حدیث نمبر: 37849
٣٧٨٤٩ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن (أبي) (٢) غيلان قال: كان مطرف بن الشخير يقول: اللهم إني أعوذ بك من شر (السلطان) (٣) ومن شر ما تجري به أقلامهم، وأعوذ بك أن أقول بحق أطلب به غير طاعتك، وأعوذ بك أن (أتزين) (٤) للناس بشيء يشينني عندك، وأعوذ بك أن أستغيث بشيء من معاصيك على ضر نزل بي، وأعوذ بك أن تجعلني عبرة لأحد من خلقك، وأعوذ بك أن تجعل أحدا (أسعد) (٥) بما علمته مني، اللهم لا تخزني فإنك بي عالم، اللهم لا تعذبني فإنك علي قادر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوغیلان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف ابن الشخیر یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں آپ سے بادشاہ کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس چیز کے شر سے جس پر ان کے قلم چلیں۔ اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات کی کہ میں ایسا حق بولوں جس سے میں آپ کی فرمانبرداری کے سوا کچھ طلب کروں اور میں آپ سے مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں لوگوں کے سامنے کسی ایسی چیز کے ذریعہ زینت حاصل کروں جو مجھے آپ کے ہاں بدنما کردے اور میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے آپ سے آپ کی نافرمانی پر مدد طلب کروں۔ اور میں اس بات سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی مخلوق میں سے کسی کے لیے عبرت بنادیں۔ اور میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ میرے جاننے والوں میں سے کسی کو مجھ سے زیادہ خوش بخت کردیں۔ اے اللہ ! آپ مجھے رسوا نہ کرنا۔ کیونکہ آپ مجھے جانتے ہیں۔ اے اللہ ! آپ مجھے عذاب نہ دینا کیونکہ آپ مجھ پر قادر ہیں۔
حدیث نمبر: 37850
٣٧٨٥٠ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن مهدي بن ميمون عن غيلان بن جرير قال: سمعت مطرفا يقول: [كأن القلوب (ليست) (٢) منا، وكأن الحديث يعني به غيرنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان بن جریر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مطرف کو کہتے سنا۔ (یوں لگتا ہے) گویا کہ دل ہمارے نہیں ہیں اور گویا کہ حدیث سے مقصود ہمارے سوا کوئی اور ہے۔
حدیث نمبر: 37851
٣٧٨٥١ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن مهدي قال: حدثنا غيلان قال: سمعت مطرفا يقول] (٢): لو أتاني آت من ربي (٣) أفي الجنة أم في النار أم أصير ترابا، (اخترت) (٤) أن أصير ترابا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مطرف کو کہتے سنا : اگر میرے پاس میرے رب کا کوئی قاصد آئے اور مجھے یہ اختیار دے کہ یا جنت میں جاؤں یا جہنم میں جاؤں یا میں مٹی ہوجاؤں ؟ تو میں مٹی ہونا پسند کروں گا۔
حدیث نمبر: 37852
٣٧٨٥٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن يزيد الرِّشْك عن مطرف قال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ﴾ [فاطر: ٢٩]، (إلى آخر) (١) الآية قال: هذه آية (القراء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ {إنَّ الَّذِینَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللہِ وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ } آخر تک۔ فرمایا : یہ قاریوں کی آیت ہے۔
حدیث نمبر: 37853
٣٧٨٥٣ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: قال: مطرف [ما من الناس أحد إلا وهو أحمق فيما بينه وبين ربه، ولكن بعض الحمق أهون من بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں میں سے ہر ایک اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان معاملہ کرنے میں بیوقوف ہے۔ لیکن بعض لوگوں کی بیوقوفی بعض سے کم درجہ ہے۔
حدیث نمبر: 37854
