حدیث نمبر: 37497
٣٧٤٩٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال: أحب في اللَّه (وأبغض في اللَّه) (١) ووال في اللَّه وعاد في اللَّه، فإنما (تنال) (٢) ولاية بذلك، لا يجد رجل طعم الإيمان وإن كثرت صلاته وصيامه حتى يكون كذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اللہ کے لیے محبت کرو۔ اللہ کے لیے نفرت کرو۔ خدا کے لیے دوستی کرو اور خدا کے لیے دشمنی کرو۔ کیونکہ خدا کی ولایت اسی سے حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کی نمازیں اور روزے بہت زیادہ بھی ہوجائیں تو وہ تب تک ایمان کی حلاوت نہیں پاتا جب تک کہ وہ ایسا نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 37498
٣٧٤٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى عن القاسم عن ابن عباس قال: ⦗٤١٣⦘ قيل له: رجل كثير الذنوب كثير العمل أحب إليك، (أو رجل قليل الذنوب قليل العمل؟) (١) قال: ما أعدل بالسلامة شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا : زیادہ گناہوں والا، زیادہ عمل والا شخص آپ کو محبوب ہے یا کم گناہوں والا کم عمل والا شخص ؟ انہوں نے فرمایا : میں سلامتی کو کسی بھی چیز کے برابر قرار نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 37499
٣٧٤٩٩ - حدثنا ابن إدريس عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: السمت الصالح والهدي الصالح والاقتصاد (جزء) (١) من خمسة وعشرين جزءا من النبوة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھی وضع قطع، اچھی چال ڈھال اور میانہ روی، نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
حدیث نمبر: 37500
٣٧٥٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عثمان الثقفي عن سعيد بن جبير عن ابن عباس (١): ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ﴾ الآية قال: ينادي الرجل (أخاه، وينادي الرجل) (٢) الرجل فيقول: إني قد احترقت فأفض عليّ من الماء قال: فيقال (٣): أجبه فيقول: ﴿إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ﴾ [الأعراف: ٥٠] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { وَنَادَی أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَنْ أَفِیضُوا عَلَیْنَا مِنَ الْمَائِ } کے بارے میں روایت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی اپنے بھائی کو آواز دے گا اور آدمی، آدمی کو آواز دے گا۔ آدمی کہے گا میں تو جل گیا ہوں۔ پس تم مجھ پر پانی بہاؤ۔ راوی کہتے ہیں اس آدمی سے کہا جائے گا تم اس کو جواب دو ۔ وہ کہے گا : إنَّ اللَّہَ حرَّمَہُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ ۔
حدیث نمبر: 37501
٣٧٥٠١ - حدثنا جرير عن منصور عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله: ﴿الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ [الناس: ٤] قال: الشيطان جاثم على قلب بن آدم، فإذا سها وغفل وسوس، وإذا ذكر اللَّه خنس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشادِ خداوندی { الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ } کے بارے میں منقول ہے انہوں نے فرمایا : شیطان، ابن آدم کے دل پر بیٹھا ہوتا ہے پس جب انسان بھولتا ہے اور غافل ہوتا ہے تو شیطان وسوسہ ڈالتا ہے اور جب آدمی خدا کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 37502
٣٧٥٠٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس: ﴿ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ﴾ [هود: ١٠٣] قال: يوم القيامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد خداوندی { ذَلِکَ یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَہُ النَّاسُ وَذَلِکَ یَوْمٌ مَشْہُودٌ} کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : یہ قیامت کا دن ہے۔
حدیث نمبر: 37503
٣٧٥٠٣ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس: ﴿وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ﴾ [طه: ١٣٠] قال: جوف الليل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { آنَائَ اللَّیْلِ } کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : یہ رات کا درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 37504
٣٧٥٠٤ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن هارون بن عنترة عن أبيه قال: سألت ابن عباس أي العمل أفضل؟ قال: ذكر اللَّه (أكبر) (٢)، وما جلس قوم في بيت يتعاطون فيه كتاب اللَّه فيما بينهم ويتدارسونه إلا أظلتهم الملائكة بأجنحتها، وكانوا أضياف اللَّه ما داموا فيه حتى يخوضوا في حديث غيره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عنترہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کا ذکر سب سے بڑا عمل ہے۔ کوئی قوم کسی گھر میں بیٹھ کر آپس میں اللہ کی کتاب کی تدریس نہیں کرتے مگر یہ کہ فرشتے ان کو اپنے پروں کے ساتھ سایہ کرلیتے ہیں اور جب تک وہ اس عمل میں ہوتے ہیں وہ خدا کے مہمان ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں۔
حدیث نمبر: 37505
٣٧٥٠٥ - حدثنا شريك عن السدي عن أبي حكيم البارقي عن ابن عباس قال: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ [الزمر: ٦٨] قال: نفخ فيه أول نفخة فصاروا عظاما ورفاتا، ثم نفخ فيه الثانية: ﴿فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَائَ اللَّہُ } فرمایا : اس دن پہلا صور پھونکا جائے گا تو لوگ ہڈیاں اور ریزے بن جائیں گے پھر اس میں دوسرا صور پھونکا جائے گا : فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَنْظُرُونَ
حدیث نمبر: 37506
٣٧٥٠٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس: ﴿يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ﴾ [النور: ١٧] قال: يحرج اللَّه عليكم أن تعودوا لمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { یَعِظُکُمُ اللَّہُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِہِ } کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے لیے یہ بات ممنوع قرار دے رہا ہے کہ تم اس کے مثل کو لوٹو۔
حدیث نمبر: 37507
