کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
حدیث نمبر: 37812
٣٧٨١٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن علي بن زيد قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يخطب (بخناصرة) (١) فسمعته يقول: أفضل العبادة أداء الفرائض، واجتناب المحارم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مقام خناصرہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خطبہ دیتے سنا۔ چناچہ میں نے آپ کو کہتے سنا بہترین عبادت فرائض کی ادائیگی ہے اور حرام چیزوں سے اجتناب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37812
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37812، ترقيم محمد عوامة 36228)
حدیث نمبر: 37813
٣٧٨١٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن أزهر بياع (الخمر) (١) قال: رأيت عمر بن عبد العزيز (بخناصرة) (٢) (فسمعته) (٣) (يخطب) (٤) الناس عليه قميص مرقوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ازہر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام خناصرہ میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے پیوند لگی قمیص پہنی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37813
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37813، ترقيم محمد عوامة 36229)
حدیث نمبر: 37814
٣٧٨١٤ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن أبي (مخزوم) (١) قال: حدثني عمر بن أبي الوليد قال: خرج عمر بن عبد العزيز يوم (جمعة) (٢) وهو ناحل الجسم ⦗٥٠٤⦘ (يخطب) (٣)، كما كان يخطب ثم قال: (٤) أيها الناس من أحسن منكم فليحمد اللَّه، ومن (أساء) (٥) فليستغفر اللَّه، فإنه لا بد لأقوام أن يعملوا أعمالا وضعها اللَّه في رقابهم وكتبها عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن الولید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک جمعہ کو باہر تشریف لائے … آپ کا جسم بہت کمزور تھا … آپ نے خطبہ دیا جس طرح آپ خطبہ دیتے تھے۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے جو اچھا کام کرے تو اس کو اللہ کی تعریف کرنی چاہیے۔ اور تم میں سے جو برا کام کرے تو اس کو اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ کیونکہ لوگوں کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ وہ اعمال کریں اور اللہ ان اعمال کو ان کی گردنوں پر رکھ دے اور ان اعمال کو ان لوگوں پر لکھ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37814
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37814، ترقيم محمد عوامة 36230)
حدیث نمبر: 37815
٣٧٨١٥ - حدثنا أبو معاوية عن (معرف) (١) قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يخطب الناس (بعرفة) (٢) وعليه ثوبان أخضران، وذكر الموت فقال: (غنظ) (٣) ليس كالغنظ (وكظ ليس كالكظ) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام عرفہ میں دیکھا وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور ان پر دو سبز کپڑے تھے۔ آپ رحمہ اللہ نے موت کا ذکر کیا تو فرمایا : وہ سخت تکلیف ہے لیکن عام سخت تکالیف کی طرح نہیں ہے۔ وہ سخت غم ہے لیکن عام سخت غموں کی طرح نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37815
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37815، ترقيم محمد عوامة 36231)
حدیث نمبر: 37816
٣٧٨١٦ - حدثنا حسين بن علي عن عمر بن ذر قال: ما رأيت أحدا أرى أنه أشد خوفا للَّه من عمر بن عبد العزيز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے زیادہ خوفِ خدا والا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37816
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37816، ترقيم محمد عوامة 36232)
حدیث نمبر: 37817
٣٧٨١٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: بلغني أن عمر بن عبد العزيز خطب الناس (بعرفة) (١) فقال: (يا) (٢) أيها الناس إنكم (جئتم) (٣) من القريب والبعيد، (فأنضيتم) (٤) (الظهر) (٥) و (أخلقتم الثياب) (٦)، وليس السعيد ⦗٥٠٥⦘ من سبقت دابته (أو) (٧) راحلته، ولكن السعيد من تقبل منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مقام عرفہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ کہا : اے لوگو ! تم دور اور قریب سے آئے ہو، چناچہ تم نے جانور بھی لاغر کردیے ہیں اور کپڑے بھی پرانے کرلیے ہیں لیکن خوش بخت وہ آدمی نہیں ہے جس کی سواری آگے نکل گئی بلکہ خوش بخت وہ ہے جس کی قبولیت ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37817
