حدیث نمبر: 37409
٣٧٤٠٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي ذر قال: واللَّه لو تعلمون ما أعلم لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلا، ولو تعلمون ما أعلم ما انبسطتم إلى نسائكم، (ولا تقاررتم على) (١) فرشكم ولخرجتم ⦗٣٨٣⦘ إلى الصعدات تجأرون وتبكون، واللَّه لو أن اللَّه خلقني يوم خلقني شجرة تعضد وتؤكل ثمرتي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم وہ کچھ جانتے تو البتہ تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے اور اگر تم لوگ وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم اپنی عورتوں کی طرف ہاتھ نہ پھیلاتے اور تم اپنے بستروں پر اطمینان نہ کرتے اور تم گھاٹیوں کی طرف آوازیں بلند کرتے اور روتے ہوئے نکل جاتے۔ خدا کی قسم ! اگر میری تخلیق کے دن مجھے ایک کٹنے اور کھائے جانے والا درخت بنادیا ہوتا۔
حدیث نمبر: 37410
٣٧٤١٠ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن (أبي المحجل) (١) عن ابن عمران بن حطان عن أبيه قال: قال أبو ذر: الصاحب الصالح خير من الوحدة، والوحدة خير من صاحب السوء، (ومملي) (٢) الخير خير من الساكت، والساكت خير من (مملي) (٣) الشر، والأمانة خير من الخاتم (٤)، والخاتم خير من ظن السوء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حطان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ساتھی، تنہائی سے بہتر ہے اور تنہائی، برے ساتھی سے بہتر ہے اور خیر کا املاء کروانے والا ساکت سے بہتر ہے اور ساکت، شر کے املاء کروانے والے سے بہتر ہے۔ اور امانت، خاتم سے بہتر ہے اور خاتم برے گمان سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 37411
٣٧٤١١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي ذر قال: ذو الدرهمين يوم القيامة أشد حسابا من ذي الدرهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دو درہموں والا شخص بروز قیامت ایک درہم والے سے شدید حساب میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 37412
٣٧٤١٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي ذر قال: قيل له ألا تتخذ أرضا كما اتخذ طلحة والزبير، قال: فقال: وما أصنع بأن أكون أميرا؟ وإنما يكفيني كل يوم شربة من ماء أو نبيذ أو لبن وفي الجمعة قفيز من قمح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ جس طرح حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے زمین بنائی ہے آپ کیوں نہیں بنا لیتے ؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا : میں امیر ہو کر کیا کروں گا ؟ مجھے تو روزانہ کے لیے ایک گھونٹ پانی یا نبیذ کا ایک گھونٹ یا دودھ کا گھونٹ کافی ہے اور ہر جمعہ کے لیے ایک قفیز گندم کافی ہے۔
حدیث نمبر: 37413
٣٧٤١٣ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن عمرو بن ميمون عن أبيه عن رجل من بني سليم يقال له عبد اللَّه بن سيدان قال: صحبت أبا ذر فقال لي: ألا أخبرك بيوم حاجتي، إن يوم حاجتي يوم أوضع في حفرتي، فذلك يوم حاجتي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن سیدان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے مجھے کہا کیا میں تمہیں اپنی حاجت کا دن نہ بتاؤں ؟ بیشک میری حاجت کا دن وہ ہے جب مجھے میری قبر میں رکھا جائے گا۔ پس یہ میری حاجت کا دن ہے۔
حدیث نمبر: 37414
٣٧٤١٤ - حدثنا أبو معاوية عن موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن (خراش) (١) قال: رأيت أبا ذر بالربذة وعنده امرأة له سحماء أو شحباء، (قال) (٢) وهو في (مظلة) (٣) سوداء قال: فقيل (له: يا) (٤) أبا ذر لو اتخذت امرأة هي أرفع من هذه، قال: فقال: إني واللَّه لأن أتخذ امرأة تضعني أحب إلي من أن أتخذ امرأة ترفعني، قالوا: يا أبا ذر إنك (امرؤ) (٥) ما (يكاد) (٦) يبقى لك ولد، (قال) (٧): فقال: وإنا نحمد اللَّه الذي يأخذهم منا في دار الفناء، و (يدخرهم) (٨) لنا في دار البقاء، قال: وكان يجلس على قطعة المسح