٣٧٨٥٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة (عن ثابت) (١) قال: كان مطرف يقول] (٢): اللهم تقبل مني صلاة (يوم) (٣) اللهم تقبل مني (صوم) (٤) ⦗٥١٦⦘ يوم، اللهم اكتب (لي) (٥) حسنة ثم يقول: ﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾ [المائدة: ٢٧].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف کہا کرتے تھے۔ اے اللہ ! آپ مجھ سے ایک دن کی نماز قبول فرما لیں، اے اللہ ! آپ مجھ سے ایک دن کا روزہ قبول کرلیں۔ اے اللہ ! آپ میرے لیے نیکی لکھ دیں۔ پھر آپ یہ (تلاوت) فرمایا کرتے۔ ” بیشک اللہ تقویٰ والوں کا عمل قبول کرتا ہے۔ “
حدیث نمبر: 37855
٣٧٨٥٥ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا (ثابت) (٢) (أن) (٣) مطرف بن عبد اللَّه قال: لو (كانت) (٤) لي نفسان لقدمت إحداهما (قبل) (٥) الأخرى، (فإن) (٦) هجمت على خير اتبْعتُها الأخرى، وإلا (أمسكتها) (٧)، ولكن إنما هي نفس واحدة، لا أدري (علام) (٨) تهجم: خير أم شر؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں اگر میرے پاس دو نفس ہوتے تو میں ان میں ایک کو دوسرے سے پہلے آگے بھیجتا۔ پس اگر وہ خیر پر پہنچتا تو میں دوسرے کو بھی اس کے پیچھے کردیتا وگرنہ میں دوسرے کو روک لیتا۔ لیکن نفس تو ایک ہی ہے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ خیر پر پہنچے گا یا شرپر ؟ “
حدیث نمبر: 37856
٣٧٨٥٦ - حدثنا عفان (قال) (١): (حدثنا) (٢) حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (٣) ثابت أن مطرفا قال: لو وزن رجاءُ (المؤمن) (٤) خوفه (ما) (٥) رجح أحدهما صاحبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بیان کرتے ہیں کہ حضرت مطرف نے فرمایا۔ اگر مومن کی امید اور اس کا خوف وزن کیا جائے تو ان میں سے کوئی دوسرے پر غالب نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 37857
٣٧٨٥٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا محمد بن واسع الأزدي قال: كنت في حلقة فيها الحسن ومطرف، وفلان (وفلان) (١) (ذكر) (٢) أناسا فتكلم سعيد بن أبي الحسن، (قال) (٣): ثم دعا فقال في دعائه: (اللهم ارض عنا) (٤) مرتين أو ثلاثًا، قال: يقول مطرف وهو في ناحية الحلقة: اللهم إن لم ترض عنا فاعف عنا، قال: (فأبكى) (٥) القوم بهذه الكلمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن واسع ازدی بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حسن، حضرت مطرف اور فلاں، فلاں لوگ محمد بن واسع نے کئی لوگوں کا ذکر کیا… موجود تھے۔ چناچہ حضرت سعید بن ابو الحسن نے کلام کیا راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے دعا کی اور اپنی دعا میں کہا۔ اے اللہ ! تو ہم سے راضی ہوجا۔ اے اللہ ! تو ہم سے راضی ہوجا دو یا تین مرتبہ کہا راوی کہتے ہیں حضرت مطرف حلقہ کے کنارہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ کہنے لگے۔ اے اللہ ! اگر تم ہم سے راضی نہیں ہے تو تو ہمیں معاف کردے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس بات کی وجہ سے سارے لوگ روپڑے۔
حدیث نمبر: 37858
٣٧٨٥٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا (١) مهدي قال: حدثنا غيلان بن (جرير) (٢) عن مطرف قال: [هم الناس وهم النسناس، وأناس غمسوا في (ماء الناس) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں وہ لوگ تھے۔ وہ لنگور تھے۔ اور ایسے لوگ تھے جنہیں انسانوں کے پانی میں غوطہ دیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 37859
٣٧٨٥٩ - حدثنا شاذان عن مهدي عن غيلان بن جرير عن مطرف قال] (١): عقول الناس على قدر زمانهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں کی عقلیں ان کے زمانوں کے بقدر ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 37860
