حدیث نمبر: 37381
٣٧٣٨١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال: لما خلق اللَّه آدم قال: واحدة لي وواحدة لك، وواحدة بيني وبينك، فأما التي لي فتعبدني لا تشرك بي شيئا، وأما التي لك فما عملت من شيء (جزيتك) (١) به، وأما التي بيني وبينك (فمنك) (٢) المسألة (والدعاء) (٣) وعلي الإجابة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو فرمایا : ایک چیز میری ہے اور ایک چیز تیری ہے اور ایک چیز میرے اور تیرے درمیان ہے جو چیز میری ہے وہ یہ کہ تم میری عبادت کرو۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو چیز تمہاری ہے وہ یہ کہ تم جو عمل کرو گے میں تمہیں اس کا بدلہ دوں گا اور جو چیز میرے اور تمہارے درمیان ہے وہ یہ کہ تم سوال کرو اور دعا مانگو اور میں قبول کروں گا۔
حدیث نمبر: 37382
٣٧٣٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال: كانت امرأة فرعون تعذب بالشمس، فإذا انصرفوا عنها أظلتها الملائكة بأجنحتها، فكانت ترى بيتها من الجنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فرعون کی بیوی کو دھوپ میں رکھ کر عذاب دیا جاتا تھا لیکن جب یہ لوگ اس سے واپس پلٹ جاتے تو فرشتے اس عورت پر اپنے پروں کا سایہ کردیتے۔ پس وہ عورت اپنا جنت والا گھر دیکھ لیتی۔
حدیث نمبر: 37383
٣٧٣٨٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن سلمان وعبد اللَّه بن سلام التقيا، فقال أحدهما لصاحبه: إن لقيت ربك فأخبرني ماذا لقيت منه؟ وإن لقيته قبلك (لقيتك) (١) فأخبرتك، فتوفي أحدهما فلقيه ⦗٣٧٣⦘ صاحبه في المنام، فقال: توكل وأبشر، فإني لم أر مثل التوكل قط -قالها ثلاث مرات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت سلمان اور حضرت عبداللہ بن سلام کی باہم ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔ اگر تم اپنے رب سے (مجھ سے پہلے) ملو تو تم مجھے بتادینا کہ میں کیا لے کر خدا سے ملوں۔ اور اگر تم سے پہلے میں خدا سے ملا تو میں تمہیں ملوں گا اور تمہیں بتاؤں گا۔ پھر ان میں سے ایک فوت ہوگیا اور وہ اپنے ساتھی کو خواب میں ملا اور کہا۔ توکل کرو اور بشارت پالو۔ کیونکہ میں نے تو کل جیسی چیز بالکل نہیں دیکھی۔ یہ بات اس نے تین مرتبہ کہی۔
حدیث نمبر: 37384
٣٧٣٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن زيد بن (صوحان) (١) عن سلمان أنه ركع ركعتين قبل الفجر، قال: (فقلت) (٢) له، فقال: احفظ نفسك (يقظان) (٣) يحفظك نائما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان کے بارے میں حضرت زید بن صوحان روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فجر سے پہلے دو رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا تو انہوں نے فرمایا : تم بیداری میں اپنے نفس کی حفاظت کرو تو وہ نیند میں تمہاری حفاظت کرے گا۔
حدیث نمبر: 37385
٣٧٣٨٥ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن (شمر) (١) عن بعض أشياخه عن سلمان قال: أكثر الناس ذنوبًا يوم القيامة أكثرهم كلاما في معصية اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ گناہوں والا وہ شخص ہوگا جب سب سے زیادہ خدا کی نافرمانی میں کلام کرنے والا ہوگا۔
حدیث نمبر: 37386
٣٧٣٨٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن (الغاز) (١) عن عبادة بن نسي قال: كان لسلمان (خباء) (٢) من عباء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن نسی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان کا عباء کا ایک خیمہ تھا۔
حدیث نمبر: 37387
٣٧٣٨٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن حبيب بن شهيد عن بن بريدة أن سلمان كان يصنع الطعام من كسبه فيدعو المجذومين فيأكل معهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، اپنی کمائی سے کھانا تیار کرتے تھے۔ پھر آپ مجذومین کو بلاتے اور ان کے ہمراہ کھانا کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 37388
٣٧٣٨٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن النعمان بن حميد قال: دخلت مع خالي عباد على سلمان، فلما رآه صافحه سلمان، وإذا (هو) (١) مقصص، وإذا هو يسف (الخوص) (٢)، فقال (له) (٣): اشتري لي بدرهم فأسفه و (أبيعه) (٤) بثلاثة، فأتصدق بدرهم وأجعل درهما فيه، وأنفق درهما، ولو أن عمر نهاني ما انتهيت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن حمید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے خالو عباد کے ہمراہ حضرت سلمان کے ہاں گیا۔ پس جب حضرت سلمان نے ان کو دیکھا تو انہیں مصافحہ کیا۔ اور ان کے بال خوب لمبے تھے اور وہ چٹائی بن رہے تھے۔ حضرت سلمان نے فرمایا : یہ چیز میرے لیے ایک درہم میں خریدی جاتی ہے۔ میں اس کو بنتا ہوں اور اس کو تین درہموں میں بیچتا ہوں۔ پھر میں ایک درہم صدقہ کردیتا ہوں اور ایک درہم اسی کام میں لگا دیتا ہوں اور ایک درہم خرچ کردیتا ہوں۔ اور اگر حضرت عمر مجھے (اس سے) منع کریں تو بھی میں منع نہیں ہوں گا۔
