کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت ابن منبہ کا کلام
حدیث نمبر: 37900
٣٧٩٠٠ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان قال: حدثنا رجل من أهل (صنعاء) (١) عن وهب بن منبه قال: مر رجل براهب فقال: يا راهب كيف ذكرك للموت؟ قال: (ما) (٢) أرفع قدما ولا أضع أخرى إلا (رأيت) (٣) أني ميت، قال: كيف (دأب) (٤) نشاطك، قال: ما كنت أرى (أن) (٥) أحدا سمع بذكر الجنة والنار تأتي عليه ساعة لا يصلي، فقال الرجل: إني لأصلي فأبكي حتى ينبت البقل من دموعي، فقال الراهب: إنك إن تضحك وأنت معترف للَّه بخطيئتك، خير من أن تبكي وأنت مُدِلّ بعملك، (إن صلاة) (٦) المدل لا تصعد فوقه، فقال الرجل: (أوصني) (٧)، فقال الراهب: عليك بالزهد في الدنيا ولا تنازعها أهلها، وكن ⦗٥٢٩⦘ (كالنحلة) (٨) إن أكلت أكلت طيبا، وإن وضعت وضعت طيبا، وإن (وقعت) (٩) على شيء لم تضره ولم تكسره، وانصح للَّه كنصح الكلب أهله، (إن) (١٠) يجيعوه ويضربوه ويأبى إلا نصحا لهم وحفظا عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ایک راہب کے پاس سے گزرا اور پوچھا۔ اے راہب ! تیرا موت کو یاد کرنا کیسا ہے ؟ اس راہب نے کہا۔ میں جو قدم رکھتا ہوں یا اٹھاتا ہوں تو خود کو مردہ ہی سمجھتا ہوں۔ اس آدمی نے پوچھا۔ تیری نشاط کی حالت کیسی ہے ؟ راہب نے کہا : میں خیال نہیں کرتا کہ کوئی آدمی جنت، جہنم کا ذکر سنے اور اس پر ایک گھڑی بھی ایسی آئے کہ وہ نماز نہ پڑھے۔ اس پر اس آدمی نے کہا : میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور روتا ہوں یہاں تک کہ میرے آنسوؤں سے سبزی اگتی ہے۔ راہب نے کہا۔ اگر تم ہنسو جبکہ تم اللہ کے سامنے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہو تو یہ عمل اس سے بہتر ہے کہ تم رو رہے ہو جبکہ تم اپنے عمل پر گھمنڈ میں مبتلا ہو۔ بیشک گھمنڈ کرنے والے کی نماز اس کے سر سے اوپر نہیں جاتی۔ پھر آدمی نے کہا : تم مجھے وصیت کردو۔ تو راہب نے کہا : تم دنیا میں بےرغبتی اختیار کرو اور اہل دنیا سے دنیا نہ چھینو اور شہد کی مکھی کی طرح ہوجاؤ کہ اگر کھاتی ہے تو طیب کھاتی ہے اور اگر نکالتی ہے تو طیب نکالتی ہے اور اگر کسی شے پر گرتی ہے تو نہ اس کو نقصان دیتی ہے اور نہ اس کو توڑتی ہے۔ اور اللہ کے لیے ایسی خیر خواہی رکھ جیسی کتا، اپنے اہل کے ساتھ رکھتا ہے۔ کہ وہ اس کو بھوکا رکھتے ہیں اور اس کو مارتے ہیں مگر وہ ان کے لیے خیر خواہی اور حفاظت ہی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37900
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37900، ترقيم محمد عوامة 36315)
حدیث نمبر: 37901
٣٧٩٠١ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن بُرقان قال: بلغني أن ابن منبه كان يقول: أعون الأخلاق على الدين: الزهادة في الدنيا، وأوشكها ردى: اتباع الهوى، ومن اتباع الهوى: الرغبة في الدنيا، ومن الرغبة في الدنيا: حب المال والشرف، ومن حب المال والشرف: استحلال المحارم، ومن استحلال المحارم يغضب اللَّه، وغضب اللَّه الداء الذي لا دواء له إلا رضوان اللَّه، (ورضوان اللَّه) (١) دواء لا يضرُّ معه داء، ومن يريد أن يرضي ربه يسخط نفسه، ومن لا يسخط نفسه لا يرضي ربه، إن كان كلما ثقل على الإنسان شيء من دينه تركه أوشك أن لا يبقى معه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ حضرت ابن منبہ کہا کرتے تھے۔ اخلاق میں سے سب سے بڑا معاون دین کے لیے دنیا میں بےرغبتی ہے۔ اور دین کے لیے سب سے زیادہ ردی بات، خواہشات کی پیروی ہے۔ اور خواہشات کی پیروی سے دنیا میں رغبت ہے اور دنیا میں رغبت سے مال وجاہ کی محبت ہے اور مال وجاہ کی محبت سے حرام کا حلال سمجھنا ہے اور حرام کو حلال سمجھنے سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں اور غضب خداوندی ایسی بیماری ہے جس کی رضا خداوندی کے علاوہ کوئی دوائی نہیں ہے۔ یہ ایسی دوا ہے جس کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی جو آدمی اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے وہ اپنے نفس کو ناراض کرے اور جو اپنے نفس کو ناراض نہیں کرتا۔ وہ اپنے رب کو راضی نہیں کرپاتا۔ اگر انسان دین کی بوجھ محسوس ہونے والی چیز چھوڑ دے گا تو قریب ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37901
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37901، ترقيم محمد عوامة 36316)
حدیث نمبر: 37902
٣٧٩٠٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن منصور بن حيان عن القاسم بن أبي بزة قال: سمعت ابن منبه يقول إنا نجد في الكتب أن اللَّه يقول: يا ابن آدم! إنك ما عبدتني ورجوتني فإني غافر لك على ما كان، وحق علي أن (لا أضل) (١) عبدي وهو حريص على الهدى وأنا الحكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن ابوبزہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن منبہ کو کہتے سنا کہ ہم نے (سابقہ) کتب میں یہ بات پائی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں : اے ابن آدم ! تم جب تک میری عبادت کرو اور مجھ سے امید رکھو تو جیسا بھی ہو میں تمہیں معاف کردوں گا اور یہ بات مجھ پر حق ہے کہ میں اپنے اس بندے کو گمراہ نہ کروں جو بندہ ہدایت کا حریص ہو۔ میں حکم ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37902
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37902، ترقيم محمد عوامة 36317)
حدیث نمبر: 37903
٣٧٩٠٣ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل عن ابن منبه قال: مثل الذي يدعو بغير عمل مثل الذي يرمي بغير وتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو آدمی بغیر عمل کے دعا کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو کمان کے بغیر تیر پھینکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37903، ترقيم محمد عوامة 36318)
حدیث نمبر: 37904
٣٧٩٠٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن جعفر بن سليمان (الضبعي) (١) عن النعمان بن الزبير عن ابن منبه قال: أوحى (اللَّه) (٢) إلى عزير: يا عزير لا تحلف (بي) (٣) كاذبًا، فإني لا أرضى عمن يحلف كاذبا، (يا) (٤) عزير (بر) (٥) والديك، فإنه من بر والديه رضيت، وإذا رضيت باركت، وإذا باركت بلغت النسل الرابع، يا عزير لا تعق (والديك فإنه من يعق) (٦) والديه غضبت، وإذا غضبت لعنت، وإذا لعنت بلغت النسل الرابع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کی طرف وحی کی۔ اے عزیر ! تم مجھ پر جھوٹی قسم نہ کھاؤ۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹی قسم کھاتا ہے میں اس سے راضی نہیں ہوتا۔ اے عزیر ! تم اپنے والدین کی فرمانبرداری کرو۔ کیونکہ جو آدمی اپنے والدین کی فرمانبرداری کرتا ہے۔ میں اس سے راضی ہوتا ہوں اور جب میں راضی ہوتا ہوں، برکت دیتا ہوں۔ اور جب میں برکت دیتا ہوں تو چوتھی نسل تک پہنچتی ہے۔ اے عزیر ! تم اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا۔ کیونکہ جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے۔ تو میں (اس سے) ناراض ہوتا ہوں اور جب میں ناراض ہوتا ہوں تو لعنت کرتا ہوں اور جب میں لعنت کرتا ہوں تو وہ چوتھی نسل تک جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37904
