کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: خیثمہ بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 37746
٣٧٧٤٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: كان يقال: إن الشيطان يقول: ما (غلبني) (١) عليه بن آدم فلن يغلبني على ثلاث: أن يأخذ مالًا من غير حقه، (أو أن) (٢) يمنعه من حقه، (أو أن) (٣) يضعه في غير حقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے شیطان کہتا ہے : آدم کا بیٹا مجھ پر غالب آتا ہے لیکن تین چیزوں میں مجھ پر غالب نہیں آتا۔ بغیر حق کے مال لے یا حق کے باوجود مال سے روکے یا بغیر حق کے مال کو کہیں لگائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37746
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37746، ترقيم محمد عوامة 36162)
حدیث نمبر: 37747
٣٧٧٤٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: كان يقال: إن الشيطان يقول: (كيف) (١) يغلبني بن آدم: (وإذا) (٢) رضي ⦗٤٨٣⦘ (جئت) (٣) حتى أكون في قلبه، وإذا غضب طرت حتى أكون في رأسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے وہ کہا کرتے تھے شیطان کہتا ہے : آدم کا بیٹا مجھ پر کس طرح غلبہ پاسکتا ہے۔ جب وہ راضی ہوتا ہے تو میں آتا ہوں یہاں تک کہ میں اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہوں اور جب وہ غضبناک ہوتا ہے تو میں اڑتا ہوں یہاں تک کہ میں اس کے سر میں آجاتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37747
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37747، ترقيم محمد عوامة 36163)
حدیث نمبر: 37748
٣٧٧٤٨ - حدثنا شريك عن إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت خيثمة يقول في هذه الآية: ﴿يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا﴾ [المزمل: ١٧]، قال: ينادي مناد يوم القيامة، يخرج بعث النار من كل ألف تسعمائة وتسعة (وتسعون) (١)، فمن ذلك يشيب الولدان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خیثمہ کو کہتے سنا ارشاد خداوندی { یَوْمًا یَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیبًا } کے بارے میں۔ فرمایا : قیامت کے دن آواز دینے والا آواز دے گا۔ جہنم کے مستحق باہر آجائیں ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ پس اس بات کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37748
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37748، ترقيم محمد عوامة 36164)
حدیث نمبر: 37749
٣٧٧٤٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن خيثمة قال: دعاني (١) فلما جئت إذا أصحاب العمائم والمطارف على الخيل، فحقرت نفسي فرجعت، قال: فلقيني بعد ذلك فقال: ما لك لم تجئ؟ قال: قلت: قد جئت ولكن (قد) (٢) رأيت أصحاب العمائم والمطارف على الخيل فحقرت نفسي، قال: فأنت واللَّه أحب إلى منهم، قال: وكانا إذا دخلنا عليه (قال) (٣) بالسلة (من) (٤) تحت السرير وقال: كلوا، واللَّه ما أشتهيه، ولا (أصنعه) (٥) إلا لكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش، حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت خیثمہ نے بلایا۔ جب میں آیا تو کچھ دستار اور شال والے لوگ گھوڑوں پر آئے۔ میں نے اپنے کو حقیر سمجھا اور واپس ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے بعد آپ کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں آئے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : میں تو آیا تھا لیکن میں نے دستار اور شال والے لوگ دیکھے جو گھوڑوں پر سوار تھے تو میں نے اپنے آپ کو حقیر جانا۔ اس پر حضرت خیثمہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! تم مجھے ان سے زیادہ محبوب ہو۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم لوگ حضرت خیثمہ کے پاس جاتے تھے تو وہ اپنے تخت کے نیچے سے ایک ٹوکری نکالتے اور فرماتے : کھاؤ، خدا کی قسم ! مجھے اس کی خواہش نہیں ہوتی لیکن میں یہ تمہارے لیے تیار کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37749
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37749، ترقيم محمد عوامة 36165)
حدیث نمبر: 37750
٣٧٧٥٠ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: كان قومه يؤذونه فقال: إن هؤلاء يؤذونني، ولا واللَّه ما طلبني أحد منهم (حاجة) (١) إلا قضيتها، ولا أُدخل على أحد منهم أذى (٢)، ولا أنا أبغض فيهم من الكلب الأسود، ولم ⦗٤٨٤⦘ (يرون) (٣) ذاك إلا أنه واللَّه ما يحب منافق مؤمنا أبدا] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش، حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کی قوم والے ان کو تکلیف دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا : یہ لوگ مجھے تکلیف دیتے ہیں جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ خدا کی قسم ! ان میں سے کسی نے مجھ سے کوئی ضرورت مانگی ہو مگر یہ کہ میں نے اس کو پورا کیا ہے۔ اور میں ان میں سے کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ لیکن (پھر بھی) میں انہیں سیاہ کتے سے بھی بڑھ کر مبغوض ہوں۔ اور یہ لوگ یہ خیال کیوں کرتے ہیں ؟ مگر یہ بات ہے کہ بخدا کسی ایمان والے سے کبھی منافق محبت نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37750
