حدیث نمبر: 37757
٣٧٧٥٧ - حدثنا أبو (١) معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لأن أقول: سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ کہوں تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 37758
٣٧٧٥٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن عمارة بن (القعقاع) (١) عن أبي زرعة ⦗٤٨٦⦘ عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان إلى الرحمن: سبحان اللَّه وبحمده، سبحان اللَّه (٢) العظيم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمن کو محبوب ہیں یعنی سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیمِ ۔
حدیث نمبر: 37759
٣٧٧٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن أبي عبيدة (عن عبد اللَّه) (١) قال: لأن أقول: سبحان اللَّه والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، أحب إليّ من أن أتصدق بعددها دنانير في سبيل اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اگر سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ اور اللَّہُ أَکْبَرُ کہوں تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان کی تعداد کے بقدر راہ خدا میں دینار خرچ کروں۔
حدیث نمبر: 37760
٣٧٧٦٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن ثابت البناني قال: حدثني رجل من أصحاب محمد ﷺ (١) عند هذه السارية قال: من قال: سبحان اللَّه وبحمده، وأستغفر اللَّه وأتوب إليه، كتبت في رق، ثم طبع عليها طابع من مسك، فلم تكسر حتى يوافى بها يوم القيامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بنانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک نے مجھے اس ستون کے پاس یہ حدیث بیان کی۔ اس نے کہا : جو آدمی سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إلَیْہِ کہتا ہے تو اس کو ایک کاغذ میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اس پر مشک کی ایک مہر لگا دی جاتی ہے۔ اس کو قیامت کے دن تک توڑا جائے گا جب اس آدمی کو اس کا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 37761
٣٧٧٦١ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن طلق بن حبيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لأن أقولها أحب إليّ من أن أحمل على عددها خيلا بأرسانها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کلمات کہوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہیں کہ میں ان کی تعداد کے بقدر لگام لگے ہوئے گھوڑوں کو (راہِ خدا میں) بھیجوں۔
حدیث نمبر: 37762
٣٧٧٦٢ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قال: (تسبيحة) (١) في صحيفة المؤمن خير من أن تسير -أو تسيل- معه جبال الدنيا ذهبا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مومن کے صحیفہ میں خدا کی حمد کی ایک تسبیح اس سے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں یا بہیں۔
حدیث نمبر: 37763
٣٧٧٦٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن الوليد بن العيزار عن أبي الأحوص قال: سمعته يقول: تسبيحة في طلب (الحاجة) (١) خير من لقوح صفي في عام أزبة -أو قال: (لزبة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید، ابوالاحوص کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالاحوص کو کہتے سنا۔ حاجت کی طلب میں ایک تسبیح دودھ والی منتخب اونٹنی سے بہتر ہے جو شدت والے سال میں مہیا ہو۔
حدیث نمبر: 37764
٣٧٧٦٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن هلال بن (يساف) (١) قال قال: عبد اللَّه: لأن أسبح تسبيحات أحب إليّ من أن أنفق عددهن دنانير في سبيل اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید فرماتے ہیں کہ میں چند تسبیحات کرلوں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان کی گنتی کے بقدر راہ خدا میں دینار خرچ کروں۔
حدیث نمبر: 37765
٣٧٧٦٥ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) وأبو أسامة عن مسعر عن (عمرو) (٢) بن مرة عن مصعب بن سعد (وقال أبو أسامة: سمعت (٣) مصعب بن سعد) (٤) يقول: إذا قال العبد: [سبحان اللَّه (٥) (قالت) (٦) الملائكة: وبحمده، (وإذا قال: سبحان اللَّه وبحمده) (٧)، صلوا (عليه) (٨) وقال أبو أسامة: (صلت عليه) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں جب بندہ سُبْحَانَ اللہِ کہتا ہے تو فرشتے وَبِحَمْدِہِ کہتے ہیں اور جب بندہ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ کہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37766
