کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37494
٣٧٤٩٤ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا أبو رجاء عن محمد بن مالك عن البراء بن عازب: ﴿تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ (سَلَامٌ) (١)﴾ [الأحزاب: ٤٤] قال: يوم يلقون ملك الموت ليس من مؤمن يقبض روحه إلا سلم عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ارشاد خداوندی { تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ سَلاَمٌ} کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ دن ہے جس میں وہ ملک الموت سے ملیں گے۔ کوئی مومن ایسا نہیں ہے جس کی روح وہ قبض کرے مگر یہ کہ وہ اس کو سلام کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف محمد بن مالك، أخرجه أبو يعلى كما في المطالب (٣٦٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37494، ترقيم محمد عوامة 35912)
حدیث نمبر: 37495
٣٧٤٩٥ - حدثنا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن سعد بن عبيدة عن البراء ابن عازب قال: في قوله: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ ⦗٤١٢⦘ الدُّنْيَا﴾ [إبراهيم: ٢٧]، قال: التثبيت في الحياة الدنيا (إذا جاء الملكان) (٢) إلى الرجل في القبر فقالا له: من ربك؟ فقال: ربي اللَّه، وقالا: ما دينك؟ قال: ديني الإسلام، قالا: ومن نبيك؟ قال: محمد قال: فذلك التثبيت في الحياة الدنيا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد خداوندی { یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } کے بارے میں فرمایا : ” دنیوی زندگی میں ثابت قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ قبر میں جب دو فرشتے آدمی کے پاس آتے ہیں تو وہ دونوں اس آدمی سے کہتے ہیں : تیرا پروردگار کون ہے ؟ وہ آدمی جواب دیتا ہے : میرا پروردگار اللہ ہے۔ پھر وہ دونوں پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے : میرا دین اسلام ہے۔ پھر یہ پوچھتے ہیں : تیرا نبی کون ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے محمد ﷺ ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دنیوی زندگی میں ثابت قدمی سے یہی مراد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37495
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مرفوعًا البخاري (٤٦٩٩)، ومسلم (٢٨٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37495، ترقيم محمد عوامة 35913)
حدیث نمبر: 37496
٣٧٤٩٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن عبد اللَّه بن السائب عن زاذان عن البراء (بن عازب) (١) قال: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [النساء: ٥٨] قال: الأمانة في الصلاة، والأمانة في الغسل من (الجنابة) (٢)، والأمانة في الكيل، والأمانة في الوزن، وأعظم ذلك في الودائع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : {إنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا } فرمایا : نمازیں بھی امانت ہوتی ہیں۔ اور وزن میں بھی امانت ہوتی ہے اور جنابت کے غسل میں بھی امانت ہوتی ہے۔ ناپ میں بھی امانت ہوتی ہے اور سب سے بڑی ودیعتوں میں امانت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37496
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37496، ترقيم محمد عوامة 35914)