حدیث نمبر: 37713
٣٧٧١٣ - حدثنا محمد بن بشر (قال: حدثنا مسعر) (١) قال: حدثنا حبيب بن أبي ثابت عن يحيى بن جعدة قال: كان يقال: اعمل وأنت مشفق، ودع العمل وأنت (تشتهيه) (٢)، عمل صالح قليل تدوم عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے تم عمل کرو درآنحالیکہ تم ڈر رہے ہو اور عمل کو چھوڑ دو جبکہ تمہیں اس کی چاہت ہو۔ عمل صالح تھوڑا بھی ہو تم اس پر مداومت کرو۔
حدیث نمبر: 37714
٣٧٧١٤ - حدثنا يحيى بن سعيد وابن مهدي عن سفيان عن حبيب عن يحيى بن جعدة (١) قال يحيى: إذا سجد، وقال ابن مهدي: إذا وضع الرجل جبهته (٢) فقد برئ من الكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے حضرت یحییٰ کہتے ہیں جب آدمی سجدہ کرے اور حضرت ابن مہدی کہتے ہیں جب آدمی اپنی پیشانی کو رکھ دیتا ہے تو وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 37715
٣٧٧١٥ - حدثنا وكيع عن الأعمش قال: سمعتهم يذكرون عن شريح أنه رأى جيرانا له تحولوا، فقال: ما لكم؟ قالوا: فزعنا، قال: وبهذا أمر (الفُزّاع) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو حضرت شریح کے حوالہ سے ذکر کرتے سنا کہ انہوں نے اپنے ایک پڑوسی کو دیکھا جو جارہے تھے۔ پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم فارغ ہوگئے ہیں۔ شریح نے کہا : فارغ آدمی کو یہی حکم ہے ؟ “
حدیث نمبر: 37716
٣٧٧١٦ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن (أبي) (١) إبراهيم عن عبد اللَّه بن عبيد ابن عمير قال: إن أيسر (النسك) (٢) اللباس (والمشية) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک آسان ترین قربانی لباس اور چال ہے۔
حدیث نمبر: 37717
٣٧٧١٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا (أبو عوانة قال: حدثنا) (١) أبو سنان قال: اشتكى عبد اللَّه بن أبي الهذيل يوما ذنوبه فقال له رجل: يا أبا المغيرة ألستَ التقي؟ قال: فقال: اللهم إن عبدك (٢) أراد أن يتقرب إليّ وإني أشهدك على (مقته) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسنان بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابوالہذیل ایک دن اپنے گناہوں کی شکایت کررہے تھے تو ان سے ایک آدمی نے کہا : اے ابوالمغیرہ ! کیا تم متقی نہیں ہو۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا : اے اللہ ! تیرا ایک بندہ میرے قریب ہو رہا ہے اور میں تجھے اس کے غصہ پر گواہ بناتا ہوں۔
حدیث نمبر: 37718
٣٧٧١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الملك ابن عمير عن ربعي بن (حراش) (١) قال: أُتيتُ فقيل لي: قد مات أخوك، فجئت سريعا وقد سُجي بثوبه، فأنا عند رأس أخي أستغفر له وأسترجع (إذ) (٢) كَشَفَ الثوب عن وجهه فقال: السلام عليكم، فقلنا: وعليك السلام، سبحان اللَّه، قال: سبحان اللَّه، إني قدمت على اللَّه بعدكم، فتُلقيتُ بروح وريحان ورب غير غضبان، وكساني ثيابا خضرا من سندس وإستبرق، ووجدت الأمر أيسر مما تظنون، ولا تتكلوا، وإني استأذنت ربي أخبركم وأبشركم، احملوني إلى رسول اللَّه ﷺ فإنه عهد إلي أن لا أبرح حتى آتيه، ثم طفئ مكانه قال: وأخذ حصاة فرمى بها، قال: فما أدري أهو كان أسرع أم هذه؟
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی آیا اور مجھے کہا تمہارا بھائی مرگیا ہے۔ پس میں جلدی سے آیا۔ اس کو اس کے کپڑوں میں ڈھانپ دیا گیا تھا اور میں اپنے بھائی کے سر کے پاس کھڑا اس کے لیے استغفار کررہا تھا۔ اور انا للہ پڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا اور اس نے کہا : السلام علیکم ! ہم نے جواب میں کہا۔ وعلیک السلام۔ سبحان اللہ۔ اس نے کہا : سبحان اللہ۔ میں تمہارے بعد اللہ کے پاس حاضر ہوا تھا۔ وہاں میرا استقبال باد نسیم اور ریحان کے ساتھ اور ایسے پروردگار نے کیا جو غصہ میں نہیں تھا۔ اور مجھے سندس اور ریشم کا سبز لباس پہنایا۔ اور میں نے تمہارے گمان سے بھی آسان معاملہ پایا۔ اور تم بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ۔ میں نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ میں تمہیں خبر دوں اور بشارت دوں۔ تم مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے چلو۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ میں تمہارے آنے تک یہیں رہوں گا۔ پھر یہ صاحب اسی جگہ فوت ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں اس نے ایک کنکری پکڑی اور پھینک دی۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ وہ زیادہ تیز تھے یا یہ۔
حدیث نمبر: 37719
