حدیث نمبر: 37555
٣٧٥٥٥ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: كان ابن الزبير إذا قام في الصلاة كأنه وتد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو میخ کی طرح ہوتے۔
حدیث نمبر: 37556
٣٧٥٥٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق قال: ما رأيت سجدة أعظم من سجدته -يعني ابن الزبير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان … ابن زبیر رضی اللہ عنہ … کے سجدے سے بڑا سجدہ نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 37557
٣٧٥٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: أخبرنا هشام بن عروة عن أبيه عن عبد اللَّه بن الزبير (قال) (١): ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ [الأعراف: ١٩٩] قال: ما مر به من أخلاق الناس، وأيم اللَّه لآخذن به فيهم ما (صحبتهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں { خُذِ الْعَفْوَ } فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے اخلاق سے ہی حکم دیا گیا۔ اور خدا کی قسم ! جب تک میں لوگوں میں رہوں گا میں بھی اسی پر عمل کروں گا۔
حدیث نمبر: 37558
٣٧٥٥٨ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن الأسود بن شيبان عن أبي نوفل بن أبي عقرب قال: دخلنا على ابن الزبير وهو مواصل لخمس عشرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابونوفل بن ابوعقرب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو وہ پندرہ روز سے صوم وصال رکھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 37559
٣٧٥٥٩ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد بن مرزبان قال: حدثنا محمد بن عبيد اللَّه الثقفي قال: رأيت ابن الزبير خطبهم (و) (١) قال: إنكم جئتم من بلدان شتى تلتمسون أمرا عظيما، فعليكم بحسن الدعة وصدق النية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم متفرق شہروں سے آئے ہو اور ایک بڑی چیز کے متلاشی ہو۔ لہٰذا تم پر حسن دعا اور صدق نیت لازم ہے۔
حدیث نمبر: 37560
٣٧٥٦٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان قال: كتب رجل من (أهل) (١) العراق إلى ابن الزبير حين بويع: سلام عليك فإني أحمد (إليك اللَّه) (٢) الذي لا إله إلا (هو) (٣)، أما بعد فإن لأهل طاعة اللَّه وأهل الخير علامة يعرفون بها و (تعرف) (٤) فيهم من الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والعمل بطاعة اللَّه، وأعلم (الناس) (٥) أن الإمام (مثل) (٦) السوق يأتيه ما (كان) (٧) فيه، فإن كان برا جاءه أهل البر ببرهم، وإن كان فاجرا جاءه أهل الفجور بفجورهم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن کیسان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو ایک عراقی آدمی نے آپ کو خط لکھا : ” تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد ! پس اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اہل خیر کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ اور وہ چیزیں ان میں پہچانی جاتی ہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، خدا کی فرمانبرداری والے عمل اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے۔ اس میں جو ہوگا وہی اس کے پاس آئے گا۔ اگر امام نیک ہوگا تو نیک لوگ اپنی نیکی کے ساتھ اس کے پاس آئیں گے اور اگر امام فاجر ہو تو اہل فجور اس کے پاس اپنے فجور کے ساتھ آئیں گے۔
حدیث نمبر: 37561
٣٧٥٦١ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن سفيان عن يونس عن الحسن عن عُتي عن أبي بن كعب قال: إن طعام ابن آدم ضرب مثلا، وإن ملّحه ⦗٤٣٥⦘ و (قزّحه) (١) علم (إلى) (٢) ما يصير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کے کھانے کی مثال بیان کی گئی ہے کہ اگر اس میں خوب نمک مصالحے ڈالے جائیں گے تو جو انجام ہوگا وہ اس سے واقف ہے۔
حدیث نمبر: 37562
