حدیث نمبر: 38142
٣٨١٤٢ - حدثنا علي بن حفص (عن سفيان) (١) عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: (يشرف) (٢) قوم في الجنة على قوم في النار فيقولون: ما لكم في النار؟ (وإنما كنا) (٣) نعمل بما (تعلموننا) (٤)، قالوا: كنا نعلمكم (ولا) (٥) نعمل به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ جنت سے جہنم میں جھانکیں گے تو وہاں انہیں کچھ لوگ نظر آئیں گے وہ ان سے کہیں گے کہ تم جہنم میں کیوں ہو ؟ ہم تو ان باتوں پر عمل کیا کرتے تھے جو تم ہمیں سکھاتے تھے ؟ ! وہ کہیں گے کہ ہم تمہیں تو سکھایا کرتے تھے لیکن خود عمل نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 38143
٣٨١٤٣ - حدثنا (هشيم) (١) عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي: ﴿وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ﴾ [الزخرف: ٣٣]، قال: الدرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی قرآن مجید کی آیت { وَمَعَارِجَ عَلَیْہَا یَظْہَرُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سیڑھیاں ہیں۔
حدیث نمبر: 38144
٣٨١٤٤ - حدثنا جعفر بن عون عن سفيان عن إسماعيل (بن سالم) (١) عن الشعبي: ﴿وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ﴾، قال: الدرج و ﴿سُقُفًا﴾، قال: (الجذوع) (٢)، ﴿وَزُخْرُفًا﴾ [الزخرف: ٣٣، ٣٥]، قال: الذهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی قرآن مجید کی آیت { وَمَعَارِجَ عَلَیْہَا یَظْہَرُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سیڑھیاں ہیں۔ اور سُقُفًا سے مراد تنے ہیں اور زُخْرُفًا سے مراد سونا ہے۔
حدیث نمبر: 38145
٣٨١٤٥ - حدثنا أبو أسامة عن مالك بن مغول قال: سمعت (عبيد اللَّه) (١) بن العيزار قال: إن الأقدام يوم القيامة (كمثل) (٢) النبل في (القرن) (٣)، والسعيد من وجد لقدميه موضعا يضعهما، وعند الميزان ملك ينادي: ألا إن فلان بن فلان ثقلت موازينه، فسعد سعادة لا يشقى بعدها أبدا، ألا إن فلان بن فلان خفت موازينه فشقي شقاء لا يسعد بعده أبدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عیزار فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن پاؤں ایسے ہوں گے جیسے تیروں کے تھیلے میں تیر ہوتے ہیں۔ اس دن خوش نصیب وہ ہوگا جسے اپنا پاؤں رکھنے کے لئے جگہ مل جائے۔ میزان کے پاس ایک فرشتہ اعلان کررہا ہوگا کہ فلاں بن فلاں کا نامہ اعمال وزنی ہوگیا وہ آج خوش نصیب ہوگیا اور آج کے بعد کبھی وہ بدقسمتی کا شکار نہیں ہوگا۔ اور فلاں بن فلاں کے اعمال کا ترازو ہلکا ہوگیا اور وہ بدقسمت ہوگیا اور آج کے بعد کبھی سعادت کا چہر ہ نہ دیکھ سکے گا۔
حدیث نمبر: 38146
٣٨١٤٦ - حدثنا المحاربي عن سفيان عن يحيى بن سعيد عن رجل من الأنصار قال: كان يقول: لنعمة اللَّه عليَّ فيما زوى عني من الدنيا، أعظم من نعمته عليَّ فيما أعطاني منها.