حدیث نمبر: 37389
٣٧٣٨٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي (ظبيان) (١) عن (جرير) (٢) قال: نزلنا الصفاح فإذا (نحن) (٣) برجل نائم في ظل شجرة قد كادت الشمس تبلغه، قال: فقلت للغلام: انطلق بهذا النطع (فأظله) (٤)، (قال: فأظله) (٥)، فلما استيقظ (إذا) (٦) هو سلمان، قال: فأتيته أسلم عليه قال: فقال: يا جرير تواضع للَّه، (فإن) (٧) من تواضع للَّه رفعه اللَّه يوم القيامة، يا جرير هل تدري ما الظلمات يوم القيامة؟ قال: قلت: لا أدري، قال: ظلم الناس بينهم في الدنيا، ثم أخذ عودا لا ⦗٣٧٥⦘ أكاد أراه بين أصبعيه فقال: يا جرير لو طلبت (في الجنة) (٨) مثل هذا العود لم تجده، قال: قلت: يا أبا عبد اللَّه أين النخل والشجر؟ فقال: أصوله اللؤلؤ والذهب وأعلاه الثمر (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم مقام صفاح میں اترے تو ہم نے (وہاں) درخت کے سائے میں ایک آدمی کو سویا ہوا دیکھا۔ قریب تھا کہ اس کو سورج پہنچ جاتا کہتے ہیں کہ میں نے غلام سے کہا۔ یہ چمڑا لے جاؤ اور اس آدمی پر سایہ کردو۔ راوی کہتے ہیں پس اس نے اس پر سایہ کردیا۔ پھر وہ آدمی جب بیدار ہوا تو وہ حضرت سلمان تھے۔ راوی کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا اور ان کو سلام کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت سلمان نے کہا۔ اے جریر ! اللہ کے لیے تواضع اختیار کرو۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن بلند کردیتے ہیں۔ اے جریر ! تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن ظلمات کیا ہیں ؟ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں کا دنیا میں باہم ظلم کرنا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک لکڑی میرا خیال نہیں تھا کہ آپ اس کو اپنے ہاتھ میں رکھیں گے۔ فرمایا : اے جریر ! اگر تم جنت میں اس کے مثل لکڑی تلاش کرو گے تو نہ پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے ابوعبداللہ ! کھجور کے اور دوسرے درخت کہاں ہوں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے اصول موتیوں اور سونے کے ہوں گے اور ان کے اوپر پھل ہوگا۔
حدیث نمبر: 37390
٣٧٣٩٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان قال: إذا كان العبد يذكر اللَّه في السراء ويحمده في الرخاء فأصابه ضر فدعا اللَّه قالت الملائكة: صوت معروف من امرئ ضعيف (فيشفعون) (١) له، وإن (كان) (٢) العبد (لا) (٣) يذكر اللَّه في السراء، ولا يحمده في الرخاء، فأصابه ضر فدعا اللَّه قالت الملائكة: صوت منكر فلم يشفعوا له (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ جب خوشحالی میں خدا کا ذکر کرتا ہے اور تنگدستی میں اس کی حمد وثنا کرتا ہے پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اللہ سے دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں ایک کمزور بندے کی پہچانی ہوئی آواز ہے۔ چناچہ وہ اس کی شفاعت کرتے ہیں اور اگر خوشحالی میں خدا کو یاد نہیں کرتا اور تنگدستی میں خدا کی حمد نہیں کرتا پھر اس کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اللہ سے دعا کرتا ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں نامانوس آواز ہے چناچہ وہ اس کی شفاعت نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 37391
٣٧٣٩١ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) وأبو معاوية عن الأعمش عن صالح بن خباب عن حصين بن عقبة قال: قال سلمان: علم لا يقال به (ككنز) (٢) لا ينفق منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین بن عقبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان نے فرمایا : وہ علم جو بیان نہ کیا جائے اس خزانہ کے مثل ہے جس کو خرچ نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 37392
