٣٨١١٧ - حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن أبي العالية: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ (مَا يَهْجَعُونَ) (١)﴾ [الذاريات: ١٧]، (قال: قليلا) (٢) ما ينامون ليلة حتى الصباح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ قرآن مجید کی آیت { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ رات کو صبح تک بہت کم سوتے ہیں۔
٣٨١١٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن عاصم عن أبي العالية: ﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ [الواقعة: ٧٩]، (قال) (١): ليس أنتم، أنتم أصحاب الذنوب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ قرآن مجید کی آیت { لاَ یَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد تم نہیں تم تو گناہ والے ہو۔
٣٨١١٩ - حدثنا عباد عن عوف عن أبي المنهال أن أبا العالية رأى رجلا يتوضأ فلما فرغ قال: اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين، فقال: إن الطهور (بالماء) (١) (حسن) (٢)، ولكنهم المطهرون من الذنوب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو وضو کررہا تھا، جب وہ وضو کرچکا تو اس نے کہا کہ اے اللہ مجھے توبہ کرنے والوں میں سے بنا اور مجھے پاک ہونے والوں میں سے بنا۔ یہ سن کر حضرت ابو عالیہ نے فرمایا کہ پانی کے ذریعے پاکی حاصل کرنا اچھی بات ہے لیکن اصل بات گناہوں سے پاک ہونا ہے۔
٣٨١٢٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن التيمي عن رجل عن أبي العالية أنه كان إذا ⦗١٦⦘ أراد أن يختم القرآن آخر النهار (أخره) (١) إلى أن يمسي، وإذا أراد أن يختمه آخر الليل أخره إلى أن يصبح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ کا معمول تھا کہ جب کبھی وہ دن کے آخری حصے میں قرآن مجید ختم کرنا چاہتے تو اسے شام تک مؤخر فرماتے اور اگر کبھی رات کے آخری حصے میں قرآن مجید ختم کرنے لگتے تو اسے صبح تک مؤخر فرماتے ۔
٣٨١٢١ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن عثمان عن أبي العالية قال: قال لي أصحاب محمد: لا تعمل لغير اللَّه، فيكلك اللَّه إلى من عملت له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فرمایا کہ اللہ کے غیر کے لئے عمل نہ کرو ورنہ اللہ تمہیں اسی کے حوالے کردے گا جس کے لئے تم نے عمل کیا تھا۔
٣٨١٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: سمعت شيخا يقال له: زفر يذكر عن قيس بن (حبتر) (١) قال: الصعقة من الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن حبتر فرماتے ہیں کہ صعقہ شیطان کی طرف سے ہے۔
٣٨١٢٣ - حدثنا حسين بن علي عن موسى الجهني عن بعض أصحابه قال: (ما) (١) أتت على عبد ليلة قط إلا قالت: ابن آدم أحدث في خيرا، فإني لن أعود (عليك) (٢) أبدا.
مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ جہنی نقل کرتے ہیں کہ ہر آنے والی رات یہ اعلان کرتی ہے کہ اے ابن آدم ! مجھ میں خیر کا کام انجام دے دے کیونکہ میں دوبارہ کبھی تیرے پاس لوٹ کر نہیں آؤں گی۔