حدیث نمبر: 37622
٣٧٦٢٢ - حدثنا ابن (١) فضيل عن أبيه عن شباك عن إبراهيم عن علقمة أنه كان يقول لأصحابه: اذهبوا بنا (نزدد) (٢) إيمانًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے۔ ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اپنا ایمان زیادہ کریں۔
حدیث نمبر: 37623
٣٧٦٢٣ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: سئل الشعبي عن علقمة قال: كان مع البطيء، ويدرك السريع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت شعبی سے علقمہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ سست کے ساتھ تھے لیکن تیز رفتار کو پکڑ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 37624
٣٧٦٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مغول عن أبي السفر عن مرة قال: كان علقمة من الربانيين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ اللہ والوں میں سے تھے۔
حدیث نمبر: 37625
٣٧٦٢٥ - [حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: قرأ علقمة القرآن في ليلة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ایک رات میں قرآن پڑھا۔
حدیث نمبر: 37626
٣٧٦٢٦ - حدثنا (شريك و) (١) جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة: ﴿إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [الحج: ١] قال شريك: هذا في الدنيا قبل يوم القيامة. - قال جرير: هذا بين يدي الساعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ سے {إنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیمٌ} کے بارے میں روایت ہے۔ حضرت شریک فرماتے ہیں یہ قیامت سے پہلے دنیا ہی میں ہوگا۔ حضرت جریر کہتے ہیں کہ قیامت کو ہوگا۔
حدیث نمبر: 37627
٣٧٦٢٧ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان علقمة إذا رأى من أصحابه هشاشا - (أو) (١) قال: انبساطا- ذكرهم (بين) (٢) الأيام كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب اپنے ساتھیوں کو خوش اور ہشاش دیکھتے تو انہیں اسی طرح کے ایام یاد دلاتے۔
حدیث نمبر: 37628
٣٧٦٢٨ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن عمارة عن أبي معمر قال: دخلنا على عمرو بن شرحبيل فقال: انطلقوا (بنا) (١) إلى أشبه الناس سمتا وهديا بعبد اللَّه، فدخلنا على علقمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابومعمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن شرحبیل کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا : ہمارے ساتھ اس آدمی کے پاس چلو جو چال ڈھال میں حضرت عبداللہ کے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ چناچہ ہم حضرت علقمہ کے پاس گئے۔
حدیث نمبر: 37629
٣٧٦٢٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش قال: حدثنا عمارة عن أبي معمر قال: كنا جلوسا عند عمرو بن شرحبيل فقال: اذهبوا بنا إلى أشبه الناس هديا ودلا وسمتا (وأبطنه) (١) بعبد اللَّه (٢)، فلم ندر من هو حتى انطلقننا إلى علقمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابومعمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن شرحبیل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے فرمایا : تم ہمارے ساتھ لوگوں میں سے اس شخص کے پاس جاؤ جو طریقۂ زندگی، اندازق گفتگو اور طرز عمل میں حضرت عبداللہ کے سب سے زیادہ مشابہ ہے اور حضرت عبداللہ کے سب سے بڑے راز دار ہیں۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے یہاں تک کہ ہم حضرت علقمہ کے پاس پہنچے۔
حدیث نمبر: 37630
٣٧٦٣٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: أصبح همام مترجلا فقال بعض القوم: إن جمة همام لتخبركم أنه لم يتوسدها الليلة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح حضرت ہمام کنگھی کرکے آئے تو کچھ لوگوں نے کہا : حضرت ہمام کی زلفیں بتارہی ہیں کہ آج رات انہوں نے تکیہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 37631