مولانا محمد اویس سرور
ایک انصاری صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ دنیاوی نعمت جو اس نے مجھے عطا نہیں کی ، مجھے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت سے زیادہ بالاتر محسوس ہوتی ہے جو اس نے مجھے عطا کی ہے۔
حدیث نمبر: 38147
٣٨١٤٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس سمع أباه وعمه يذكران قالا: كان عبد الملك ابن إياس ممن سمع ثم سكت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ایاس ان لوگوں میں سے تھے جو سنتے اور خاموش ہوجاتے۔
حدیث نمبر: 38148
٣٨١٤٨ - حدثنا (١) ابن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: أعجب أهل الكوفة إليَّ أربعة: طلحة و (زبيد) (٢) ومحمد بن عبد الرحمن ويحيى بن عباد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ میں مجھے سب سے پسندیدہ چار لوگ ہیں : طلحہ، زبید، محمد بن عبد الرحمن اور یحییٰ بن عباد۔
حدیث نمبر: 38149
٣٨١٤٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث قال: قلت لطلحة: إن طاوسا كان يكره الأنين، قال: فما سُمع له أنين حتى مات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ سے کہا کہ حضرت طاوس رونے کی آواز کو ناپسند فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا موت تک ان کے رونے کی آواز نہیں سنی گئی۔
حدیث نمبر: 38150
٣٨١٥٠ - حدثنا حسين بن علي عن مسعر قال: أعطاني زيد العمي كتابا فيه: أن رجلا أوصى ابنه، (قال) (١): يا بني كن (ممن) (٢) (نأيه (ممن ناى)) (٣) (٤) عنه (تغنيًا) (٥) ونزاهة، و (دنوه) (٦) ممن دنا منه لين ورحمة، ((ليس) (٧) نأيه) (٨) كبرا ولا عظمة، وليس (دنوه) (٩) خدعا ولا خيانة، (١٠) لا يعجل فيما رابه ويعفو عما (تبين) (١١) له، لا يغره ثناء من جهله، ولا ينسى إحصاء ما قد (عمله) (١٢)، إن ذُكر خاف مما يقولون، واستغفر مما لا يعلمون، يقول: ربي أعلم بي من نفسي، وأنا أعلم بنفسي من غيري، (يسأل) (١٣) ليعلم، وينطق ليغنم، ويصمت ليسلم، ويخالط ليفهم، إن كان في الغافلين (كتب) (١٤) من الذاكرين، (وإن كان في الذاكرين) (١٥) لم يكتب من الغافلين، لأنه يذكر إذا غفلوا، ولا ينسى إذا ذكروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ مجھے زید عمی نے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ اے میرے بیٹے ! ایسا شخص بن جا جو لوگوں سے بےنیازی اور پاکدامنی کے لئے دور رہے، نرمی اور رحمت اس کے قریب ہو، اس کا دور ہونا تکبر یا نخوت کی وجہ سے نہ ہو۔ اس کا قریب ہونا دھوکہ دینے یا خیانت کرنے کے لئے نہ ہو۔ شک والا کام کرنے میں جلدی نہ کرے۔ جہاں تک ہوسکے معاف کردے۔ جو اسے نہ جانتا ہو اس کے تعریف کرنے سے دھوکہ میں نہ پڑے اور جو وہ کرچکا ہے اسے نہ بھولے۔ اس کا ذکر کیا جائے تو لوگوں کی باتیں اسے خوف میں مبتلا کردیں اور جو وہ نہیں جانتے اس پر استغفار کرے۔ علم کے حصول کے لئے سوال کرے، فائدہ پہنچانے کے لئے بات کرے، سلامتی کے حصول کے لئے خاموش رہے، بات سمجھنے کے لئے میل جول رکھے، اگر وہ غافلین میں سے ہو تو ذاکرین میں سے شمار کیا جائے اور اگر ذاکرین میں سے ہو تو غافلین میں شمار نہ کیا جائے، اس لئے کہ لوگوں کی غفلت کے وقت ذکر کرتا ہو اور جب لوگ ذکر کریں اس وقت بھی اپنے رب کو نہ بھولے۔ ابن عتیبہ نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ وہ علم کو بردباری کے ساتھ ملائے، فنا ہونے والی چیزوں میں اس کی بےرغبتی ان چیزوں میں رغبت جیسی ہو جو باقی رہنے والی ہیں۔
حدیث نمبر: 38151
٣٨١٥١ - قال (حسين) (١): وزاد فيه ابن عيينة: يمزج العلم بحلم، زهادته فيما (يفنى) (٢) كرغبته فيما يبقى.