٣٧٨٦٠ - حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن مطرف بن (الشخير) (١) في قوله: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [الذاريات: ١٧]، قال: قل ليلة أتت عليهم هجعوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف ابن الشخیر سے قول خداوندی { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں ان پر بہت کم ایسی رات آتی ہے کہ جس میں وہ سوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37861
٣٧٨٦١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن مطرف قال: خير الأمور (أوساطها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ امور میں سے سب سے بہتر میانہ روی والے امور ہیں۔
حدیث نمبر: 37862
٣٧٨٦٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد (عن) (١) ثابت عن (مطرف) (٢) أنه أقبل (من مبدأه) (٣)، (قال) (٤): فجعل يسير بالليل فأضاء له سوطه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت، حضرت مطرف کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی بستی سے چلے۔ راوی کہتے ہیں وہ رات کے وقت چلتے تھے اور ان کی لاٹھی ان کے لیے روشنی کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 37863
٣٧٨٦٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد (١) عن ثابت أن مطرفا قال: لو كانت لي الدنيا فأخذها اللَّه مني بشربة من ماء (يسقيني) (٢) بها يوم القيامة، كان قد أعطاني بها ثمنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت مطرف نے فرمایا : اگر ساری دنیا میرے پاس ہوتی پھر اللہ تعالیٰ یہ دنیا مجھ سے پانی کے اس گھونٹ کے عوض لے لیتے جو قیامت کے دن آپ مجھے پلاتے تو تحقیق مجھے (میری دنیا کی) قیمت مل جاتی۔
حدیث نمبر: 37864
٣٧٨٦٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال: كنا عند مطرف فذكرنا اللَّه ودعوناه فقال: (واللَّه) (١) (لئن) (٢) كان هذا مما سبق لكم في الذكر لقد أراد اللَّه بكم خيرًا، وإن كان مما يحدث في الليل والنهار لقد أراد اللَّه بكم خيرا، فأيُّ ذلك ما كان فاحمدوا اللَّه عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مطرف کے پاس تھے۔ چناچہ ہم نے اللہ کا ذکر کیا اور اللہ سے دعا کی پھر آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! جو تمہارا وقت خدا کی یاد میں گزرا ہے تو تحقیق اللہ نے تمہارے ساتھ خیر کا ارادہ کیا ہے۔ اور اگر آنے والے دن رات تمہارے لیے ایسے ہی ہوں تو بھی اللہ نے تمہارے ساتھ خیر کا ارادہ کیا ہے۔ ان میں سے جو بھی ہو تو تم اس پر اللہ کی تعریف کرو۔
حدیث نمبر: 37865
٣٧٨٦٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد عن ثابت أن مطرفا كان يقول: إن (الحديث وإن اليمين) (١) باللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف کہا کرتے تھے : بیشک حدیث اور قسم خدا کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 37866
٣٧٨٦٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد عن ثابت أن مطرفا كان يقول: لو كان الخير في كف أحدنا ما استطاع أن يفرغه في قلبه، (حتى يكون اللَّه هو الذي يفرغه في قلبه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت مطرف کہا کرتے تھے۔ اگر خیر ہم میں سے کسی ایک کی ہتھیلی میں (بھی) ہو تو وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ اس کو اپنے دل میں ڈال لے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے دل میں ڈالیں۔
حدیث نمبر: 37867
٣٧٨٦٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد عن ثابت أن مطرفا كان يقول: لو أن رجلا رأى صيدا والصيد لا يراه فختله، ألم يوشك أن يأخذه؟ قالوا: بلى، قال: فإن الشيطان يرانا، ونحن لا نراه، وهو يصيب منا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت مطرف فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی شکار کو دیکھ لے اور اس کو شکار نے نہ دیکھا ہو اور شکاری گھات لگا لے تو ہوسکتا ہے کہ شکاری شکار پکڑ لے ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔ حضرت مطرف نے فرمایا : پس شیطان بھی ہمیں دیکھتا ہے لیکن ہم اس کو نہیں دیکھ پاتے چناچہ وہ ہمیں پالیتا ہے۔
