حدیث نمبر: 38180
٣٨١٨٠ - حدثنا يحيى بن سليم عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ﴾ [الروم: ٤٤]، قال: في القبر.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد رحمہ اللہ سے آیت کریمہ { فَلأَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُونَ } کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ قبر کے بارے میں ہے۔
حدیث نمبر: 38181
٣٨١٨١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: ٤٦]، قال: من خاف اللَّه عند مقامه على المعصية في الدنيا.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے آیت کریمہ { وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ } کے بارے میں مروی ہے کہ جو شخص دنیا میں گناہ پر اصرار کرنے سے اللہ سے ڈرے۔
حدیث نمبر: 38182
٣٨١٨٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش قال: كنت إذا رأيت مجاهدا ظننت أنه (خر بنده) (١) قد ضل حماره فهو مهتم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے جب مجاہد کو دیکھا تو یہ سمجھا کہ شاید یہ کوئی کمہار ہے جس کا گدھا گم ہوگیا ہے جس کو یہ تلاش کر رہا ہے۔
حدیث نمبر: 38183
٣٨١٨٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا قطبة بن عبد العزيز عن الأعمش عن مجاهد قال: ما من يوم يمضي من الدنيا إلا قال: الحمد للَّه الذي أخرجني من الدنيا فلا أعود إليها أبدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ جب بھی دنیا سے کوئی دن گزر جاتا ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ جس نے مجھے اس دنیا سے نکال دیا ہے اب میں کبھی اس کی طرف لوٹ کر نہیں آؤں گا۔
حدیث نمبر: 38184
٣٨١٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد: ﴿نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ [الرعد: ٤١]، قال: الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے { نَأْتِی الأَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ أَطْرَافِہَا } کی تفسیر میں مذکور ہے کہ اس سے مراد موت ہے۔
حدیث نمبر: 38185
٣٨١٨٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش عن مجاهد قال: كان بالمدينة أهل بيت (ذوو) (١) حاجة، عندهم رأس شاة، فأصابوا شيئًا فقالوا: لو بعثنا بهذا الرأس إلى من هو أحوج إليه منا، قال: فبعثوا به فلم يزل يدور بالمدينة، حتى رجع إلى أصحابه الذين خرج من عندهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ضرورت مند اہل بیت رہتے تھے۔ ان کے پاس بکری کا سر تھا۔ ان کو کچھ وسعت ہوئی تو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اس سر کو کسی اپنے سے زیادہ محتاج کو دے دیں۔ تو انہوں نے اس کو بھیج دیا تو وہ سر مدینہ کے گھروں میں گھومتا رہا حتی کہ انہی کے پاس لوٹ آیا کہ جن سے وہ نکلا تھا۔
حدیث نمبر: 38186
٣٨١٨٦ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد قال: ذهب العلماء (فما) (١) بقي إلا المتعلمون، ما المجتهد فيكم (اليوم) (٢) إلا كاللاعب فيمن كان قبلكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء ختم ہوچکے ہیں اور صرف طالب علم ہی باقی رہ گئے ہیں۔ تم میں آج مجاہدہ کرنے والا ایسے ہی ہے کہ جیسے پہلے لوگوں میں کھیل کود کرنے والا۔
حدیث نمبر: 38187
٣٨١٨٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا مالك بن مِغْوَل عن طلحة عن مجاهد قال: إذا التقى الرجلُ كل الرجلَ فضحك في وجهه، (تحاتت) (١) عنهما الذنوب كما (ينثر) (٢) الريح الورق اليابس من الشجر، قال: فقال رجل: (٣) إن هذا من العمل يسير، قال: فقال: ما سمعت قوله تعالى: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ [التوبة: ٦٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ جب کوئی آدمی دوسرے کو مل کر مسکراتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں کہ جیسے ہوا خشک پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ کسی نے سوال کیا کہ یہ تو بہت چھوٹا سا عمل ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا : { لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِی الأَرْضِ جَمِیعًا مَا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ } کہ اگر آپ روئے زمین کی تمام اشیاء بھی صرف کردیتے تو ان میں آپس میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔
حدیث نمبر: 38188
٣٨١٨٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن مجاهد [قال: أعجب أهل الكوفة إليّ أربعة: طلحة وزبيد ومحمد بن عبد الرحمن ويحيى بن عباد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اہل کوفہ میں چار آدمی سب سے اچھے لگتے ہیں : طلحہ، زبید، محمد بن عبدالرحمن اور یحییٰ بن عباد۔
حدیث نمبر: 38189
٣٨١٨٩ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد] (١) قال: إن المسلم لو لم (يُصبِ) (٢) من أخيه إلا أن حياءه منه يمنعه من المعاصي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بیشک مسلمان اگر اپنے بھائی سے کوئی بھلائی نہ بھی ملے تو یہ بھلائی کافی ہے کہ وہ اس کی حیا کرتے ہوئے گناہ سے بچ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 38190
