کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا ربیع بن خثیم کا کلام
حدیث نمبر: 37570
٣٧٥٧٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن أبي يعلى قال: كان الربيع بن (خثيم) (١) إذا مر بالمجلس يقول: قولوا خيرا (و) (٢) افعلوا خيرا (و) (٣) دوموا على ⦗٤٣٩⦘ صالحة، ولا (تقس) (٤) قلوبكم، ولا يتطاول عليكم الأمد: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابویعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم جب کسی مجلس کے پاس سے گزرتے تھے تو کہتے تھے۔ خیر کی بات کہو خیر کا کام کرو۔ اچھے عمل پر مداومت رکھو۔ تمہارے دل سخت نہ ہوجائیں اور تمہاری مہلت زیادہ نہ ہوجائے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سنا حالانکہ انہوں نے نہیں سنا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37570، ترقيم محمد عوامة 35986)
حدیث نمبر: 37571
٣٧٥٧١ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن أبيه عن أبي يعلى قال: كان الربيع إذا قيل له: كيف أصبحت؟ يقول: أصبحنا ضعفاء مذنبين، نأكل أرزاقنا، وننتظر آجالنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابویعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ربیع سے کہا جاتا آپ نے صبح کس طرح کی ؟ تو آپ فرماتے : ہم نے ضعف اور گناہگاری کی حالت میں صبح کی کہ ہم اپنے رزق کھا رہے ہیں اور اپنی موتوں کا انتظار کررہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37571، ترقيم محمد عوامة 35987)
حدیث نمبر: 37572
٣٧٥٧٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبيه عن أبي يعلى عن ربيع قال: ما أحب مناشدة العبد (ربه) (١)، يقول: رب قضيتَ على نفسك الرحمة، قضيت على نفسك كذا، يستبطئ، وما رأيت أحدا يقول: رب قد أديت (ما عليّ) (٢) (فاد) (٣) ما عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بندہ کی یہ دعا، اپنے رب سے کرنا پسند نہیں ہے کہ وہ کہے : اے اللہ ! تو نے اپنے اوپر رحمت کا فیصلہ کرلیا ہے تو نے خود پر یہ فیصلہ کرلیا ہے۔ (یہ کہہ کر) بندہ سستی کا مظاہرہ کرے۔ میں نے کسی کو یہ کہتے نہیں دیکھا کہ اے میرے پروردگار ! جو مجھ پر لازم تھا وہ میں نے اد ا کردیا ہے۔ پس جو تجھ پر لازم ہے وہ تو ادا کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37572، ترقيم محمد عوامة 35988)
حدیث نمبر: 37573
٣٧٥٧٣ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن أبي يعلى عن ربيع بن (خثيم) (١) قال: ما غائب ينتظره المؤمن خيرٌ من الموت] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ موت سے زیادہ بہتر کوئی غائب چیز ایسی نہیں جس کا مومن کو انتظار ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37573، ترقيم محمد عوامة 35989)
حدیث نمبر: 37574
٣٧٥٧٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن منذر عن الربيع بن (خثيم) (١) أنه أوصى عند موته فقال: هذا ما أقر به الربيع بن خثيم على نفسه، وأشهد (٢) ⦗٤٤٠⦘ عليه، وكفى باللَّه شهيدا، (وجازيا لعباده) (٣) الصالحين (ومثيبًا) (٤): أني رضيت باللَّه ربا، وبالإِسلام دينا، وبمحمد نبيا، ورضيت لنفسي ولمن أطاعني أن أعبده في العابدين، وأن أحمده في الحامدين وأن أنصح لجماعة المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنی موت کے وقت وصیت کی۔ فرمایا : یہ وہ باتیں ہیں جن کا ربیع بن خثیم اپنی ذات کے بارے میں اقرار کرتا ہے اور اس پر گواہی دیتا ہے اور گواہی کے لیے خدا ہی کافی ہے۔ اور اپنے نیک بندوں کو بدلہ دینے کے لیے کافی ہے اور ثواب دینے کے لیے کافی ہے۔ میں اللہ پر رب ہونے کے اعتبار سے راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوں اور اپنے نفس کے لیے اور اس کے لیے جو میری فرمانبرداری کرے اس بات پر راضی ہوں کہ میں عبادت کرنے والوں میں خدا کی عبادت کروں اور حمد کرنے والوں میں خدا کی حمد کروں اور میں مسلمانوں کی جماعت کی خیر خواہی کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37574
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37574، ترقيم محمد عوامة 35990)
حدیث نمبر: 37575
٣٧٥٧٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي حيان عن أبيه قال: ما سمعت الربيع ابن خثيم يذكر شيئًا من أمر (الدنيا) (١) إلا أني سمعته (يقول) (٢) (مرة) (٣): كم (للتيم) (٤) مسجدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بن خثیم کو دنیا کے معاملات میں سے کسی کا ذکر کرتے نہیں سنا۔ ہاں ایک مرتبہ میں نے انہیں کہتے سنا : یتیم کی کتنی ہی مسجدیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37575
