کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37481
٣٧٤٨١ - حدثنا حفص بن غياث عن ابن عون عن عطاء الواسطي عن أنس ⦗٤٠٨⦘ بن مالك قال: لا يتقي اللَّه عبد حتى يخزن (من) (١) لسانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بندہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو خزانہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37481
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عطاء هو ابن عجلان متروك، أخرجه الطبراني في المعجم الصغير (٩٦٤)، وابن وهب في الجامع (٣٧٧)، وهناند (١٠٩٦)، والضياء في المختارة (٢٥٩٥)، والبغوي في مسند الشهاب (٨٩٣)، وابن عدي ٥/ ٣٦٥، والخرائطي كما في المنتقى (٢٠٥)، وابن أبي الدنيا في الصمت (١٧)، والواسطي في تاريخ واسط (ص ٦٠)، والبيهقي في الشعب (٥٠٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37481، ترقيم محمد عوامة 35899)
حدیث نمبر: 37482
٣٧٤٨٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا ثابت عن أنس قال: ما نفضنا عن رسول اللَّه ﷺ الأيدي حتى أنكرنا قلوبنا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی تدفین) سے ابھی ہاتھ نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل ہمیں منکر لگنے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37482
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ جعفر بن سليمان صدوق، أخرجه ابن ماجه (١٦٣١)، والترمذي (٣٦١٨)، وابن حبان (٦٦٣٤)، وأحمد (١٣٣٣٦)، وأبو يعلى (٣٢٩٦)، وعبد بن حميد (١٢٨٩)، وابن سعد ٢/ ٢٧٤، والضياء في المختارة (١٥٩٤)، والخطيب ١٣/ ١٥، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٢٦٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37482، ترقيم محمد عوامة 35900)
حدیث نمبر: 37483
٣٧٤٨٣ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا سليمان بن كثير قال: حدثنا الجلد ابن أيوب عن معاوية بن قرة قال: قال لي أنس بن مالك: لم أر مثل الذي بلغنا عن ربنا لم (نخرج) (١) له (عن) (٢) كل أهل ومال أن تجاوز لنا عما دون الكبائر فما لنا ولها (قول) (٣) اللَّه: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ [النساء: ٣١] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا ہمیں اپنے پروردگار کی طرف سے جو بات پہنچی ہے میں تو اس کی مثال ہی نہیں دیکھتا۔ ہم اس کے لیے اپنے سارے اہل ومال سے نہیں نکلے۔ اگر وہ ہمارے لیے کبائر سے کم درجہ کو درگزر کردے تو پھر ہمیں کیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے : {إنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُدْخَلاً کَرِیمًا }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37483
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال الجلد بن أيوب، وأخرجه البزار كما في مجمع الزوائد ٧/ ٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37483، ترقيم محمد عوامة 35901)
حدیث نمبر: 37484
٣٧٤٨٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن محمد بن خالد أن أنسا كان يقول: ما من روحة ولا غدوة إلا (تنادي) (١) كل بقعة جارتها: يا جارتي ⦗٤٠٩⦘ (هل) (٢) مرّ بك اليوم نبي أو صديق أو عبد ذاكر للَّه عليك؟ فمن قائلة: نعم، ومن قائلة: لا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن خالد سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کوئی صبح یا کوئی شام نہیں گزرتی مگر یہ کہ زمین کا ہر ٹکڑا، اپنے ساتھ والے ٹکڑے کو آواز دیتا ہے۔ اے میرے ساتھی ! آج کے دن کب تیرے پاس سے نبی، صدیق یا خدا کو یاد کرنے والے کا گزر ہوا ہے ؟ پس بعض ٹکڑے کہتے ہیں ہاں اور بعض ٹکڑے کہتے ہیں نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37484
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37484، ترقيم محمد عوامة 35902)
حدیث نمبر: 37485
٣٧٤٨٥ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن (بشر) (١) عن أنس في قوله: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (٩٢) عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [الحجر: ٩٢ - ٩٣]، قال: لا إله إلا اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ارشادِ خداوندی { فَوَرَبِّکَ لَنَسْأَلَنَّہُمْ أَجْمَعِینَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37485
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37485، ترقيم محمد عوامة 35903)
حدیث نمبر: 37486
٣٧٤٨٦ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن عبد الملك عن أنس قال: من اتخذ أخا في اللَّه بُني (١) له برج في الجنة، ومن لبس (بأخيه) (٢) ثوبا ألبسه اللَّه ثوبا في (الجنة) (٣)، (و) (٤) من أكل بأخيه أكلة آكله اللَّه بها أكلة في (النار) (٥)، ومن قام بأخيه مقام سمعة ورياء أقامه اللَّه يوم القيامة مقام سمعة ورياء (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص (کسی کو) اللہ کے لیے بھائی بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک برج تعمیر کرتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی پر طعن کرکے دنیا حاصل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کا لباس پہنائیں گے۔ اور جو شخص اپنے بھائی پر طعن کرکے کچھ کھائے گا تو حق تعالیٰ اس کو جہنم میں کھلائیں گے اور جو شخص اپنے بھائی پر طعن کرکے شہرت اور ریا کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو رسوائی اور دکھلاوے کی جگہ کھڑا کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37486
