کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37440
٣٧٤٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: كان عبد اللَّه بن عمرو يقول: دع ما لست منه في شيء (ولا) (١) تنطق فيما لا ⦗٣٩٥⦘ يعنيك، واخزن لسانك كما تخزن نفقتك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کہا کرتے تھے کہ جس کام سے تمہیں غرض نہیں ہے اس کو چھوڑ دو اور غیر متعلق معاملات میں گفتگو نہ کرو اور تم اپنی زبان کو یونہی خزانہ رکھو جس طرح تم اپنے خرچوں کو خزانہ رکھتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37440
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37440، ترقيم محمد عوامة 35858)
حدیث نمبر: 37441
٣٧٤٤١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: أخبرنا (يحيى ابن (سعيد) (١) الكلاعي عن عمرو بن عائذ) (٢) الأزدي عن غطيف بن الحارث الكندي قال: جلست أنا وأصحاب لي إلى عبد اللَّه بن (عمرو) (٣)، قال: فسمعته يقول: إن العبد إذا وضع في القبر كلمه فقال: يا ابن آدم ألم تعلم أني بيت الوحدة وبيت الظلمة وبيت الحق، يا ابن آدم ما غرك بي، قد كنت تمشي حولي (فدادًا) (٤) قال: فقلت لغطيف: يا أبا أسماء ما (فدادًا) (٥) قال: أحيانا (٦)، فقال له صاحبي وكان أسن مني: فإذا كان مؤمنا؟ قال: وسع له وجعل منزله أخضر وعرج بنفسه إلى الجنة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غطیف بن حارث کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے کچھ ساتھی حضرت عبداللہ بن عمرو کی خدمت میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ جب بندہ کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اس سے کلام کرتی ہے۔ اور کہتی ہے : اے آدم کے بیٹے ! کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میں تنہائی کا گھر ہوں اور ظلمت کا گھر ہوں اور حقیقت کا گھر ہوں ؟ اے آدم کے بیٹے ! تجھے کس چیز نے میرے ساتھ دھوکہ میں ڈالا تھا ؟ تم میرے گرد فداداً چلتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت غطیف سے پوچھا : اے ابواسمائ ! فداداً کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یعنی تکبر کے ساتھ۔ حضرت غطیف سے میرے ساتھی نے … جو عمر میں مجھ سے بڑا تھا … کہا۔ اگر وہ شخص مومن ہو ؟ غطیف نے کہا : اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کردیا جاتا ہے اور اس کی منزل کو سرسبز کردیا جاتا ہے اور اس کے نفس کو جنت کی طرف بلند کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37441
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37441، ترقيم محمد عوامة 35859)
حدیث نمبر: 37442
٣٧٤٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن أبي كثير عن عبد اللَّه بن عمرو قال: تجمعون جميعًا فيقال: أين فقراء هذه الأمة ومساكينها؟ فيبرزون، قال: فيقال: ما عندكم؟ قال: فيقولون: يا ربنا ابتلينا فصبرنا وأنت أعلم، قال: وأراه قال: ووليت الأموال والسلطان غيرنا، قال: ⦗٣٩٦⦘ فيقال: صدقتم، قال: فيدخلون الجنة قبل سائر الناس بزمان، وتبقى شدة الحساب على ذوي الأموال والسلطان، قال: (قلت) (١): فأين المؤمنون يومئذ؟ قال: يوضع لهم كراسي من نور ويظلل عليهم (الغمام) (٢)، ويكون ذلك اليوم أقصر عليهم من ساعة من نهار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : تم سب لوگوں کو اکٹھا جمع کیا جائے گا پھر کہا جائے گا۔ اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ چناچہ وہ لوگ ظاہر ہوں گے کہا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے ؟ وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں آزمائش میں ڈالا گیا لیکن ہم نے صبر کیا اور تو خوب جانتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے مال اور سلطنت ہمارے علاوہ دیگر لوگوں کو دی۔ اس پر کہا جائے گا تم نے سچ کہا ہے۔ پس وہ لوگ باقی لوگوں سے کافی دیر پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور مال و سلطنت کے مالک حساب کی شدت میں باقی رہیں گے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : اس دن اہل ایمان کہاں ہوں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان پر بادل سایہ فگن ہوں گے اور یہ دن ان پر دن کی ایک گھڑی سے بھی چھوٹا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37442
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو كثير هو زهير بن الأقمر وثفه النسائي، وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٦٤٣)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٩ و ٦/ ٢٠٧، والدينوري في المجالسة (٢٠٣٧)، وورد مرفوعًا، أخرجه ابن حبان (٧٤١٩)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ١٠/ ٣٣٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37442، ترقيم محمد عوامة 35860)
حدیث نمبر: 37443
٣٧٤٤٣ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن مجاهد عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ما من ملأ يجتمعون فيذكرون (اللَّه) (١) إلا ذكرهم اللَّه في ملأ أعز من ملأهم وأكرم، وما من ملأ يتفرقون لم يذكروا اللَّه إلا كان مجلسهم حسرة عليهم يوم القيامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی جماعت بھی ایسی نہیں ہے جو جمع ہو اور اللہ کا ذکر کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جماعت میں یاد کرتا ہے جو ان کی جماعت سے معزز اور مکرم ہوتی ہے اور کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو جدا ہو جبکہ اس نے خدا کا ذکر نہ کیا ہو مگر یہ کہ یہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت کا ذریعہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37443