والجوالق، قال: فقالوا: يا أبا ذر لو اتخذت بساطا هو ألين من بساطك هذا، قال: فقال: اللهم غفرا، خذ ما (أوتيت) (٩)، إنما خلقنا لدار لها نعمل وإليها نرجع (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن خراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں دیکھا ان کے ساتھ ایک سحماء یا شحباء عورت تھی۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہایک سیاہ سائبان میں تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ اگر آپ اس عورت سے بلند عورت رکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا : خدا کی قسم ! میں کوئی ایسی عورت رکھوں جو مجھے نیچا رکھے یہ بات مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسی عورت رکھوں جو مجھے بلند کرے۔ لوگوں نے کہا : اے ابوذر رضی اللہ عنہ ! آپ اولاد کی طرف سے غم زدہ ہیں۔ آپ کا کوئی بچہ باقی نہیں رہتا۔ راوی کہتے ہیں اس پر آپ نے فرمایا : ہم اس اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں جو ہم سے دارالفناء میں بچے لیتا ہے اور ان کو ہمارے لیے دارالبقاء میں ذخیرہ کرلیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ٹاٹ اور بالوں سے بنے بچھونے پر بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : اے ابوذر رضی اللہ عنہ ! اگر آپ کوئی ایسا بچھونا بنا لیتے جو آپ کے اس بچھونے سے نرم ہوتا ؟ اس پر انہوں نے فرمایا : اللَّہُمَّ غُفْرًا ” اے اللہ ! مغفرت عطا فرما۔ “ مجھے جو دیا جائے وہ آپ لے لیں۔ کیونکہ ہم تو اس گھر کے لیے عامل پیدا کیے گئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔
حدیث نمبر: 37415
٣٧٤١٥ - حدثنا أبو معاوية عن الحسن (بن) (١) سالم بن أبي الجعد عن أبيه قال: بعث أبو الدرداء إلى أبي ذر رسولا، قال: فجاء الرسول فقال لأبي ذر: إن أخاك أبا الدرداء يقرئك السلام، يقول لك: اتق اللَّه و (خف) (٢) الناس، قال: فقال أبو ذر: مالي وللناس، وقد تركت لهم بيضاءهم وصفراءهم، ثم قال للرسول: انطلق إلى المنزل، قال: فانطلق معه، قال: فلما دخل بيته إذا (طعيم) (٣) في عباءة ليس بالكثير، وقد انتشر بعضه، (قال) (٤): فجعل أبو ذر يكنسه ويعيده في العباءة، قال: ثم قال: إن من فقه المرء رفقه في معيشته، قال: ثم جيء بُطعيم فوضع بين يديه، قال: فقال لي: كُلْ، قال: فجعل الرجل يكره أن يضع يده في الطعام لما يرى من قلته، قال: فقال له أبو ذر: ضع يدك، فواللَّه لأنا بكثرته أخوف مني بقلته، قال: فطعم الرجل، ثم رجع إلى أبي الدرداء فأخبره بما رد عليه، فقال أبو الدرداء: ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء على ذي لهجة أصدق منك يا أبا ذر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا۔ قاصد آیا اور اس نے حضرت ابوذر کو کہا آپ کے بھائی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہاپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے کہتے ہیں اللہ سے ڈرو اور لوگوں سے مخفی رہو۔ اس پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے لوگوں سے کیا لینا ہے۔ میں نے ان کے لیے ان کی چاندی سونے کو چھوڑ دیا ہے۔ پھر آپ نے قاصد سے فرمایا۔ گھر کی طرف چلو۔ وہ آپ کے ہمراہ چل پڑا۔ پس جب وہ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو ایک چوغہ میں تھوڑی سی کھانے کی چیز تھی جو بکھری ہوئی تھی۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور اس کو چوغہ میں جمع کیا۔ پھر آپ نے فرمایا : بیشک آدمی کی فقاہت میں سے اس کا اپنی معیشت کے ساتھ نرمی والا معاملہ کرنا ہے۔ پھر کچھ تھوڑا سا کھانا لایا گیا اور ان کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے مجھے کہا کھاؤ۔ وہ آدمی اس کھانے میں ہاتھ ڈالنے کو ناپسند کرتا تھا۔ کیونکہ وہ تھوڑا دکھائی دے رہا تھا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا ہاتھ ڈالو خدا کی قسم ! ہم کھانے کی قلت سے اتنا خوفزدہ نہیں ہوتے جتنا اس کی کثرت سے ہوتے ہیں۔ اس پر آدمی نے کھانا کھالیا پھر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس واپس چلا گیا اور ان کو ساری حالت بیان کی۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوذر رضی اللہ عنہ تجھ سے زیادہ سچے کسی آدمی پر کسی درخت نے سایہ نہیں کیا اور کسی زمین نے پناہ نہیں دی۔