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37817، ترقيم محمد عوامة 36233)
حدیث نمبر: 37818
٣٧٨١٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: بلغني عن عمر بن عبد العزيز قال: ذكر النعم شكرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : نعمتوں کا ذکر کرنا بھی ان کا شکر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37818
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37818، ترقيم محمد عوامة 36234)
حدیث نمبر: 37819
٣٧٨١٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن عمرو بن مهاجر (قال) (١): كان قميص عمر بن عبد العزيز و (ثيابه) (٢) فيما بين الكعب والشراك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مہاجر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قمیص اور آپ کے کپڑے ٹخنوں اور تسمہ باندھنے کی جگہ کے درمیان تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37819
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37819، ترقيم محمد عوامة 36235)
حدیث نمبر: 37820
٣٧٨٢٠ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن المهلب بن عقبة قال: كان عمر بن عبد العزيز يخطب يقول: إن من أحب (الأمور) (٢) إلى اللَّه القصد في الجدة، والعفو في المقدرة، والرفق في الولاية، وما رفق عبد (بعبد) (٣) في (الدنيا) (٤) إلا رفق اللَّه به يوم (القيامة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہلب بن عقبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز خطبہ دیتے تو فرماتے ۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین کاموں میں تونگری کی حالت میں میانہ روی اور قدرت کے وقت معافی اور اختیار کے وقت نرمی ہے۔ جو بندہ بھی کسی بندہ کے ساتھ دنیا میں نرمی کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے ساتھ نرمی کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37820
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37820، ترقيم محمد عوامة 36236)
حدیث نمبر: 37821
٣٧٨٢١ - حدثنا حسين بن علي عن عبيد بن عبد الملك [قال: كان عمر بن عبد العزيز يقول: اللهم أصلح من كان في صلاحه صلاحٌ لأمة محمد (١)، اللهم وأهلك من كان في هلاكه صلاح (لأمة) (٢) محمد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عبد الملک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! اس آدمی کو درست کردے جس کی درستگی میں امت محمدیہ کی درستگی ہے۔ اور اے اللہ ! اس آدمی کو ہلاک کردے جس کی ہلاکت میں امت محمدیہ کی درستگی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37821، ترقيم محمد عوامة 36237)
حدیث نمبر: 37822
٣٧٨٢٢ - حدثنا حسين بن علي عن عبيد بن] (١) عبد الملك قال: أخبرني من رأى عمر بن عبد العزيز واقفا بعرفة وهو يدعو وهو يقول بأصبعه هكذا -يعني يشير بها: اللهم زد محسن أمة محمد (٢) إحسانا، و (راجع) (٣) (بمسيئهم) (٤) إلى التوبة، ثم يقول -هكذا، ثم يدير (بإصبعه) (٥) -: اللهم وحط من وراءهم برحمتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عبد الملک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام عرفہ میں وقوف کرتے دیکھا تھا اور آپ رحمہ اللہ دعا کر رہے تھے۔ اور آپ اپنی انگلی سے یوں اشارہ کررہے تھے۔ اے اللہ ! اُمت محمد ﷺ! کے ساتھ اچھائی کرنے والے کی اچھائی کو اور زیادہ کر اور امت محمد ﷺ کے ساتھ برائی کرنے والے کو توبہ کی طرف پھیر دے پھر آپ رحمہ اللہ نے اپنی انگلی کو پھیرا۔ اے اللہ ! اور تو ان کے پیچھے سے اپنی رحمت کا احاطہ فرما لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37822
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37822، ترقيم محمد عوامة 36238)
حدیث نمبر: 37823