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث، وأخرجه هناد (١٢١٧)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٢٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37486، ترقيم محمد عوامة 35904)
حدیث نمبر: 37487
٣٧٤٨٧ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن رجل عن أنس قال: ما التقى ⦗٤١٠⦘ رجلان من أصحاب محمد ﷺ فافترقا حتى (يدعوا ويذكرا اللَّه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ م میں سے کوئی دو آدمی بھی باہم ملتے تو وہ خدا کے ذکر اور باہم دعوت کے بعد جدا ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37487
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37487، ترقيم محمد عوامة 35905)
حدیث نمبر: 37488
٣٧٤٨٨ - حدثنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن أبي طلحة عن أنس قال: لو تعلمون ما أعلم (لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلًا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم رونا زیادہ کردو اور ہنسنا کم کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37488
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37488، ترقيم محمد عوامة 35906)
حدیث نمبر: 37489
٣٧٤٨٩ - حدثنا الثقفي عن حميد أطلنا الحديث ذات ليلة ثم دخلنا على أنس ابن مالك فقال: أطلتم الحديث البارحة أما إن حديث أول الليل يضر بآخره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک رات لمبی گفتگو کی۔ پھر ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا : تم نے آج رات بہت لمبی گفتگو کی۔ خبردار ! اول شب کی گفتگو آخر شب کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37489
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37489، ترقيم محمد عوامة 35907)
حدیث نمبر: 37490
٣٧٤٩٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد اللَّه بن أبي بكر سمع أنس بن مالك يقول: (يتبع) (١) الميت ثلاث: أهله وماله وعمله، يرجع أهله وماله، ويبقى واحد -يعني عمله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین چیزیں میت کے ساتھ جاتی ہیں۔ اس کے اہل، اس کے مال اور اس کے عمل۔ پھر اس کے اہل اور مال واپس لوٹ آتے ہیں اور ایک چیز یعنی اس کا عمل باقی رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37490
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وقد ورد مرفوعًا من طريق سفيان أخرجه البخاري (٦١٤٩)، ومسلم (٢٩٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37490، ترقيم محمد عوامة 35908)
حدیث نمبر: 37491
٣٧٤٩١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبيه عن حصين بن عبد اللَّه الحماني (١) عن أنس قال: ما أعرف شيئًا إلا الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نماز کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جانتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37491
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37491، ترقيم محمد عوامة 35909)
حدیث نمبر: 37492
٣٧٤٩٢ - حدثنا يحيى بن يعلى عن منصور عن طلق بن حبيب عن أنس بن مالك قال: ثلاث من كن فيه وجد طعم الإيمان وحلاوته: أن يكون اللَّه ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب في اللَّه وأن يبغض في اللَّه، وأن لو (أوقدت) (١) له نار يقع فيها أحب إليه من أن يشرك باللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو شخص ان کا حامل ہوگا وہ ایمان کی حلاوت پالے گا۔ یہ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو یہ ما سوا سے زیادہ محبوب رکھتا ہو۔ اور یہ کہ وہ اللہ کے لیے محبت کرے اور اللہ کے لیے نفرت کرے اور یہ کہ اگر اس کے لیے آگ جلائی جائے جس میں اس کو ڈالا جائے تو یہ اس کو خدا کے ساتھ شرک کرنے سے زیادہ محبوب ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37492
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ طلق صدوق، أخرجه النسائي (١١٧١٨) مرفوعًا، واللالكائي (١٦٩٠)، كما ورد مرفوعًا من طريق أبي قلابة عن أنس، أخرجه البخاري (١٦)، ومسلم (٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37492، ترقيم محمد عوامة 35910)
حدیث نمبر: 37493
٣٧٤٩٣ - حدثنا وكيع عن يزيد بن درهم قال: سمعت أنس بن مالك يقول في قوله: ﴿وَكُلَّ إِنْسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ﴾ [الإسراء: ١٣] قال: كتابه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ارشاد خداوندی { وَکُلَّ إنْسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد اس کا نامہ اعمال ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37493
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن درهم، أخرجه ابن أبي حاتم في علل الحديث ٢/ ٧٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37493، ترقيم محمد عوامة 35911)