کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت ابورزین کا کلام
حدیث نمبر: 37650
٣٧٦٥٠ - حدثنا جرير عن منصور عن أبي رزين في قوله: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ [المدثر: ٤] قال: عملك أصلحه (١)، فكان الرجل إذا كان حسن العمل قيل: فلان طاهر الثياب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابورزین سے ارشادِ خداوندی { وَثِیَابَک فَطَہِّرْ } کے بارے میں روایت ہے کہ فرمایا : تم اپنے عمل کو درست کرو۔ پس جب آدمی اچھے عمل والا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے فلاں طاہر الثیاب (پاکیزہ کپڑوں والا) ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37650
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37650، ترقيم محمد عوامة 36066)
حدیث نمبر: 37651
٣٧٦٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد وأبي رزين: ﴿فَهُمْ يُوزَعُونَ﴾ [النمل: ١٧]، (قالا) (١): (يحبس) (٢) أولهم على آخرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت ابورزین سے { فَہُمْ یُوزَعُونَ } کے بارے میں روایت ہے یہ دونوں کہتے ہیں کہ ان کے اول کو آخر پر بند رکھا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37651
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37651، ترقيم محمد عوامة 36067)
حدیث نمبر: 37652
٣٧٦٥٢ - حدثنا أبو معاوية قال: حدثنا إسماعيل بن سميع عن أبي رزين في قوله: ﴿فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا﴾ [التوبة: ٨٢]، قال: يقول اللَّه: [الدنيا قليل فليضحكوا فيها ما شاؤا، فإذا صاروا إلى الآخرة بكوا بكاء لا ينقطع فذلك الكثير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابورزین سے ارشادِ خداوندی { فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلاً وَلْیَبْکُوا کَثِیرًا } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : دنیا تھوڑی ہے۔ پس اس میں تم جتنا چاہو ہنس لو۔ پھر جب وہ لوگ آخرت کی طرف لوٹیں گے تو نہ ختم ہونے والا رونا روئیں گے۔ پس یہی کثیر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37652
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37652، ترقيم محمد عوامة 36068)
حدیث نمبر: 37653
٣٧٦٥٣ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل بن سميع عن أبي رزين في قوله: ﴿إِنَّهَا لَإِحْدَى الْكُبَرِ (٣٥) (١) نَذِيرًا لِلْبَشَرِ﴾ (٢) [المدثر: ٣٥ - ٣٦]، قال: يقول اللَّه: أنا لكم منه نذير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابورزین سے ارشادِ خداوندی {إنَّہَا لإِحْدَی الْکُبَرِ نَذِیرًا لِلْبَشَرِ }) کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ کہتے ہیں : میں تمہیں جہنم سے ڈرانے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37653
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37653، ترقيم محمد عوامة 36069)
حدیث نمبر: 37654
٣٧٦٥٤ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل بن سميع عن أبي رزين ﴿لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ﴾ [المدثر: ٢٩] قال: (تلوّح) (١) جلده، حتى تدعه أشد سوادا من الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابورزین سے { لَوَّاحَۃٌ لِلْبَشَرِ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ اس کی کھال کو ظاہر کرے گی یہاں تک کہ یہ اس کو رات سے بھی زیادہ شدید السواد چھوڑ دے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37654
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37654، ترقيم محمد عوامة 36070)
حدیث نمبر: 37655
٣٧٦٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن أبي رزين قال: ﴿الغساق﴾: ما يسيل من صديدهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابورزین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں الْغَسَّاقُ وہ ہے جو ان کی پیپ میں سے بہتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37655
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37655، ترقيم محمد عوامة 36071)
حدیث نمبر: 37656
٣٧٦٥٦ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش قال: سمعتهم يقولون: ما عمل عبد الرحمن بن يزيد عملا قط إلا وهو يريد به وجه اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو کہتے سنا کہ عبدالرحمن بن یزید نے کبھی کوئی عمل نہیں کیا مگر یہ کہ اس سے ان کی مراد خدا کی رضا ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37656
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37656، ترقيم محمد عوامة 36072)
حدیث نمبر: 37657