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37575، ترقيم محمد عوامة 35991)
حدیث نمبر: 37576
٣٧٥٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سفيان الثوري عن أبيه عن بكر بن ماعز قال: قال (لي) (١) الربيع بن خثيم: يا بكر اخزن عليك لسانك إلا مما لك، ولا عليك (٢)، فإني اتهمت الناس على ديني، (أطع) (٣) اللَّه فيما علمت، وما استؤثر به عليك فكله إلى (عالمه) (٤)؛ لأنا عليكم في العمد أخوفُ مني عليكم في الخطأ، وما خيركم اليوم بخيره، ولكنه خير من آخر شر منه، (ما تتبعون) (٥) الخير كل اتباعه، ولا تفرون من الشر حق (فراره) (٦)، ما كل ما أنزل اللَّه على محمد أدركتم، ⦗٤٤١⦘ و (لا) (٧) (كل) (٨) ما تقرؤون تدرون (ما هو) (٩)، السرائر اللاتي (يخفين) (١٠) على الناس (وهي) (١١) للَّه (بواد) (١٢) ابتغوا دواءها، ثم يقول لنفسه: وما دواءها؟ أن تتوب ثم لا تعود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن ماعز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے مجھے کہا : اے بکر ! اپنی زبان کو اپنی حفاظت میں رکھ مگر وہ بات جو تیرے فائدہ میں ہو۔ تیرے خلاف نہ ہو۔ کیونکہ میں نے اپنے دین کے بارے میں لوگوں کو متہم پایا ہے۔ جو تمہیں معلوم ہے اس میں اللہ کی اطاعت کر اور جو چیز تمہارے علم میں نہ ہو تو اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردے۔ مجھے تمہارے اوپر جان بوجھ کر کیے جانے والے عمل کا، غلطی سے ہونے والے عمل کی بہ نسبت زیادہ خوف ہے۔ تم میں سے جو آج خیر پر ہے وہ بہتر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اپنے آخری شر سے بہتر ہیں، تم لوگ خیر کی مکمل اتباع نہیں کرتے اور تم شر سے کماحقہ فرار اختیار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر جو کچھ اتارا ہے تم نے اس کو سارا نہیں پایا۔ اور جو کچھ تم پڑھتے ہو اس سارے کو تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے۔ وہ پوشیدہ باتیں جو لوگوں پر مخفی ہوتی ہیں وہ اللہ کے لیے تو ظاہر ہیں۔ تم اس کا علاج تلاش کرو۔ پھر آپ نے اپنے آپ سے کہا : اس کا علاج کیا ہے ؟ یہ کہ تم توبہ کرو اور پھر اس کی طرف عود نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37576
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37576، ترقيم محمد عوامة 35992)
حدیث نمبر: 37577
٣٧٥٧٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن محمد بن عجلان عن (نسير) (١) مولى الربيع قال: (كان الربيع) (٢) يصلي ليلة فمر بهذه الآية: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ﴾ [الجاثية: ٢١]، فرددها حتى أصبح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ حضرت ربیع رات کو نماز پڑھ رہے تھے کہ اس آیت پر پہنچے { أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ } تو اس کو صبح تک دہراتے رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37577
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37577، ترقيم محمد عوامة 35993)
حدیث نمبر: 37578
٣٧٥٧٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان الربيع يأتي علقمة وكان في مسجده طريق، وإلى (جنبه) (١) نساء كن يمررن في المسجد، فلا يقول كذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع، حضرت علقمہ کے پاس آتے تھے اور ان کی مسجد میں راستہ تھا اور ان کے ہمراہ عورتیں بھی مسجد میں سے گزرتی تھیں لیکن وہ ایسی ویسی باتیں نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37578
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37578، ترقيم محمد عوامة 35994)
حدیث نمبر: 37579
٣٧٥٧٩ - [حدثنا (أبو) (١) معاوية (ووكيع) (٢) عن الأعمش عن أبي رزين عن الربيع بن خثيم: ﴿وَإِذًا لَا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الأحزاب: ١٦] قال: (القليل) (٣) ما ⦗٤٤٢⦘ بينهم وبين الأجل] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے { وَإِذًا لاَ تُمَتَّعُونَ إِلاَّ قَلِیلاً } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : قلیل سے مراد وہ مہلت ہے جو ان کی موت اور ان کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37579
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37579، ترقيم محمد عوامة 35995)
حدیث نمبر: 37580