حدیث نمبر: 37416
٣٧٤١٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي بكر بن المنكدر قال: أرسل حبيب بن مسلمة وهو على الشام إلى أبي ذر بثلاثمائة دينار، فقال: استعن بها على حاجتك، فقال أبو ذر: ارجع بها، فما وجد أحدا (أغر) (١) باللَّه منا، ما لنا (إلا) (٢) ظل نتوارى به، وثلة من غنم تروح علينا، ومولاة لنا ⦗٣٨٦⦘ تصدقت علينا بخدمتها، ثم إني لأتخوف الفضل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن منذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حبیب بن مسلمہ نے … یہ شام پر حکمران تھے … حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف تین سو دینار بھیجے اور فرمایا : ان سے اپنی ضرورت میں مدد کرلینا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کو واپس لے جاؤ۔ ہم سے بڑھ کر کوئی شخص غنی نہیں ہے۔ ہمیں تو صرف ایک سایہ چاہیے جس میں ہم سایہ حاصل کریں اور بکریوں کا ایک ریوڑ ہے جو ہمیں راحت دیتا ہے اور ایک آزاد لونڈی ہے جو اپنی خدمات کا ہم پر صدقہ کرتی ہے پھر میں اس سے زیادہ چیز کا خوف کھاتا ہوں۔
حدیث نمبر: 37417
٣٧٤١٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا (علي بن مسعدة قال: حدثنا) (١) عبد اللَّه الرومي قال: دخلت على أم طلق وإنها حدثته أنها دخلت على أبي ذر، فأعطته شيئا من دقيق وسويق، فجعله في طرف ثوبه وقال: ثوابك على اللَّه، فقلت لها: يا أم طلق كيف رأيت هيئة أبي ذر؟ فقالت: يا بني رأيته شعثا شاحبا، ورأيت في يده صوفا منفوشا وعودين قد خالف بينهما وهو يغزل من ذلك الصوف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام طلق بیان کرتی ہیں کہ وہ حضرت ابوذر کے پاس گئیں اور انہوں نے حضرت ابوذر کو کچھ آٹا اور ستو دئیے تو آپ نے ان کو اپنے کپڑوں کے کنارے میں باندھ لیا اور فرمایا : آپ کا ثواب اللہ پر ہے۔ میں (راوی) نے کہا : اے ام طلق ! آپ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی حالت کیسی دیکھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں نے ان کو پراگندہ بال اور اداس حالت میں دیکھا اور میں نے ان کے ہاتھ میں دھنی ہوئی اون دیکھی اور دو باہم الٹی لکڑیاں تھیں جن سے آپ اون کاتا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 37418
٣٧٤١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سفيان عن المغيرة بن النعمان عن عبد اللَّه بن الأقنع الباهلي عن الأحنف بن قيس قال: كنت جالسا في مسجد المدينة، فأقبل رجل لا تراه حلقة إلا فروا منه، حتى انتهى إلى الحلقة التي كنت فيها، فثبتُ، وفروا، فقلت: من أنت؟ فقال: أبو ذر صاحب رسول اللَّه، (فقلت) (١): ما يفر الناس منك؟ فقال: إني أنهاهم عن الكنوز، فقلت: إن أعطياتنا قد بلغت وارتفعت فتخاف علينا منها؟ قال: أما اليوم فلا، ولكنها يوشك أن تكون أثمان دينكم فدعوهم وإياها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی سامنے سے آیا جو حلقہ بھی اس کو دیکھتا تو وہ حلقہ بھاگ جاتا۔ یہاں تک کہ وہ آدمی اس حلقہ کے پاس آیا جس میں میں بیٹھا ہوا تھا۔ باقی لوگ فرار ہوگئے اور میں بیٹھا رہا۔ میں نے کہا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے کہا : لوگ آپ سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ انہوں نے کہا میں ان کو خزانے جمع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ میں نے کہا : (کیا) ہماری جاگیریں بہت زیادہ بلند ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو ہم پر خوف ہے ؟ انہوں نے کہا : آج تو یہ حالت نہیں ہے لیکن عنقریب ایسا ہوگا کہ تمہارے دین کی قیمت ہوگی پس تم ان کو چھوڑ دو اور ان سے بچو۔