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37750، ترقيم محمد عوامة 36166)
حدیث نمبر: 37751
٣٧٧٥١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (خيثمة) (١) قال: (تقول) (٢) الملائكة: يا رب عبدك المؤمن تزوي عنه الدنيا وتعرضه للبلاء، قال: فيقول للملائكة: اكشفوا لهم عن ثوابه، فإذا (رأوا) (٣) ثوابه قالوا: يا رب لا يضره ما أصابه من الدنيا، قال: ويقولون: عبدك الكافر تزوي عنه البلاء وتبسط له الدنيا، قال: فيقول للملائكة: اكشفوا لهم عن (ثوابه) (٤)، فإذا (رأوا) (٥) (ثوابه) (٦) (قالوا) (٧): يا رب، لا ينفعه ما أصابه من الدنيا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! تیرے مومن بندہ سے دنیا دور ہوگئی ہے اور اس کو مصائب کے لیے آگے کردیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے (دوسرے) فرشتوں سے کہا : ان کو مومن کا بدلہ دکھاؤ۔ چناچہ جب فرشتوں نے مومن کا بدلہ دیکھا تو کہنے لگے : اے پروردگار ! مومن کو دنیا میں جو حالت بھی پہنچے یہ اس کو نقصان دہ نہیں ہے۔ راوی کہتے تھے : اور فرشتوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! تیرے کافر بندے سے مصائب دور ہوگئے اور اس کے لیے دنیا کشادہ ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں : حق تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا : ان کے لیے کافر کا بدلہ ظاہر کرو۔ چناچہ جب فرشتوں نے کافر کا بدلہ دیکھا تو کہنے لگا۔ اے پروردگار ! کافر کو دنیا میں جو بھی ملے اس کے لیے نفع مند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37751
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37751، ترقيم محمد عوامة 36167)
حدیث نمبر: 37752
٣٧٧٥٢ - حدثنا ابن نمير عن مالك (عن) (١) طلحة عن خيثمة قال: إن اللَّه (ليطرد) (٢) بالرجل الشيطان من (الآدر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کی وجہ سے شیطان کو کئی گھروں سے دور کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37752
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37752، ترقيم محمد عوامة 36168)
حدیث نمبر: 37753
٣٧٧٥٣ - حدثنا (معاوية بن هشام) (١) عن سفيان عن رجل عن (خيثمة) (٢) ⦗٤٨٥⦘ قال: إنه أوصى (أن يدفن) (٣) في مقبرة فقراء قومه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کو ان کی قوم کے فقراء کے مقبرہ میں دفن کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37753
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37753، ترقيم محمد عوامة 36169)
حدیث نمبر: 37754
٣٧٧٥٤ - حدثنا ابن نمير عن مالك (عن) (١) طلحة عن خيثمة قال: إني لأعلم (مكان) (٢) رجل يتمنى الموت في السنة مرتين، فرأيت أنه يعني نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے : میں ایک ایسے آدمی کا مکان جانتا ہوں جو سال میں دو مرتبہ موت کی تمنا کرتا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ وہ خود کو مراد لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37754
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37754، ترقيم محمد عوامة 36170)
حدیث نمبر: 37755
٣٧٧٥٥ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن خيثمة قال: (طوبى) (١) للمؤمن كيف يُحفظ في ذريته من بعده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کے لیے بشارت ہے کہ اس کے بعد اس کی نسل کی کس طرح حفاظت کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37755
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37755، ترقيم محمد عوامة 36171)
حدیث نمبر: 37756
٣٧٧٥٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الأعمش عن خيثمة قال: ما تقرؤون في القرآن: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ فإن موضعه في التوراة: يا أيها المساكين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم لوگ قرآن مجید میں جو { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا } کے الفاظ پڑھتے ہو تو تورات میں اس کی جگہ یَا أَیُّہَا الْمَسَاکِینُ کے الفاظ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37756
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37756، ترقيم محمد عوامة 36172)