٣٧٥٨٠ - حدثنا (أبو) (١) معاوية (٢) عن الأعمش عن أبي رزين عن ربيع بن خثيم: ﴿بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ﴾ [البقرة: ٨١]، قال: ماتوا على كفرهم وربما قال: ماتوا على المعصية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے { بَلَی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَأَحَاطَتْ بِہِ خَطِیئَتُہُ } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں جو اپنے کفر پر مرے اور کبھی فرماتے جو لوگ معصیت کی حالت میں مرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37580
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37580، ترقيم محمد عوامة 35996)
حدیث نمبر: 37581
٣٧٥٨١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن منذر عن ربيع بن خثيم أنه كان يكنس (الحش) (١) بنفسه قال: فقيل له: إنك تكفى هذا، قال: إني أحب أن آخذ بنصيبي من المهنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ بذات خود بیت الخلاء کو صاف کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں انہیں کہا گیا : آپ کو اس کی کفایت ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں بھی مشقت میں سے اپنا حصہ لوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37581
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37581، ترقيم محمد عوامة 35997)
حدیث نمبر: 37582
٣٧٥٨٢ - حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين عن الربيع بن خثيم قال: أقلوا الكلام إلا بتسع: تسبيح، (وتهليل، وتكبير) (١) وتحميد، وسؤالك الخير، وتعوذك (من) (٢) الشر، وأمرك بالمعروف، ونهيك عن المنكر، و (قراءة) (٣) القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نو باتوں کے علاوہ (باقی) باتیں کم کرو : تسبیح، تہلیل، تکبیر، تحمید اور تمہارا خیر کا سوال کرنا اور تمہارا شر سے پناہ مانگنا، اور تمہارا امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا اور قرآن کی قراءت کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37582
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37582، ترقيم محمد عوامة 35998)
حدیث نمبر: 37583
٣٧٥٨٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن منذر عن الربيع أنه قال لأهله: اصنعوا لي خبيصا، فصنع فدعا رجلًا به (خبل) (١) فجعل ربيع يلقمه (ولعابه) (٢) ⦗٤٤٣⦘ يسيل، فلما أكل وخرج قال له أهله: تكلفنا، وصنعنا، ثم أطعمته؟ (٣) ما يدري هذا ما أكل؟ قال الربيع: لكن اللَّه يدري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم میرے لیے حلوہ بناؤ۔ چناچہ حلوہ پکایا گیا پھر انہوں نے ایک پاگل آدمی کو بلایا اور حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کردینا شروع کیا اور اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ پس جب اس نے کھالیا اور چلا گیا تو گھر والوں نے حضرت ربیع سے کہا ہم نے تکلف کیا اور تیار کیا پھر آپ نے وہ ایسے آدمی کو کھلا دیا جس کو معلوم ہی نہیں کہ اس نے کیا کھایا ہے۔ حضرت ربیع نے فرمایا : لیکن اللہ کو تو معلوم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37583
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37583، ترقيم محمد عوامة 35999)
حدیث نمبر: 37584
٣٧٥٨٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مالك بن مغول عن الشعبي قال: ما جلس الربيع بن خثيم في مجلس منذ تأزَّر بإزار، قال: أخاف أن يظلم رجل فلا (أنصره) (١)، أو يفتري رجل على رجل فأكلف عليه الشهادة، ولا أغض البصر، ولا أهدي السبيل، أو تقع الحامل فلا أحمل عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کسی مجلس میں نہیں بیٹھے۔ کہتے ہیں مجھے خوف ہے کہ کسی آدمی پر ظلم کیا جائے اور میں اس کی مدد نہ کروں، یا کوئی آدمی کسی آدمی پر جھوٹ باندھے اور مجھے اس پر گواہی کا مکلف بنایا جائے اور میں نگاہ نیچی نہ کرسکوں اور نہ راہ دکھا سکوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37584
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37584، ترقيم محمد عوامة 36000)
حدیث نمبر: 37585