حدیث نمبر: 38152
٣٨١٥٢ - حدثنا إسحاق بن منصور (قال: حدثنا) (١) عبد السلام عن يزيد بن عبد الرحمن عن المنهال عن خيثمة عن سويد بن غفلة قال: إذا أراد اللَّه أن يُنسى أهل النار جُعل لكل إنسان منهم تابوت من نار على قدره، ثم أقفل عليه بأقفال من نار، فلا يُضرب منه عرقٌ إلا وفيه مسمار (من) (٢) (نار) (٣)، [[ثم جعل ذلك التابوت في تابوت آخر من نار، [ثم أقفل (عليه) (٤) بأقفال من نار] (٥) ثم (يُضرم) (٦) بينهما نار]]، (٧)، فلا يرى أحد منهم أن في النار أحدا غيره، فذلك قوله (تعالى) (٨): ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزمر: ١٦]، وذلك قوله تعالى: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الأعراف: ٤١]
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اہل جہنم کو بھلائے جانے کا ارادہ فرمائیں گے ہر ایک کے لئے اس کی جسامت کے بقدر ایک تابوت بنائیں گے پھر اس پر تالا لگا دیا جائے گا۔ اس تابوت میں آگ کے کیل ہوں گے۔ پھر اس تابوت کو آگ کے دوسرے تابوت میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر اس پر آگ کے مزید تالے لگادیئے جائیں گے۔ پھر ان کے درمیان آگ بھڑکا دی جائے گی۔ پھر ہر شخص یہ سمجھے گا کہ آگ میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اللہ رب العزت کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے { لَہُمْ مِنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ} اور یہی مطلب ہے اس ارشاد ربانی کا { لَہُمْ مِنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ }۔
حدیث نمبر: 38153
٣٨١٥٣ - حدثنا حسين بن علي عن محمد بن سوقة عن محمد بن المنكدر قال: إن اللَّه ليصلح بصلاح العبد ولدَه، وولد ولده، وأهل دويرته وأهل الدويرات حوله، فما يزالون في حفظ من اللَّه ما دام بينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے کی نیکی کی وجہ سے اس کی اولاد اور اس کے پوتے کو بھی بھلائی بھی عطا فرماتے ہیں، اس طرح اس کے گھر والوں کو اور اس کے گھر کے اردگرد کے گھر والوں کو بھی بھلائی عطا فرماتے ہیں۔ جب تک وہ نیک بندہ ان کے درمیان ہوتا ہے وہ اللہ کی حفاظت میں ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38154
٣٨١٥٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن حمزة الزيات عن حُمْران بن أَعْيَن عن أبي حرب (بن) (١) أبي الأسود (الديلي) (٢) قال: إن الرجل ليحبس على باب الجنة بالذنب عمله مائة عام، وإنه ليرى أزواجه وخدمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرب بن ابی اسود دیلی فرماتے ہیں کہ آدمی کو اس کے گناہ کی وجہ سے جنت کے دروازے پر ایک سو سال کے لئے روک لیا جائے گا اور وہ جنت میں اپنی بیویوں اور خادموں کو دیکھے گا۔
حدیث نمبر: 38155
٣٨١٥٥ - حدثنا معاوية عن سفيان عن بختري الطائي قال: كان يقال: أغبط الأحياء بما (يغبط) (١) به الأموات، واعلم أن العبادة لا تصلح إلا بزهد، وذِلّ عند الطاعة، واستصعب عند المعصية، وأحب الناس على قدر تقواهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بختری طائی فرماتے ہیں کہ زندوں پر اس چیز کا رشک کرو جس کا مردوں پر رشک کیا جاتا ہے، یاد رکھو کہ عبادت زہد کے بغیر درست نہیں ہوتی۔ اطاعت کے وقت پست ہوجاؤ، معصیت کے وقت مشقت محسوس کرو، اور لوگوں سے ان کے تقویٰ کے مطابق محبت کرو۔
حدیث نمبر: 38156