٣٧٧٦٦ - حدثنا يعلى بن عبيد عن مسعر عن عطية عن أبي سعيد قال: إذا قال: العبد] (١): الحمد للَّه كثيرا، قال الملك: كيف أكتب (٢)؟ فيقول: اكتب له رحمتي كثيرا، (وإذا قال: سبحان اللَّه كثيرًا، قال الملك كيف أكتب؟ فيقول: اكتب له رحمتي كثيرًا) (٣)، وإذا قال: اللَّه أكبر كبيرا، قال الملك: كيف أكتب؟ فيقول: اكتب (له) (٤) رحمتي كثيرا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب بندہ الْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا کہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے۔ میں (اس کو) کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کو میری کثیر رحمت لکھو اور جب بندہ کہتا ہے سُبْحَانَ اللہِ کَثِیرًا۔ تو فرشتہ کہتا ہے میں کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کے لیے میری کثیر رحمت لکھو۔ اور جب بندہ کہتا ہے اللہ اکبر کبیرا۔ فرشتہ کہتا ہے میں کیسے لکھوں ؟ اللہ فرماتے ہیں تم اس کے لیے میری بڑی رحمت لکھو۔
حدیث نمبر: 37767
٣٧٧٦٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عفاق) (١) عن عمرو بن ميمون قال: أيعجز أحدكم أن يسبح مائة تسبيحة فتكون له ألف حسنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی ایک اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ایک سو مرتبہ تسبیح پڑھے کہ اس کے لیے ہزار نیکیاں ہوں۔
حدیث نمبر: 37768
٣٧٧٦٨ - حدثنا أبو (أسامة) (١) عن مسعر عن إبراهيم (السكسكي) (٢) عن عبد اللَّه ابن أبي أوفى قال: أتى رجل النبي ﷺ فذكر أنه لا يستطيع أن يأخذ من القرآن (شيئا) (٣)، وسأله شيئا يجزئ من القرآن، فقال له: قل: سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، ولا حول ولا قوة إلا باللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے یہ ذکر کیا کہ وہ قرآن سے کچھ نہیں لے سکتا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال کیا جو قرآن کی طرف سے کفایت کرجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کہا : ” تم کہو ! سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ۔
حدیث نمبر: 37769
٣٧٧٦٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن موسى بن (مسلم) (١) عن عون بن عبد اللَّه عن أبيه أو عن أخيه عن النعمان بن بشير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الذين يذكرون (من جلال) (٢) اللَّه من تسبيحه وتحميده (٣) وتهليله يتعاطفن حول العرش، (لهن) (٤) دوي كدوي النحل، يُذكرن بصاحبهن، أولا يحب أحدكم أن لا يزال عند الرحمن شيء يذكر به" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو لوگ ہیبت خداوندی کی وجہ سے خدا کی تسبیح، تحمید اور تہلیل پڑھتے ہیں تو ان کی یہ تسبیحات عرش کے گرد منڈلاتی رہتی ہیں۔ ان تسبیحات کی شہد کی مکھیوں کی طرح کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو یاد کرتی ہیں کیا تم میں سے کوئی ایک یہ بات پسند نہیں کرتا کہ رحمن کے پاس کوئی چیز ہو جو اس کو مسلسل یاد کرتی رہے ؟ “
حدیث نمبر: 37770
٣٧٧٧٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت هانئ بن عثمان يحدث عن أمه (حميضة) (١) ابنة ياسر عن جدتها (يسيرة) (٢)، وكانت إحدى المهاجرات، قالت: قال لنا رسول اللَّه ﷺ: "عليكن بالتسبيح والتكبير والتقديس (واعقدن بالأنامل) (٣) "، (قال) (٤): "فإنهن يأتين يوم القيامة مسؤولات مستنطقات، ولا تغفلن فتنسين الرحمة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیرہ … جو ہجرت کرنے والیوں میں سے ایک تھیں … سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا : ” تم پر تسبیح، تکبیر اور تقدیس لازم ہے اور تم انگلیوں کے ساتھ شمار کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ یہ انگلیاں قیامت کے دن بلوائی جائیں گی اور پوچھی جائیں گی۔ تم غافل نہ ہونا کہ پھر رحمت سے بھلا دی جاؤ۔
حدیث نمبر: 37771