حدیث نمبر: 37868
٣٧٨٦٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا (حماد عن) (١) ثابت قال مطرف: نظرت في بدء (هذا) (٢) الأمر ممن كان، فإذا هو من اللَّه، ونظرت على من تمامه، (فإذا تمامه) (٣) على اللَّه، ونظرت ما ملاكه، فإذا ملاكه الدعاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت مطرف فرماتے ہیں : میں نے اس معاملہ کی ابتدا کو دیکھا کہ یہ کس سے ہے ؟ تو وہ ابتداء خدا تعالیٰ ہے اور میں نے یہ دیکھا کہ اس کی انتہاء کس پر ہوگی ؟ تو وہ بھی خدا تعالیٰ ہے اور میں نے اس بات میں غور کیا کہ اس کا ملاک (قوام) کیا شے ہے ؟ تو اس کا قوام دعا ہے۔
حدیث نمبر: 37869
٣٧٨٦٩ - حدثنا شبابة بن سوار عن سليمان عن ثابت أن مطرف بن الشخير قال: ليعظم جلال اللَّه في صدوركم فلا يذكر اللَّه عند مثل هذا، يقول أحدكم للكلب: أخزاه اللَّه، وللحمار أو الشاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت مطرف ابن الشخیر نے فرمایا : تمہارے سینوں میں اللہ کی عظمت ہونی چاہیے۔ چناچہ ایسی باتوں کے وقت خدا کا ذکر نہ کیا جائے کہ تم میں سے کوئی کتے کو یہ کہے یا گدھے کو یا بکری کو کہے۔ اللہ اس کو رسوا کرے۔
حدیث نمبر: 37870
٣٧٨٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن مطرف قال: عنا نتحدث أنه لم يتحاب رجلان في اللَّه إلا وكان أفضلهما (أشدهما) (١) حبا ⦗٥٢٠⦘ لصاحبه، قال: فلما (سُيّر) (٢) مذعورٌ (و) (٣) عامر بن عبد اللَّه، قال: لقي مذعور مطرفًا فجعل يذاكره، قال مطرف: فجعلت أقول: أي أخي علام! تحبسني وقد تهورت النجوم وذهب الليل؟ (فيقول) (٤): [اللهم (فيك) (٥)، ثم يذاكره الساعة فيقول: (يا) (٦) أخي علام تحبسني؟ وقد تهورت النجوم وذهب الليل فقال] (٧): اللهم (فيك) (٨)، فلما أصبحنا أخبرت أنه قد سير، فعرفت (ليلتين) (٩) فضله علي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں یہ بات کرتے تھے کہ باہم اللہ کے لیے محبت کرنے والے دو آدمیوں میں سے افضل آدمی وہ ہوتا ہے جو ان دونوں میں سے اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں : چناچہ جب حضرت مذعور اور حضرت عامر بن عبداللہ کو جلا وطن کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت مذعور، حضرت مطرف سے ملے اور ان سے مذاکرہ شروع کردیا۔ حضرت مطرف کہتے ہیں۔ میں کہنے لگا۔ اے میرے بھائی ! تم نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے۔ جبکہ ستارے ڈوب گئے اور رات جا رہی ہے ؟ وہ فرمانے لگے۔ اے اللہ ! تیرے لیے پھر انہوں نے حضرت مطرف سے ایک گھڑی اور مذاکرہ کیا۔ مطرف نے پھر کہا۔ اے میرے بھائی ! آپ نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے جبکہ ستارے ڈوب چکے ہیں اور رات جا رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ ! تیرے لیے۔ پھر جب ہم نے صبح کی تو مجھے خبر ملی کہ وہ چلے گئے ہیں۔ تب میں نے ان کی خود پر رات کی فضیلت پہچانی۔
حدیث نمبر: 37871
٣٧٨٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي بن ميمون قال: حدثني غيلان بن جرير عن مطرف قال: ما أرملة جالسة على ذيلها بأحوج إلى الجماعة مني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اپنے دروازوں پر بیٹھی بیوہ عورتوں سے بھی زیادہ میں جماعت کا محتاج ہوں۔
حدیث نمبر: 37872
٣٧٨٧٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان عن ثابت قال: كان مطرف يقول: ما أوتي أحد من الناس أفضل من العقل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف کہا کرتے تھے۔ لوگوں کو عقل سے افضل چیز کوئی نہیں دی گئی۔