٣٧٦٣١ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن إبراهيم قال: (كان) (١) رجل ⦗٤٥٤⦘ منا يقال: له همام بن الحارث، وكان لا ينام إلا قاعدا في المسجد في (صلاته) (٢)، فكان يقول اللهم: اشفني من النوم بيسير، وارزقني سهرا في طاعتك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک آدمی تھا جس کو ہمام بن حارث کہا جاتا تھا۔ وہ مسجد میں نماز کے دوران صرف بیٹھ کر ہی سوتا تھا اور کہا کرتا تھا : اے اللہ ! آپ مجھے تھوڑی نیند سے شفا دے دیں اور میری بیداری کو اپنی اطاعت میں کردیں۔
حدیث نمبر: 37632
٣٧٦٣٢ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن ابن معقل ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُوا فَلَا فَوْتَ﴾ [سبأ: ٥١] قال: أفزعهم فلم يفوتوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں (وَلَوْ تَرَی إذْ فَزِعُوا فَلاَ فَوْتَ ) یعنی وہ بہت زیادہ ڈریں گے مگر ان کو موت نہیں آئے گی۔
حدیث نمبر: 37633
٣٧٦٣٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن عاصم عن (١) أبي وائل عن عمرو ابن شرحبيل قال: إني اليوم (لميسر) (٢) للموت (خفيف) (٣) الحال (أو) (٤) الحالة، وما أدع دينا، وما أدع عيالا، أخاف عليهم الضيعة (لولا) (٥) قوله المطلع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آج کے دن موت کے لیے تیار ہوں، خفیف الحال ہوں، میں نے کوئی قرض نہیں چھوڑا اور نہ ہی میں نے ایسے عیال چھوڑے ہیں جن کی ہلاکت کا مجھے خوف ہے۔ اگر محشر کا خوف نہ ہوتا۔
حدیث نمبر: 37634
٣٧٦٣٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن مالك بن مغول عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة قال: كان إذا آوى إلى فراشه بكى، ثم قال: ليت أمي لم تلدني، قيل: (لم؟) (١) قال: لأنّا أخبرنا أنا واردوها، ولم نخبر أنا صادروها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحق، حضرت ابومیسرہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ وہ جب اپنے بستر پر آتے تو رو پڑتے پھر کہتے۔ کاش میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا۔ پوچھا گیا : کیوں۔ انہوں نے فرمایا : اس لیے کہ ہمیں یہ خبر تو دی گئی ہے کہ ہم اس پر وارد ہوں گے لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اس کو پار کریں گے۔
حدیث نمبر: 37635
٣٧٦٣٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي إسحاق عن عمرو بن شرحبيل قال: مات رجل يرون أن عنده ورعا، فأتي في قبره فقيل (له) (١): إنا جالدوك مائة جلدة من عذاب اللَّه، قال: فيم تجلدوني؟ فقد كنت أتوقى وأتورع، فقيل: خمسون، فلم يزالوا يناقصونه حتى صار (إلى) (٢) جلدة فجُلد، فالتهب القبر ⦗٤٥٥⦘ عليه نارا وهلك الرجل ثم أعيد فقال: فيم جلدتموني؟ (قالوا) (٣): صليت يوم تعلم وأنت على غير وضوء، واستغاثك الضعيف المسكين فلم تغثه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی مرگیا لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پرہیزگار ہے۔ پس اس کی قبر میں کوئی آیا اور اس کو کہا گیا ہم تمہیں عذاب خداوندی کے سو کوڑے ماریں گے۔ اس نے کہا : تم مجھے کس وجہ سے کوڑے مارو گے جبکہ میں خوب بچتا تھا اور پرہیزگاری کرتا تھا ؟ اس کو کہا گیا پچاس۔ کم ہوتے ہوتے ایک کوڑے تک آگئے۔ چناچہ اس کو ایک کوڑا لگایا گیا تو قبر آگ سے بھڑک اٹھی اور وہ شخص ہلاک ہوگیا پھر اس کو دوبارہ پیدا کیا گیا تو اس نے کہا : تم نے مجھے کس وجہ سے کوڑا مارا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا ایک دن تو نے یہ جانتے ہوئے نماز پڑھی کہ تو بغیر وضو کے ہے اور ایک کمزور مسکین نے تجھ سے مدد طلب کی لیکن تو نے اس کی مدد نہ کی۔
حدیث نمبر: 37636
