حدیث نمبر: 37890
٣٧٨٩٠ - حدثنا محمد بن بشرقال: حدثني عتبة بن قيس عن طلق بن حبيب قال: أربع من أوتيهن أوتي خير الدنيا والآخرة من أوتي لسانا ذاكرا وقلبا شاكرا وجسدا على البلاء صابرا، وزوجا مؤمنة لا تبغيه في نفسها خونا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں چار چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس کو دی جائیں تو اس کو دنیا، آخرت کی خیر دی گئی۔ جس آدمی کو ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور مصائب پر صبر کرنے والا جسم اور ایسی صاحب ایمان بیوی ملے جو اپنے بارے میں شوہر کے ساتھ کوئی خیانت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 37891
٣٧٨٩١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن طلق بن حبيب قال: إن حقوق اللَّه أثقل من أن يقوم بها العباد، وإن نعم اللَّه أكثر من أن يحصيها العباد، ولكن أصبحوا توابين وامسوا توابين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ کے حقوق اس سے وزنی ہیں کہ بندے ان کو قائم کریں اور خدا کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ بندے ان کو شمار کریں۔ لہٰذا تم صبح کو بھی توبہ کرو اور شام کو بھی توبہ کرو۔
حدیث نمبر: 37892
٣٧٨٩٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثنا عبد الحميد بن عبد اللَّه بن مسلم بن يسار قال: أخبرنا كلثوم بن (جبر) (٢) قال: كان المتمني بالبصرة يقول: عبادة طلق بن حبيب، وحلم مسلم بن يسار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلثوم بن جبر کہتے ہیں کہ بصرہ میں متمنی کہتا تھا۔ طلق بن حبیب کی عبادت، عبادت ہے اور مسلم بن یسار کا حلم ہے۔
حدیث نمبر: 37893
٣٧٨٩٣ - حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن عاصم قال: قلنا لطلق بن حبيب: صف لنا التقوى، قال: التقوى عمل بطاعة اللَّه رجاء رحمة اللَّه على نور من اللَّه، والتقوى ترك معصية اللَّه نحافة (١) اللَّه على نور من اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت طلق بن حبیب سے کہا آپ ہمیں تقویٰ کے بارے میں بتائیں۔ فرمایا : تقویٰ خدا کی فرمانبرداری کا عمل ہے۔ اس کی رحمت کی امید پر اور اس کے نور کی روشنی میں اور تقویٰ خدا کی نافرمانی کو خدا کے خوف سے خدائی نور کی وجہ سے ترک کرنے کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 37894
٣٧٨٩٤ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن أبي المنهال قال: حدثني صفوان ابن محرز قال: قال جندب: مثل الذي (يعظ) (١) وينسى نفسه مثل المصباح يضيء لغيره ويحرق نفسه، ليبصر أحدكم ما يجعل في بطنه، فإن الدابة إذا ماتت كان أول (ما) (٢) ينفتق (منها) (٣) بطنها، وليتق أحدكم أن يحول بينه وبين الجنة (ملء) (٤) ⦗٥٢٦⦘ كف من دم مسلم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت جندب نے فرمایا : اس آدمی کی مثال جو وعظ کہتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے اس چراغ کی طرح ہے جو دوسروں کے لیے روشنی کرتا ہے اور اپنا آپ کو جلاتا ہے۔ چاہیے کہ تم میں سے (ہر) ایک اپنے پیٹ میں جانے والی چیز کو دیکھے۔ کیونکہ جب جانور مرجاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پیٹ پھٹتا ہے۔ اور تم میں سے (ہر) ایک، اپنے اور جنت کے درمیان خون مسلم کی ایک مٹھی کے بھی حائل ہونے سے ڈرے۔
حدیث نمبر: 37895
٣٧٨٩٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا أبان بن إسحاق قال: حدثني رجل من عرينة قال: خرج جندب البجلي في سفر له، فخرج معه ناس من قومه حتى إذا كانوا في المكان الذي يودع بعضهم بعضا قال: ألا ترى (المحروب) (١) من حرب دينه، وإن المسلوب من سُلب دينهُ، ألا إنه لا فقر بعد الجنة، ولا غنى بعد النار، ألا إن النار لا يفك أسيرها، ولا يستغني فقيرها، ثم ركب الجادة وانطلق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ عرینہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بجلی، اپنے ایک سفر میں نکلے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ بھی نکلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں ان میں سے بعض نے بعض کو الوداع کہا۔ تو جندب نے کہا۔ آپ کو معلوم نہیں ہے۔ محروب وہ ہوتا ہے جس کے دین پر حملہ ہوا ہو اور مسلوب وہ ہے جس کا دین سلب ہوا ہو۔ خبردار ! جنت کے بعد کوئی فقر نہیں ہے اور جہنم کے بعد کوئی غناء نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ جہنم کا قیدی رہائی نہیں پاتا اور اس کا فقیر، غنی نہیں ہوپاتا۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور چل پڑے۔
حدیث نمبر: 37896
٣٧٨٩٦ - حدثنا أبو (أسامة) (١) عن عوف عن غالب بن عجرد قال: حدثني رجل من فقهاء أهل الشام في مسجد منى قال: إن اللَّه خلق الأرض وخلق ما فيها من الشجر، ولم يكن أحد من (بني) (٢) آدم يأتي شجرة من تلك الشجر إلا أصاب منها خيرا أو كان له خير، فلم (يزل الشجرة) (٣) كذلك حتى تكلمت (فجرة) (٤) بني ⦗٥٢٧⦘ آدم بالكلمة العظيمة قولهم: ﴿اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا﴾ [البقرة: ١١٦]، فاقشعرت الأرض فشاك الشجر.
