کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضرت مسروق کا کلام
حدیث نمبر: 37595
٣٧٥٩٥ - حدثنا وكيع عن مسعر عن إبراهيم (بن) (١) محمد بن المنتشر عن مسروق قال: ما من شيء خير للمؤمن من لحد قد استراح من هموم (الدنيا) (٢) وأمن من عذاب اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کے لیے اس لحد سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے جس میں وہ دنیا کے ہموم سے راحت پالے اور عذاب الٰہی سے امن میں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37595
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37595، ترقيم محمد عوامة 36011)
حدیث نمبر: 37596
٣٧٥٩٦ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن شعبة عن أبي إسحاق قال: حج مسروق فما نام إلا ساجدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسروق نے حج ادا کیا وہ صرف سجدے میں ہی سوتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37596
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37596، ترقيم محمد عوامة 36012)
حدیث نمبر: 37597
٣٧٥٩٧ - حدثنا ابن مهدي عن شعبة عن إسماعيل بن أبي خالد عن سعيد بن جبير عن مسروق قال: ما من (الدنيا) (١) شيء آسى عليه إلا السجود للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں دنیا میں کوئی چیز سکون دہ نہیں ہے سوائے خدا کے لیے سجدوں کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37597
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37597، ترقيم محمد عوامة 36013)
حدیث نمبر: 37598
٣٧٥٩٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مغول عن أبي السفر عن مرة قال: ما ولدت همدانية مثل مسروق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی ہمدانی عورت نے حضرت مسروق کے مثل بچہ نہیں جنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37598
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37598، ترقيم محمد عوامة 36014)
حدیث نمبر: 37599
٣٧٥٩٩ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال: ما خطا عبد خطوة قط إلا كتبت له: حسنة أو سيئة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ جب بھی کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے لیے نیکی لکھی جاتی ہے یا برائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37599
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37599، ترقيم محمد عوامة 36015)
حدیث نمبر: 37600
٣٧٦٠٠ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسروق قال: ما من نفقة أعظم عند اللَّه من قول] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں گفتگو سے بڑھ کر کوئی خرچ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37600
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37600، ترقيم محمد عوامة 36016)
حدیث نمبر: 37601
٣٧٦٠١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق قال: إن المرء لحقيق أن تكون له مجالس يخلو فيها، يذكر فيها ذنوبه (فيستغفر) (٢) منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کے لیے چند مجلسیں ایسی ہوں جن میں وہ خلوت میں ہو اور ان میں اپنے گناہوں کو یاد کرے پھر ان پر استغفار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37601
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37601، ترقيم محمد عوامة 36017)
حدیث نمبر: 37602
٣٧٦٠٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم أو غيره -شك الأعمش- عن مسروق قال: (إن) (١) أحسن ما أكون ظنا حين (يقول) (٢) الخادم: ليس في البيت قفيز من قمح ولا درهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت سب سے اچھے خیال میں ہوتا ہوں جب خادم کہتا ہے۔ گھر میں نہ گندم کا قفیز ہے اور نہ ہی درہم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37602
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37602، ترقيم محمد عوامة 36018)
حدیث نمبر: 37603
٣٧٦٠٣ - حدثنا ابن إدريس عن الحسن بن عبيد اللَّه عن أبي الضحى عن مسروق قال: [أقرب ما يكون العبد إلى اللَّه وهو ساجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قریب حالت سجدہ میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37603
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37603، ترقيم محمد عوامة 36019)
حدیث نمبر: 37604