٣٨١٩٠ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن ليث عن مجاهد قال: إنما الفقيه من يخاف اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ سمجھ والا شخص وہ ہے جو اللہ سے ڈرے۔
حدیث نمبر: 38191
٣٨١٩١ - حدثنا عفان قال: حدثنا (١) عبد الواحد عن الأعمش عن مجاهد في قوله (تعالى) (٢): ﴿تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ [التحريم: ٨]، قال: هو أن يتوب ثم لا يعود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے قرآن پاک کی آیت { تُوبُوا إِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَصُوحًا } کی تفسیر منقول ہے کہ وہ آدمی توبہ کرے اور پھر دوبارہ گناہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 38192
٣٨١٩٢ - [حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن مجاهد (في) (١) قوله (تعالى) (٢): ﴿وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا﴾ [آل عمران: ٣]، قال: الطائع المؤمن] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَلَہُ أَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَکَرْہًا } کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے مراد تابع دار، مومن شخص ہے۔
حدیث نمبر: 38193
٣٨١٩٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن (ليث) (١) عن مجاهد: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [الذاريات: ١٧]، قال: كانوا لا ينامون كل الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } کے بارے میں منقول ہے کہ وہ لوگ تمام رات نہیں سوتے تھے۔
حدیث نمبر: 38194
٣٨١٩٤ - حدثنا فضيل بن عياض عن منصور عن مجاهد: ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ [الرحمن: ٧٢]، قال: مقصورات قلوبهم وأبصارهن وأنفسهن على أزواجهن، في خيام اللؤلؤ (لايردن) (١) (غيرهم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ وہ ایسی حوریں ہوں گی کہ جو موتیوں کے خیموں میں ہوں گی اور ان کے دل وجان اور آنکھیں صرف اپنے خاوندوں پر منحصر ہوں گی۔ وہ ان کے علاوہ کسی اور سے محبت نہیں کریں گی۔
حدیث نمبر: 38195
٣٨١٩٥ - حدثنا فضيل بن عياض عن أصحابه عن مجاهد: ﴿وَحُورٌ عِينٌ﴾ [الواقعة: ٢٢]، قال: يحار فيهن (البصر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَحُورٌ عِینٌ} کے بارے میں منقول ہے کہ ان حوروں کے دیکھنے میں آنکھیں چندھیا رہی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 38196
٣٨١٩٦ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد: ﴿وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [النساء: ٣٢]، قال: ليس (بعرض) (١) الدنيا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَاسْأَلُوا اللَّہَ مِنْ فَضْلِہِ } کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے دنیا کا مال مراد نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 38197
٣٨١٩٧ - [حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن منصور عن مجاهد: ﴿وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا﴾ [المزمل: ٨]، قال: أخلص له إخلاصا] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَتَبَتَّلْ إلَیْہِ تَبْتِیلاً } کی تفسیر میں منقول ہے کہ اللہ کے لیے اخلاص پیدا کرو۔
حدیث نمبر: 38198
٣٨١٩٨ - [حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن منصور عن مجاهد قال: ما من (ميت) (٢) إلا تبكي عليه الأرض أربعين صباحا] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے ارشاد منقول ہے کہ جب بھی کوئی مرتا ہے تو زمین چالیس دن اس پر روتی ہے۔
حدیث نمبر: 38199
٣٨١٩٩ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن منصور عن مجاهد: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: ٤٦]، قال: هو الرجل يذكر اللَّه عند المعاصي فيحتجز عنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ کے ارشاد { وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے کہ جو بوقت گناہ اللہ کو یاد کرے اور گناہ سے احتراز کرلے۔
حدیث نمبر: 38200
٣٨٢٠٠ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن منصور عن مجاهد في قوله: ﴿وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِآنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا (١٥) قَوَارِيرَ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا﴾ [الإنسان: ١٥ - ١٦]، قال: (الآنية) (٢) الأقداح، والأكواب: (الكوكبات) (٣) (وتقديرا: إنها) (٤) ليست بالملأى التي تفيض، ولا ناقصة القدر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِآنِیَۃٍ مِنْ فِضَّۃٍ وَأَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیرَا قَوَارِیرَا مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوہَا تَقْدِیرًا } کی تفسیر میں منقول ہے کہ آنیہ سے مراد دینے کے برتن اور الاکواب سے مراد۔