٣٧٨٢٣ - حدثنا عفان بن مسلم (قال) (١): حدثنا جويرية بن أسماء (قال) (٢): حدثنا نافع قال: قال عبد الملك بن عمر لعمر بن عبد العزيز: يا أمير المؤمنين، ما يمنعك أن (تمضي) (٣) للذي تريد، فوالذي نفسي بيده ما أبا لي لو غلت بي وبك فيه القدور، قال: وحق هذا منك يا بني؟ قال: نعم واللَّه، قال: الحمد للَّه الذي جعل لي من ذريتي (من) (٤) يعينني على أمر ربي، يا بني لو (بدهت) (٥) الناس بالذي تقول لم آمن أن ينكروها، فإذا أنكروها لم أجد بدا من السيف، ولا خير في خير لا يأتي إلا بالسيف، يا بني إني أروض الناس رياضة الصعب، فإن يطل بي (عمر) (٦) فإني أرجو أن ينفذ اللَّه لي شيئًا، وإن تعد علي منية فقد علم اللَّه الذي أريد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا : اے امیر المومنین ! آپ کو اپنے ارادہ کے پورے کرنے سے کیا شے رکاوٹ ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میرے اور آپ کے ذریعہ ہانڈیاں ابلیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ بات تیری طرف سے درست ہے ؟ عبدالملک نے کہا : جی ہاں، خدا کی قسم ! آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے میری نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو حکم خداوندی میں میری معاونت کرتا ہے۔ اے میرے بیٹے ! اگر میں یہ بات جو تم نے کہی ہے۔ لوگوں کے پاس اچانک لے کر آتا تو ان کی طرف سے اس بات کے انکار سے مجھے امن نہیں تھا۔ پھر جب وہ انکار کرتے تو میرے لیے تلوار کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اور ایسی خیر میں کوئی بہتری نہیں ہے جو تلوار کے ذریعہ آئے۔ اے میرے بیٹے ! میں لوگوں کے ساتھ مشکل سے قابو آنے والی اونٹنی کو قابو کرنے کی طرح کا معاملہ کررہا ہوں۔ چناچہ اگر میری عمر لمبی ہوئی تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے کسی چیز کو نافذ کر دے گا اور اگر مجھ پر موت نے حملہ کردیا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے ارادہ کو جانتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37823
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37823، ترقيم محمد عوامة 36239)
حدیث نمبر: 37824
٣٧٨٢٤ - حدثنا عفان (قال) (١): (حدثنا) (٢) جويرية بن أسماء عن إسماعيل بن أبي حكيم قال: غضب عمر بن عبد العزيز يوما فاشتد غضبه، وكانت فيه حدة، وعبد الملك ابنه حاضر، فلما رأوه قد سكن غضبه قال: يا أمير المؤمنين أنت في قدر نعمة اللَّه عليك، وفي موضعك الذي وضعك اللَّه (فيه) (٣)، وما ولاك اللَّه من أمر عباده يبلغ بك الغضب ما أرى، قال: كيف قلت؟ فأعاد عليه كلامه فقال: أما تغضب يا عبد الملك؟ قال: (٤) ما يغني عني سعة (جوفي) (٥) إن لم (أَرِدد) (٦) فيه الغضب حتى لا يظهر منه شيء أكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عبدالحکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز کو غصہ آیا اور ان کا غصہ شدید ہوگیا اور اس میں کچھ تیزی بھی تھی۔ آپ کا بیٹا عبدالملک موجود تھا۔ چناچہ جب اس نے آپ کو دیکھا کہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے تو اس نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ، اپنے اوپر خدا کی نعمت کی قدر کریں اور جس جگہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رکھا ہے آپ اسی جگہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکومت کا اختیار دیا ہے تو بندوں کے معاملہ میں آپ کا غصہ جہاں تک پہنچا تھا آپ کو اس کا اختیار نہیں جو میں دیکھتا ہوں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : تم نے کیسے یہ بات کہی ؟ چناچہ عبدالملک نے بات دہرائی۔ حضرت عمر نے پوچھا : اے عبدالملک ! تمہیں غصہ نہیں آتا ؟ انہوں نے فرمایا : میری اس وسعت قلبی کا کیا فائدہ ؟ اگر میں اپنے غصہ کو واپس نہ کروں تاکہ اس کی وجہ سے کوئی ناپسندیدہ بات ظاہر نہ ہو ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37824
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37824، ترقيم محمد عوامة 36240)
حدیث نمبر: 37825
٣٧٨٢٥ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن (برقان) (١) قال: كتب عمر بن عبد العزيز: أما بعد، فإن (أناسا) (٢) من الناس التمسوا الدنيا بعمل الآخرة. وإن أناسا من القصاص قد أحدثوا من الصلاة على خلفائهم وأمرائهم عدل صلاتهم على (النبي ﷺ، فإذا أتاك كتابي هذا فمرهم أن تكون) (٣) صلاتهم على النبيين، ودعاؤهم للمسلمين عامة، و (يدعون) (٤) ما سوى ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خط لکھا۔ اما بعد ! بیشک کچھ لوگ آخرت کے عمل سے دنیا کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ قصہ گو لوگوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اپنے خلفاء اور امراء پر درود بھیجنے کی بدعت نکال لی ہے۔ پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط آئے تو تو لوگوں کو حکم دے کہ وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء پر درود بھیجیں۔ اور عام مسلمان لوگوں کے لیے دعا ہے اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37825