٣٧٧١٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن (أبي) (١) عون قال: كان أهل الخير إذا التقوا يوصي بعضهم بعضا بثلاث، وإذا غابوا كتب بعضهم إلى بعض: من عمل لآخرته كفاه اللَّه دنياه، ومن أصلح فيما بينه وبين اللَّه كفاه اللَّه ⦗٤٧٥⦘ الناس، ومن أصلح سريرته أصلح (اللَّه) (٢) علانيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل خیر جب باہم ملتے تھے تو ان میں سے بعض، بعض کو تین باتوں کی وصیت کرتے تھے اور جب یہ غائب ہوتے تو پھر ایک دوسرے کو یہ تحریر کرتے۔ جو شخص اپنی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے لیے اس کو کافی ہوجاتے ہیں۔ جو شخص اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان معاملہ درست رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔ جو شخص اپنی خلوت کو درست رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی جلوت کو درست کردیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37720
٣٧٧٢٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) قطبة عن الأعمش عن عبد اللَّه بن سنان أنه رأى صاحبا له في النوم فقال (٢): أي شيء رأيت أفضل حين أطلعت الأمر؟ قال: سجدات المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن سنان سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ایک دوست کو خواب میں دیکھا۔ تو اس سے پوچھا جب تم نے معاملہ دیکھا تو کون سی چیز تمہیں سب سے افضل نظر آئی ؟ انہوں نے کہا : مسجد کے چند سجدے۔
حدیث نمبر: 37721
٣٧٧٢١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن طعمة عن عبد اللَّه بن عيسى قال: كان فيمن كان قبلكم رجل عبد اللَّه أربعين سنة في البر، ثم قال: يا رب قد اشتقت أن أعبدك في البحر، فأتى قوم فاستحملهم فحملوه، وجرت بهم سفينتهم ما شاء اللَّه أن تجري، ثم قامت فإذا شجرة في ناحية الماء، قال: فقال: ضعوني على هذه الشجرة، قال: فقالوا: ما يُعيّشك على هذه؟ قال: إنما استحملتكم فضعوني حيث أريد، فوضعوه وجرت بهم سفينتهم، فأراد ملك أن يعرج إلى السماء فتكلم بكلامه الذي كان يعرج به فلم يقدر على ذلك، فعلم أن ذلك لخطيئة كانت منه، فأتى صاحب الشجرة فسأله أن يشفع له إلى ربه، قال: فصلى ودعا للملك، قال: وطلب إلى ربه أن يكون هو يقبض نفسه (ليكون) (١) أهون عليه من ملك الموت، فأتاه حين حضر أجله فقال: إني طلبت إلى ربي أن يشفعني فيك كما شفعك في، وأن أكون أنا أقبض نفسك، فمن حيث شئت قبضتها قال: فسجد سجدة فخرجت (دمعة) (٢) من عينه فمات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے چالیس سال تک خشکی میں اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے دعا کی۔ اے پروردگار ! میں سمندر میں آپ کی عبادت کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ چناچہ کچھ لوگ آئے اور اس نے ان سے سوار کرنے کو کہا : انہوں نے اس کو (کشتی میں) سوار کرلیا۔ پھر جب تک خدا کی مشیت تھی کشتی انہیں لے کر چلتی رہی۔ پھر کشتی ٹھہر گئی۔ وہاں پانی کے کنارے میں ایک درخت تھا۔ راوی کہتے ہیں اس آدمی نے (کشی والوں سے) کہا : مجھے اس درخت کے پاس اتار دو ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : تم اس جگہ کیسے زندہ رہو گے ؟ اس نے کہا : میں نے تمہیں اجرت پر اٹھانے کو کہا تھا پس جہاں میرا دل چاہے تم مجھے وہیں اتارو۔ چناچہ ان لوگوں نے اس کو وہاں اتار دیا اور کشتی بقایا لوگوں کو لے کر پھر چل پڑی۔ پھر ایک فرشتے نے آسمان پر چڑھنا چاہا اور اس نے وہ کلمات پڑھے جن کے ذریعہ وہ آسمان پر چڑھتا تھا لیکن وہ آسمان پر نہ چڑھ سکا۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ اس کی کسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ چناچہ وہ درخت والے کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے پروردگار کے پاس اس کی سفارش کرے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس آدمی نے نماز پڑھی اور فرشتے کے لیے دعا کی۔ راوی کہتے ہیں : اس عابد نے خدا سے یہ دعا بھی کی کہ اس کی روح یہ فرشتہ قبض کرے تاکہ ملک الموت سے ہلکی تکلیف ہو۔ چناچہ جب اس آدمی کی موت آئی تو یہ فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا میں نے اپنے رب سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ تیرے بارے میں میری بھی شفاعت قبول کریں جس طرح انہوں نے میرے بارے میں تیری شفاعت قبول کی تھی اور یہ کہ میں ہی تمہاری روح قبض کروں۔ پس جیسے تم چاہو گے میں تمہاری روح قبض کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس عابد نے سجدہ کیا اور اس کی آنکھ سے آنسو نکلا اور وہ مرگیا۔