٣٧٥٨٥ - حدثنا (١) خلف بن خليفة عن سيار عن أبي وائل قال: انطلقت أنا وأخي إلى الربيع بن خثيم، فإذا هو جالس في المسجد فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا لتذكر اللَّه فنذكره معك، وتحمد اللَّه فنحمده معك، فرفع يديه فقال: الحمد للَّه الذي لم (تقولا) (٢): جئنا لتشرب (فنشرب) (٣) معك، ولا جئنا (لتزني) (٤) فنزني معك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی حضرت ربیع بن خثیم کے پاس گئے تو وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا : تمہیں کیا مقصد لایا ہے ؟ ہم نے جواب دیا۔ ہم آئے ہیں تاکہ آپ اللہ کا ذکر کریں تو ہم بھی آپ کے ہمراہ اللہ کا ذکر کریں اور آپ اللہ کی تعریف کریں اور ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ کی تعریف کریں۔ اس پر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور کہا۔ تمام تعریف اس اللہ کی ہے تم سے یہ نہیں کہلوایا۔ ہم تیرے پاس آئے ہیں کہ تو شراب پئے تاکہ ہم بھی تیرے ساتھ پئیں اور نہ ہم تیرے پاس آئے ہیں کہ تم زنا کرو تاکہ ہم تیرے ساتھ زنا کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37585
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37585، ترقيم محمد عوامة 36001)
حدیث نمبر: 37586
٣٧٥٨٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين قال: حدثني من سمع الربيع يقول: عجبا لملك الموت وإتيانه ثلاثة: مَلِك ممتنع في حصونه، فيأتيه فينزع نفسه، ويدع ملكه خلفه، (وطبيب) (١) (نحرير) (٢) يداوي الناس فيأتيه فينزع نفسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں ملک الموت اور اس کا تین آدمیوں کے پاس آنا قابل تعجب ہے۔ (ایک) اپنے قلعوں میں بند بادشاہ کہ فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اس کی روح نکالتا ہے اور اس کے ملک کو اس کے پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اور ماہر طبیب جو لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور اس کی روح نکال لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37586
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37586، ترقيم محمد عوامة 36002)
حدیث نمبر: 37587
٣٧٥٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن ربيع بن خثيم أنه سرقت له فرس من الليل -وهو يصلي- قيمته ثلاثون ألفا، فلم ينصرف، فأصبح فحمل على مهرها ثم أصبح فقال: اللهم سرقني ولم أكن (لأسرقه) (١)، قال: وكان ربيع يجهر بالقراءة، فإذا سمع وقعا خافت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ ان کا ایک تیس ہزار کی قیمت کا گھوڑا رات نماز پڑھتے ہوئے چوری ہوا لیکن انہوں نے نماز نہ چھوڑی۔ جب صبح ہوئی تو ربیع نے اس کے بچے پر سواری شروع کردی پھر جب صبح ہوئی تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! اس نے میری چوری کرلی حالانکہ میں نے اس کی چوری نہیں کی تھی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ربیع قراءت بلند آواز سے کیا کرتے تھے۔ جب آپ نے قدموں کی چاپ سنی تو آہستہ قراءت کرلی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37587
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37587، ترقيم محمد عوامة 36003)
حدیث نمبر: 37588
٣٧٥٨٨ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن عبد الملك بن عمير قال: (قيل) (١) للربيع: (ألا) (٢) ندعو لك طبيبا؟ فقال: أنظروني، ثم تفكر فقال: ﴿وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا (٣٨) وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا﴾ [الفرقان: ٣٨ - ٣٩]، فذكر من حرصهم على الدنيا ورغبتهم فيها، (قال) (٣): (فقد) (٤) كانت فيهم أطباء، فلا المداوي بقي، ولا المداوى، هلك (الناعت والمنعوت) (٥) له، واللَّه لا تدعون لي طبيبا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع سے کہا گیا ہم آپ کے لیے حکیم کو نہ بلائیں ؟ آپ نے فرمایا : تم مجھے مہلت دے دو ۔ پھر آپ نے فکر فرمایا تو کہا : { وَعَادًا وَثُمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر آپ نے ان لوگوں کی دنیوی زندگی پر حرص اور اس زندگی کی رغبت ذکر فرمائی۔ فرمایا : یہ لوگ بیمار ہوئے اور کچھ ان میں حکیم تھے لیکن دوائی کھانے والا بھی باقی نہ رہا اور دوائی کھلانے والا بھی باقی نہ رہا۔ صفت کرنے والا اور صفت کیا ہوا دونوں ہلاکت کا شکار ہوئے۔ بخدا ! تم لوگ میرے لیے حکیم کو نہ بلاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37588
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37588، ترقيم محمد عوامة 36004)
حدیث نمبر: 37589
