حدیث نمبر: 37543
٣٧٥٤٣ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن شقيق (٢) عن أبي موسى قال: إنما (أهلك) (٣) من كان قبلكم هذا الدينار والدرهم وهما مهلكاكم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے جو لوگ تھے انہیں اس دینار اور درہم نے ہلاک کیا تھا اور یہی دو تمہیں بھی ہلاک کرنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 37544
٣٧٥٤٤ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن أبي عمران الجوني عن (ابن) (١) (أبي) (٢) موسى عن أبيه: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: ٤٦] قال: جنتان من ذهب للسابقين، وجنتان من فضة للتابعين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی موسیٰ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ ) فرمایا : سابقین کے لیے دو سونے کی جنتیں ہوں گی اور تابعین کے لیے دو چاندی کی جنتیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 37545
٣٧٥٤٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي ظبيان عن أبي موسى قال: الشمس فوق رؤوس الناس يوم القيامة وأعمالهم تظلهم (أو) (١) (تُضْحِيهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے سروں پر ہوگا اور لوگوں کے اعمال لوگوں پر سایہ کریں گے یا ان کو سورج کے لیے چھوڑیں گے۔
حدیث نمبر: 37546
٣٧٥٤٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق قال: كنا مع أبي موسى (قال) (١): فجئنا الليل إلى بستان (خرب) (٢)، قال: فقام أبو موسى من الليل يصلي، فقرأ قراءة حسنة ثم قال: اللهم أنت مؤمن تحب المؤمن مهيمن تحب المهيمن، سلام تحب السلام، صادق تحب الصادق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہتے ہیں : پس ہم رات کو ایک ویران باغ میں آئے۔ مسروق کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ رات کو کھڑے ہوئے، نماز پڑھی، خوبصورت قراءت کی پھر کہا : اے اللہ ! تو مومن ہے اور مومن کو پسند کرتا ہے۔ مہیمن ہے اور مہیمن کو پسند کرتا ہے۔ سلام ہے اور سلامتی کو پسند کرتا ہے۔ سچا ہے اور سچے کو پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 37547
٣٧٥٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقيق عن أبي موسى قال: تخرج نفس المؤمن وهي أطيب (ريحا من) (١) المسك، قال: (فيصعد) (٢) بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا (معكم؟) (٣) فيقولون: فلان -ويذكرونه بأحسن عمله، فيقولون: حياكم اللَّه وحيا من معكم، قال: فتفتح له أبو اب السماء، قال: فيشرق وجهه فيأتي الرب ولوجهه برهان مثل الشمس، قال: وأما الآخر فتخرج نفسه وهي أنتن من الجيفة، فيصعد بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا ⦗٤٣٠⦘ ((معكم؟) (٤) فيقولون: فلان) (٥) -ويذكرونه باسوأ أعماله، قال: فيقولون: ردوه فما ظلمه اللَّه شيئًا (٦)، قال: وقرأ أبو موسى: ﴿وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [الأعراف: ٤٠] (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح نکلتی ہے تو وہ مشک سے زیادہ خوشبو والی ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر جن فرشتوں نے اس روح کو نکالا ہوتا ہے وہ فرشتے اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کو آسمان سے پہلے ہی اور فرشتے ملتے ہیں اور پوچھتے ہیں : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ یہ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ فلاں ہے اور فرشتے اس کا ذکر اس کے بہترین عمل کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ اس پر سوال کرنے والے فرشتے کہتے ہیں : خدا تعالیٰ تم پر بھی رحمت کرے اور جو تمہارے ساتھ ہے اس پر بھی رحمت کرے۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کا چہرہ روشن ہوجاتا ہے۔ پس وہ پروردگار کے پاس آتا ہے تو اس کے چہرے میں سورج کی مثل دلیل موجود ہوتی ہے۔ فرمایا : اور جو دوسرا ہے اس کی روح نکلتی ہے جبکہ وہ مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے۔ جو فرشتے اس کو نکالتے ہیں وہ اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں تو آسمان سے پہلے کچھ فرشتے انہیں ملتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ کون ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں فلاں ہے۔ اور اس کے بدترین عمل کا ذکر کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : اس پر وہ فرشتے کہتے ہیں : اس کو واپس کردو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : { وَلاَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ }
حدیث نمبر: 37548
٣٧٥٤٨ - حدثنا معاذ عن ابن عون عن محمد قال: كتب أبو موسى إلى عامر من عبد اللَّه بن قيس (إلى عامر بن عبد اللَّه الذي وإن يدعى عامر بن عبد قيس) (١): أما بعد: فإني عهدتك على أمر وبلغني أنك تغيرت، فإن كنت على ما عهدت فاتق (اللَّه) (٢) ودم، وإن كنت تغيرت فاتق اللَّه ومحمد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عامر کو خط لکھا عبداللہ بن قیس کی طرف سے عامر بن عبداللہ کی طرف … جس کو پہلے عبد قیس کہا جاتا تھا … اما بعد ! پس میں نے تمہارے ساتھ ایک بات پر عہد کیا تھا اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم بدل گئے ہو۔ لہٰذا اگر تم میرے کیے ہوئے معاہدہ پر ہو تو خدا سے ڈرو اور مداومت رکھو۔ اور اگر تم بدل گئے ہو تو خدا سے ڈرو اور واپس آجاؤ۔
حدیث نمبر: 37549
٣٧٥٤٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن أبي (كبشة) (١) عن أبي موسى قال: الجليس الصالح خير من الوحدة، والوحدة خير من جليس السوء، ألا إن مثل (الجليس الصالح) (٢) كمثل العطر، (إلا) (٣) (يحذك) (٤) (يعبق) (٥) بك من ⦗٤٣١⦘ ريحه، ألا (وإن) (٦) مثل جليس السوء كمثل (الكير) (٧) (إلا) (٨) يحرقك يعبق بك من ريحه، ألا وإنما سمي القلب من تقلبه، ألا وإن مثل القلب مثل ريشة متعلقة بشجرة في فضاء من الأرض فالريح تقلبها ظهرا وبطنا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ہم نشین، خلوت سے بہتر ہوتا ہے اور خلوت، برے ہم نشین سے بہتر ہے۔ خبردار ! اچھے ہم نشین کی مثال عطر کی سی ہے اگر وہ تجھے نہ بھی دے تو بھی خوشبو لگ کر تم مہک جاؤ گے۔ اور خبردار ! برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی دھونی کی سی ہے اگر وہ تمہیں نہ جلائے تو اس کی بو تمہیں پہنچ جائے گی۔ خبردار ! دل کو دل اس کے پلٹنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ خبردار ! دل کی مثال زمین کے اوپر فضا میں درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی سی ہے۔ کہ ہوا اس کو اوپر، نیچے کی جانب پلٹتی رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 37550
٣٧٥٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن أنس قال: (كنا) (١) مع أبي موسى في (منزله) (٢) فسمع الناس يتكلمون فسمع فصاحة وبلاغة، قال: فقال: يا أنس هلم فلنذكر اللَّه (ساعة) (٣)، فإن هؤلاء يكاد أحدهم أن (يفري) (٤) الأديم بلسانه، ثم قال: يا أنس ما ثبط الناس عن الآخرة؟ ما ثبطهم عنها؟ قال: قلت: الدنيا والشهوات، قال: لا، ولكن غيبت الآخرة، وعجلت الدنيا، ولو عاينوا ما عدلوا بينهما (ولا ميلوا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر پر تھے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سنا اور انہوں نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ سنا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا : اے انس ! آؤ، ہم کچھ دیر اللہ کا ذکر کرلیں۔ کیونکہ یہ تو ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اپنی زبان سے چمڑے کو کاٹ دے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کس چیز نے لوگوں کو آخرت سے روکا ہے ؟ کس چیز نے انہیں اس سے روکا ہے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : دنیا اور خواہشات۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں۔ بلکہ آخرت آنکھوں سے غائب ہے اور دنیا حاضر ہے۔ اگر لوگ معائنہ کرلیں تو ان کے درمیان عدل نہ کریں اور نہ متردد ہوں۔
حدیث نمبر: 37551
٣٧٥٥١ - حدثنا غندر عن شعبة عن زياد بن مخراق عن أبي إياس عن أبي (كنانة) (١) عن أبي موسى الأشعري أنه قال: (إن) (٢) هذا القرآن ⦗٤٣٢⦘ (كائن) (٣) لكم أجرا، وكائن لكم ذكرا، وكائن (عليكم) (٤) وزرا، فاتبعوا القرآن ولا يتبعكم، فإنه من يتبع القرآن يهبط به (٥) رياض الجنة، ومن يتبعه القرآن يزخ في قفاه فيقذفه في جهنم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : بیشک یہ قرآن تمہارے لیے اجر ہوگا اور تمہارے لیے ذکر ہوگا۔ اور تمہارے اوپر بوجھ ہوگا۔ پس تم قرآن کی پیروی کرو اور قرآن کو اپنے پیچھے نہ لگاؤ۔ کیونکہ جو شخص قرآن کی پیروی کرے گا تو وہ اس کو جنت کے باغ میں اتار دے گا اور جس کے پیچھے قرآن لگ جائے گا وہ اس کو اس کی گدی سے پکڑ کر جہنم میں گرا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 37552
٣٧٥٥٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن أبي موسى قال: إذا أصبح إبليس بعث جنوده فيقول: لم أزل به حتى شرب، قال: أنت، قال: لم أزل به حتى زنى، قال: أنت، قال: لم أزل به حتى قتل، قال: أنت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ابلیس صبح کرتا ہے تو اپنے لشکر کو بھیجتا ہے۔ ایک کہتا ہے : میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے شراب پی لی۔ شیطان کہتا ہے تو ٹھیک ہے۔ ایک دوسرا کہتا ہے۔ میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے زنا کرلیا۔ ابلیس کہتا ہے : تو ٹھیک ہے۔ ایک کہتا ہے : میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے قتل کرلیا۔ ابلیس کہتا ہے۔ تو ٹھیک ہے۔
حدیث نمبر: 37553
٣٧٥٥٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا داود بن أبي هند عن أبي حرب بن أبي الأسود عن أبيه قال: جمع أبو موسى القراء (فقال) (١): لا يدخلن عليكم إلا من جمع القرآن، قال: فدخلنا زهاء ثلاثمائة رجل (فوعظنا) (٢) وقال: أنتم قراء هذا البلد وأنتم، فلا يطولن عليكم الأمد فتقسو قلوبكم كما قست قلوب أهل الكتاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاسود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے قراء کو جمع کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہاں وہی آئے جس نے قرآن جمع کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں ہم تین صد کے قریب آدمی جمع ہوئے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نصیحت فرمائی اور کہا تم لوگ اس شہر کے قاری ہو۔ تم لوگ امیدیں لمبی نہ باندھو ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے جس طرح اہل کتاب کے دل سخت ہوگئے تھے۔
حدیث نمبر: 37554
٣٧٥٥٤ - حدثنا أبو خالد عن أشعث عن أبي بردة قال: بعثني (أبي) (١) إلى المدينة وقال: اِلحق أصحاب رسول اللَّه ﷺ (فسائلهم) (٢)، واعلم أني سائلك، فلقيت ابن سلام فإذا هو رجل خاشع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے مدینہ کی طرف بھیجا اور فرمایا : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے ملو اور ان سے سوال کرو۔ اور یاد رکھو میں تم سے پوچھوں گا۔ چناچہ میں حضرت ابن سلام کو ملا وہ ایک عاجز آدمی تھے۔