کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت عبید بن عمیر کا کلام
حدیث نمبر: 37722
٣٧٧٢٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: كان (يقول) (١): إذا جاء (الشتاء) (٢) يا أهل القرآن، طال الليل لصلاتكم، وقصر النهار لصيامكم، فاغتنموا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے جب سردی کا موسم آتا تو وہ کہتے اے اہل قرآن ! تمہاری نمازوں کے لیے رات لمبی ہوگئی ہے اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹا ہوگیا ہے۔ پس تم غنیمت سمجھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37722
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37722، ترقيم محمد عوامة 36138)
حدیث نمبر: 37723
٣٧٧٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: ما كان المجتهد فيكم إلا كاللاعب فيمن مضى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم میں سے جو خوب محنت کرنے والا ہے وہ پہلے لوگوں میں سے کھیلنے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37723
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37723، ترقيم محمد عوامة 36139)
حدیث نمبر: 37724
٣٧٧٢٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قال: إن أهل القبور (١) يتوقعون الأخبار، فإذا لم تأتهم قالوا: إنا للَّه وإنا إليه راجعون، سلك به غير (طريقنا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک قبروں والے خبروں کے منتظر رہتے ہیں۔ پھر جب ان کے پاس خبریں نہیں آتیں تو وہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہتے ہیں۔ یہ ہمارے راستہ کے علاوہ پر چل پڑے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37724
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37724، ترقيم محمد عوامة 36140)
حدیث نمبر: 37725
٣٧٧٢٥ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قال: يؤتى بالرجل العظيم الطويل يوم القيامة فيوضع في الميزان، فلا يزن عند اللَّه جناح بعوضة وقرأ: ﴿فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ [الكهف: ١٠٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بعید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک بڑے لمبے آدمی کو لایا جائے گا اور اس کو میزان میں رکھا جائے گا تو اللہ کے ہاں اس کا وزن مچھر کے پر جتنا بھی نہیں ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : { فَلاَ نُقِیمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37725
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37725، ترقيم محمد عوامة 36141)
حدیث نمبر: 37726
٣٧٧٢٦ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير (١): ﴿لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ﴾ [ق: ٣٢]، قال: (للذي) (٢) لا يجلس مجلسا، ثم يقوم إلا استغفر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے قرآن مجید کی آیت { لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ } کے بارے میں منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جو کسی بھی مجلس میں بیٹھے پھر اٹھے تو اللہ سے معافی کا طلبگار رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37726
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37726، ترقيم محمد عوامة 36142)
حدیث نمبر: 37727
٣٧٧٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قال: من صدق الإيمان وبره إسباغ الوضوء في المكاره، (١) من صدق الإيمان وبره أن يخلو الرجل بالمرأة (الحسنة) (٢) فيدعها، لا يدعها إلا للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایمان کی سچائی اور نیکی میں سے یہ بات ہے کہ ناپسندیدہ اوقات میں وضو کو خوب اچھی طرح کرنا۔ ایمان کی سچائی اور نیکی میں سے یہ بات ہے کہ آدمی کسی حسین عورت کے ساتھ خلوت میں ہو پھر اس کو چھوڑ دے۔ اس کو صرف اللہ کے لیے چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37727
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37727، ترقيم محمد عوامة 36143)
حدیث نمبر: 37728