٣٨١٥٦ - حدثنا أبو أسامة عن مالك بن مغول عن القاسم بن الوليد: ﴿فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى﴾ [النازعات: ٣٤] قال: حين (يساق) (١) أهل الجنة إلى الجنة وأهل النار إلى النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن ولید قرآن مجید کی آیت { فَإِذَا جَائَتِ الطَّامَّۃُ الْکُبْرَی } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ اس موقع کی بات ہے جب جنت والوں کو جنت کی طرف اور جہنم والوں کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 38157
٣٨١٥٧ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة (يظنه) (١) عن عثمان قال: من عمل عملا كساه اللَّه رداء عمله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے عمل کی چادر پہنائیں گے۔
حدیث نمبر: 38158
٣٨١٥٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد قال: قال عثمان بن عفان: من عمل عملا كساه اللَّه رداءه، إن (خير فخير) (١)، وإن (شر فشر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے عمل کی چادر پہنائیں گے۔ اگر اچھا ہوگا تو اچھی چادر اور اگر برا ہوگا تو بری چادر۔
حدیث نمبر: 38159
٣٨١٥٩ - حدثنا وكيع ويزيد بن هارون عن إسماعيل بن أبي خالد عن يحيى (ابن) (١) رافع قال: سمعت عثمان يقول: ﴿وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ﴾ [ق: ٢١]، قال: سائق يسوقها إلى أمر اللَّه، وشهيد يشهد عليها بما عملت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { وَجَائَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَعَہَا سَائِقٌ وَشَہِیدٌ} کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک ہانکنے والا ہر نفس کو اللہ کے امر کی طرف ہانکے گا اور ایک گواہ اس کے اعمال کی گواہی دے گا۔
حدیث نمبر: 38160
٣٨١٦٠ - حدثنا أبو أسامة عن جرير بن حازم عن الأعمش عن خيثمة عن عدي بن حاتم قال: [أيمن امرئ وأشامه ما بين لحييه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدمی کی سب سے مبارک اور سب سے منحوس چیز وہ ہے جو اس کے جبڑوں کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 38161
٣٨١٦١ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن أبي سنان عن عمرو بن مرة عن عدي بن حاتم قال] (١): إنكم في زمان معروفه: منكرُ زمانٍ قد خلا، ومنكره معروف زمان ما أتى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس کی نیکی گزشتہ زمانے کی برائی ہے اور اس کی برائی آنے والے زمانے کی نیکی ہے۔
حدیث نمبر: 38162
٣٨١٦٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مِغوَل عن أبي منصور عن زيد بن وهب قال: خرجت إلى (الجبانة) (١) فجلست فيها إلى جنب الحائط، فجاء رجل إلى قبر فسواه ثم جاء فجلس إلي، فقلت: من هذا؟ (فقال) (٢): أخي، قال: قلت: أخ لك؛ قال: أخ لي في الإسلام رأيته البارحة فيما يرى النائم فقلت: فلان قد ⦗٢٦⦘ عشت، الحمد للَّه رب العالمين، قال: قد قلتها، (قال) (٣): (لأن) (٤) أكون أقدر على أن أقولها، أحب إلي من ملء الأرض وما فيها، ألم تر حين كانوا (يدفنونني) (٥)، فإن فلانا قام فصلى ركعتين؛ لأن أقدر (على) (٦) أن (أصليهما) (٧) أحب إلي من الدنيا وما فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ قبرستان گیا اور ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے ایک قبر کو سیدھا کیا اور پھر میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے ؟ اس نے بتایا کہ یہ میرے بھائی کی قبر ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے بھائی کی ؟ اس نے کہا کہ یہ میرا اسلامی بھائی ہے۔ میں نے اسے رات کو خواب میں دیکھا اور میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں تو زندہ رہے ! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ اس نے کہا کہ تو نے جو جملہ کہا ہے، اگر میں اس کے کہنے پر قادر ہوجاؤں تو یہ کہنے کے لئے ساری زمین بھی صدقہ کرنا پڑے تو صدقہ کردوں۔ کیا تم نے دیکھا کہ جب لوگ مجھے دفن کررہے تھے تو ایک آدمی نے کھڑے ہوکر دو رکعت نماز پڑھی تھی۔ اگر مجھے وہ دو رکعت پڑھنے کی قدرت مل جائے تو وہ مجھے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔
حدیث نمبر: 38163
٣٨١٦٣ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار قال: (للمقنطين) (١) (جسر) (٢) يطأ الناس يوم القيامة على وجوههم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے والوں کو قیامت کے دن محبوس رکھا جائے گا اور لوگ ان کے چہروں کو روندیں گے۔
حدیث نمبر: 38164
٣٨١٦٤ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: حدثني (معاوية بن بشير) (١) قال: أراه عن أبيه قال: قال خباب: إنها ستكون صيحات (فأصيخوا) (٢) لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خباب فرماتے ہیں کہ عنقریب چیخیں ہوں گی ان کے لئے تیاری کرلو۔
حدیث نمبر: 38165
٣٨١٦٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا (سليمان) (١) (عن) (٢) ثابت قال: قال ابن أبي ليلى: طفت هذه الأمصار فما رأيت (أكثر) (٣) (متهجدا) (٤)، ولا (أبكر) (٥) على ذكر اللَّه من أهل البصرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان شہروں میں چکر لگایا ہے، میں اہل بصرہ سے زیادہ تہجد گزار اور زیادہ ذکر کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 38166
٣٨١٦٦ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي سنان عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: إن المَلَك يجيء إلى أحدكم كل (غداة) (١) بصحيفة بيضاء (فليمل) (٢) فيها خيرا، [فإذا طلعت الشمس فليقم (لحاجته) (٣)، ثم إذا صلى العصر فليمل (فيها خيرا) (٤)] (٥)، فإنه إذا أملي في أول صحيفته وآخرها خيرًا، كان عسى أن (يكفى) (٦) ما بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ ہر صبح فرشتہ تمہارے پاس سفید نامہ اعمال لے کر آتا ہے اور اس میں خیر لکھواتا ہے، جب سورج طلوع ہوجاتا ہے تو وہ اپنی حاجت کے لئے اٹھ جاتا ہے اور جب وہ عصر کی نماز پڑھ لیتا ہے تو اس میں خیر لکھواتا ہے، پس جب اعمال نامے کے شروع اور آخر میں خیر ہو تو امید ہے کہ ان دونوں حصوں کی خیر درمیانی حصے کو بھی کفایت کرجائے گی۔
حدیث نمبر: 38167
٣٨١٦٧ - حدثنا ابن يمان عن سفيان عن ثور عن خالد بن معدان قال: يمرون على النار وهي خامدة فيقولون: أين النار التي وُعدنا؟ قال: مررتم عليها وهي خامدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن معدان کہتے ہیں کہ لوگ آگ کے پاس سے گزریں گے تو وہ بجھی ہوئی ہوگی۔ وہ کہیں گے وہ آگ کہاں ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا ؟ ان سے کہا جائے گا کہ جب تم اس کے پاس سے گزرے تھے تو وہ بجھی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 38168
