حدیث نمبر: 37462
٣٧٤٦٢ - حدثنا عبدة بن سليمان وعبد اللَّه بن نمير (عن هشام) (١) عن أبيه عن عائشة أنها قالت: وددت أني إذا من كنت نسيا منسيًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتی تھیں میں یہ بات پسند کرتی ہوں کہ جب میں مرجاؤں تو میں بھولی بسری ہوجاؤں۔
حدیث نمبر: 37463
٣٧٤٦٣ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن أسامة بن زيد قال: حدثني إسحاق ⦗٤٠٣⦘ مولى زائدة أن عائشة قالت: يا ليتها شجرة (تسبح) (٢) و (تقضي) (٣) ما عليها، (و) (٤) أنها لم تخلق (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسحق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کاش کہ وہ ایک درخت ہوتیں جو تسبیح کرتا اور اپنی مدت پوری کرتا اور یہ پیدا ہی نہ ہوتیں۔
حدیث نمبر: 37464
٣٧٤٦٤ - حدثنا شبابة بن سوار عن ليث بن سعد عن يزيد عن عراك عن عروة أنه سمع عائشة تقول: يا ليتني لم أخلق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا : اے کاش کہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی۔
حدیث نمبر: 37465
٣٧٤٦٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: قالت عائشة: أقلوا الذنوب، فإنكم لن تلقوا اللَّه (بشيء) (١) يشبه قلة الذنوب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم گناہ کم کرو۔ کیونکہ تم ہرگز خدا کو قلت ذنوب کے مشابہ کسی چیز کے ساتھ نہ ملو گے۔
حدیث نمبر: 37466
٣٧٤٦٦ - حدثنا وكيع عن مسعر عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه عن الأسود عن عائشة قالت: إنكم (لتدعون) (١) أفضل العبادة: التواضع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ تم لوگوں نے افضل عبادت یعنی تواضع کو چھوڑ دیا ہے۔
حدیث نمبر: 37467
٣٧٤٦٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن تميم عن عروة بن الزبير قال: كانت عائشة تقسم سبعين ألفا وهي (ترقع) (١) درعها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ستر ہزار تقسیم کرتی تھیں لیکن اپنے دوپٹہ کو پیوند لگاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 37468
٣٧٤٦٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن عائشة قالت: من نوقش الحساب يوم القيامة لم يغفر له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جس سے قیامت کے دن حساب میں مناقشہ کیا گیا تو اس کو معافی نہیں ملے گی۔
حدیث نمبر: 37469
٣٧٤٦٩ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا أبو عقيل قال: حدثنا إسماعيل ابن أبي خالد قال: حدثني أبو السفر قال: قال عائشة: إن الناس قد ضيعوا أعظم دينهم: الورع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالسفر کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگوں نے اپنے دین کا بڑا حصہ یعنی ورع کو ضائع کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 37470
٣٧٤٧٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الرحمن بن (عابس) (١) عن أبيه عن عائشة (قالت) (٢): ما شبع آل محمد (٣) من طعام بُرٍّ فوق ثلاث (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ آل محمد ﷺ نے تین دن سے زیادہ گندم کا آٹا سیر ہو کر نہیں کھایا۔
حدیث نمبر: 37471
٣٧٤٧١ - [حدثنا ابن نمير عن هشام عن أبيه عن عائشة (قالت) (١): (كنا) (٢) نلبث شهرا ما نستوقد بنار، ما هو إلا التمر والماء] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم مہینہ مہینہ اس حالت میں گزارتے کہ ہم آگ نہیں جلاتے تھے۔ کھانا صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 37472
٣٧٤٧٢ - حدثنا ابن نمير عن هشام (بن) (١) عروة عن أبيه عن عائشة قالت: لا يحاسب أحد يوم القيامة إلا دخل الجنة ثم قرأت: ﴿فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ (٧) ⦗٤٠٥⦘ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [الانشقاق: ٧ - ٨] ثم قرأت: ﴿يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ﴾ [الرحمن: ٤١] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جس سے بھی قیامت کے دن حساب نہیں ہوا مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہوگا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے آیات قراءت کیں : { فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا } پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت تلاوت کی : { یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیمَاہُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِی وَالأَقْدَامِ }
