حدیث نمبر: 37526
٣٧٥٢٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: قام حذيفة بالمدائن فخطب فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [القمر: ١] (ألا) (١) إن الساعة قد اقتربت، وإن القمر قد انشق، ألا وإن الدنيا قد آذنت بالفراق، ألا وإن (المضمار) (٢) اليوم، وإن السباق غدا، وإن الغاية النار، وإن السابق من سبق إلى الجنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبدالرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں کھڑے تھے۔ آپ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا : { اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ } خبردار ! قیامت قریب آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔ خبردار ! دنیا نے جدائی کا کہہ دیا ہے۔ خبردار ! آج کا دن دوڑ کا میدان ہے اور کل کا دن سبقت ہے۔ اور انتہا جہنم ہے اور سبقت کرنے والا وہی ہے جو جنت کی طرف سبقت کرجائے۔
حدیث نمبر: 37527
٣٧٥٢٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن (سليم) (١) (العامري) (٢) قال: سمعت حذيفة يقول: بحسب (المرء) (٣) من العلم أن يخشى اللَّه، وبحسبه من الكذب أن يقول: أستغفر اللَّه ثم يعود (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مومن کے لیے یہی علم کافی ہے کہ وہ خدا سے خوف کھائے اور اس کے جھوٹ کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ استغفر اللہ کہے پھر وہی کام کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 37528
٣٧٥٢٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن صلة عن حذيفة قال: يجمع الناس في صعيد واحد ينفذهم البصر ويسمعهم الداعي فينادي مناد: يا محمد على رؤوس الأولين والآخرين، فيقول ﷺ: "لبيك وسعديك، والخير (بين ⦗٤٢٣⦘ يديك) (١) والشر ليس إليك، والمهدي من هديت، تباركت (٢) وتعاليت"، قال حذيفة: فذلك المقام المحمود (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایک ہی جگہ اس طرح اکٹھا کیا جائے گا کہ نگاہ ان کو پار کرجائے گی اور بلانے والا ان کو سنائے گا اور آواز دینے والا آواز دے گا۔ اے محمد ! … پہلوں اور پچھلوں کے سامنے … آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں فرمائیں گے : ” میں حاضر ہوں۔ خیر آپ کے قبضہ میں ہے اور شر آپ کی طرف نہیں ہے۔ اور ہدایت یافتہ وہی ہے جس کو آپ نے ہدایت دی ہے۔ آپ برکت والے اور بلند ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہی مقام محمود ہے۔
حدیث نمبر: 37529
٣٧٥٢٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (عن) (١) همام عن حذيفة قال: كان يدخل المسجد فيقف على (الحلق) (٢) فيقول: يا معشر القراء اسلكوا الطريق (فلئن) (٣) (سلكتموه) (٤) لقد سُبقْتُم سبقا بعيدًا، ولئن أخذتم يمينا (و) (٥) شمالا لقد ضللتم ضلالا بعيدا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے پھر وہ حلقوں کے پاس کھڑے ہوتے اور کہتے۔ اے جماعت قرائ ! (سیدھے) راستہ چلتے جاؤ۔ پس اگر تم راستہ پر چلتے رہے تو تم بہت زیادہ سبقت پا جاؤ گے اور اگر تم نے دائیں، بائیں کا (راستہ) لے لیا تو تم بہت زیادہ گمراہ ہوجاؤ گے۔
حدیث نمبر: 37530
٣٧٥٣٠ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن موسى بن (عبد اللَّه) (١) بن يزيد عن أم سلمة قالت: قال حذيفة: لوددت أن لي إنسانا يكون في مالي ثم أغلق علي بابا فلا يدخل علي أحد حتى ألحق باللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند ہے کہ اگر میرے مال کا محافظ کوئی آدمی ہو پھر مجھ پر دروازہ بند کردیا جائے اور میرے پاس کوئی نہ آئے یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے مل جاؤں۔
حدیث نمبر: 37531
٣٧٥٣١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن أبي وائل شقيق عن خالد بن ربيع العبسي قال: لما بلغنا ثقل حذيفة خرج إليه نفر من بني عبس ونفر من الأنصار معنا أبو مسعود، قال: فانتهينا إليه في بعض الليل فقال: أي ساعة هذه؟ قلنا: ساعة كذا وكذا، قال: أعوذ باللَّه من (صباح) (١) إلى النار، هل جئتموني معكم (بكفن؟) (٢) قلنا: نعم، قال: فلا (تغالوا) (٣) بكفني فإن يكن لصاحبكم خير عند اللَّه يبدل خيرا منه وإلا (سلب) (٤) سريعًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ربیع عبسی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی تکلیف کی خبر پہنچی تو بنو عبس کا ایک گروہ ان کے پاس گیا اور ایک گروہ انصار کا گیا اور ہمارے ساتھ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی کہتے ہیں ہم ان کے پاس رات کے کسی حصہ میں پہنچے۔ انہوں نے پوچھا : یہ کون سا وقت ہے ؟ ہم نے کہا : یہ یہ وقت ہے۔ انہوں نے فرمایا : میں صبح کے وقت خدا کی جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیا تم اپنے ساتھ میرے پاس کفن لے کر آئے ہو ؟ ہم نے کہا ہاں۔ انہوں نے فرمایا : تم میرے کفن کو قیمتی نہ بنانا۔ کیونکہ اگر تمہارے ساتھی کے لیے عند اللہ کوئی خیر ہوئی تو وہ اس کے بدلہ میں بہتر کفن پالے گا وگرنہ یہ بھی جلد ہی اتار لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 37532
