کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت صفوان بن محرز کا کلام
حدیث نمبر: 37884
٣٧٨٨٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا هشام بن حسان عن الحسن قال: قال: صفوان بن محرز: إذا أكلتُ (١) رغيفا (أشد به صلبي) (٢) وشربت كوزا من ماء فعلى الدنيا وأهلها العفا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت صفوان بن محرز فرماتے تھے۔ میں جب روٹی کھاتا ہوں تو (مقصد یہ ہوتا ہے کہ) میں اس کے ذریعہ اپنی کمر کو سیدھا رکھوں اور پانی کا کوزہ پیتا ہوں۔ دنیا اور اہل دنیا پر ہلاکت آنے والی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37884
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37884، ترقيم محمد عوامة 36299)
حدیث نمبر: 37885
٣٧٨٨٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي بن ميمون قال: حدثنا غيلان بن جرير عن صفوان بن محرز قال: وكانوا يجتمعون هو وإخوانه ويتحدثون فلا يرون تلك الرقة، قال: فيقولون: يا صفوان حدث أصحابك، قال: فيقول: الحمد للَّه، قال: (فيرق) (١) القوم وتسيل دموعهم كأنها أفواه المزاد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان بن جریر، حضرت صفوان بن محرز کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت صفوان اور ان کے بھائی اکٹھے ہوتے اور باہم گفتگو کرتے۔ لیکن وہ رقت کے آثار نہ دیکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ کہتے۔ اے صفوان ! آپ اپنے ساتھیوں سے کوئی گفتگو کریں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت صفوان کہتے۔ الحمد للہ۔ اس پر لوگوں پر رقت طاری ہوجاتی اور ان کے آنسو یوں بہہ پڑتے۔ گویا کہ مشکیزوں کے منہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37885، ترقيم محمد عوامة 36300)
حدیث نمبر: 37886
٣٧٨٨٦ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن عبد اللَّه بن رباح عن صفوان بن محرز أنه كان إذا قرأ هذه الآية بكى (حتى أرى لقد اندق قضيض زوره) (١): ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾ [الشعراء: ٢٢٧].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن محرز کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتے تو روپڑتے یہاں تک کہ ان کا سینہ پسیج جاتا تھا۔ ” اور ظالم لوگ عن قریب جان لیں گے کہ وہ کس راستے پر چل رہے تھے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37886
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37886، ترقيم محمد عوامة 36301)
حدیث نمبر: 37887
٣٧٨٨٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد عن ثابت أن صفوان بن محرز كان له (خص فيه) (١) جذع، فانكسر الجذع، فقيل له: ألا تصلحه؟ فقال: دعه فإنما أموت غدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت صفوان بن محرز کا کانے کا ایک کمرہ تھا جس میں شہتیر تھا۔ پھر شہتیر ٹوٹ گیا تو ان سے کہا گیا۔ آپ اس کو درست کیوں نہیں کرلیتے ؟ انہوں نے فرمایا : تم اس کو چھوڑو۔ کیونکہ میں نے بھی کل مرجانا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37887
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37887، ترقيم محمد عوامة 36302)
حدیث نمبر: 37888
٣٧٨٨٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا يزيد بن زريع قال: حدثنا سعيد قال: حدثنا قتادة عن صفوان بن محرز في قوله: ﴿إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً (٣٥) فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا (٣٦) عُرُبًا أَتْرَابًا﴾ [الواقعة: ٣٥ - ٣٧]، قال: (١) واللَّه إن منهن العجز الزحف صيرهن اللَّه كما تسمعون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن محرز سے ارشادِ خداوندی : {إنَّا أَنْشَأْنَاہُنَّ إنْشَائً فَجَعَلْنَاہُنَّ أَبْکَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! ان میں سے کچھ بوڑھیاں ہوں گی۔ انہیں اللہ تعالیٰ ایسا کردے گا جیسا کہ تم نے سنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37888، ترقيم محمد عوامة 36303)
حدیث نمبر: 37889
٣٧٨٨٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: سمعت المعلى بن زياد قال: كان لصفوان بن محرز المازني سرب يبكي فيه، وكان يقول: قد أرى مكان الشهادة (لو) (١) تشاء، -يعني (نفسه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معلی رضی اللہ عنہ بن زیاد کہتے ہیں کہ حضرت صفوان بن محرز کا ایک تہہ خانہ تھا۔ جس میں وہ رویا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے اگر نفس چاہے تو میں شہادت کا مکان دیکھ سکتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37889
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37889، ترقيم محمد عوامة 36304)