٣٨١٦٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا موسى بن مسلم عن عبد الرحمن ابن سابط قال: كان (سعيد بن عمرو) (١) بن حذيم أميرا على (مصر) (٢) فبلغ عمر بن الخطاب أنه يأتي عليه حين لا يدخن في تنوره، فبعث إليه بمال، فاشترى ما يصلحه وأهله، ثم قال لامرأته: لو أنا أعطيناها تاجرا لعله أن يصيب لنا فيها، قالت: فافعل، (قال) (٣): فتصدق بها الرجل، وأعطاها حتى لم يبق منها شيء، ثم ⦗٢٨⦘ احتاجوا فقالت له امرأته: لو أنك نظرت إلى تلك الدراهم فأخذتها، فإنا قد احتجنا إليها، فأعرض عنها، ثم عادت فقالت أيضًا، فأعرض عنها، حتى استبان لها أنه قد أمضاها (قال) (٤): فجعلت تلومه، قال: فاستعان عليها بخالد بن الوليد فكلمها، فقال: إنكِ قد آذيته فكأنما (أغراها) (٥) به، فقالت له أيضًا، فلما رأى ذلك الرجل برك على ركبتيه فقال: ما يسرني أن (أحبس) (٦) عن (العنق) (٧) الأول يوم القيامة (ولا) (٨) أن لي ما ظهر على الأرض، و (لو) (٩) أن خيرة من الخيرات أبرزت أصابعها لأهل الأرض من فوق السماوات لوجد ريحهن، فأنا أدعهن لَكُنَّ؟ لأن أدعكن لهن أحرى من أن أدعهن لكن، فلما رأت ذلك كفت عنه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عامر بن حذیم مصر کے امیر تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان پر بعض اوقات ایسے بھی آتے ہیں کہ ان کا چولہا نہیں جلتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے اور ان کے اہل و عیال کی کفالت کے لئے کچھ مال بھیجا۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ کیوں نہ ہم یہ مال ایسے تاجر کو دے دیں جو اس میں ہمارے لئے نفع کمائے ؟ ان کی اہلیہ نے فرمایا کہ آپ ایسا کرلیجئے۔ پھر آپ نے وہ مال صدقہ کردیا اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر کچھ عرصے بعد انہیں احتیاج ہوئی اور مال کی ضرورت پڑی تو ان کی بیوی نے کہا کہ اگر آپ ان دراہم میں سے کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑتے تو اچھا ہوتا آج ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔ ان کی اہلیہ نے پھر وہی بات دہرائی ، انہوں نے پھر اعراض کیا۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ توجہ نہیں کررہے توا نہیں ملامت کرنے لگیں۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مدد چاہی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور فرمایا کہ تم نے حضرت سعید کو تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت سعید کی اہلیہ نے ان سے بھی یہی بات فرمائی۔ جب اس آدمی کو یہ بات معلوم ہوئی جس کو دراہم حاصل ہوئے تھے تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں کہ قیامت کے دن مجھے پہلی جماعت میں داخل ہونے سے روک لیا جائے جبکہ اس کے بدلے میں مجھے دنیا کی ہر چیز ہی کیوں نہ مل جائے۔ اور اگر ایک حور اپنی انگلیاں زمین والوں کے لئے ظاہر کردے تو ان کی خوشبو سب کو محسوس ہوگی۔
حدیث نمبر: 38169
٣٨١٦٩ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن مالك بن مغول قال: مر رجل بربيع بن أبي راشد، وهو جالس على صندوق من صناديق (الحذائين) (٢) فقال: لو دخلت المسجد فجالست إخوانك، فقال له ربيع: لو فارق ذكر الموت قلبي ساعة خشيت أن يفسد قلبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ربیع بن راشد کے پاس سے گزرا، وہ موچیوں کے ایک کھوکھے کے پاس بیٹھے تھے۔ اس آدمی نے ان سے کہا کہ اگر آپ مسجد چلیں اور مسلمان بھائیوں سے بات چیت کریں تو اچھا ہو۔ حضرت ربیع نے ان سے فرمایا کہ اگر موت کی یاد ایک لمحے کے لئے بھی میرے دل سے جدا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دل خراب ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 38170
٣٨١٧٠ - حدثنا حسين بن علي عن إسماعيل بن شعيب قال: كان ⦗٢٩⦘ (أبي) (١) زميلَ ربيع بن أبي راشد إلى مكة فقال ذات يوم: لو أني أعلم أحب العمل إلى ربي لعلي (أتكلفه) (٢)، قال: فرأى في منامه: الشكر والذكر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو زمیل ربیع بن راشد ایک مرتبہ مکہ کی طرف جارہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ میرے رب کو میرا کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے تو میں اس کا بہت زیادہ اہتمام کروں گا۔ پھر انہوں نے خواب میں شکر اور ذکر کو دیکھا۔