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37825، ترقيم محمد عوامة 36241)
حدیث نمبر: 37826
٣٧٨٢٦ - حدثنا سعيد بن (عامر) (١) عن محمد بن عمرو قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يقول: ما أنعم اللَّه على عبد من نعمة فانتزعها منه (فعاضه) (٢) مما انتزع منه صبرا، إلا كان الذي (عاضه) (٣) خيرا مما انتزع منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر بھی نعمت کرتا ہے پھر اس کو اس آدمی سے واپس لے لیتا ہے اور جس سے واپس لیتا ہے اس کو صبر دے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو جو صبر دیا ہوتا ہے وہ واپس لی ہوئی نعمت سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37826
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37826، ترقيم محمد عوامة 36242)
حدیث نمبر: 37827
٣٧٨٢٧ - حدثنا وكيع عن عبيد (اللَّه) (١) بن مَوْهب عن صالح بن (سعيد) (٢) المؤذن قال: بينما أنا مع عمر بن عبد العزيز بالسويداء فأذنت (العشاء) (٣)، فصلى ثم دخل القصر، فقلما لبث أن خرج، فصلى ركعتين خفيفتين، ثم جلس (فاحتبى) (٤)، فافتتح الأنفال فما زال يرددها ويقرأ، كلما مر (بتخويف) (٥) تضرع، وكلما مر (بآية) (٦) رحمة دعا حتى أذنت للفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن سعید مؤذن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہمراہ مقام سویداء میں تھا۔ چناچہ میں نے عشاء کی اذان دی اور انہوں نے نماز ادا کی پھر محل میں چلے گئے۔ پھر تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ باہر آگئے پھر دوہل کی سی رکعتیں پڑھیں اور پھر گھٹنے اٹھا کر (احتباء کی حالت میں) بیٹھ گئے۔ اور سورة انفال پڑھنا شروع کردی۔ آپ رحمہ اللہ مسلسل سورة انفال دہراتے رہے اور پڑھتے رہے۔ جب بھی کسی تخویف والی آیت سے گزرتے عاجزی کرتے اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے دعا کرتے۔ یہاں تک کہ میں نے فجر کی اذان دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37827
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37827، ترقيم محمد عوامة 36243)
حدیث نمبر: 37828
٣٧٨٢٨ - حدثنا ابن نمير عن طلحة بن يحيى قال: كنت جالسا عند عمر بن عبد العزيز فدخل عليه عبد الأعلى بن هلال فقال: أبقاك اللَّه يا أمير المؤمنين ما دام (البقاء) (١) خيرا لك، قال: قد فرغ من ذلك يا أبا النضر، ولكن قل: أحياك اللَّه (حياة) (٢) طيبة، وتوفاك مع الأبرار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس حضرت عبدالاعلیٰ بن ہلال تشریف لائے اور کہا : اے امیر المومنین ! جب تک باقی رہنا آپ کے لیے بہتر ہو۔ اللہ آپ کو باقی رکھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا : اے ابوالنضر ! اس دعا سے تو فراغت ہوچکی ہے۔ لیکن تم یہ دعا کرو۔ اللہ تمہیں طیب زندگی عطا کرے اور تمہیں نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37828
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37828، ترقيم محمد عوامة 36244)
حدیث نمبر: 37829
٣٧٨٢٩ - حدثنا أبو خالد عن يحيي بن سعيد عن إسماعيل بن (أبي) (١) حكيم عن عمر بن عبد العزيز قال: إن اللَّه لا يؤاخذ العامة بعمل في الخاصة، فإذا المعاصي ظهرت فلم تنكر استحقوا العقوبة جميعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ عام لوگوں کو خاص لوگوں کے عمل کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں کرتے۔ لیکن جب گناہ سرعام ہوتے ہیں اور ان پر انکار نہیں کیا جاتا تو پھر سب لوگ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37829
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37829، ترقيم محمد عوامة 36245)
حدیث نمبر: 37830
٣٧٨٣٠ - حدثنا محمد بن (١) عبد اللَّه الأسدي (قال) (٢): (حدثنا) (٣) سفيان عن عمر بن عبد العزيز قال: من لم يعدّ كلامه من عمله كثرت خطاياه، ومن عمل بغير علم كان ما يفسد أكثر مما يصلح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو آدمی، اپنے کلام کو اپنے عمل سے شمار نہیں کرتا اس کی خطائیں زیادہ ہوتی ہیں اور جو آدمی علم کے بغیر عمل کرتا ہے تو اس کے خراب عمل اس کے صحیح عملوں سے زیادہ ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37830