٣٧٥٨٩ - حدثنا عبيدة بن حميد عن داود عن الشعبي قال: دخلنا على ربيع بن خيثم فدعا بهذه الدعوات: اللهم لك الحمد كله، وإليك يرجع الأمر كله، وأنت إله (الحمد) (١) كله، (٢) بيدك الخير كله، نسألك (من) (٣) الخير كله، ونعوذ بك من الشر كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ربیع بن خثیم کے پاس گئے تو انہوں نے یہ دعا مانگی۔ اے اللہ ! ساری حمد تیرے لیے ہے اور سارے امور تیری طرف لوٹتے ہیں اور ہر قسم کی حمد کے معبود آپ ہی ہیں۔ ساری بھلائیاں آپ کے قبضہ میں ہیں۔ ہم ہر خیر کا آپ ہی سے سوال کرتے ہیں اور ہم ہر شر سے آپ ہی کی پناہ مانگتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37589
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37589، ترقيم محمد عوامة 36005)
حدیث نمبر: 37590
٣٧٥٩٠ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن سرية الربيع (قالت) (١): لما حُضر الربيع بكت ابنته فقال: يا بنية لم تبكين قولي: ((يا بشرى) (٢): لقي أبي الخير) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سریۃ الربیع سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب حضرت ربیع کی موت کا وقت قریب آیا تو ان کی بیٹی روپڑی۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اے بیٹی ! تم کیوں روتی ہو ؟ تم کہو۔ اے خوشخبری ! میرا والد خیر سے مل رہا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37590
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37590، ترقيم محمد عوامة 36006)
حدیث نمبر: 37591
٣٧٥٩١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن إبراهيم التيمي قال: حدثني من صحب ربيع بن خثيم عشرين سنة ما سمع (منه) (١) كلمة تعاب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بیان کیا جو بیس سال تک ربیع بن خثیم کے ساتھ رہا تھا کہ اس نے آپ سے کوئی قابل عتاب کلمہ نہیں سنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37591
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37591، ترقيم محمد عوامة 36007)
حدیث نمبر: 37592
٣٧٥٩٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن سالم عن منذر عن الربيع بن خثيم في قوله: ﴿فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ (٨٨) فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ﴾ قال: (مدخورة) (١)، ﴿وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ (٩٢) فَنُزُلٌ مِنْ (حَمِيمٍ) (٢)﴾ قال: (عنده) (٣)، ﴿وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ﴾ [الواقعة: ٨٨ - ٨٩، و ٩٢ - ٩٣، و ٩٤]، قال: مدخورة له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے ارشاد خداوندی { فَأَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ فَرَوْحٌ وَرَیْحَانٌ وَجَنَّۃُ نَعِیمٍ } فرمایا : یہ ان کے لیے ذخیرہ شدہ ہیں۔ { وَأَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِینَ الضَّالِّینَ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِیمٍ } فرمایا : اس کے پاس ہے { وَتَصْلِیَۃُ جَحِیمٍ } فرمایا : اس کے لیے ذخیرہ شدہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37592
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37592، ترقيم محمد عوامة 36008)
حدیث نمبر: 37593
٣٧٥٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن ابن عجلان عن (نسير) (١) (٢) أبي طعمة قال: كان الربيع إذا (جاءه) (٣) سائل (قال) (٤): أطعموا هذا السائل (سكرًا) (٥)، فإن الربيع يحب (السكر) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نسیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع کے پاس جب کوئی سائل آتا تو آپ رحمہ اللہ کہتے۔ اس سائل کو شکر کھلاؤ۔ کیونکہ حضرت ربیع کو شکر پسند تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37593
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37593، ترقيم محمد عوامة 36009)
حدیث نمبر: 37594
٣٧٥٩٤ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن رجل عن ربيع بن خثيم (في) (١) (قوله) (٢): ﴿يَاأَيُّهَا (الْإِنْسَانُ) (٣) مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ﴾ [الانفطار: ٦]، قال: الجهل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم سے ارشاد خداوندی { یَا أَیُّہَا الإِنْسَاْن مَا غَرَّک بِرَبِّکَ الْکَرِیمِ } کے بارے میں روایت ہے فرمایا : جہل نے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37594
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37594، ترقيم محمد عوامة 36010)