حدیث نمبر: 37450
٣٧٤٥٠ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) (عن سماك) (٢) عن النعمان بن بشير قال: سمعته يقول: مثل ابن آدم ومثل الموت مثل رجل كان له ثلاثة أخلاء، فقال لأحدهم: ما عندك؟ فقال: عندي مالك فخذ منه ما شئت، وما لم تأخذ فليس لك، ثم قال للآخر: ما عندك؟ قال: أقوم عليك فإذا متَ دفنتُك وخليتك، ثم قال للثالث: ما عندك؟ فقال: أنا معك حيثما كنت، قال: فأما الأول فماله، ما أخذ فله، وما لم يأخذ فليس له، وأما الثاني فعشيرته إذا مات قاموا عليه ثم خلوه، وأما الثالث (فعمله) (٣) حيثما (وإن كان معه، وحيثما) (٤) دخل، دخل معه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک، حضرت نعمان بن بشیر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہتے سنا۔ ابن آدم اور موت کی مثال یہ ہے جیسے ایک آدمی کے تین دوست ہوں۔ وہ ان میں سے ایک دوست سے کہے۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ وہ دوست کہے۔ میرے پاس تیرا مال ہے۔ پس تو اس میں سے جو چاہے لے لے اور جو تو نہ لے سکے تو پھر وہ تیرا نہیں ہے۔ پھر اس آدمی نے دوسرے سے پوچھا۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا جب تو مرجائے گا تو میں تجھے دفن کروں گا اور تجھے اکیلا چھوڑ دوں گا۔ پھر اس آدمی نے تیسرے سے کہا۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم جہاں ہو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ حضرت نعمان نے فرمایا : پس پہلا دوست اس کا مال ہے کہ جو اس نے لے لیا وہ اس کا ہے اور جو اس نے نہ لیا وہ اس کا نہیں ہے اور جو دوسرا ہے وہ اس کا قبیلہ، برادری ہے۔ جب یہ مرجائے گا تو یہ اس کے پاس رہیں گے پھر اس کو اکیلا چھوڑ دیں گے اور تیسرا اس کا عمل ہے جو اس کے ساتھ ہوگا وہ جہاں بھی ہو اور جہاں وہ جائے گا یہ بھی ساتھ جائے گا۔
حدیث نمبر: 37451
٣٧٤٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا جرير قال: حدثني من سمع النعمان بن بشير يقول: إن الهلكة كل الهلكة أن (تعمل) (١) عمل السوء في زمان البلاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں بیشک مکمل ہلاکت ہے یہ بات کہ تم آزمائش کے زمانہ میں عمل کرو۔
حدیث نمبر: 37452
٣٧٤٥٢ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا حريز بن عثمان قال: حدثني حبان بن زيد الشرعبي (١) قال: وكان (ودا) (٢) للنعمان، وكان النعمان استعمله على (النبك) (٣) قال: فسمع النعمان يقول: ألا إن عمال اللَّه ضامنون على اللَّه، ألا إن عمال بني آدم لا يملكون ضمانهم، قال: فلما نزل النعمان (عن) (٤) منبره أتاه فاستعفى فقال: مالك؟ قال: سمعتك تقول كذا وكذا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبان بن زید بیان کرتے ہیں … یہ حضرت نعمان کے بہت دوست تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو مقام نبک پر عامل مقرر کیا تھا … کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت نعمان کو کہتے سنا خبردار ! خدا کے عمال خدا پر ضامن ہوں گے۔ خبردار ! بنی آدم کے عمال۔ اپنے ضمان کے مالک نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر جب حضرت نعمان اپنے منبر سے اترے تو یہ ان کے پاس آئے اور ان کو استعفیٰ دینا چاہا انہوں نے پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے آپ کو یوں یوں کہتے سنا ہے۔