حدیث نمبر: 37873
٣٧٨٧٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي قال: حدثنا غيلان بن جرير عن مطرف قال: رأيت في المنام كأني خرجت أريد الجمعة، فأتيت على مقابر من الحي، فإذا أهل القبور جلوس، فجعلت أسلم وأمضي، قالوا: يا (١) عبد اللَّه أين تريد؟ قال: قلت: أريد الجمعة، قال: (ثم) (٢) قلت: تدرون ما الجمعة؟ قالوا: نعم، ⦗٥٢١⦘ ونعلم ما يقول الطير يومئذ، قال: قلت: ما يقول الطير يومئذ؟ (قالوا) (٣): يقول سلام سلام يوم صالح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میں جمعہ کے ارادے سے باہر نکلا ہوں اور میں محلہ کے قبرستان کے پاس آیا تو دیکھا کہ اہل قبور بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے ان کو سلام کرکے گزرنا چاہا تو وہ کہنے لگے۔ اے عبداللہ ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا۔ میرا جمعہ کا ارادہ ہے۔ مطرف کہتے ہیں پھر میں نے پوچھا : تمہیں معلوم ہے جمعہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دن پرندے کیا کہتے ہیں۔ مطرف کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : پرندے اس دن کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : پرندے کہتے ہیں۔ سلام، سلام، اچھا دن ہے۔
حدیث نمبر: 37874
٣٧٨٧٤ - حدثنا وكيع عن قرة عن أبي العلاء يزيد بن عبد اللَّه عن أخيه مطرف قال: إن اللَّه ليرحم (برحمة) (١) العصفور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ چڑیا کے رحم کی وجہ سے رحم فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37875
٣٧٨٧٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت قال: سمعت مطرفا يقول: ما مررت بأهل مجلس فسمعت أحدا يثني عليَّ خيرا، (قال) (١): فيأخذ (ذلك) (٢) فيّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت کہتے ہیں میں نے حضرت مطرف کو کہتے سنا میں کسی مجلس والوں کے پاس نہیں گزرتا جن میں سے کوئی میرے لیے خیر کی بات کہہ رہا ہو۔ کہتے ہیں پس یہ مجھے دل میں اتر جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 37876
٣٧٨٧٦ - حدثنا إسحاق الرازي عن أبي جعفر عن قتادة (عن مطرف) (١) قال: إن هذا الموت قد أفسد على أهل النعيم نعيمهم، فاطلبوا نعيما لا موت فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اس موت نے اہل نعیم پر ان کی نعمتوں کو خراب کردیا ہے۔ پس تم (خدا سے) ایسی نعمت طلب کرو جس میں موت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 37877
٣٧٨٧٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا المعلى بن زياد قال: قال مورق العجلي: أمر أنا في طلبه منذ عشر سنين لم أقدر عليه، ولست بتارك طلبه أبدًا، قال: وما هو يا أبا المعتمر؟ قال: الصمت عما لا يعنيني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معلی رضی اللہ عنہ بن زیاد بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت مورق عجلی فرماتے ہیں کہ ایک کام ہے جس کو میں دس سال سے تلاش کر رہا ہوں لیکن میں اس پر قادر نہیں ہوا۔ اور میں اس کی تلاش کو ترک کرنے والا بھی نہیں۔ معلی رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے ابوالمعتمر ! وہ کیا ہے ؟ مؤرق نے فرمایا : بےفائدہ کلام سے سکوت۔
حدیث نمبر: 37878
٣٧٨٧٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا هشام عن حفصة (بنت) (١) سيرين قالت: كان مورق يزورنا، فزارنا يوما فسلم، فرددت ﵇، (قالت: ثم ساءلني وساءلته) (٢)، قلت: كيف أهلك؟ (٣) كيف ولدك؟ ⦗٥٢٢⦘ (قال) (٤): إنهم (لمتوافرون) (٥)، قلت: فاحمد ربك، قال: إني واللَّه قد خشيت أن يحبسوني على هلكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت مورق ہماری ملاقات کو آتے تھے۔ چناچہ وہ ایک دن ہمیں ملنے آئے اور انہوں نے سلام کیا۔ میں نے ان کو سلام کا جواب دیا۔ کہتی ہیں۔ پھر انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور میں نے ان سے کچھ پوچھا۔ میں نے پوچھا۔ آپ کے اہل خانہ کیسے ہیں ؟ اور آپ کے بچے کیسے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا وہ خوب ہیں۔ میں نے کہا۔ پھر تو آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا : خدا کی قسم ! میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے ہلاکت پر محبوس نہ کردیں۔