٣٧٧٢٨ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن أبي الزبير عن عبيد بن عمير في قوله: ﴿عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ﴾ [القلم: ١٣]، قال: هو الأكول الشروب، (القوي) (١) الشديد يوزن فلا يزن شعيرة، يدفع الملك من أولئك سبعين ألفًا دفعة واحدة في جهنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے ارشادِ خداوندی { عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِکَ زَنِیمٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ زیادہ کھانے والا اور زیادہ پینے والا ہے۔ طاقتور اور سخت جان لیکن وزن کیا جائے تو وہ جو کے وزن کے برابر بھی نہیں ہوتا۔ فرشتہ اس جیسے ستر لوگوں کو ایک ہی مرتبہ میں جہنم میں پھینک دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37728
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37728، ترقيم محمد عوامة 36144)
حدیث نمبر: 37729
٣٧٧٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن عبيد بن عمير: ﴿لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ﴾ [ق: ٣٢]، قال: الذي يذكر ذنوبه في الخلاء فيستغفرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے { لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : یہ وہ آدمی ہے جو اپنے گناہوں کو خلوت میں یاد کرتا ہے پھر ان پر استغفار کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37729
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37729، ترقيم محمد عوامة 36145)
حدیث نمبر: 37730
٣٧٧٣٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [الرحمن: ٢٩]، قال: من شأنه أن يفك عانيا أو يجيب داعيا أو يشفي سقيما أو يعطي سائلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَأْنٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : اس کی شان میں سے یہ بات ہے کہ وہ قیدی کو رہائی دیتا ہے یا دعا کرنے والے کی قبول کرتا ہے، یا بیمار کو شفا دیتا ہے یا سوال کرنے والے کو عطا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37730
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37730، ترقيم محمد عوامة 36146)
حدیث نمبر: 37731
٣٧٧٣١ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: إنكم مكتوبون عند اللَّه بأسمائكم وسيماكم (ومجالسكم) (١) وحلاكم] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم اللہ کے ہاں، اپنے ناموں، اپنی نشانیوں، اپنے ہم مجلسوں اور اپنے ظاہری حلیوں سمیت لکھے ہوئے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37731
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37731، ترقيم محمد عوامة 36147)
حدیث نمبر: 37732
٣٧٧٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير في قول اللَّه (١): ﴿مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ﴾ [البقرة: ٢١٤]، قال: البأساء: البؤس، والضراء: ⦗٤٧٨⦘ الضر، ثم قال: السراء: (٢) (الرخاء) (٣) والضراء: الشدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے ارشاد خداوندی { مَسَّتْہُمُ الْبَأْسَائُ وَالضَّرَّائُ } کے بارے میں روایت ہے۔ الباساء سے مراد فقر ہے اور الضراء سے مراد تکلیف ہے۔ پھر فرمایا : السراء سے مراد نرمی ہے اور الضراء سے مراد سختی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37732
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37732، ترقيم محمد عوامة 36148)
حدیث نمبر: 37733
٣٧٧٣٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن رجل عن عبيد بن عمير قال: كان لرجل ثلاثة أخلاء بعضهم أخص به من بعض، قال: فنزلت به نازلة فلقي أخص الثلاثة به فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا، وإني أحب أن تعينني، قال: ما أنا بالذي أفعل، فانطلق إلى الذي يليه في الخاصة، فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا (فأنا) (١) أحب أن تعينني، فقال: أنطلق معك حتى تبلغ المكان الذي تريد، فإذا بلغتَ رجعتُ وتركتك، فانطلق إلى (أخس) (٢) الثلاثة فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا فأنا أحب أن تعينني، قال: أنا أذهب معك حيثما ذهبت، وأدخل (٣) حيثما دخلت، قال: فأما الأول فماله خلّفه في أهله، فلم يتبعه منه (شيء) (٤)، والثاني أهله (وعشيرته) (٥) ذهبوا به إلى قبره، ثم رجعوا وتركوه، والثالث عمله هو (معه) (٦) حيثما ذهب ويدخل معه حيث ما دخل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے تین دوست تھے۔ ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ خاص تھے۔ آپ رحمہ اللہ کہتے ہیں : پس اس آدمی پر کوئی مصیبت نازل ہوگئی۔ چناچہ وہ اپنے دوستوں میں سے خاص ترین کو ملا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تو یہ کام نہیں کرتا۔ پس یہ آدمی اس کے بعد والے خاص دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے۔ اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ وہاں تک چلوں گا جہاں تم جانا چاہو۔ پھر جب تم پہنچ جاؤ گے تو میں واپس آجاؤں گا تمہیں چھوڑ دوں گا۔ پھر یہ آدمی سب سے گھٹیا دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! معاملہ کچھ یوں ہے کہ مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے میں آپ کی مدد لینا چاہتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ جاؤں گا جہاں تم جاؤ گے اور جہاں تم داخل ہوگے وہاں میں داخل ہوگا۔ حضرت عبید فرماتے ہیں : پس پہلا دوست اس کا مال ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں میں چھوڑ دیا ہے۔ اس مال میں سے کوئی چیز اس کے پیچھے نہیں گئی۔ دوسرا دوست اس کے اہل و خاندان ہے جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جاتے ہیں پھر اس کو چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں۔ تیسرا دوست اس کے عمل ہیں جو اس کے ساتھ ہیں جہاں وہ جائے گا اور اس کے ساتھ اندر جائیں گے جہاں وہ داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37733
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37733، ترقيم محمد عوامة 36149)
حدیث نمبر: 37734
٣٧٧٣٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير: ﴿يَوْمَ (يَأْتِي) (١) بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ﴾ [الأنعام: ١٥٨]، قال: طلوع الشمس من مغربها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ { یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّک } کی تفسیر میں فرماتے ہیں : سورج کا غروب کی جگہ سے طلوع ہونا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37734
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37734، ترقيم محمد عوامة 36150)
حدیث نمبر: 37735
٣٧٧٣٥ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن جريج عن عطاء عن عبيد بن عمير قال: إن اللَّه أحل وحرم، فما أحل فاستحلوه، وما حرم فاجتنبوه، وترك (من) (١) ذلك أشياء لم يحلها ولم يحرمها، فذلك عفو من اللَّه عفاه ثم يتلو: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ﴾ (إلى آخر) (٢) الآية [المائدة: ١٠١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے۔ پس جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے تم اس کو حلال جانو اور جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہے تم اس سے اجتناب کرو۔ اور ان میں سے بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے نہ ان کو حرام قرار دیا ہے اور نہ ان کو حلال قرار دیا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے معافی ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی : { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَائَ…} آخر آیت تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37735
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37735، ترقيم محمد عوامة 36151)
حدیث نمبر: 37736
٣٧٧٣٦ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حبيب عن عبيد بن عمير قال: لا يزال (للَّه في العبد حاجة) (١) ما كانت (٢) للعبد إلى اللَّه حاجة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بھی بندہ کی تب تک ضرورت رہتی ہے جب تک بندہ خدا کی طرف حاجت مند رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37736
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37736، ترقيم محمد عوامة 36152)
حدیث نمبر: 37737
