو ان کو جواب ملا کہ تو ایک درخت پر تو بہت غمگین ہوتا ہے اور ایک لاکھ یا اس سے زائد پر غمگین کیوں نہیں ہوتا جن کو عذاب دیا جارہا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38227
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن مسلم بن هرمز، وأخرجه ابن جرير ٢٣/ ١٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38227، ترقيم محمد عوامة 36638)
حدیث نمبر: 38228
٣٨٢٢٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو هلال محمد بن سليم (الراسبي) (١) عن (الحسن) (٢) (٣) قال: قال أبو الصهباء: طلبت المال من حله فأعياني إلا رزق يوم بيوم، فعلمت أنه قد خير لي، وأيم اللَّه ما من عبد أوتي رزق يوم بيوم فلم يظن أنه (قد) (٤) خير له إلا كان عاجزا أو غبي الرأي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالصہبا فرماتے ہیں کہ میں نے مال کو حلال طریقہ سے تلاش کیا تو اس نے مجھے تھکا دیا سوائے یومیہ روزی کے تو میں نے جان لیا کہ میرے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی قسم جس شخص کو یومیہ روزی دی جاتی ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے تو وہ شخص ناقص رائے رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38228
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38228، ترقيم محمد عوامة 36639)
حدیث نمبر: 38229
٣٨٢٢٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا بكير بن أبي (السميط) (١) قال: حدثنا قتادة عن عبد اللَّه بن مطرف أنه كان يقول: إنك (لتلقى) (٢) الرجلين: أحدهما أكثر صوما وصلاة، والآخر أكرمهما على اللَّه بونا بعيدا، قالوا: وكيف يكون ذلك يا أبا جزء؟ قال: يكون أورعهما في محارمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مطرف فرماتے ہیں کہ تو دو شخصوں کو دیکھے گا کہ ان میں سے ایک زیادہ نماز اور روزے والا ہوگا اور دوسرا ان میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ معزز ہوگا لوگوں نے سوال کیا کہ اے ابا جزء یہ کیسے ہوسکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ محرمات سے زیادہ بچنے والا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38229، ترقيم محمد عوامة 36640)
حدیث نمبر: 38230
٣٨٢٣٠ - [حدثنا أبو أسامة عن جويبر عن الضحاك في قوله: ﴿وَبَشِّرِ (الْمُخْبِتِينَ) (١)﴾ [الحج: ٣٤]، قال: (المتواضعين) (٢) (٣)] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَبَشِّرَ الْمُخْبِتِینَ } کے بارے میں مروی ہے کہ اس سے مراد عاجزی کرنے والے لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38230
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38230، ترقيم محمد عوامة 36641)
حدیث نمبر: 38231
٣٨٢٣١ - [حدثنا أبو أسامة عن جويبر عن الضحاك: ﴿وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ [الأنبياء: ٩٠]، قال: الذلة (للَّه) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِینَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عاجزی صرف اللہ کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38231
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38231، ترقيم محمد عوامة 36642)
حدیث نمبر: 38232
٣٨٢٣٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن جويبر عن الضحاك: ﴿يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ﴾ [الحج: ٢٠]، قال: يذاب به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن پاک کی آیت { یُصْہَرُ بِہِ مَا فِی بُطُونِہِمْ وَالْجُلُودُ } کی تفسیر کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ پگھلایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38232، ترقيم محمد عوامة 36643)
حدیث نمبر: 38233
٣٨٢٣٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن أبي سنان عن ثابت عن الضحاك: ﴿(١) وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا﴾ [الفرقان: ٧٢]، قال: لم يكن اللغو من حالهم ولا (٢) بالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک اللہ کے قول { وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَامًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ لغو بات نہ ان کے دل میں ہوتی ہے اور نہ ہی حالت سے ظاہر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38233
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38233، ترقيم محمد عوامة 36644)
حدیث نمبر: 38234
٣٨٢٣٤ - حدثنا عبد اللَّه بن الزبير عن سفيان عن رجل عن الضحاك قال: لولا تلاوة القرآن لسرني أن أكون مريضا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ اگر قرآن پاک کی تلاوت نہ ہوتی تو میں مریض بننا زیادہ پسند کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38234
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38234، ترقيم محمد عوامة 36645)
حدیث نمبر: 38235
٣٨٢٣٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن جويبر عن الضحاك: ﴿فِي مَقَامٍ أَمِينٍ﴾ [الدخان: ٥١]، قال: أمنوا الموت أن يموتوا، وأمنوا الهرم أن يهرموا، ولا يجوعوا ولا يعروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فِی مَقَامٍ أَمِینٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ لوگ مرنے سے اور بڑھاپے سے محفوظ ہوں گے اور نہ تو ان کو بھوک لگے گی اور نہ ہی سردی لگے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38235
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38235، ترقيم محمد عوامة 36646)
حدیث نمبر: 38236
٣٨٢٣٦ - حدثنا أبو أسامة عن جويبر عن الضحاك: ﴿يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا﴾ [الانشقاق: ٦]، قال: عامل إلى ربك عملا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ اللہ کے ارشاد {إنَّک کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اپنے رب کے لیے عمل کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38236
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38236، ترقيم محمد عوامة 36647)
حدیث نمبر: 38237
٣٨٢٣٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن أبي بسطام عن الضحاك: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [يونس: ٦٤]، قال: يعلم أين هو قبل الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن پاک کی آیت { لَہُمُ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ یہ جان لے کہ موت سے قبل اس کا ٹھکانہ کہاں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38237
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38237، ترقيم محمد عوامة 36648)
حدیث نمبر: 38238
٣٨٢٣٨ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثنا أبو سنان قال: سمعت الضحاك بن مزاحم يقول في قوله: ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ (٢)﴾ [المائدة: ٤٨] قال: أمة محمد ﷺ (٣) البر والفاجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن مزاحم اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ إِلَی اللہِ مَرْجِعُکُمْ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امت محمدیہ کا ہر اچھا اور برا فرد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38238
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38238، ترقيم محمد عوامة 36649)
حدیث نمبر: 38239
٣٨٢٣٩ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا داود بن عبد الرحمن قال: سمعت أبا الفيض عن الضحاك قال: ﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾ [المائدة: ٢٧]، قال: الذين يتقون الشرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالفیض رحمہ اللہ حضرت ضحاک سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول {إنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ } سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک سے بچتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38239
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38239، ترقيم محمد عوامة 36650)
حدیث نمبر: 38240
٣٨٢٤٠ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا داود بن عبد الرحمن عن منصور (ابن صفية) (١) قال: حدثني أشرس بن حسان الكوفي قال: سمعت وهب بن منبه قال: كان هارون هو الذي يُجمّر الكنائس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ ہارون رحمہ اللہ وہ شخص تھے جو کنیسوں کو جلا دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38240
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38240، ترقيم محمد عوامة 36651)