حدیث نمبر: 37426
٣٧٤٢٦ - حدثنا أبو أسامة عن عمران بن زائدة بن نشيط عن أبيه عن أبي خالد الوالبي عن أبي هريرة قال: إن اللَّه يقول: يا ابن آدم تفرغ (لعبادتي) (١) ⦗٣٩٠⦘ (أملأ) (٢) قلبك غنى، وأسد فقرك، وإلا تفعل أملأ يديك شغلا ولا أسد فقرك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اے ابن آدم ! تم میری عبادت کے لیے فارغ ہوجاؤ میں تمہارے دل کو غنا سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کو بند کردوں گا۔ وگرنہ میں تمہارے دونوں ہاتھوں کو مشغولیات سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو بند نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 37427
٣٧٤٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي مالك الأشجعي عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: لا يقبض المؤمن حتى يرى البشرى، فإذا قبض نادى فليس في الدار دابة (صغيرة ولا كبيرة) (١) إلا هي تسمع صوته إلا الثقلين: الجن والإنس تعجلوا به إلى أرحم الراحمين، فإذا وضع على سريره قال: ما أبطأ ما تمشون، فإذا أدخل في (لحده) (٢) أقعد فأري مقعده من الجنة وما أعد اللَّه له، وملئ قبره من روح وريحان ومسك، قال: فيقول: يا رب قدمني، قال: فيقال: لم يأن لك، (إن لك) (٣) أخوة وأخوات لما (يلحقون) (٤)، (و) (٥) لكن نم قرير العين، قال أبو هريرة: فوالذي نفسي بيده ما نام نائم شاب طاعم ناعم ولا فتاة في الدنيا (نومة) (٦) بأقصر ولا أحلى من نومته حتى يرفع رأسه إلى البشرى يوم القيامة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح قبض نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ بشارت دیکھ لے۔ پھر جب اس کی روح قبض ہوتی ہے تو آواز دیتا ہے۔ گھر میں کوئی چھوٹا یا بڑا جانور نہیں ہوتا سوائے انس وجان کے مگر یہ کہ وہ اس کی آواز کو سن لیتا ہے۔ اس کو ارحم الراحمین کی طرف جلدی لے کر جاؤ۔ پھر جب اس کو تخت پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے تم لوگ کس قدر آہستہ چلتے ہو ؟ پھر جب اس کو اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کو بٹھایا جاتا ہے اور اس کو جنت میں اس کا ٹھکانہ اور اس کے لیے خدا کی طرف سے تیار سامان دکھایا جائے گا اور اس کی قبر کو رحمت، ریحان اور مشک سے بھر دیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے آگے بھیج دے۔ کہا جائے گا ابھی تیرا وقت نہیں ہے۔ تیرے کچھ بہن بھائی ہیں جو ابھی تک ساتھ نہیں ملے۔ لیکن تو آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے سوجا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ کوئی کھاتا پیتا، ناز ونعم والا نوجوان لڑکا یا لڑکی دنیا میں اس قدر میٹھی اور مختصر نیند نہیں سوتی جیسی وہ نیند ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنا سر بشارت کے لیے بلند کرے گا۔
حدیث نمبر: 37428
٣٧٤٢٨ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: حدثنا ابن عون عن عبيد بن (باب) (١) قال: كنت أفرغ على أبي هريرة من إداوة، فمر به رجل فقال: أين تريد يا فلان؟ قال: السوق، قال: إن استطعت أن تشتري الموت قبل أن ترجع فافعل، قال: ثم أقبل عليّ فقال: لقد خفت اللَّه مما استعجل إليه قبل القدر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن باب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر مشکیزہ میں سے پانی ڈال رہا تھا کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے فلاں ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : بازار کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم واپس آنے سے قبل موت کو خرید سکتے ہو تو خرید لو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تحقیق میں اللہ کا خوف رکھتا ہوں اس چیز سے جو تقدیر سے پہلے جلدی مانگی جائے۔
حدیث نمبر: 37429
٣٧٤٢٩ - حدثنا حفص بن غياث عن أبي مالك عن أبي حازم قال: مررت مع أبي هريرة على قبر دفن حديثا فقال: (لركعتان) (١) خفيفتان مما تحتقرون (زادهما هذا) (٢) هنا أحب إليّ من دنياكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک تازہ دفن ہونے والے مردہ کی قبر پر سے گزرا تو آپ نے فرمایا : دو ہلکی رکعتیں جن کو تم حقیر سمجھتے ہو وہ اس کا زاد راہ ہوں تو یہ چیز مجھے تمہاری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
حدیث نمبر: 37430
٣٧٤٣٠ - حدثنا (أبو خالد) (١) عن داود (عن علي) (٢) بن زيد عن (٣) (أبي) (٤) عثمان قال: بلغني عن أبي هريرة قال: إن اللَّه يجزي المؤمن (بالحسنة) (٥) ألف ألف حسنة (٦)، فأتيته فقلت: يا أبا هريرة إنه بلغني (أنك) (٧) تقول: إن اللَّه يجزئ المؤمن ⦗٣٩٢⦘ (بالحسنة) (٨) (ألف ألف حسنة) (٩)، قال: (نعم) (١٠)، وألفي ألف حسنة، وفي القرآن من ذلك ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ (فمن يدري تسمية تلك الأضعاف) (١١): ﴿وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: ٤٠]، قال: الجنة (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعثمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ بات پہنچی کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں کے ساتھ دیتے ہیں چناچہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! مجھے آپ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں میں دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں اور دو لاکھ بھی۔ قرآنِ کریم میں اس کے متعلق ہے {إنَّ اللَّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُضَاعِفْہَا } پس کون اس دو چند کی مقدار کو جانتا ہے ؟ { وَیُؤْتِ مِنْ لَدُنْہُ أَجْرًا عَظِیمًا } فرمایا : جنت۔