حدیث نمبر: 38171
٣٨١٧١ - حدثنا حسين بن علي عن عمر بن ذر قال: لقيني ربيع بن أبي راشد في (السدة) (١) في السوق فأخذ بيدي فصافحنى فقال: يا أبا ذر، من سأل اللَّه رضاه، فقد سأله أمرا عظيما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ذر کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن ابی راشد مجھے سدہ کے ایک بازار میں ملے۔ انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور فرمایا کہ اے ابو ذر ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا کو مانگتا ہے وہ اللہ سے درحقیقت بہت عظیم چیز مانگتا ہے۔
حدیث نمبر: 38172
٣٨١٧٢ - حدثنا خلف بن خليفة عن عون بن شداد أن هرم بن (حيان) (١) العبدي لما نزل به الموت (قالوا) (٢) له: يا هرم (أوص) (٣)، قال: أوصيكم أن تقضوا عني ديني، قالوا: بم توصي؟ قال: فتلا آخر سورة النحل: ﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ حتى بلغ: ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ﴾ [النحل: ١٢٥، ١٢٨].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن شداد کہتے ہیں کہ جب ہرم بن حیان عبدی کے وصال کا وقت آیا تو لوگوں نے ان سے کہا کہ اے ہرم ! وصیت فرمادیجئے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم میرا قرض ادا کردینا۔ پھر لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں کیسے زندگی گزارنے کی وصیت کرتے ہیں ؟ انہوں نے سورة النحل کی { ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ } سے لے کر {إنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوْا وَالَّذِینَ ہُمْ مُحْسِنُونَ } تک تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 38173
٣٨١٧٣ - حدثنا خلف بن خليفة عن إسماعيل بن أبي خالد قال: قال هرم: اللهم إني أعوذ بك من شر زمان: يتمرد فيه صغيرهم، ويأمل فيه كبيرهم، وتقرب فيه آجالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہرم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں ایسے زمانے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس میں ان کا جوان سرکشی کا شکار ہے، بوڑھا امیدوں میں مبتلا ہے اور ان کی موتیں قریب آگئیں ہیں۔
حدیث نمبر: 38174
٣٨١٧٤ - حدثنا خلف بن خليفة عن أصبغ الوراق عن أبي نضرة أن عمر بعث هرم بن حيان على الخيل، فغضب على رجل فأمر به (فوجئت) (١) عنقه، ثم أقبل ⦗٣٠⦘ على أصحابه فقال: لا جزاكم اللَّه خيرا ما نصحتموني حين قلت، ولا كففتموني (عن) (٢) غضبي، واللَّه لا (أَلِي) (٣) لكم عملا، ثم كتب إلى عمر: يا أمير المؤمنين لا طاقة لي بالرعية فابعث إلى عملك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ہرم بن حیان کو ایک لشکر کی قیادت دے کر روانہ فرمایا۔ پھر ہرم دشمنوں کے ایک آدمی پر غضب ناک ہوئے اور اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ اللہ تمہیں خیر سے محروم رکھے، جب میں نے یہ بات کی تو تم نے مجھے نصیحت کیوں نہ کی، اور تم نے مجھے میرے غصے سے کیوں نہ روکا، خدا کی قسم میں تمہارے کسی معاملے کا قائد نہیں بنوں گا۔ پھر انہوں نے حضرت عمرکو خط لکھا کہ اے امیر المومنین ! میں رعیت کے کسی کام کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ اس کام کے لئے کسی اور کو بھیج دیجئے۔