مولانا محمد اویس سرور
مسجد منی میں اہل شام کے فقہاء میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اور زمین میں موجود درختوں کو پیدا فرمایا۔ اور اولادِ آدم میں سے جو کوئی بھی ان درختوں میں سے کسی درخت کے پاس آتا تھا تو وہ اس درخت سے خیر ہی پاتا تھا۔ یا اس کے لیے یہ بہتر ہی ہوتا تھا چناچہ درختوں کی مسلسل یہی حالت رہی یہاں تک کہ اولادِ آدم میں سے فجار نے یہ بڑی بات بولی کہ اللہ نے اولاد بنائی ہے۔ اس پر زمین کانپ اٹھی اور درختوں میں کانٹے پیدا ہوگئے۔
حدیث نمبر: 37897
٣٧٨٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن أبي قحذم قال: أُتي ابن زياد بصُرة فيها حب حنطة أمثال النوى، وجدت في بعض بيوت الكسرى مكتوب معها: هذا (نبت) (١) زمان (كذا وكذا، كأنه يعني نبت زمان) (٢) كان يعمل فيه بطاعة اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوقحذم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حصرت ابن زیاد کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں کھجور کی گٹھلی کے برابر گندم کے دانے تھے۔ اور یہ تھیلی خاندانِ کسریٰ میں سے بعض کے گھر میں پائی گئی تھی اور اس کے ہمراہ یہ تحریر تھی۔ یہ فلاں، فلاں زمانہ کی پیداوار ہے یعنی وہ اس زمانہ میں پیدا ہوئی تھی جس میں خدا کی فرمانبرداری کی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 37898
٣٧٨٩٨ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن خالد الربعي قال: كان في بني إسرائيل رجل، وكان (مغمورا) (١) في العلم، وإنه ابتدع بدعة، فدعا الناس (فاتبع) (٢)، وأنه تذكر ذات ليلة فقال: هب هؤلاء الناس لا يعلمون ما ابتدعت، أليس (اللَّه قد علم) (٣) ما ابتدعت؟ قال: فبلغ من توبته (أن) (٤) (خرق) (٥) ترقوته، وجعل فيها سلسلة، وربطها بسارية من سواري المسجد، قال: لا أنزعها حتى (يتاب) (٦) عليّ، قال: فاوحى اللَّه إلى نبي من أنبياء بني إسرائيل، وكان لا يستنكر بالوحي: أن قل لفلان: لو أن ذنبك كان (فيما) (٧) بيني وبينك لغفرت لك، ولكن كيف بمن أضللت من عبادي فدخلوا النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد ربعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اور علم سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے ایک بدعت ایجاد کی۔ پھر اس نے لوگوں کو دعوت دی اور اس کی اتباع ہونے لگی۔ ایک رات اس کو یہ خیال آیا اس نے کہا۔ ان لوگوں کو تو چھوڑو۔ انہیں تو میری ایجاد کا علم نہیں ہے۔ لیکن کیا اللہ تعالیٰ کو میری اس پیدا کردہ بدعت کا علم نہیں ہے ؟ کہتے ہیں وہ اپنی توبہ میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اپنی ہنسلی کی ہڈی کو جلا لیا اور اس میں ایک رسی ڈال کر مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا۔ میں اس کو تب تک نہیں کھولوں گا جب تک کہ میری توبہ قبول نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کو وحی کی کہ آپ فلاں سے کہہ دو ۔ اگر تیرا گناہ میرے، تیرے درمیان ہوتا تو میں تجھے معاف کردیتا لیکن میرے جن بندوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیا ہوگا ؟ چناچہ وہ جہنم میں داخل ہوا۔
حدیث نمبر: 37899
٣٧٨٩٩ - حدثنا زيد بن حباب عن عبد اللَّه بن مروان قال: سمعت صالحا أبا (الخليل) (١) يقول في قوله: ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾ [فاطر: ٢٨]، قال: أعلمهم به أشدهم خشية له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مروان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ابوخلیل صالح کو ارشادِ خداوندی {إنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ } کے بارے میں سنا۔ انہوں نے فرمایا : خدا کا سب سے بڑا عالم وہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ خوف کھانے والا ہوتا ہے۔