٣٧٦٠٤ - حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن هلال بن يساف قال: قال مسروق] (١): من سره أن يعلم علم الأولين والآخرين وعلم (الدنيا) (٢) والآخرة، فليقرأ سورة الواقعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں جس آدمی کو یہ بات پسند ہو کہ اسے اولین اور آخرین کا علم ہو اور دنیا وآخرت کا علم ہو تو اس کو سورة واقعہ پڑھنی چاہیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37604
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37604، ترقيم محمد عوامة 36020)
حدیث نمبر: 37605
٣٧٦٠٥ - حدثنا (عفان) (١) بن مسلم قال: حدثنا أبو عوانة عن مغيرة عن عامر أن رجلًا كان يجلس إلى مسروق يعرف وجهه ولا يسمي اسمه قال: فشيعه، (قال) (٢): فكان في آخر من ودّعه فقال: إنك قريع القراء وسيدهم، وإن زينك لهم زين، وشينك لهم شين، فلا تحدثن نفسك بفقر ولا طول عمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت مسروق کے پاس بیٹھتا تھا راوی اس کو شکل سے جانتا تھا لیکن نام سے واقف نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ آپ کی مشایعت میں نکلا۔ راوی کہتے ہیں وہ آپ کو الوداع کہنے والوں میں آخری تھا۔ تو اس نے کہا آپ سب قاریوں میں سے بڑے اور ان کے سردار ہیں۔ اور آپ کی زینت میں ان کی زینت ہے اور آپ کی بدصورتی، ان کی بدصورتی ہے۔ پس آپ اپنے نفس سے فقر اور لمبی عمر کی باتیں نہ کیا کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37605
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37605، ترقيم محمد عوامة 36021)
حدیث نمبر: 37606
٣٧٦٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق قال: لما قدم من السلسلة أتاه أهل الكوفة وأتاه ناس من التجار، فجعلوا يثنون عليه ويقولون: جزاك اللَّه خيرا، ما كان (أعفك) (٢) عن أموالنا، فقرأ هذه الآية: ﴿(أَفَمَنْ) (٣) وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَنْ مَتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [القصص: ٦١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ مقام سلسلہ سے واپس آئے تو اہل کوفہ ان کے پاس آئے اور ان کے پاس تاجر لوگ آئے اور آپ کی تعریف کرنے لگے اور کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ دے۔ آپ ہمارے مالوں سے کس قدر مستغنی تھے۔ اس پر آپ نے یہ آیت پڑھی : { أَفَمَنْ وَعَدْنَاہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لاَقِیہِ کَمَنْ مَتَّعْنَاہُ مَتَاعَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا }۔ کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا اور وہ اسے حاصل کرے گا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیا کی زندگی میں فائدے کی چیزیں دے دی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37606
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37606، ترقيم محمد عوامة 36022)
حدیث نمبر: 37607
٣٧٦٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال: بحسب المرء من الجهل أن يعجب بعلمه، وبحسبه من العلم أن يخشى اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی کی جہالت کے لیے یہ بات ہی کافی ہے کہ آدمی اپنے علم پر عجب کرنے لگے اور آدمی کے علم کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37607
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37607، ترقيم محمد عوامة 36023)
حدیث نمبر: 37608
٣٧٦٠٨ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال: كان رجل بالبادية له كلب وحمار وديك، قال: فالديك يوقظهم للصلاة، والحمار ينقلون عليه الماء، وينتفعون به ويحملون لهم خباءهم، والكلب يحرسهم، فجاء ثعلب فأخذ الديك فحزنوا لذهاب الديك، وكان الرجل صالحا فقال: عسى أن يكون خيرًا، (قال) (١): (فمكثوا) (٢) ما شاء اللَّه ثم جاء ذئب، فشق بطن الحمار فقتله ⦗٤٤٩⦘ فحزنوا لذهاب الحمار، فقال الرجل الصالح: عسى أن يكون خيرا، ثم مكثوا بعد ذلك ما شاء اللَّه، ثم أصيب الكلب، فقال الرجل الصالح: عسى أن يكون خيرا، فلما أصبحوا نظروا فإذا هو قد سُبي من حولهم و (بقوا هم) (٣)، قال: فإنما أخذوا أولئك بما كان عندهم من الصوت (والجلبة) (٤)، ولم يكن عند أولئك شيء (يجلب) (٥)، قد ذهب كلبهم وحمارهم وديكهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جنگل میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک کتا، ایک گدھا اور ایک مرغا تھا۔ فرماتے ہیں : مرغا ان کو نماز کے لیے اٹھاتا تھا اور گدھے پر وہ پانی ادھر ادھر لے جاتے تھے اور اس سے منتفع ہوتے اور وہ ان کے لیے ان کے خیمہ کو اٹھاتا تھا۔ اور کتا ان کی حفاظت کرتا تھا۔ پھر ایک لومڑی آئی اور اس نے مرغا پکڑا۔ ان لوگوں کو مرغ کے چلے جانے کا غم ہوا لیکن وہ آدمی نیک تھا تو اس نے کہا ہوسکتا ہے کہ اس میں خیر ہو۔ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جتنی دیر اللہ نے چاہا اسی طرح رہے پھر بھیڑیا آیا تو اس نے گدھے کا پیٹ پھاڑ کر اس کو قتل کردیا۔ چناچہ وہ لوگ گدھے کے جانے پر بھی غمگین ہوئے لیکن نیک آدمی نے کہا ہوسکتا ہے اسی میں خیر ہو۔ پھر کتا بھی مرگیا۔ تو اس مرد صالح نے کہا ہوسکتا ہے یہی بہتر ہو۔ پھر جب ان لوگوں نے صبح کی تو دیکھا کہ ان کے اردگرد کے لوگ تو قید کرلیے گئے ہیں اور یہ بچ گئے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ لوگ اس لیے پکڑے گئے تھے کہ ان کے پاس آوازیں اور چیخ و پکار تھی۔ جبکہ ان لوگوں کے پاس کوئی شور مچانے والی چیز نہ تھی۔ ان کا کتا، گدھا اور مرغ تو مرگئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37608
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37608، ترقيم محمد عوامة 36024)
حدیث نمبر: 37609
٣٧٦٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش (١) عن مسروق قال: خرج رجل صالح بصرة من دراهم في ظلمة الليل، فأراد أن يتصدق بها، فلقي رجلًا كثير المال فأعطاها إياه، فلما (أصبح) (٢) (قال) (٣): ألا تعجبون لفلان وكثرة ماله، جاءه رجل بصرة دراهم (فأعطاها) (٤) إياه، فبلغ ذلك الرجل فشق عليه وقال: ما أراه تقبل مني حين أعطيتها هذا الرجل الغني، قال: وخرج ليلة أخرى بصرة فأعطاها امرأة بغيًا، فلما أصبحوا (قالوا) (٥): ألا تعجبون إلى فلانة! جاءها فلان بصرة فأعطاها، وهي لا تمنع (رجلها) (٦) من أحد، فبلغه ذلك فشق عليه وقال: ما أراه تقبل مني، قال: فأتي في المنام فقيل له: قد (تقبل) (٧) منك ما أعطيت هذا الغني، فإنا أردنا أن نريه ⦗٤٥٠⦘ أن في الناس من يتصدق، فيرغب في ذلك، وأما المرأة فإنها إنما تبغي من الحاجة فأردنا أن نعفها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرد صالح رات کے اندھیرے میں درہموں کی تھیلی لے کر نکلا۔ وہ اس کو صدقہ کرنا چاہتا تھا کہ اس کو ایک کثیر المال شخص ملا اس آدمی نے یہ دراہم کی تھیلی اس کو دے دی۔ جب صبح ہوئی تو شور ہوا۔ فلاں آدمی اور اس کے مال پر تم لوگ تعجب نہیں کرتے۔ اس کے پاس کوئی آدمی درہموں کی تھیلی لے کر آیا اور وہ اس کو دے گیا۔ یہ بات اس دینے والے کو پہنچی تو اس پر بہت شاق گزرا اس نے کہا میرا خیال نہیں ہے کہ جب میں نے تھیلی اس مالدار کو دے دی ہے تو میری طرف سے یہ قبول ہوا ہوگا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں یہ آدمی ایک رات پھر تھیلی لے کر نکلا اور اس نے یہ تھیلی ایک زانیہ عورت کو دے دی۔ لوگوں نے جب صبح کی تو کہنے لگے۔ فلانی عورت پر تمہیں تعجب نہیں ہے۔ اس کے پاس فلاں آیا اور اس کو تھیلی دے گیا حالانکہ یہ عورت تو کسی کو اپنے پاس آنے سے نہیں روکتی۔ اس آدمی کو یہ بات پہنچی تو اس کو بہت شاق گزرا اس نے کہا : میرا خیال نہیں ہے کہ یہ صدقہ میری طرف سے قبول ہوا ہوگا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں پھر اس آدمی کو خواب آیا اور اس کو کہا گیا تم نے غنی کو جو صدقہ دیا وہ بھی تم سے قبول ہوگیا ہے کیونکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو یہ بات دکھائیں کہ صدقہ کرنے والے لوگ بھی ہیں تاکہ اس کو بھی اس کا شوق ہو اور جو عورت تھی وہ صرف ضرورت کی وجہ سے زنا کرتی تھی۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو عفیفہ بنائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37609
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37609، ترقيم محمد عوامة 36025)
حدیث نمبر: 37610
٣٧٦١٠ - حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن أنس بن سيرين قال: كان مسروق يصلي حتى تجلس امرأته خلفه تبكي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسروق اس حد تک نماز پڑھتے کہ ان کی بیوی ان کے پیچھے بیٹھ کر رونے لگتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37610
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37610، ترقيم محمد عوامة 36026)
حدیث نمبر: 37611
٣٧٦١١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الأعمش عن طلحة (عن) (١) ابن (عميرة) (٢) عن مسروق قال: ود أهل البلاء يوم القيامة أن جلودهم كانت تقرض بالمقاريض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مصیبتوں والے لوگ قیامت کے دن اس بات کو پسند کریں گے کہ ان کو قینچیوں سے کاٹا جاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37611
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37611، ترقيم محمد عوامة 36027)