حدیث نمبر: 37836
٣٧٨٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن (الحسن) (١) قال: قال عامر بن عبد قيس: العيش في أربع: النساء واللباس والطعام والنوم، فأما النساء فواللَّه ما أبا ⦗٥١١⦘ لي امرأة رأيت أم (عنزًا) (٢)، وأما اللباس فواللَّه ما أبا لي بما واريت به عورتي، وأما الطعام والنوم فقد غلباني، واللَّه لأُضِرَّن بهماجهدي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن عبد قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں عیش چار چیزوں میں ہے : عورتیں، لباس، کھانا، نیند۔ پس عورتیں تو خدا کی قسم میرے لیے کسی عورت اور کسی بکری کو دیکھنا برابر ہے اور لباس تو خدا کی قسم ! مجھے اپنی ستر چھپانے کو جو کپڑا ملا ہے تو مجھے کسی اور کپڑے کی پروا نہیں ہے۔ اور کھانا اور نیند تو تحقیق یہ دونوں مجھ پر غالب ہیں۔ بخدا ! میں ان دونوں کے ساتھ اپنی مشقت کو تکلیف دوں گا۔ حسن کہتے ہیں : بخدا ! انہوں نے دونوں کو نقصان دیا۔
حدیث نمبر: 37837
٣٧٨٣٧ - قال الحسن: فأضر (واللَّه بهما) (١).
حدیث نمبر: 37838
٣٧٨٣٨ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: دخل على عامر في البيت وليس معه إلا جرة فيها شرابه وطهوره، وسلة فيها طعامه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر کے پاس گھر میں گیا تو ان کے پاس صرف ایک گھڑا تھا جس میں ان کے وضو اور پینے کا پانی تھا یا ایک ٹوکرا تھا جس میں ان کا کھانا تھا۔
حدیث نمبر: 37839
٣٧٨٣٩ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: كان ما يلي الأرض (من) (١) عامر بن (عبد) (٢) قيس مثل ثفن البعير.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبد قیس کے جسم کا جو حصہ زمین کو لگتا تھا وہ اونٹ کے حصہ کی طرح (سخت) تھا۔
حدیث نمبر: 37840
٣٧٨٤٠ - حدثنا الحسن بن موسى الأشيب عن شعبة عن حبيب بن شهيد قال: سمعت أبا بشر يحدث عن سهم بن شقيق قال: أتيت عامر بن (عبد) (١) قيس فقعدت على بابه فخرج وقد اغتسل، فقلت: إني أرى الغسل يعجبك، فقال: ربما اغتسلت، قال: ما حاجتك؟ (قلت) (٢): حب الحديث، قال: وعهدك بي أحب الحديث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہم بن شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عامر بن عبد قیس کے پاس حاضر ہوا اور میں ان کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ پس وہ غسل کرکے باہر آئے تو میں نے کہا : میرے خیال میں آپ کو غسل پسند ہے۔ انہوں نے فرمایا : میں اکثر غسل کرتا ہوں۔ پھر پوچھا : تمہاری کیا ضرورت ہے ؟ میں نے کہا : میں حدیث کے لیے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تمہارا میرے بارے میں یہ خیال ہے کہ مجھے حدیث سے محبت ہے ؟ “
حدیث نمبر: 37841
٣٧٨٤١ - حدثنا الحسن بن موسى عن أبي هلال قال: حدثنا محمد بن سيرين قال: قيل لعامر بن عبد اللَّه: ألا تزوج؟ قال: ما عندي نشاط وما عندي من مال، فما (أغر) (١) امرأة مسلمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبداللہ سے کہا گیا۔ آپ نے شادی کیوں نہیں کی ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے (اس کی) طلب نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس مال ہے۔ چناچہ میں کسی مسلمان عورت کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔
حدیث نمبر: 37842
٣٧٨٤٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال: قال عامر بن عبد قيس لابني عم له: فوضا أمركما إلى اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبد قیس نے اپنے دو چچا زاد بھائیوں سے کہا : تم اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردو۔
حدیث نمبر: 37843
٣٧٨٤٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان (قال) (١): (حدثنا) (٢) بعض مشيختنا، قال: قال عامر بن عبد اللَّه: إنما أجدني آسف على البصرة لأربع خصال: (تجاوب) (٣) (مؤذنيها) (٤) وظمأ الهواجر؛ ولأن بها أخداني؛ ولأن بها وطني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو بصرہ کی چار باتوں کی وجہ سے غمگین پاتا ہوں۔ اس کے موذنوں کا ایک دوسرے کو جواب دینا۔ اور سخت گرمیوں کی دوپہر کی پیاس، اور یہ کہ وہاں میرے دوست ہیں اور یہ کہ وہ میرا وطن ہے۔