حدیث نمبر: 37431
٣٧٤٣١ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن أبي حازم قال: قال أبو هريرة: من كسا خلقا كساه اللَّه به حريرا، ومن كسا جديدا كساه اللَّه به استبرقا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص پرانا کپڑا پہنائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس کے بدلہ میں ریشم پہنائے گا اور جو شخص نیا کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض استبرق پہنائے گا۔
حدیث نمبر: 37432
٣٧٤٣٢ - حدثنا وكيع عن فضيل بن غزوان عن أبي حازم عن أبي هريرة أن رجلًا من (الأنصار) (١) أذنه (٢) ضيف، فلم يكن عنده إلا قوته وقوت صبيانه، فقال لامرأته: نومي الصبية وأطفئي السراج، قال: فنزلت هذه الآية: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ [الحشر: ٩] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی کے پاس ایک مہمان نے اجازت طلب کی۔ اس انصاری کے پاس صرف اپنے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا تھا۔ تو اس نے اپنی بیوی سے کہا : بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو ۔ راوی کہتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی : { وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ }۔
حدیث نمبر: 37433
٣٧٤٣٣ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الأعمش ⦗٣٩٣⦘ عن أبي صالح عن أبي هريرة (قال) (٢): إذا مات الميت تقول الملائكة: ما قدم؟ ويقول الناس: ما ترك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب میت مرجاتی ہے تو فرشتے کہتے ہیں اس نے آگے کیا بھیجا ؟ اور لوگ کہتے ہیں اس نے پیچھے کیا چھوڑا۔
حدیث نمبر: 37434
٣٧٤٣٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عاصم عن عبيد مولى أبي رهم قال: مررت مع أبي هريرة على نخل فقال: اللهم اطعمنا من (ثمر) (١) لا (تؤبره) (٢) بنو آدم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے ہمراہ ایک کھجور کے درخت کے پاس سے گزرا تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! ہمیں وہ کھجور کھلا جس کو بنی آدم نے نہ لگایا ہو۔
حدیث نمبر: 37435
٣٧٤٣٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: حدثنا محمد بن عبد الرحمن مولى طلحة عن عيسى بن طلحة عن أبي هريرة قال: لا تطعم النار رجلًا بكى من خشية اللَّه أبدا حتى يرد اللبن في الضرع، ولا يجتمع غبار في سبيل اللَّه ودخان جهنم في منخري رجل مسلم أبدا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص خوفِ خدا کی وجہ سے رویا اس کو جہنم کی آگ تب تک نہ کھائے گی جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ چلا جائے اور کسی بندہ مسلم کے نتھنوں میں راہ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہوسکتا۔
حدیث نمبر: 37436
٣٧٤٣٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن عبد الواحد بن قيس عن أبي هريرة قال: من أطفأ عن مؤمن سيئة فكأنما أحيا موؤدة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص کسی مومن سے برائی دور کرتا ہے تو گویا اس نے زندہ درگور ہونے والی بچی کو زندہ کیا۔
حدیث نمبر: 37437
٣٧٤٣٧ - حدثنا أبو أسامة عن زهير عن ليث عن عطاء عن أبي هريرة قال: لا ⦗٣٩٤⦘ خير في فضول الكلام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فضول کلام میں کوئی بہتری نہیں۔
حدیث نمبر: 37438
٣٧٤٣٨ - حدثنا عبد اللَّه بن (نمير) (١) عن الأعمش عن أبي يحيى مولى جعدة بن هبيرة عن أبي هريرة قال: مر رجل على كلب مضطجع عند قليب (قد) (٢) كاد أن يموت من العطش، فلم يجد ما يسقيه فيه، فنزع خفه فجعل يغرف له ويسقيه فحاسبه اللَّه به فأدخله الجنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی قلیب کے پاس ایک گرے ہوئے کتے کے پاس سے گزرا جو کتا پیاس کی وجہ سے موت کے قریب تھا۔ اس آدمی نے پانی پلانے کے لیے کچھ نہیں پایا تو اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس کے لیے چلو بھرا اور اس کو پلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کا حساب فرمایا اور اس کو جنت میں داخل فرما دیا۔
حدیث نمبر: 37439
٣٧٤٣٩ - حدثنا (معاذ بن معاذ) (١) عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة قال: دخلت على أبي هريرة وهو مريض فاحتضنته من خلفه، وقلت: اللهم اشف أبا هريرة فقال: اللهم اشدد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ مریض تھے۔ میں نے ان کو پیچھے سے گود میں لے لیا اور میں نے کہا اے اللہ ! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو شفا دے دے۔ تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! اور شدید فرما۔