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37830، ترقيم محمد عوامة 36246)
حدیث نمبر: 37831
٣٧٨٣١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ذكر أبو إسرائيل عمرَ بن عبد العزيز (قال) (١): حدثني علي بن (بَذِيمة) (٢) قال: رأيته بالمدينة وهو أحسن الناس لباسا وأطيب الناس ريحا و (من) (٣) أخيل الناس في مشيته (٤)، [أو (أخيل) (٥) الناس في مشيته] (٦)، ثم رأيته يعد يمشي مشية الرهبان، فمن حدثك أن المشي (سجية) (٧) فلا تصدقه بعد عمر بن عبد العزيز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن بذیمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مدینہ میں دیکھا تھا۔ وہ سب سے خوبصورت لباس والے تھے۔ اور سب سے عمدہ خوشبو والے تھے۔ اور اپنی چال میں سب سے زیادہ نخرے والے تھے۔ پھر میں نے ان کو اس کے بعد راہبوں کی سی چال چلتے (بھی) دیکھا ہے۔ پس جو شخص تمہیں یہ کہے کہ چال انسان کی فطری عادت ہے تو اس کی عمر بن عبد العزیز کے بعد تصدیق نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37831
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37831، ترقيم محمد عوامة 36247)
حدیث نمبر: 37832
٣٧٨٣٢ - حدثنا سعيد بن عثمان عن غيلان بن ميسرة أن (رجلًا) (١) أتى ⦗٥١٠⦘ عمر ابن عبد العزيز فقال: زرعت زرعا فمر به جيش من أهل الشام فأفسدوه، (قال) (٢): فعوضه (منه) (٣) عشرة الأف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان بن میسرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں نے کھیتی کاشت کی تھی لیکن اس کے پاس سے اہل شام کا لشکر گزرا اور اس نے کھیتی خراب کردی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس آدمی کو دس ہزار معاوضہ ادا کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37832
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37832، ترقيم محمد عوامة 36248)
حدیث نمبر: 37833
٣٧٨٣٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي أن عمر بن عبد العزيز أوصى عامله في الغزو أن لا يركب دابة إلا دابة (يضبط) (١) سيرها أضعف دابة في الجيش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے عامل کو سفر جہاد میں یہ وصیت کی تھی کہ وہ صرف ایسی سواری پر ہی سوار ہو جس کی رفتار کو لشکر میں موجود کمزور ترین سواری بھی پاسکے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37833
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37833، ترقيم محمد عوامة 36249)
حدیث نمبر: 37834
٣٧٨٣٤ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى أن عمر بن عبد العزيز كان يبرد، قال: فحمل مولى له رجلا على البريد بغير إذنه، قال: فدعاه فقال: لا تبرح حتى تقومه ثم تجعله في بيت المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز قاصد روانہ کیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر کے ایک آزاد کردہ غلام نے آپ کی اجازت کے بغیر ایک آدمی کو ڈاک کے گھوڑے پر سوار کردیا۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ آپ رحمہ اللہ نے اس کو بلایا اور فرمایا : تم اسی طرح رہو یہاں تک کہ تم اس کی قیمت لگاؤ اور پھر اس کو بیت المال میں جمع کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37834
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37834، ترقيم محمد عوامة 36250)
حدیث نمبر: 37835
٣٧٨٣٥ - حدثنا (ابن) (١) مبارك عن جميع بن عبد اللَّه المقرئ أن عمر بن عبد العزيز نهى البريد أن يجعل في طرف السوط حديدة ينخس بها الدابة، (قال) (٢): ونهى عن اللجم الثقال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جمیع بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے قاصد کو اس بات سے منع فرمایا کہ لاٹھی کے ایک جانب لوہا لگایا جائے جس کے ذریعہ جانور کو مارا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ نے بھاری لگاموں سے بھی منع کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37835
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37835، ترقيم محمد عوامة 36251)