حدیث نمبر: 38175
٣٨١٧٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن إسماعيل عن (الحسن) (١) أن (هرم) (٢) ابن حيان كان يقول: لم أر مثل النار نام هاربها، ولا مثل الجنة نام طالبها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہرم بن حیان فرمایا کرتے تھے کہ میں جہنم کو ایسی چیز نہیں سمجھتا جس سے بھاگنے والے کو نیند آئے اور جنت کو ایسی چیز نہیں سمجھتاجس کو حاصل کرنے والا سو پائے۔
حدیث نمبر: 38176
٣٨١٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني سليمان بن المغيرة عن حصيد بن هلال قال: كان هرم بن حيان عاملا على بعض رساتيق الأهواز، فاستأذنه رجل من أصحابه إلى أهله، فأبى أن يأذن له، قال: فقام هرم بن حيان يخطب يوم (جمعة) (١) إذ قال الرجل هكذا على أنفه -أمسك على أنفه- (فأشار) (٢) إليه هرم بيده: اذهب، فانطلق الرجل حتى أتى أهله فقضى حاجته ثم رجع فقال له هرم: أين كنت؟ فقال: ألم تر حين قمت فأمسكت على أنفي (فأشرت) (٣) إلي بيدك: اذهب، فقال هرم: أخر رجال السوء لزمان السوء.
مولانا محمد اویس سرور
حمید بن ہلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حرم بن حیان ” اہواز “ علاقے کے بعض دیہاتوں کے گورنر تھے۔ ان سے ان کے کسی ساتھی نے اپنے گھر جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ” حمید بن ہلال “ کہتے ہیں کہ ہرم بن حیان جمعہ کے خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی نے ناک پر ہاتھ رکھ کر اجازت طلب کی تو ” ہرم “ نے اس کو ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ چلا جا۔ وہ نکلا یہاں تک کہ اپنے گھر آیا اور اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد لوٹا۔ ” ہرم “ نے اس سے پوچھا کہ ” آپ کہاں تھے “ تو اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا نہیں تھا کہ جب میں نے کھڑا ہو کر ناک کو روک رکھا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ چلا جا تو ہرم نے فرمایا کہ ” برے لوگوں کو برے زمانہ کے لیے چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 38177
٣٨١٧٧ - حدثنا عفان (قال: حدثنا) (١) جعفر بن سليمان [قال: أخبرني غالب ⦗٣١⦘ القطان عن بكر قال: إذا كان يوم القيامة لم يدع اللَّه لمؤمن حاجة إلا قضاها، ولا يسأله إلا ما يوافق رضاه.
مولانا محمد اویس سرور
بکر فرماتے ہیں کہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ مومن کی ہر حاجت کو پورا کرے گا۔ اور اس کی مرضی کے موافق اس سے سوال کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 38178
٣٨١٧٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان] (١) قال: حدثنا سعيد الجريري قال: مر مؤرق العجلي على مجلس الحي فسلم عليهم، فردوا ﵇ وسألوه، فقال رجل من الحي: أكل حالك صالح؟ قال: وددنا أن العشر منه يصلح.
مولانا محمد اویس سرور
سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مورق العجلی قبیلہ حی کی مجلس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ ” آپ کی حالت بالکل درست ہے ؟ “ تو انہوں نے جواب دیا کہ ” میں تو چاہتا ہوں کہ اس کا دسواں حصہ ہی ٹھیک ہوجائے۔
حدیث نمبر: 38179
٣٨١٧٩ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن (بكر) (١) قال: لا يكون الرجل تقيا حتى يكون تقي الغضب، تقي الطمع.
مولانا محمد اویس سرور
بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی پرہیزگار اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ غصہ اور لالچ سے نہ بچے۔