٣٧٥٦٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم (١) عن أبيه عن جده عبد الرحمن بن عوف أنه أتي بطعام فقال عبد الرحمن: قتل حمزة ولم (يجد) (٢) ما (نكفنه) (٣) وهو خير مني، وقتل مصعب بن عمير وهو خير مني ولم (يجد) (٤) ما (نكفنه) (٥)، وقد أصبنا منها ما أصبنا، ثم قال عبد الرحمن: (إني) (٦) لأخشى أن نكون قد عجلت لنا طيباتنا في الدنيا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا تو حضرت عبدالرحمن نے فرمایا : حضرت حمزہ قتل کیے گئے لیکن ہمارے پاس ان کے کفن دینے کے لیے کچھ موجود نہیں تھا جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے اور مصعب بن عمیر کو قتل کیا گیا وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ہمارے پاس ان کی تکفین کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ جبکہ ہمیں اس دنیا سے جو ملا ہے وہ تو ملا ہے پھر حضرت عبدالرحمن نے فرمایا : مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری پاکیزہ چیزیں ہمیں دنیا ہی میں تو پیشگی نہیں دے دی گئیں۔
حدیث نمبر: 37563
٣٧٥٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن (معن) (١) عن عون بن عبد اللَّه قال: بينا رجل في بستان بمصر في فتنة ابن الزبير جالس مهموم حزين ينكت في الأرض، إذ رفع رأسه فإذا صاحب مسحاة قائم بين يديه، فقال صاحب المسحاة: (ما لي أراك مهموما حزينا؟ فكأنه ازدراه، فقال: لا شيء، (فقال) (٢) صاحب المسحاة) (٣): إن ⦗٤٣٦⦘ (يكن) (٤) للدنيا (٥)، فالدنيا عرض حاضر، يأكل منه البر والفاجر، وإن الآخرة أجلٌ صادق، يحكم فيه ملك قادر، (٦) يفصل بين الحق والباطل، حتى ذكر أن لها مفاصل مثل مفاصل اللحم، من أخطأ منها شيئًا أخطأ الحق، فلما سمع بذلك قال: اهتمامي بما فيه المسلمون، قال: فقال: فإن اللَّه سينجيك بشفقتك على المسلمين، وسل من ذا الذي سأل اللَّه فلم يعطه؟ ودعا اللَّه فلم يجبه؟ (وتوكل عليه فلم يكفه؟) (٧) ووثق به فلم ينجه؟ قال: فطفقت أقول: اللهم سلمني وسلم مني، قال: فتجلت ولم أصب (منها) (٨) بشيء (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے وقت میں ایک آدمی مصر میں ایک باغ میں فکر مند، غمگین بیٹھا ہوا زمین پر کرید رہا تھا کہ اس دوران اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو ایک بیلچے والے آدمی کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔ بیلچے والے نے کہا کیا بات ہے کہ میں تمہیں فکر مند اور غمگین پاتا ہوں ؟ گویا کہ اس نے اس کو ہلکا سمجھتے ہوئے کہا : کوئی بات نہیں۔ اس پر بیلچے والے نے کہا : اگر تو یہ دنیا کی خاطر ہے تو دنیا ایک حاضر سامان ہے جس سے نیک اور بد کھاتا ہے۔ اور آخرت ایک سچا وقت ہے جس میں قدرت والا بادشاہ فیصلہ کرے گا۔ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یہاں تک کہ اس نے ذکر کیا کہ اس کے گوشت کی طرح مفاصل ہیں۔ جوان میں سے کسی شے میں غلطی کرے گا وہ حق سے غلطی کر بیٹھے گا۔ جب اس آدمی نے یہ باتیں سنیں تو کہا میری فکر مندی مسلمانوں کے اندرونی مسئلہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر اس آدمی نے کہا : عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے مسلمانوں پر شفقت کی وجہ سے نجات دے گا اور تم سوال کرو۔ وہ کون شخص ہے جس نے اللہ سے مانگا ہو پھر اس کو عطا نہ کیا گیا ہو ؟ اس نے اللہ سے دعا کی ہو اور قبول نہ ہوئی ہو ؟ خدا پر توکل کیا ہو اور خدا اس کو کافی نہ ہوا ہو ؟ اور خدا پر بھروسہ کیا ہو اور خدا نے اس کو نجات نہ دی ہو ؟ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ میں نے کہنا شروع کیا۔ اے اللہ ! تو مجھے بھی سلامت رکھنا اور مجھ سے بھی سلامتی رکھنا۔ کہتے ہیں پس وہ فتنہ ختم ہوگیا اور مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 37564
٣٧٥٦٤ - حدثنا قبيصة بن عقبة عن مالك بن مغول عن (ابن أبجر) (١) عن سلمة ابن كهيل قال: لقيني أبو جحيفة فقال لي: يا سلمة ما بقي شيء مما كنت أعرف إلا هذه الصلاة، وما من نفس تسرني أن (تفديني) (٢) من الموت ولا نفس ذباب، قال: ثم بكى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کہیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوجحیفہ کی میرے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے کہا : اے سلمہ ! میری پہچان والی چیزوں میں سے صرف یہ نماز ہی رہ گئی ہے۔ مجھے کوئی نفس موت سے چھڑا کر خوش نہیں کرتا اور نہ مکھی کا نفس۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ رو پڑے۔
