٣٧٦٨٤ - حدثنا (عمر) (١) بن سعد أبو داود عن سفيان عن الأعمش عن عبد الرحمن بن أبي (٢) زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: (٣) الروح بيد ملك يمشي به، فإذا دخل قبره جعله فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ روح ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہے جس کو لے کر وہ چلتا ہے۔ پھر جب وہ قبر میں داخل ہوتا ہے تو اس کو اس میں ڈال دیتا ہے۔
٣٧٦٨٥ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن الأعمش) (١) قال: كان عبد الرحمن بن أبي ليلى يصلي، فإذا دخل الداخل أتى فراشه (فاتكأ) (٢) عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر جب کوئی شخص ملاقات کے لیے آتا تو اپنے بستر پر آتے اور اس پر تکیہ لگاتے۔
٣٧٦٨٦ - حدثنا عفان (١) حدثنا حماد بن زيد قال: أخبرنا ثابت عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى قال: ﴿وَلَا (يَرْهَقُ) (٢) وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ﴾ [يونس: ٢٦]، قال: بعد نظرهم إلى ربهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ قرآن مجید کی آیت { لاَ یَرْہَقُ وُجُوہَہُمْ قَتَرٌ وَلاَ ذِلَّۃٌ} کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کی یہ حالت اپنے ربّ کی طرف دیکھنے کے بعد ہوگی۔
٣٧٦٨٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: يقول المشركون: ﴿قَالُوا يَاوَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ (مَرْقَدِنَا) (١)﴾، قال: يقول المؤمنون: ﴿هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ﴾ [يس: ٥٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مشرکین کہیں گے ” ہائے ہماری ہلاکت ! ہمیں کس نے ہماری قبروں سے اٹھا دیا۔ “ فرمایا : اور مومن کہیں گے : ” یہ وہ ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور جس کے بارے میں رسولوں نے سچ کہا تھا۔ “