٣٧٦٣٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي وائل قال: ما رأيت همدانيا قط أحب إليّ أن أكون في سلخ جلده من عمرو بن شرحبيل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن شرحبیل کے علاوہ کسی ہمدانی کے جسم میں ہونے کو کبھی پسند نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 37637
٣٧٦٣٧ - حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة قال: من عمل بهذه الآية فقد استكمل (البر) (١): ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ﴾ [البقرة: ١٧٧].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابومیسرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس آدمی نے اس آیت پر عمل کیا تو تحقیق اس نے کامل نیکی کی { لَیْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ }
حدیث نمبر: 37638
٣٧٦٣٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش قال: دخل سليم بن الأسود أبو الشعثاء على أبي وائل يعوده فقال: إن في الموت لراحة، فقال أبو وائل: إن لي صاحبا خيرا لي منك: خمس صلوات في اليوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالشعثاء سلیم بن اسود، حضرت ابو وائل کے پاس عیادت کے لیے آئے اور کہا : یقینا موت میں راحت ہے۔ اس پر حضرت ابو وائل نے کہا : میرا ایک تجھ سے بہتر ساتھی ہے یعنی ایک دن میں پانچ نمازیں۔
حدیث نمبر: 37639
٣٧٦٣٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش قال: قال لي أبو وائل: يا سليمان واللَّه لو أطعنا اللَّه ما عصانا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو وائل نے مجھے کہا : اے سلیمان ! خدا کی قسم ! اگر ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی تو وہ ہماری نافرمانی نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 37640
٣٧٦٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عاصم أن أبا وائل كان يقول وهو ساجد: إن تعف عني (١) تعف عن طول منك، وإن تعذبني تعذبني غير ظالم ولا مسبوق، ثم يبكي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم سے روایت ہے کہ حضرت ابو وائل سجدہ کی حالت میں کہتے تھے۔ اگر آپ مجھے معاف کریں گے تو آپ اپنی قدرت کے باوجود مجھے معاف کریں گے اور اگر آپ مجھے عذاب دیں گے تو آپ کا عذاب نہ تو ظالم والا ہوگا نہ سبقت پائے ہوگا۔ پھر آپ رونے لگے۔
حدیث نمبر: 37641
٣٧٦٤١ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: كان إبراهيم التيمي يذكر في منزل أبي وائل فكان أبو وائل ينتفض كما ينتفض الطير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم تیمی، حضرت ابو وائل کے گھر میں وعظ و تذکیر کرتے تھے۔ اور حضرت ابو وائل پرندے کے پھڑپھڑانے کی طرح پھڑپھڑاتے تھے۔
حدیث نمبر: 37642
٣٧٦٤٢ - حدثنا جعفر بن عون عن مسعر عن عاصم عن أبي وائل قال: ما شبهت قراء زماننا هذا إلا دراهم مزوقة، أو غنم رعت الحمض فنفخت بطونها فذبحت منها شاة فإذا هي لا تنقي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے زمانہ کے قراء کی مثال تو دراہم مزوقہ کی سی ہے یا ان بکریوں کی سی ہے جو چنے کھا لیں پھر ان کے پیٹ پھول جائیں۔ پس ان میں سے کوئی بکری ذبح کی جائے تو اس میں کوئی گودا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 37643
٣٧٦٤٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (قطبة) (١) عن الأعمش عن شقيق أنه كان يتوضأ، يقول (للشيطان) (٢): هات الآن كل حاجة لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق کے بارے میں روایت ہے وہ وضو کرتے تھے تو شیطان کو کہتے تھے اپنی ہر ضرورت اب لے آؤ۔
حدیث نمبر: 37644
٣٧٦٤٤ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش قال: قال لي إبراهيم: عليك (بشقيق) (١) فإني أدركت أصحاب عبد اللَّه وهم متوافرون وهم يعدونه من خيارهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابراہیم نے کہا : تم حضرت شقیق کو لازم پکڑو۔ کیونکہ میں نے حضرت عبداللہ کے ساتھیوں کو پایا وہ بہت زیادہ تھے لیکن وہ ان کو اپنے سے بہترین سمجھتے تھے۔