حدیث نمبر: 37844
٣٧٨٤٤ - حدثنا عفان (قال: حدثنا: جعفر بن سليمان) (١) قال: حدثنا سعيد الجريري قال: لما سير عامر بن عبد اللَّه، قال: شيعه أخوانه (فقال) (٢) بظهر المِربد: إني داع فأمنوا، فقالوا: هات فقد كنا (نشتهي) (٣) هذا منك، فقال: اللهم من (ساءني) (٤) وكذب علي وأخرجني من مصري وفرق بيني وبين إخواني: اللهم أكثر ماله وولده وأصح جسمه وأطل عمره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید جریری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عامر بن عبداللہ کو جلا وطن کیا گیا تو ان کے کچھ بھائی ان کی مشایعت کے لیے نکلے۔ چناچہ انہوں نے ظہر مربد میں جا کر کہا : میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہنا۔ بھائیوں نے کہا : مانگیں۔ ہم تو خود آپ سے یہی چاہتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے دعا کی : اے اللہ ! جس نے میرے ساتھ برا کیا اور مجھ پر جھوٹ بولا اور مجھے میرے شہر سے جلا وطن کیا اور میرے اور میرے بھائیوں میں جدائی ڈالی، اے اللہ ! تو اس کے مال، اور اس کے اولاد کو زیادہ فرما اور اس کے جسم کو صحت مند رکھ اور اس کی عمر لمبی فرما۔
حدیث نمبر: 37845
٣٧٨٤٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان عن مالك بن دينار قال: حدثني من رآى (عامر بن) (١) عبد قيس دعا بزيت فصبه في يده -كذا وصف جعفر ⦗٥١٣⦘ ومسح إحداهما على الأخرى-، (ثم قال) (٢): ﴿(وَشَجَرَةً) (٣) تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَيْنَاءَ تَنْبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِلْآكِلِينَ﴾ [المؤمنون: ٢٠] قال: فدهن رأسه ولحيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے خود عامر بن عبد قیس کو دیکھا تھا کہ انہوں نے زیتون کاتیل منگوایا اور پھر اس کو اپنے ہاتھ میں ڈالا اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر ملا پھر قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی : { وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَیْنَائَ تَنْبُتُ بِالدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِلآکِلِینَ } راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے اپنے سر اور داڑھی پر تیل لگایا۔
حدیث نمبر: 37846
٣٧٨٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثني مالك بن دينار قال: حدثني فلان: أن عامر بن عبد اللَّه كان بالرحبة، وإذا (ذمي) (١) يظلم، قال: فألقى عامر (رداءه) (٢) وقال: ألا (أرى) (٣) ذمة اللَّه (تخفرون) (٤) وأنا حي، (فاستنقذه) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار، ایک آدمی کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبداللہ، اپنے گھر کے صحن میں تھے کہ ایک ذمی پر ظلم ہو رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت عامر نے اپنی چادر پھینک دی اور فرمایا : کیا میں اللہ کے ذمہ کو ٹوٹتے ہوئے دیکھتا رہوں اور میں زندہ رہوں ؟ چناچہ آپ نے اس کو بچا لیا۔
حدیث نمبر: 37847
٣٧٨٤٧ - حدثنا عباد بن العوام عن عاصم عن فضيل بن زيد الرقاشي قال: لا (يُلهك) (١) الناسُ عن نفسك، فإن الأمر يصل إليك (دونهم) (٢)، ولا تقل: اقطع عنا اليوم بكذا وكذا، فإنه محصيٌ عليك جميعَ ما عملت في ذلك، ولم (نرَ) (٣) شيئا أسرع إدراكا ولا أحسن طلبا من حسنة (حديثة) (٤) لذنب (عظيم) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن زید رقاشی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ لوگ تجھے تیری ذات سے غافل نہ کردیں۔ کیونکہ (تیرا) معاملہ تیرے ساتھ ہوگا نہ کہ ان کے ساتھ اور تم یہ بات نہ کہو۔ آج کا دن ہم سے یوں یوں گزر گیا۔ کیونکہ تم اس میں جو کچھ کرو گے وہ سارا تمہارے اوپر شمار ہوگا اور تم کسی چیز کو اس نیکی سے زیادہ تیز پانے والا اور اچھا طلب کرنے والا نہیں پاؤ گے جو بڑے گناہ کے بعد ہو۔
حدیث نمبر: 37848
٣٧٨٤٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد (قال) (١): (حدثنا) (٢) عمران ابن حدير عن قسامة بن زهير قال: روحوا القلوب (تعي) (٣) الذكر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قسامہ بن زہیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دلوں کو راحت پہنچاؤ ذکر کی۔