٣٧٧٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع سمعه من أبي عمر (الصيني) (١) عن أبي الدرداء قال: قلت: يا رسول اللَّه ذهب (الأغنياء) (٢) بالأجر، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويحجون كما نحج، ويتصدقون ولا نجد ما نتصدق (٣)، قال: فقال: "ألا أدلكم على شيء إذا فعلتموه أدركتم من سبقكم ولا يدرككم من بعدكم إلا من عمل بالذي تعملون به: تسبحون اللَّه ثلاثًا وثلاثين وتحمدونه ثلاثًا وثلاثين، و (تكبرونه) (٤) أربعا وثلاثين دبر كل صلاة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! غنی لوگ تو اجر لے گئے۔ جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی روزے رکھتے ہیں اور جس طرح ہم حج کرتے ہیں وہ بھی یوں ہی حج کرتے ہیں اور وہ صدقہ بھی کرتے ہیں جبکہ ہمیں صدقہ کرنے کو کچھ نہیں ملتا۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں کوئی ایسی چیز نہ بتادوں کہ جب تم اس کو کرو تو تم خود پر سبقت کرنے والے کو پالو اور تمہارے بعد والے تمہیں نہ پاسکیں گے مگر اسی عمل کے ذریعہ جو تم نے کیا ہوگا ؟ تم لوگ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 37772
٣٧٧٧٢ - حدثنا جرير وأبو (الأحوص) (١) عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي صالح عن أبي الدرداء عن النبي ﷺ بنحو منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی ہی روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37773
٣٧٧٧٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن هلال بن (يساف) (١) قال: قال عبد اللَّه: لأن أسبح تسبيحات أحب إلي من أن أنفق عدتهن (دنانير) (٢) في سبيل اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : میں چند تسبیحات پڑھ لوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان کی تعداد کے بقدر راہ خدا میں دینار خرچ کروں۔
حدیث نمبر: 37774
٣٧٧٧٤ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا مهدي (بن ميمون) (١) عن واصل عن يحيى بن عقيل عن يحيى بن يعمر عن أبي الأسود (الديلي) (٢) عن أبي ذر عن النبي ﷺ قال: "بكل تسبيحة صدقة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر تسبیح کے بدلہ میں صدقہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 37775
٣٧٧٧٥ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) عن شعبة عن (الجريري) (٢) عن أبي عبد اللَّه (الجسري) (٣) عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "ألا أخبرك بأحب الكلام إلى اللَّه؟ " قال: قلت: بلى، يا رسول اللَّه ﷺ أخبرني بأحب الكلام إلى اللَّه، قال: "أحب الكلام (إلى اللَّه) (٤) سبحان اللَّه وبحمده" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں خدا تعالیٰ کا محبوب ترین کلام نہ بتاؤں ؟ “ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں۔ آپ مجھے خدا تعالیٰ کا محبوب ترین کلام بتادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خدا تعالیٰ کا محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 37776
٣٧٧٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن (الجريري) (١) عن عبد اللَّه بن شقيق عن كعب قال: إن (من) (٢) خير العمل سبحة الحديث، وإن من شر (العمل) (٣) (التجديف) (٤)، قال: قلت: يا (أبا) (٥) عبد الرحمن، وما سبحة الحديث؟ قال: ⦗٤٩٢⦘ تسبيح الرجل والقوم يتحدثون، قال: قلت: وما (التجديف؟) (٦) قال: يكون القوم بخير وإذا سئلوا قالوا: بشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اعمال میں سے بہترین عمل سبحۃ الحدیث ہے اور اعمال میں سے بدترین عمل تجدیف ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اے ابوعبدالرحمن ! سبحۃ الحدیث کیا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : آدمی تسبیح کرے جبکہ باقی لوگ باتیں کررہے ہوں۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : تجدیف کیا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : لوگ خیر کے ساتھ ہوں لیکن جب سوال کیا جائے تو شر کا جواب دیں۔
حدیث نمبر: 37777
٣٧٧٧٧ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب قال: كنا عند سعد بن مالك فسكت سكتة فقال: لقد أصبت (بسكتتي) (١) هذه مثل ما سقى النيل والفرات، قال: (قلنا) (٢): وما أصبت؟ قال: سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن مالک کے پاس تھے پھر وہ ایک لمحہ خاموش رہے اور پھر کہنے لگے۔ تحقیق میں نے اپنی اس خاموشی میں وہ کچھ پالیا ہے جس کو نیل اور فرات سیراب کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا : آپ کو کیا ملا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ۔