حدیث نمبر: 37565
٣٧٥٦٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن زكريا عن علي بن الأقمر عن أبي جحيفة قال: جالسوا الكبراء، وخالطوا الحكماء، ⦗٤٣٧⦘ وسائلوا العلماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجحیفہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بڑوں کے ساتھ بیٹھو۔ حکماء سے ملو اور علماء سے پوچھو۔
حدیث نمبر: 37566
٣٧٥٦٦ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن شعبة عن يزيد بن أبي زياد قال: مروا (بجنازة) (١) أبي عبد الرحمن على أبي جحيفة فقال: استراح واستريح منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی زیاد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگ ابوعبدالرحمن کا جنازہ لے کر حضرت ابوجحیفہ کے پاس سے گزرے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : راحت پا گیا اور اس سے بھی راحت پائی گئی۔
حدیث نمبر: 37567
٣٧٥٦٧ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن أبي حازم عن النعمان بن أبي عياش عن أبي سعيد: ﴿(فَإِنَّ) (١) لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا﴾ [طه: ١٢٤]، قال: عذاب القبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید سے { فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَۃً ضَنْکًا } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں کہ یہ عذاب قبر ہے۔
حدیث نمبر: 37568
٣٧٥٦٨ - حدثنا وكيع عن إبراهيم بن (حيان) (١) عن أبي جعفر عن أبي سعيد: ﴿لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ﴾ [القصص: ٨٥] (٢) قال: (معاده) (٣) آخرته: الجنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید سے { لَرَادُّک إِلَی مَعَادٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں : معاد یعنی اس کی آخرت یعنی جنت۔
حدیث نمبر: 37569
٣٧٥٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن أبي (الوداك) (١) عن أبي سعيد قال: إن إبراهيم يلقاه أبوه يوم القيامة فيتعلق به، فيقول له إبراهيم: قد كنت آمرك وأنهاك فعصيتني، قال: ولكن اليوم لا أعصيك، قال: (فيقبل) (٢) إبراهيم إلى الجنة وهو معه، قال: فيقال له: يا إبراهيم دعه، قال: فيقول: إن اللَّه وعدني أن لا يخذلني اليوم، قال: فيأتي (إبراهيم) (٣) آت من ربه ملك (فيسلم عليه) (٤) فيرتاع (له) (٥) إبراهيم ويكلمه ويشغل حتى يلهو عن أبيه، قال: فينطلق الملك ويمشي إبراهيم نحو الجنة، قال: فيناديه أبوه يا إبراهيم، قال: فيلتفت إليه وقد غُير خلقه، قال: فيقول إبراهيم: أف أف (ثم يستقيم ويدجعه ويدعه) (٦) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم کے والد کی حضرت ابراہیم سے ملاقات ہوگی۔ وہ حضرت ابراہیم سے لپٹ جائیں گے تو حضرت ابراہیم ان سے کہیں گے۔ تحقیق میں نے آپ کو حکم دیا اور آپ کو منع کیا لیکن آپ نے میری نافرمانی کی۔ والد کہیں گے : لیکن آج تو میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم جنت کی طرف چل دیں گے اور وہ بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم کو کہا جائے گا۔ اے ابراہیم ! اس کو چھوڑ دے۔ راوی کہتے ہیں وہ کہیں گے تحقیق اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے آج کے دن رسوا نہیں کرے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابراہیم کے پاس ان کے پروردگار کے پاس سے ایک فرشتہ آئے گا اور انہیں سلام کہے گا۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اس سے کلام کریں گے۔ اور ایسے مصروف ہوں گے کہ اپنے والد سے غافل ہوجائیں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر فرشتہ چلنے لگے گا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان کے ہمراہ جنت کی طرف چلیں گے۔ راوی کہتے ہیں اس پر ان کے والد ان کو آواز دیں گے۔ اے ابراہیم ! راوی کہتے ہیں آپ اس کی طرف التفات کریں گے تو اس کی خلقت ہی بدل چکی ہوگی۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے۔ اُف، اُف۔ پھر آپ علیہ السلام سیدھے ہوجائیں گے اور اس کو چھوڑ دیں گے۔