٣٧٦٥٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد أنه كان يقرأ القرآن في سبع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن یزید کے بارے میں روایت ہے کہ وہ سات دن میں قرآن پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37657
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37657، ترقيم محمد عوامة 36073)
حدیث نمبر: 37658
٣٧٦٥٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن (شمر) (١) عن زياد بن (حدير) (٢) قال: ما (فقه) (٣) قوم لم يبلغوا التقى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حدیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو لوگ تقویٰ میں مبالغہ نہیں کرتے وہ فقاہت حاصل نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37658
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37658، ترقيم محمد عوامة 36074)
حدیث نمبر: 37659
٣٧٦٥٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا مالك بن مغول عن أبي صخرة قال: قال زياد بن (حدير) (١): لوددت أني في (حيز) (٢) (من) (٣) حديد ومعي ما يصلحني لا أكلم (الناس) (٤) ولا يكلموني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں لوہے کی رکاوٹ (پنجرہ وغیرہ) میں ہوں اور میرے پاس میری ضرورت کی چیزیں ہوں۔ نہ میں لوگوں سے بات کروں اور نہ ہی لوگ میرے ساتھ بات کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37659
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37659، ترقيم محمد عوامة 36075)
حدیث نمبر: 37660
٣٧٦٦٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (خيثمة) (١) عن الحارث بن قيس قال: إذا كنت في شيء من أمر (الدنيا) (٢) (فتوح) (٣)، وإذا كنت في شيء من أمر الآخرة فامكث ما استطعت، وإذا جاءك الشيطان وأنت تصلي فقال: إنك (ترائي) (٤)، فزد وأطل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب تو کسی دنیوی کام میں ہو تو جلدی کرو اور جب تم کسی اخروی معاملہ میں ہو تو جتنا ہوسکے ٹھہرو۔ اور جب تم نماز پڑھ رہے ہو اور شیطان تمہارے پاس آئے اور کہے : تم دکھلاوا کررہے ہو۔ تو تم (پھر بھی) نماز کو مزید لمبا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37660
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37660، ترقيم محمد عوامة 36076)
حدیث نمبر: 37661
٣٧٦٦١ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن الأعمش قال: قال خيثمة: تجلس أنت وإبراهيم في المسجد ويجتمع عليكم، قد رأيت الحارث بن قيس إذا اجتمع عنده رجلان قام وتركهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت خیثمہ نے فرمایا : تم اور ابراہیم مسجد میں بیٹھتے ہو اور تم پر ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ جب کہ میں نے حارث بن قیس کو دیکھا کہ جب ان کے پاس دو آدمی جمع ہوجاتے تو وہ ان کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37661
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37661، ترقيم محمد عوامة 36077)
حدیث نمبر: 37662
٣٧٦٦٢ - حدثنا وكيع (١) عن مسعر عن علي بن الأقمر عن أبي الأحوص قال: إن كان الرجل ليطرق الفسطاط، قال: فيجد لهم دويا كدوي النحل، فما بال هؤلاء (يأمنون) (٢) ما كان أولئك يخافون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں آدمی خیمہ کو کھٹکھٹاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس وہ ان کے لیے شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ پاتا تھا۔ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگ اس پر مامون ہیں جس پر وہ لوگ خوفزدہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37662
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37662، ترقيم محمد عوامة 36078)
حدیث نمبر: 37663
٣٧٦٦٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (١) مالك بن الحارث عن عبد اللَّه ابن ربيعة قال: قال عتبة (بن) (٢) فرقد لعبد اللَّه بن ربيعة: يا عبد اللَّه ألا تعينني على ابن أخيك، قال: وما ذاك؟ قال: يعينني على ما أنا فيه من عمل، فقال له عبد اللَّه: يا عمرو أطع أباك، قال: فنظر إلى معضد وهو جالس فقال: ﴿كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ﴾ [العلق: ١٩]، قال: فقال عمرو: يا أبت إنما أنا عبد أعمل في فكاك رقبتي، قال: فبكى عتبة، وقال: (يا بني) (٣) (إني) (٤) لأحبك حبين: حبا للَّه، وحب الوالد ولده، قال: فقال عمرو: يا أبت إنك كنت أتيتني بمال بلغ سبعين ألفًا، (فإن) (٥) كنت سائلي عنه فهو ذا فخذه، وإلا فدعني فأمضيه، قال له عتبة: فأمضه، قال: فأمضاه حتى ما بقي منه درهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے عبد اللہ بن ربیعہ سے کہا : اے عبداللہ ! کیا آپ اپنے بھتیجے کے بارے میں میری مدد نہیں کرو گے ؟ انہوں نے کہا : وہ کیا مدد ہے ؟ انہوں نے کہا : میں جس کام میں ہوں وہ میری اس میں مدد کرے۔ تو عبداللہ نے اس سے کہا : اے عمرو ! اپنے والد کی اطاعت کر۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے حضرت معضد کی طرف دیکھا۔ وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا : تو ان کی اطاعت نہ کر { وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ } راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو نے فرمایا : اے میرے ابا جان ! میں تو محض ایک غلام ہوں جو اپنی گردن چھڑانے میں عمل کررہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر عتبہ رو پڑے اور کہا : اے میرے بیٹے ! میں تجھ سے دو محبتیں کرتا ہوں ایک اللہ کے لیے محبت اور (دوسری) والد کی اپنے بیٹے سے محبت۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمرو نے کہا : اے ابا جان ! آپ میرے پاس ستر ہزار کے مبلغ مال لائے تھے۔ پس اگر آپ اس مال کے متعلق مجھ سے سوال کر رہے ہیں تو وہ یہ ہے اس کو لے لو۔ وگرنہ مجھے چھوڑ دو کہ میں اس کو خرچ کروں۔ عتبہ نے اس کو کہا : تم اس کو خرچ لو۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے اس کو اس طرح خرچ کیا کہ اس میں سے ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37663
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37663، ترقيم محمد عوامة 36079)
حدیث نمبر: 37664
٣٧٦٦٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش قال: حدثنا عمارة قال: (خرجنا -معنا) (١) أهل لشريح بن هانئ- إلى مكة، فخرج معنا (يشيعنا) (٢)، قال: فكان فيما قال لنا: أجدوا السير فإن ركبانكم لا تغني عنكم من اللَّه شيئًا، وما فقد الرجل من (الدنيا) (٣) شيئًا أهون عليه من نفسه تركها، قال عمارة: فما ذكرتها من قوله إلا انتفعت بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ کہتے ہیں کہ ہم مکہ کی طرف نکلے اور ہمارے ساتھ حضرت شریح کے گھر والے بھی تھے۔ چناچہ شریح ہمارے ساتھ مشایعت میں باہر آئے تو فرمایا : ان کی باتوں میں یہ بات بھی تھی۔ چلنے میں خوب کوشش کرو کیونکہ تمہارے سوار تمہیں خدا کی طرف سے کسی چیز کا فائدہ نہیں دیں گے۔ اور آدمی دنیا میں سے کوئی چیز اپنی جان سے ہلکی نہیں چھوڑتا۔ عمارہ کہتے ہیں میں نے ان کی بات یاد رکھی اور اس سے فائدہ اٹھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37664
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37664، ترقيم محمد عوامة 36080)
حدیث نمبر: 37665
٣٧٦٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبيه قال: سمعت ماهان يقول: أما يستحي أحدكم أن (تكون) (١) دابته (التي) (٢) يركب وثوبه الذي يلبس أكثر للَّه منه ذكرا، فكان لا يفتر من التكبير والتهليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن فضیل، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ماہان حنفی کو کہتے سنا : کیا تم میں سے کسی کو اس بات پر حیا نہیں آتی کہ اس کی سواری کا جانور یا اس کے پہننے کا کپڑا اس سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہو۔ ماہان تکبیر اور تہلیل میں سستی نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37665
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37665، ترقيم محمد عوامة 36081)
حدیث نمبر: 37666
٣٧٦٦٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن إبراهيم مؤذن بني حنيفة قال: رأيت ماهان الحنفي وأمر به الحجاج أن يصلب على بابه، قال: فنظرت إليه وإنه لعلى الخشبة وهو يسبح ويكبر ويهلل ويحمد اللَّه حتى بلغ تسعًا وعشرين، فعقد بيده فطعنه وهو على ذلك الحال، فلقد (رأيت) (١) بعد شهر (٢) تسعًا وعشرين بيده قال: وكان يرى عنده (الضوء) (٣) بالليل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ماہان حنفی کو دیکھا اور حجاج نے ان کے بارے میں حکم دیا تھا کہ ان کو ان کے دروازے پر سولی چڑھا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو اس وقت دیکھا جبکہ وہ تختہ پر تھے اور تسبیح، تکبیر، تہلیل اور خدا کی حمد وثنا میں مصروف تھے۔ یہاں تک کہ جب انتیس کو پہنچے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسی حالت میں ان کو نیزہ لگا۔ پھر میں نے ان کو ایک مہینہ کے بعد بھی، اپنے ہاتھ سے انتیس کا عدد شمار کیے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں رات کے وقت ان کے پاس روشنی دیکھی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37666
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37666، ترقيم محمد عوامة 36082)