٣٧٥٠٧ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان (بن حسين) (١) عن الحكم (عن مجاهد) (٢) عن ابن عباس في قوله: ﴿فَاتَّقُوا (اللَّهَ) (٣) وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [الأنفال: ١] قال: هذا تحريج من اللَّه على المؤمنين أن يتقوا ويصلحوا ذات بينهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشادِ خداوندی (فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ ) کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : یہ خدا کی طرف سے ایمان والوں پر لازم ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور آپس میں صلح صفائی رکھیں۔
حدیث نمبر: 37508
٣٧٥٠٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن عكرمة عن ابن عباس: ضمن اللَّه لمن اتبع القرآن أن لا يضل في الدنيا ولا يشقى في الآخرة ثم تلا: ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى﴾ [طه: ١٢٣] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی اتباع کرنے والے کے لیے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ دنیا میں گمراہ نہ ہوگا اور آخرت میں شقی نہ بنے گا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائی : { فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلاَ یَشْقَی }۔
حدیث نمبر: 37509
٣٧٥٠٩ - حدثنا حفص بن غياث عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم عن ابن عباس في قوله: ﴿تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ﴾ [الأنعام: ٦١]، قال: أعوان ملك ⦗٤١٦⦘ الموت من الملائكة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشادِ خداوندی { تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُونَ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ ملک الموت کے معاونین فرشتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37510
٣٧٥١٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس: ﴿إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ﴾ قال: يوم القيامة، ﴿لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ (٢) خَافِضَةٌ رَافِعَةٌ﴾ [الواقعة: ١، ٢، ٣] قال: تخفض ناسا وتضع آخرين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے {إذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ } کے بارے میں روایت ہے فرمایا : یہ قیامت کا دن ہے۔ { لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ خَافِضَۃٌ رَافِعَۃٌ} فرمایا : کچھ لوگوں کو بلند کرے گی اور کچھ لوگوں کو پست کرے گی۔
حدیث نمبر: 37511
٣٧٥١١ - حدثنا حفص بن غياث عن (عبد اللَّه) (١) بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس: ﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [هود: ١١٤] قال: الصلوات الخمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے {إنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ } کے بارے میں منقول ہے۔ فرمایا : یہ پانچ نمازیں ہیں۔
حدیث نمبر: 37512
٣٧٥١٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي يحيى القتات عن مجاهد عن ابن عباس قال: الأرض تبكي على المؤمن أربعين صباحًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ زمین بندہ مومن پر چالیس دن روتی ہے۔
حدیث نمبر: 37513
٣٧٥١٣ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: من (راءى راءى اللَّه) (١) به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص ریا کاری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ دکھلاوا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37514
٣٧٥١٤ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس: ﴿سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا﴾ [مريم: ٩٦] قال: يحبهم ويحببهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمَن وُدًّا } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : ان سے خدا محبت کرتا ہے اور ان کو (لوگوں کا) محبوب بنا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 37515
٣٧٥١٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (بَشير) (١) بن عقبة قال: حدثنا يزيد بن عبد اللَّه عن ابن عباس قال: لابن آدم ثلاثة وثلاثون عضوا، على كل عضو منها زكاة من تسبيح اللَّه وتحميده وذكره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کے تینتیس اعضاء ہیں اور اس کے ہر عضو پر خدا کی تسبیح، تحمید اور ذکر کی زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 37516
٣٧٥١٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس: ﴿لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾ [الحديد: ٢٣] قال: ليس أحد إلا وهو يحزن ويفرح ولكن (من جعل) (١) المصيبة صبرا وجعل الخير شكرا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ } کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہر آدمی خوش ہوتا ہے اور غمگین ہوتا ہے لیکن جس نے مصیبت کو صبر کرلیا اور خیر کو شکر کرلیا۔
حدیث نمبر: 37517
٣٧٥١٧ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل بن سميع عن مسلم البطين عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس: ﴿مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا﴾ [نوح: ١٣] ما لكم (لا تعلمون) (١) حق عظمته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { مَا لَکُمْ لاَ تَرْجُونَ لِلَّہِ وَقَارًا } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اس کی عظمت کو کماحقہ نہیں معلوم کرتے۔
حدیث نمبر: 37518
٣٧٥١٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد اللَّه الأنصاري قال: رأى رجل جمجمة فحدث نفسه بشيء قال: فخر ساجدا تائبا مكانه، قال: فقيل له: ارفع رأسك فإنك أنت أنت، وأنا أنا (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کوئی کھوپڑی دیکھی تو اس کے دل میں کوئی بات آئی۔ راوی کہتے ہیں لیکن وہ اسی جگہ توبہ کرتے ہوئے سجدہ میں گرگیا۔ راوی کہتے ہیں اس کو کہا گیا اپنا سر اٹھا لو۔ کیونکہ تم تم ہو اور میں میں ہوں۔