حدیث نمبر: 37690
٣٧٦٩٠ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن (ابن) (١) عجلان عن عون بن عبد اللَّه قال: إن من كمال التقوى أن تبتغي إلى ما علمت منها علم ما (لم) (٢) تعلم، واعلم أن (النقص) (٣) فيما علمت ترك ابتغاء الزيادة فيه، وإنما يحمل الرجل على ترك ابتغاء الزيادة فيما قد علم قلة الانتفاع (بما قد علم) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کمال تقویٰ یہ ہے کہ تم اپنے علم کے ذریعہ اس بات کو جانو جس کو تم نہیں جانتے تھے اور جان لو کہ تمہارے علم کا نقص اس میں زیادتی کی تلاش کو ترک کرنا ہے۔ اپنے علم میں زیادتی کی تلاش کو ترک کرنے کی وجہ سے آدمی اپنے علم پر نفع کم حاصل کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 37691
٣٧٦٩١ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن ابن عجلان (عن عون) (١) قال: بحسبك من الكبير: أن تأخذ بفضلك على غيرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تیرے تکبر کے لیے یہی بات کافی ہے کہ تو اپنی فضیلت کی وجہ سے غیر پر پکڑکرے۔
حدیث نمبر: 37692
٣٧٦٩٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن عون قال: الذاكر في الغافلين كالمقاتل عن الفارين، وإن الغافل (في) (١) الذاكرين كالفار عن المقاتلين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ غافلین میں ذاکر ایسے ہے جیسے بھاگنے والوں میں لڑنے والا۔ اور ذاکرین میں غافل ایسا ہے جیسے لڑنے والوں میں بھاگنے والا۔
حدیث نمبر: 37693
٣٧٦٩٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن مسعر عن عون قال: (١) (أخبره) (٢) بالعفو قبل الذنب: ﴿عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ﴾ [التوبة: ٤٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گناہ سے قبل ہی معافی کا بتادیا : ” اللہ نے آپ کو معاف کردیا آپ نے انہیں اجازت کیوں دی۔ “
حدیث نمبر: 37694
٣٧٦٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا المسعودي عن عون بن عبد اللَّه قال: ما أحد ينزل الموت حق منزلَته إلا عبد عَدّ غدا ليس من (أجله، كم) (١) من مستقبل يوما لا يستكمله، (وراج) (٢) غدا لا يبلغه، إنك لو ترى الأجل ومسيره لأبغضت الأمل وغروره.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت عون بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی بندہ موت میں کماحقہ نہیں اترتا مگر وہ شخص جو کل کے دن کو اپنی مہلت میں سے نہ سمجھے۔ کتنے لوگ دن کا استقبال کرنے والے ہیں جو اس کو پورا نہیں کرپاتے اور کتنے لوگ کل کی امید والے کل کو نہیں پہنچ پاتے۔ یقینا تم اگر مہلت اور اس کی رفتار کو دیکھ لیتے تو تم امیدوں اور دھوکوں سے نفرت کرنے لگتے۔
حدیث نمبر: 37695
٣٧٦٩٥ - حدثنا شبابة بن سوار عن ليث بن سعد عن ابن عجلان عن عون قال: كان يقال: من أحسن اللَّه صورته وجعله في منصب صالح ثم تواضع للَّه كان من خالص اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے اچھی صورت دی ہو اور اس کو اچھے منصب میں پہنچائے پھر وہ اللہ کے لیے تواضع کرے تو یہ شخص خالص اللہ کے لیے عمل کرے گا۔
حدیث نمبر: 37696
٣٧٦٩٦ - حدثنا جرير عن ليث عن ابن سابط: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يونس: ٢٦]، قال: النظر إلى وجه اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط سے قرآن مجید کی آیت { لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ} کے بارے میں روایت ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس سے مراد چہرہ خداوندی کی طرف دیکھنا۔
حدیث نمبر: 37697
٣٧٦٩٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ليث عن ابن سابط قال: إن اللَّه يقول: إنك يا ابن آدم ما عبدتني ورجوتني فإني غافر لك على ما كان، يسألني عبدي الهدى، وكيف أضل عبدي وهو يسألني الهدى وأنا الحكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے آدم کے بیٹے ! تو نے جتنی میری عبادت کی اور مجھ سے امید رکھی پس میں تجھے جو کچھ ہوچکا ہے اس پر معاف کرتا ہوں۔ میرا بندہ مجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہے اور میں کیسے اپنے بندہ کو گمراہ کروں جبکہ وہ مجھ سے ہدایت مانگتا ہے اور میں حکم ہوں۔
حدیث نمبر: 37698
٣٧٦٩٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ليث عن ابن سابط قال: بشر (المشائين) (١) في ظلم الليل إلى الصلوات بنور تام يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رات کے اندھیروں میں نمازوں کے لیے جانے والوں کو قیامت کے دن نور تام کی خوشخبری دے دو ۔
حدیث نمبر: 37699
٣٧٦٩٩ - حدثنا وكيع عن العلاء بن عبد الكريم سمعه من ابن سابط: ﴿وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ [الزخرف: ٤] قال: في أم الكتاب كل شيء هو كائن إلى يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن عبدالکریم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن سابط کو قرآن مجید کی آیت { وَإِنَّہُ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ} کے بارے میں کہتے سنا۔ آپ نے فرمایا : اُم الکتاب میں ہر وہ چیز ہے جو قیامت تک ہونے والی ہے۔
حدیث نمبر: 37700
٣٧٧٠٠ - حدثنا (أبو أسامة) (١) قال: سمعت الأعمش قال: حدثنا عمرو بن مرة عن ابن سابط (قال) (٢): يدبر أمر الدنيا أربعة: جبرائيل ميكائيل وإسرافيل وملك الموت، فأما جبرائيل فصاحب الجنود والربح، وأما ميكائيل فصاحب القطر (والنبات) (٣)، وأما ملك الموت فموكل (بقبصن) (٤) الأنفس، وأما إسرائيل فهو ينزل بالأمر عليهم بما يؤمرون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے امور کی تدبیر چار فرشتے کرتے ہیں۔ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت۔ جو جبرئیل ہے وہ لشکروں اور ہوا والا ہے اور جو میکائیل ہے وہ بارشوں اور نباتات والا ہے اور ملک الموت تو روحوں کو قبض کرنے والا ہے اور اسرافیل لوگوں پر جو احکامات ہوتے ہیں جو انہوں نے پورے کرنے ہوتے ہیں وہ لے کر اترتا ہے۔