٣٧٥٣٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (مجالد) (١) عن محمد بن المنتشر عن (ابن) (٢) (حراش) (٣) عن حذيفة بن اليمان قال: إن في القبر حسابا وفي (يوم) (٤) القيامة عذابا (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک قبر میں حساب ہے اور بروز قیامت عذاب ہوگا۔
حدیث نمبر: 37533
٣٧٥٣٣ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس (١) (قال: لما أتي حذيفة ⦗٤٢٥⦘ بكفنه) (٢) قال: إن يصب أخوكم خيرا فعسى، (وإلا ليترامين به) (٣) رجواها (٤) إلى يوم القيامة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا کفن لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تمہارے بھائی کو خیر نصیب ہوتی تو بہت اچھا۔ وگرنہ قبر کے کنارے قیامت تک اس کو ایک دوسرے کی طرف پھینکتے رہیں گے۔
حدیث نمبر: 37534
٣٧٥٣٤ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن أبي إسحاق عن مسلم) (١) عن حذيفة: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يونس: ٢٦] قال: النظر إلى وجه اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے { لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ} کے بارے میں روایت ہے فرمایا : خدا تعالیٰ کے چہرہ کی زیارت مراد ہے۔
حدیث نمبر: 37535
٣٧٥٣٥ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة قال: سمعت زياد يحدث عن ربعي بن (حراش) (٢) عن حذيفة أنه قال: رب يوم لو أتاني الموت لم أشك، فأما اليوم فقد خالطت أشياء لا أدري على ما أنا (منها) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : بہت سے دن ایسے تھے کہ اگر مجھے موت آجاتی تو مجھے شک نہ ہوتا۔ لیکن آج کا دن تو بہت سی ایسی چیزیں مل گئی ہیں کہ مجھے ان میں ہونے کے بارے میں علم نہیں اور انہوں نے حضرت ابومسعود کو وصیت کی۔ فرمایا : جو چیز تم جانتے ہو اس کو لازم پکڑو اور خدا کے دین میں تَلَوُّن (مختلف مزاجی) سے بچو۔
حدیث نمبر: 37536
٣٧٥٣٦ - وأوصى أبا مسعود فقال: عليك بما تعرف، وإياك و (التلون) (١) في دين اللَّه (٢).
حدیث نمبر: 37537
٣٧٥٣٧ - حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن أبي عبد اللَّه الفلسطيني (١) عن عبد العزيز ابن أخ لحذيفة قال: سمعته من حذيفة (من) (٢) خمس وأربعين سنة، قال: قال حذيفة: أول ما تفقدون من دينكم الخشوع، وآخر ما تفقدون من دينكم الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ایک برادر زادہ عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پینتالیس سال میں سنا : کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنے دین میں سے جس چیز کو سب سے پہلے گم کرو گے وہ خشوع ہے اور تم جس آخری چیز کو اپنے دین میں سے گم کرو گے وہ نماز ہے۔
حدیث نمبر: 37538
٣٧٥٣٨ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن أبي بشر عن جندب بن عبد اللَّه البجلي ثم (البصري) (١) قال: استأذنت على حذيفة ثلاث مرات فلم يأذن لي، فرجعت فإذا رسوله قد لحقني فقال: ما ردك؟ قلت: ظننت أنك نائم، قال: ما كنت لأنام حتى انظر من أين تطلع الشمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہوں نے مجھے اجازت نہ دی تو میں واپس پلٹ گیا۔ پھر اچانک ان کا قاصد میرے پاس آیا۔ (مجھے لے آیا) آپ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تمہیں کس چیز نے واپس کردیا تھا ؟ میں نے جواب دیا : میں نے یہ گمان کیا کہ آپ سوئے ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا : میں تب نہیں سوتا جب تک میں سورج کے طلوع کی جگہ نہ دیکھ لوں۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات محمد سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا : جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سے زیادہ صحابہ رضی اللہ عنہ م یہ عمل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 37539
٣٧٥٣٩ - قال: فحدثت به محمدا فقال: قد فعله غير واحد من أصحاب محمد ﷺ (١).