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن فضيل في الدعاء (٨٤)، وأحمد في الزهد (ص ١٤٩)، والسمرقندي في التفسير ١/ ١٣٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37443، ترقيم محمد عوامة 35861)
حدیث نمبر: 37444
٣٧٤٤٤ - حدثنا (معاوية) (١) بن هشام قال: حدثنا سفيان عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي قال: أرسلنا امرأة إلى عبد اللَّه بن عمرو تسأله: ما الذنب الذي لا يغفره اللَّه؟ قال: ما من ذنب أو عمل مما بين السماء يتوب منه العبد إلى اللَّه تعالى قبل الموت إلا تاب عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعثمان نہدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک عورت کو حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس یہ سوال کرنے بھیجا کہ وہ کون سا گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا : زمین و آسمان کے درمیان کوئی گناہ یا عمل ایسا نہیں ہے کہ جس پر آدمی موت سے پہلے اللہ سے توبہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37444
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37444، ترقيم محمد عوامة 35862)
حدیث نمبر: 37445
٣٧٤٤٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ما من أحد إلا يلقى اللَّه بذنب إلا يحيى بن زكريا ثم تلا: ⦗٣٩٧⦘ ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾ [آل عمران: ٣٩] ثم رفع شيئًا صغيرا من الأرض فقال: ما كان معه مثل هذا ثم ذبح ذبحا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہر آدمی اللہ تعالیٰ سے کسی گناہ کے ساتھ ملاقات کرے گا مگر یحییٰ بن زکریا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } پھر آپ رضی اللہ عنہ نے زمین سے ایک چھوٹی سی چیز اٹھائی اور فرمایا : ان کے پاس اس کے بقدر بھی (جرم) نہ تھا پھر بھی انہیں ذبح کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37445
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه ابن عساكر ٦٤/ ٩٥، وورد مرفوعًا بنحوه، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٠٤، وابن عساكر ٦٤/ ١٧٤، وابن جرير ٣/ ٢٥٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37445، ترقيم محمد عوامة 35863)
حدیث نمبر: 37446
٣٧٤٤٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة عن عبد اللَّه بن عمرو قال: انتهيت إليه وهو ينظر إلى المصحف قال: قلت: أي شيء (١) تقرأ؟ قال: حزبي الذي أقوم به الليل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ، حضرت عبداللہ بن عمرو کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جبکہ آپ قرآن مجید کو دیکھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کیا پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اپنا وہ پارہ جو میں نے آج رات قیام میں پڑھنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37446
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٤/ ٢٦٥، وابن عساكر ٣١/ ٢٦٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37446، ترقيم محمد عوامة 35864)
حدیث نمبر: 37447
٣٧٤٤٧ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي عمران الجوني أن عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) بينما هو جالس وبين لديه نار إذ شهقت فقال: والذي نفسي بيده إنها لتعوذ باللَّه من النار الكبرى، أو قال: من نار جهنم، قال: فرأى القمر حين جنح للغروب فقالوا: واللَّه إنه ليبكي الآن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعمران سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آگ تھی کہ اچانک میرا سانس گھٹنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! یہ آگ بھی اللہ تعالیٰ سے بڑی آگ … یا فرمایا جہنم کی آگ … سے پناہ مانگتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے چاند کو غروب ہوتے وقت جھک کر دیکھا تو فرمایا : بخدا ! یہ اس وقت رو رہا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37447
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37447، ترقيم محمد عوامة 35865)
حدیث نمبر: 37448
٣٧٤٤٨ - حدثنا جعفر بن عون عن مسعر عن زياد بن (علاقة) (١) عن عبد اللَّه ابن (عمرو) (٢) قال: [لوددت أني هذه الشجرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں یہ درخت ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37448
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37448، ترقيم محمد عوامة 35866)
حدیث نمبر: 37449
٣٧٤٤٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلي بن (عبيد) (١) عن يحيى بن قمطة ⦗٣٩٨⦘ عن عبد اللَّه بن عمرو قال] (٢): (الدنيا) (٣) سجن المؤمن وجنة الكافر، فإذا مات المؤمن يخلى (سربه) (٤) يسرح حيث شاء (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ پس جب مومن کو موت آتی ہے تو اس کو آزاد کردیا جاتا ہے کہ وہ جہاں چاہے، سیر کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37449
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37449، ترقيم محمد عوامة 35867)