کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت عبدالاعلیٰ کے آثار
حدیث نمبر: 38096
٣٨٠٩٦ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: سمعت عبد الأعلى التيمي يقول: من أوتي من العلم ما لا يبكيه (خليق) (١) أن لا يكون أوتي علما ينفعه؛ لأن اللَّه (نعت) (٢) العلماء ثم قرأ إلى قوله: ﴿يَبْكُونَ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ تیمی فرماتے ہیں کہ جسے وہ علم دے گیا جو اسے رونے پر نہ ابھارے وہ اس لائق ہے کہ اس کے بارے میں کہا جائے کہ اسے علم نافع عطا نہیں ہوا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی تعریف فرمائی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی { اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ اِذَا یُتْلٰے عَلَیْھِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا٭ وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا٭ وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38096
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38096، ترقيم محمد عوامة 36508)
حدیث نمبر: 38097
٣٨٠٩٧ - حدثنا أبو أسامة [قال: قال عبد الأعلى التيمي: ما من أهل دار إلا ملك الموت يتصفحهم في اليوم مرتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ تیمی فرماتے ہیں کہ موت کا فرشتہ ہر گھر میں دن میں دو مرتبہ جھانکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38097
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38097، ترقيم محمد عوامة 36509)
حدیث نمبر: 38098
٣٨٠٩٨ - حدثنا ابن عيينة] (١) (عن مسعر) (٢) عن عبد الأعلى التيمي قال: الجنة والنار (لقنت) (٣) السمع من بني آدم، فإذا سأل الرجل الجنة قالت: اللهم أدخله في، وإذا (استعاذ) (٤) من النار قالت: اللهم أعذه مني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ تیمی فرماتے ہیں کہ جنت اور دوزخ انسان کی باتوں کو سنتی ہیں، جب انسان جنت کا سوال کرتا ہے اور جنت کہتی ہے کہ اللہ ! اسے مجھ میں داخل فرما اور انسان جب جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے کہ اے اللہ ! اسے مجھ سے پناہ عطا فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38098
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38098، ترقيم محمد عوامة 36510)
حدیث نمبر: 38099
٣٨٠٩٩ - حدثنا حفص عن الأعمش قال: كان أبو صالح (يؤمنا) (١)، فكان (لا يبين) (٢) القراءة من الرقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابو صالح ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔ بعض اوقات ان پر اتنی رقت طاری ہوجاتی کہ قراءت کو واضح نہ کرسکتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38099
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38099، ترقيم محمد عوامة 36511)
حدیث نمبر: 38100
٣٨١٠٠ - حدثنا الفضل بن دكين عن مسعر عن الأعمش عن أبي صالح [قال: يحشر الناس هكذا -ووضع رأسه، وأمسك بيمينه على شماله عند صدره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح نے ایک مرتبہ فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو یوں جمع کیا جائے گا، یہ فرماکر انہوں نے اپنا سر جھکایا اور سینے کے پاس اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38100
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38100، ترقيم محمد عوامة 36512)
حدیث نمبر: 38101
٣٨١٠١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح] (١) ﴿يَاوَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا (٢)﴾ [يس: ٥٢] قال: كانوا يرون (أن) (٣) العذاب يخفف عن أهل القبور ما بين النفختين، فإذا جاءت النفخة الثانية قالوا: ﴿يَاوَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا﴾ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح قرآن مجید کی آیت { یَا وَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ خیال کرتے تھے کہ دونوں نفخوں کے درمیان اہل قبور سے عذاب کو کم کردیا جائے گا۔ جب دوسرا نفخہ آئے گا تو وہ کہیں گے { یَا وَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38101
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38101، ترقيم محمد عوامة 36513)
حدیث نمبر: 38102
٣٨١٠٢ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي صالح قال: طوبى شجرة في الجنة لو أن راكبا ركب حقة أو جذعة، فأطاف بها، ما بلغ الموضع الذي ركب فيه حتى يقتله الهرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے، اگر کوئی سوار کسی جوان اونٹ پر سوارہو اور اس درخت کا چکرلگانا چاہے تو وہ بوڑھا ہوکر مرجائے گا لیکن دوبارہ اس جگہ نہیں پہنچ سکتا جہاں سے چلا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38102
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38102، ترقيم محمد عوامة 36514)
حدیث نمبر: 38103
٣٨١٠٣ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي قال: حدثنا أبو سنان عن عمرو بن (مرة) (١) عن أبي صالح قال: (يحاسب) (٢) يوم القيامة الذين أرسل إليهم الرسل، فيدخل الجنة من أطاعه، ويدخل النار من عصاه، ويبقى قوم من الولدان والذين هلكوا في الفترة ومن غلب على عقله، فيقول الرب ﵎ لهم: قد رأيتم إنما (أدخلت) (٣) الجنة من أطاعني، وأدخلت النار من عصاني، وإني آمركم أن تدخلوا هذه النار، فيخرج لهم عنق منها، فمن دخلها كانت نجاتَه، ومن (نكص) (٤) فلم يدخلها كانت هلكتَه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ان لوگوں سے حساب لیا جائے گا جن کی طرف رسول بھیجے جاتے تھے۔ ان کی اطاعت کرنے والے جنت میں اور نافرمانی کرنے والے جہنم میں جائیں گے، پھر بچوں، فترتِ رسل کے زمانے میں انتقال کرجانے والوں اور مغلوب العقل لوگ باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم نے دیکھ لیا کہ میں نے اپنی اطاعت کرنے والوں کو جنت میں اور اپنی نافرمانی کرنے والوں کو جہنم میں داخل کردیا۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ پھر جہنم سے ان کے لئے کچھ گردنیں نکلیں گی، جو اس میں داخل ہونے لگے گا وہ نجات پالے گا اور جو پیچھے ہٹے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38103
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38103، ترقيم محمد عوامة 36515)
حدیث نمبر: 38104
٣٨١٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن أبي صالح: ﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ﴾ (قال) (١): (حسنة) (٢)، ﴿إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ [القيامة: ٢٢ - ٢٣]، قال: تنتظر الثواب من ربها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَۃٌ} سے مراد خوبصورت چہرے اور {إلَی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ} سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے رب سے بدلے کا انتظار کررہے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38104
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38104، ترقيم محمد عوامة 36516)