حدیث نمبر: 37473
٣٧٤٧٣ - حدثنا ابن نمير عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: إذا تمنى أحدكم فليكثر (فإنما يسأل) (١) ربه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب تم میں سے کوئی تمنا کرے تو اس کو خوب کرنی چاہیے کیونکہ وہ اپنے رب ہی سے سوال کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 37474
٣٧٤٧٤ - حدثنا جعفر بن عون عن مسعر عن حماد (عن) (١) إبراهيم قال: قالت عائشة: وددت أني ورقة من هذا الشجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں اس درخت کا پتہ ہوتی۔
حدیث نمبر: 37475
٣٧٤٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: لقد توفي رسول اللَّه ﷺ وما في (رفي) (١) شيء يأكله ذو كبد إلا شطر شعير في (رف) (٢) لي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ میری الماری میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو جاندار کھا سکے سوائے چند جو کے جو میری الماری میں تھے۔
حدیث نمبر: 37476
٣٧٤٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني جرير بن حازم قال: سمعت عبد اللَّه بن أبي مليكة قال: سمعت عائشة تقول: يُسلط على الكافر في قبره شجاع أقرع، فيأكل لحمه من رأسه إلى رجليه، ثم يكسى اللحم فيأكل من رجليه إلى رأسه، ثم ⦗٤٠٦⦘ يكسى اللحم (فيأكل) (١) من رأسه إلى رجليه فهو كذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کافر پر اس کی قبر میں اس پر گنجا سانپ مسلط کیا جاتا ہے۔ پس وہ اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک گوشت کھالے گا۔ پھر گوشت چڑھایا جائے گا پھر وہ اس کے پاؤں سے اس کے سر تک کھالے گا پھر گوشت چڑھایا جائے گا پھر وہ اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک کھالے گا۔ پھر یہی معاملہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 37477
٣٧٤٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن (سعد) (١) قال: لقد رأيتنا (نغزو) (٢) مع رسول اللَّه ﷺ ما لنا زاد إلا (ورق) (٣) الحبلة و (هذا) (٤) (السمر) (٥) حتى إن أحدنا ليضع كما تضع الشاة ما له خلط، ثم أصبحت بنو أسد يعزرونني على الدين لقد خبت إذن وخسر عملي (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس سبزیوں کے پتوں اور اس کیکر کے علاوہ کوئی زادِ راہ نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ہم میں سے ایک بکری کے پاخانہ کی طرح پاخانہ کرتا تھا۔ جس میں کوئی پھوک نہیں ہوتا تھا۔ پھر بنو اسد مجھے دین کے معاملہ پر تعزیر کرنے لگے ہیں۔ پھر تو میں خائب ہوں گا اور میرا عمل خسارہ والا ہوگا۔
حدیث نمبر: 37478
٣٧٤٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون ووكيع عن إسماعيل عن قيس قال: قال الزبير ابن العوام: من استطاع منكم أن يكون له (خبئ) (١) (٢) من عمل صالح فليفعل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں جو شخص تم میں سے نیک عمل کو مخفی رکھ سکے تو اس کو یہ کام کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 37479
٣٧٤٧٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو عن صالح بن إبراهيم (بن) (١) عبد الرحمن بن عوف قال: سألت رجلًا من جهينة قلت: ما بال ⦗٤٠٧⦘ زيد بن خالد الجهني (أنبه) (٢) أصحاب رسول اللَّه ﷺ ذكرا؟ قال: إنه لم (يجر مجراهم) (٣) (فاحتيج إليه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی سے سوال کیا۔ زید بن خالد جہنی کا کیا معاملہ ہے ؟ (شیخ محمد عوامہ کے مطابق اگلی عبارت کا مفہوم واضح نہیں اور نسخوں میں اضطراب ہے)
حدیث نمبر: 37480
٣٧٤٨٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس عن جرير أنه قال لقومه وهو يعظهم: ما أنتم إلا كالنعامة (استترت) (١)، (واتخذوا ظهرًا) (٢)، فإن لم تجدوا (الظهر (فنعلكم)) (٣) (٤)، وإن (دون) (٥) الأرض خرابا يسراها، ثم تتبعها (يمناها) (٦)، والمحشر هاهنا (وإنا) (٧) بالأثر (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کو وعظ کرتے ہوئے فرماتے ہیں تم اس شتر مرغ کی طرح ہو جسے اڑا دیا گیا ہو، تم جانور کی سواری کو لازم پکڑو اگر وہ نہ ملے تو اپنا انتظام کرو۔ اور بیشک خرابی کے اعتبار سے سب سے پہلی زمین بائیں جانب والی ہوگی پھر اس کے بعد پیچھے دائیں جانب والی ہوگی۔ اور محشر یہاں ہوگا اور ہم پیچھے ہوں گے۔