حدیث نمبر: 37879
٣٧٨٧٩ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا بعض أصحابنا قال: كان مورق العجلي يتجر فيصيب المال، فلا تأتي عليه جمعة وعنده (منه) (١) شيء، قال: كان يلقى الأخ من إخوانه فيعطيه أربعمائة، خمسمائة، ثلاثمائة، فيقول: ضعها لنا عندك حتى (نحتاج) (٢) إليها، ثم يلقاه بعد ذلك فيقول: شأنك بها، ويقول الآخر: (لا) (٣) حاجة لي فيها، فيقول: إنا، واللَّه ما نحن بآخذيها أبدا، شأنك بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن سلیمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے بعض اصحاب نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ حضرت مؤرق عجلی تجارت کرتے تھے اور انہیں مال حاصل ہوتا تھا۔ لیکن پھر ان پر ایک جمعہ بھی نہیں گزرتا تھا کہ ان کے پاس اس مال میں سے کچھ موجود ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے بھائیوں میں سے کوئی بھائی ان کو ملتا تو یہ اس کو چار سو، پانچ سو یا تین سو دے دیتے اور کہتے۔ اس کو تم اپنے پاس ہمارے لیے رکھ لو۔ یہاں تک کہ ہمیں اس کی ضرورت پڑے۔ پھر اس کے بعد اس سے ملتے تو فرماتے ۔ یہ تم لے لو۔ دوسرا آدمی کہتا۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر یہ کہتے۔ خدا کی قسم ! ہم یہ پیسے کبھی بھی نہیں لیں گے۔ یہ تم لے لو۔
حدیث نمبر: 37880
٣٧٨٨٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام عن قتادة قال: قال مورق العجلي: ما وجدت للمؤمن في الدنيا مثلا إلا كمثل رجل على (خشبة) (١) (٢) في البحر وهو يقول: يا رب يا رب، لعل اللَّه أن ينجيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مؤرق عجلی فرماتے ہیں۔ میں نے دنیا میں مومن کی مثال اس آدمی کی طرح دیکھی ہے جو سمندر میں ایک تختہ پر بیٹھا ہوا کہہ رہا ہو۔ اے اللہ، اے اللہ، شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کو نجات دے دیں۔
حدیث نمبر: 37881
٣٧٨٨١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد (بن) (١) زيد قال: حدثنا أبو التياح عن مورق قال: (المتمسك) (٢) بطاعة اللَّه إذا جبن الناس عنها كالكار بعد الفار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مؤرق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا کی اطاعت کے ساتھ تمسک کرنے والا جب لوگ اس سے بزدل ہوجاتے ہیں، بھاگنے کے بعد دوبارہ حملہ کرنے والے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 37882
٣٧٨٨٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن عاصم الأحول قال: سمعت مورقا العجلي يقول: ما رأيت رجلا أفقه في ورعه ولا أورع في فقهه من محمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم احول سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مؤرق عجلی کو کہتے سنا۔ میں نے کوئی آدمی اپنی بزرگی میں سمجھ داری کرنے والا اور سمجھ داری میں بزرگی کرنے والا محمد رحمہ اللہ سے افضل نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 37883
٣٧٨٨٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا ثابت بن يزيد أبو زيد عن عاصم عن مورق قال: إنما كان حديثهم تعريضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مؤرق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی باتیں، اشارۃً بات کرنا ہوتا تھا۔