٣٧٧٣٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع عن قيس بن سعد عن عبيد بن عمير قال: إن أهل القبور (ليتوكفون) (١) (للميت) (٢) كما يتلقى الراكب (يسألونه) (٣)، فإذا سألوه ما فعل فلان؟ ممن قد مات، فيقول: ألم يأتكم؟ فيقولون: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ [البقرة: ١٥٦] ذهب به إلى أمه الهاوية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ قبروں والے بھی میت کا اس طرح استقبال کرتے ہیں جس طرح کسی سوار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے سوال کرتے ہیں۔ پس جب وہ اس سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا ہوا ؟ جو لوگ مرگئے ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تو یہ میت کہتا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا۔ اس پر وہ کہتے ہیں : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ اس کو اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37737
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37737، ترقيم محمد عوامة 36153)
حدیث نمبر: 37738
٣٧٧٣٨ - حدثنا عبد اللَّه بن (نمير) (١) قال: حدثنا مالك بن مغول عن الفضل (عن) (٢) عبد اللَّه بن عبيد بن عمير عن أبيه قال: إن القبر (ليقول) (٣): يا ابن آدم ماذا ⦗٤٨٠⦘ أعددت لي؟ ألم تعلم أني بيت الغربة، وبيت الوحدة، وبيت الأكلة، وبيت (الدود) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک قبر کہتی ہے۔ اے ابن آدم ! تو نے میرے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ میں غربت کا گھر ہوں۔ تنہائی کا گھر ہوں۔ کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37738
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37738، ترقيم محمد عوامة 36154)
حدیث نمبر: 37739
٣٧٧٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: إن كان نوح ليلقاه الرجل من قومه فيخنقه حتى يخر مغشيا عليه، قال: فيفيق (حين يفيق) (١) وهو يقول: رب اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح کو اپنی قوم میں سے ایسے آدمی سے بھی واسطہ پڑا کہ اس نے آپ علیہ السلام کا گلا گھونٹ دیا۔ یہاں تک کہ آپ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ یہ کہہ رہے تھے۔ اے میرے پروردگار ! میری قوم کو معاف کردے کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37739
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37739، ترقيم محمد عوامة 36155)
حدیث نمبر: 37740
٣٧٧٤٠ - حدثنا وكيع (قال) (١): حدثنا الأعمش عن مجاهد قال: سمعته يحدث عن عبيد بن عمير الليثي: إن قوم نوح لما أصابهم الغرق، (قال) (٢): وكانت معه امرأة معها صبي لها، قال: فرفعته إلى (حقوها) (٣)، فلما بلغه الماء رفعته إلى صدرها، فلما بلغه الماء رفعته إلى (ثديها) (٤)، فقال اللَّه: لو كنت (راحما) (٥) منهم أحدا (رحمتها) (٦) يعني برحمتها (الصبي) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت نوح کی قوم پر جب غرق کا سیلاب آیا کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے ہمراہ ایک عورت تھی جس کے پاس بچہ تھا۔ راوی کہتے ہیں : اس عورت نے بچہ کو کمر تک اوپر اٹھایا۔ جب پانی کمر تک پہنچا تو اس نے بچہ کو اپنے سینہ تک بلند کرلیا پھر جب پانی سینہ کو پہنچا تو اس نے بچہ کو اپنے پستان تک بلند کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر میں ان لوگوں میں سے کسی پر رحم کرتا تو میں اس عورت پر رحم کرتا، یعنی اس کی طرف سے بچہ پر رحم کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37740
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37740، ترقيم محمد عوامة 36156)
حدیث نمبر: 37741
٣٧٧٤١ - حدثنا وكيع (قال) (١): حدثنا الأعمش عن (أبي) (٢) سفيان عن عبيد ابن عمير قال: إذا أراد اللَّه بعبد خيرًا فقهه في الدين وألهمه رشده فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ عطا کرتا ہے اور اس کو دین کی راہنمائی القاء کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37741
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37741، ترقيم محمد عوامة 36157)
حدیث نمبر: 37742