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37904، ترقيم محمد عوامة 36319)
حدیث نمبر: 37905
٣٧٩٠٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا صالح الفزاري عن إبراهيم بن ميمون عن وهب بن منبه قال: قال داود: يا رب ابن آدم ليس منه شعرة إلا تحتها منك نعمة، و (فوقها) (١) منك نعمة، فمن أين يكافؤك بما أعطيته؟ قال: فأوحى اللَّه إليه: يا داود إني أعطي الكثير وأرضى باليسير، و (أداء) (٢) شكر ذلك لي أن يعلم أن مابه (من) (٣) نعمة مني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ داؤد نے عرض کیا۔ اے پروردگار ! آدم کے بیٹے کے ہر بال کے نیچے بھی آپ کی نعمت ہے اور اس کے اوپر بھی ایک نعمت ہے۔ پس وہ آپ کو، آپ کی عطاؤں کا بدلہ کہاں سے دیں گے ؟ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے داؤد کو وحی کی۔ بیشک میں کثیر عطا کرتا ہوں اور تھوڑے پر راضی ہوجاتا ہوں۔ میری ان نعمتوں کا ادائے شکر یہ ہے کہ یہ بات معلوم کی جائے کہ جو کوئی بھی نعمت ہے وہ میری طرف سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37905
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37905، ترقيم محمد عوامة 36320)
حدیث نمبر: 37906
٣٧٩٠٦ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا عطاء بن السائب عن وهب بن منبه قال: أعطى اللَّه موسى نورا يكون لغيره نارا، قال: فدعا موسى هارون فقال: إن اللَّه وهب لي نورا يكون لغيري ⦗٥٣١⦘ نارا (١)، كان موسى (وهبه) (٢) لي كأني أهبه لكما، قال: فكان ابنا هارون يقربان القربان لبني إسرائيل، قال: (فاحدثا) (٣) شيئا فنزلت النار فاحترقا، قال: فقيل لهما: يا موسى وهارون (كذا) (٤) أصنع بمن عصاني من أهل طاعتي، فكيف أصنع بمن عصاني من أهل معصيتي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ایسا نور دیا تھا جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر موسیٰ نے حضرت ہارون کو بلایا اور کہا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا نور عطا کیا ہے جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ مجھے ہدیہ کیا تھا اور میں یہ تم دونوں کو ہدیہ کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ حضرت ہارون کے دونوں بیٹے بنی اسرائیل کے لیے قربانی کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کوئی بات نئی نکال دی تو آگ اتری اور ان کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان سے کہا گیا۔ اے موسیٰ و ہارون ! میرے اہل طاعت میں سے جو میری نافرمانی کرتا ہے میں اس کے ساتھ اسی طرح کرتا ہوں۔ تو پھر میں اپنے نافرمانوں میں سے نافرمانی کرنے والے کے ساتھ کیسا سلوک کروں گا ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37906
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37906، ترقيم محمد عوامة 36321)
حدیث نمبر: 37907
٣٧٩٠٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا مهدي قال: (حدثنا) (١) عبد الحميد صاحب الزيادي عن ابن منبه قال: كان فيمن كان قبلكم رجل عَبدَ اللَّه زمانا، ثم طلب إلى اللَّه حاجة، وصام للَّه سبعين (سبتًا) (٢) (يأكل كل سبت) (٣) إحدى عشر مرة، قال: وطلب إلى اللَّه حاجته فلم يعطها فأقبل على نفسه فقال: أيتها النفس! من قبلك أتيت، لو كان عندك خير لأُعطيتِ حاجتَك، ولكن ليس عندك خير، قال: فنزل إليه (ساعتئذ) (٤) ملك، فقال له: يا ابن آدم إن ساعتك هذه التي رزئت (٥) على نفسك فيها خير من عبادتك كلها التي (٦) مضت وقد أعطاك اللَّه حاجتك التي سألت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا اس نے ایک زمانہ اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت مانگی اور اس نے اللہ کے لیے ساٹھ ہفتے روزے رکھے۔ ہر ہفتہ گیارہ مرتبہ کھاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے اللہ سے کوئی حاجت مانگی اور اللہ تعالیٰ نے وہ حاجت اس کو نہ دی۔ چناچہ وہ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کہا۔ اے نفس ! تیری وجہ سے مجھے دیا جاتا ہے۔ اگر تیرے پاس کوئی خیر ہوتی تو تجھے تیری حاجت دے دی جاتی۔ لیکن تیرے پاس کوئی خیر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس اسی وقت ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے اس آدمی کو کہا۔ اے آدم کے بیٹے ! تیری یہ گھڑی جس میں تو نے اپنے نفس پر عتاب کیا وہ تیری سابقہ ساری عبادت سے بہتر ہے۔ تحقیق تجھے اللہ تعالیٰ نے تیری حاجت دے دی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37907
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37907، ترقيم محمد عوامة 36322)
حدیث نمبر: 37908
٣٧٩٠٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر قال: حدثني من لا أتهم عن ابن منبه أنه جلس هو وطاوس و (نحوهما) (١) من أهل (ذلك) (٢) الزمان فذكروا (أي) (٣) أمر اللَّه أسرع؟ (فقال بعضهم) (٤): قول اللَّه: ﴿كَلَمْحِ (الْبَصَرِ) (٥)﴾ [النحل: ٧٧]، وقال بعضهم: السرير حين أتي به سليمان، فقال ابن منبه: أسرع أمر اللَّه أن يونس على حافة السفينة إذ أوحى اللَّه إلى نون في نيل مصر، قال: فما خر من حافتها إلا في جوفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن منبہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ، طاؤس اور ان جیسے اور اس زمانہ کے لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپس میں اس بات کا ذکر چھیڑا کہ کون سا امر خداوندی سب سے تیز تھا ؟ تو ان میں سے بعض نے کہا : ارشاد خداوندی کَلَمْحِ الْبَصَرِ اور بعض نے کہا۔ تخت جب حضرت سلیمان کے پاس لایا گیا اس پر حضرت ابن منبہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے تیز ترین یہ تھا کہ حصرت یونس، کشتی کے کنارے پہ تھے جب اللہ تعالیٰ نے مصر کے نیل کی مچھلی کو حکم دیا۔ ابن منبہ کہتے ہیں۔ پس وہ کشتی کے کنارے سے مچھلی کے پیٹ میں جا کر گرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37908
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37908، ترقيم محمد عوامة 36323)
حدیث نمبر: 37909
٣٧٩٠٩ - حدثنا المحاربي عن (عبد الرحمن) (١) بن سليمان العبسي عن إدريس ابن سنان عن (جده) (٢) وهب بن منبه قال: كان على (٣) موسى يوم ناجى ربه عند الشجرة جبة من صوف، و (تبان) (٤) من صوف، وقلنسوة من صوف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس دن موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے درخت کے پاس مناجات کی تھی اس دن انہوں نے اون کا جبہ، اُون کا جان گیا اور اون کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37909
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37909، ترقيم محمد عوامة 36324)
حدیث نمبر: 37910
٣٧٩١٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة عن عوف قال: قال ابن منبه: من خصال المنافق (١) يحب الحمد ويبغض الذم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عوف سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن منبہ نے فرمایا : منافق کی خصلتوں میں سے یہ بات ہے کہ وہ تعریف کو پسند کرتا ہے اور مذمت کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37910
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37910، ترقيم محمد عوامة 36325)