٣٧٧٤٢ - حدثنا عبد اللَّه بن (نمير) (١) عن عبد الملك عن عطاء عن عبيد (بن) (٢) عمير قال: إن إبراهيم يقال له يوم القيامة (٣): ادخل الجنة من أي أبواب الجنة شئت، قال: فيقول: يا رب والدي؟ فيقال له: إنه ليس منك، فإذا ألح في المسألة قيل له: دونك (أباك) (٤)، قال: فيلتفت فإذا هو ضبع فيقول: مالي فيه من حاجة، فتطيب نفسه عنه، فينطلق بإبراهيم إلى الجنة، وينطلق بأبيه إلى النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیامت کے دن کہا جائے گا۔ جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے آپ چاہو جنت میں داخل ہوجاؤ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابراہیم کہیں گے۔ اے میرے پروردگار ! میرے والد ؟ حضرت ابراہیم سے کہا جائے گا یہ تیرے ساتھ والوں میں سے نہیں ہے۔ لیکن جب حضرت ابراہیم سوال کرنے میں اصرار کریں گے تو ان سے کہا جائے گا۔ اپنے والد کو دیکھو۔ راوی کہتے ہیں پس جب وہ دیکھیں گے تو وہ بجو بنا ہوگا۔ اس پر حضرت ابراہیم کہیں گے مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر ان کا دل ان سے بےپروا ہوجائے گا۔ اور حضرت ابراہیم جنت کی طرف لے جائے جائیں گے اور ان کے والد کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37742
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37742، ترقيم محمد عوامة 36158)
حدیث نمبر: 37743
٣٧٧٤٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن حكيم بن جبير عن مجاهد عن عبيد بن عمير (قال) (١): يجيء فقراء المهاجرين يوم القيامة (تقطر) (٢) رماحهم وسيوفهم دمًا، قال: فيقال لهم: كما أنتم حتى (تحاسبوا) (٣)، قال: فيقولون: وهل أعطيتمونا شيئًا تحاسبونا عليه؟ قال: فينظر في ذلك فلا يوجد إلا أكوارهم التي هاجروا عليها، قال: فيدخلون الجنة قبل (الناس) (٤) بخمسمائة (عام) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء اس حال میں آئیں گے کہ ان کے نیزے اور ان کی تلواریں خون ٹپکا رہی ہوں گی۔ راوی کہتے ہیں ان سے کہا جائے گا۔ تم اسی حالت میں رہو یہاں تک کہ تم سے حساب لیا جائے۔ راوی کہتے ہیں وہ عرض کریں گے۔ کیا آپ نے ہمیں کچھ دیا ہے کہ جس کا آپ حساب لیں گے ؟ راوی کہتے ہیں پس اس معاملہ میں دیکھا جائے گا تو ان کے پاس صرف وہ برتن ہوں گے جن میں انہوں نے ہجرت کے سفر میں زاد راہ رکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس یہ لوگ جنت میں باقی لوگوں سے پانچ سو سال قبل داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37743
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37743، ترقيم محمد عوامة 36159)
حدیث نمبر: 37744
٣٧٧٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي راشد عن عبيد بن عمير: ﴿(فَإِنَّهُ) (١) كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا﴾ [الإسراء: ٢٥]، (قال) (٢): الأواب الذي يتذكر ذنوبه في الخلاء فيستغفر منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے {إِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُورًا } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : اواب : وہ آدمی ہوتا ہے جو اپنے گناہوں کو خلوت میں یاد کرتا ہے اور پھر ان پر استغفار کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37744
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37744، ترقيم محمد عوامة 36160)
حدیث نمبر: 37745
٣٧٧٤٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما أراد اللَّه أن يهلك أصحاب الفيل بعث عليهم طيرا (أنشئت) (١) من البحر أمثال الخطاطيف كل طير منها يحمل ثلاثة أحجار مجزعة (٢): حجرين في رجليه و (حجرا) (٣) في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم، ثم صاحت وألقت ما في أرجلها ومناقيرها، فما يقع (حجر) (٤) على رأس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج من الجانب الآخر، قال: وبعث اللَّه ريحًا شديدة فضربت الحجارة فزادتها شدة فأهلكوا جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان پر سمندر سے پیدا کردہ ابابیلوں کے مثل پرندے بھیجے۔ ان میں سے ہر ایک پرندے نے تین سفید و سیاہ پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ دو پتھر اس کے پنجوں میں اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : پس یہ پرندے آئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان اصحاب الفیل کے سروں پر صف بنا لی پھر چیخ ماری اور اپنی چونچوں اور پنجوں میں موجود پتھروں کو گرا دیا۔ جو پتھر بھی کسی آدمی کے سر پر لگتا وہ اس کی دبر سے باہر نکل آتا اور جسم کے جس حصہ پر بھی پڑتا دوسرے حصہ سے باہر آجاتا۔ راوی کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے شدید ہوا بھیجی جو پتھروں پر لگی تو اس نے (ان کی) شدت کو اور زیادہ کردیا پس وہ سارے لوگ ہلاک ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37745، ترقيم محمد عوامة 36161)