٣٧٣٩٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عمي موسى بن يسار أن سلمان كتب إلى أبي الدرداء أن في ظل العرش إماما مقسطا، وذا مال (إذا) (١) تصدق أخفى يمينه عن شماله، ورجلا دعته امرأة (٢) ذات حسب ومنصب إلى نفسها فقال: أخاف اللَّه رب العالمين، ورجلا نشأ فكانت (صحته) (٣) وشبابه وقوته فيما يحب اللَّه ويرضاه من العمل، ورجلا كان قلبه معلقا في المساجد من حبها، ورجلا ذكر اللَّه ففاضت عيناه من الدمع من (خشية اللَّه) (٤)، ورجلين التقيا فقال أحدهما لصاحبه: إني لأحبك في اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلمان نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : ” عرش کے سایہ میں عادل امام ہوگا اور وہ مالدار شخص ہوگا کہ جب صدقہ کرے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھے اور وہ آدمی ہوگا جس کو خوبصورت اور حسب ونسب والی عورت اپنی طرف دعوت دے اور وہ مرد کہہ دے میں رب العالمین سے خوف کرتا ہوں اور وہ آدمی ہوگا جو اس طرح نشو و نما پائے کہ اس کی صحت، اس کا شباب اور اس کی موت اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے اعمال میں خرچ ہو اور وہ آدمی ہوگا جس کا دل مسجد کی محبت کی وجہ سے مسجدوں میں ہی اٹکا رہے اور وہ آدمی ہوگا جو اللہ کا ذکر کرے اور خدا کے خوف کی وجہ سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اور وہ دو آدمی ہوں گے جو باہم ملیں تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہے : میں تم سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اور خط میں یہ بھی لکھا : علم، چشموں کی طرح ہے پس اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ جس کو چاہے اس سے نفع مند کرتے ہیں۔ اور وہ حکمت جو بولی نہ جائے اس کی مثال بےروح جسم کی طرح ہے اور عمل نہ کیے جانے والے علم کی مثال اس خزانہ کی طرح ہے جس سے خرچ نہ کیا جائے اور عالم کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے لیے راستہ میں چراغ روشن کیا جائے۔ پس لوگ اس سے روشنی حاصل کریں اور ہر ایک اس کے لیے دعا کرے۔
حدیث نمبر: 37393
٣٧٣٩٣ - وكتب إليه: إنما العلم كالينابيع فينفع (به اللَّه) (١) من شاء، ومثل حكمة لا يتكلم بها كجسد (٢) لا روح له، ومثل علم لا يعمل به كمثل كنز لا ينفق منه، ومثل العالم كمثل رجل أضاء له مصباح في طريق فجعل (الناس) (٣) يستضيئون به وكل يدعو (٤) له (٥) (٦).
حدیث نمبر: 37394
٣٧٣٩٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا عبد الحميد بن جعفر عن أبيه أن ⦗٣٧٧⦘ سلمان كان يقول: إن من الناس حامل داء وحامل شفاء، ومفتاح خير ومفتاح شر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر سے روایت ہے کہ حضرت سلمان فرمایا کرتے تھے۔ بعض لوگ بیماری کو اٹھانے والے ہوتے ہیں اور بعض لوگ شفا کے حامل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ خیر کی کنجی ہوتے ہیں اور بعض لوگ شر کی کنجی ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37395
٣٧٣٩٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش (عن شمر) (١) عن شهر بن حوشب قال: جاء سلمان إلى أبي الدرداء فلم يجده، فسلم على أم الدرداء وقال: أين أخي؟ قالت: في المسجد، وعليه عباءة له قطوانية، فألقت إليه خلق وسادة، فأبى أن يجلس عليها ولوى عمامته فطرحها فجلس (عليها) (٢)، قال: فجاء أبو الدرداء معلقا لحما بدرهمين، فقامت أم الدرداء فطبخته وخبزت، ثم جاءت بالطعام وأبو الدرداء صائم، فقال سلمان: من يأكل معي؟ فقال: تأكل معك أم الدرداء، فلم يدعه حتى أفطر، فقال سلمان لأم الدرداء ورآها سيئة الهيئة: مالك؟ قالت: إن أخاك لا يزيد النساء، يصوم النهار ويقوم الليل، فبات عنده، فجعل أبو الدرداء يزيد أن يقوم فيحبسه، حتى كان قبل الفجر فقام (فتوضأ) (٣) وصلى ركعات، (٤) فقال له أبو الدرداء: (حبستني) (٥) عن صلاتي، فقال له سلمان: صل ونم، وصم وأفطر، فإن لأهلك عليك حقًا، ولعينيك عليك حقًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان، حضرت ابوالدرداء کے ہاں تشریف لے گئے لیکن انہیں موجود نہ پایا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ام درداء رضی اللہ عنہا کو سلام کیا اور کہا : میرا بھائی کہاں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا مسجد میں اور ان پر اہلیہ کا قطوانی چوغہ تھا۔ ام درداء رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف پرانا تکیہ پھینکا۔ انہوں نے اس پر بیٹھنے سے انکار کردیا اور اپنے عمامہ کو اتارا اور اس کو نیچے ڈال کر اس پر بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ دو درہموں کا گوشت اٹھائے ہوئے۔ چناچہ حضرت ام درداء کھڑی ہوئیں انہوں نے اس کو پکایا اور روٹی پکائی۔ پھر کھانا لے کر آئی۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ حضرت سلمان نے کہا میرے ساتھ کون کھائے گا ؟ انہوں نے کہا تمہارے ساتھ ام درداء کھائیں گی۔ حضرت سلمان نے ان کو روزہ افطار کروائے بغیر نہ چھوڑا۔ پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ام درداء سے کہا۔ آپ نے ان کی خستہ حالت دیکھی تھی۔ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ آپ کا بھائی عورتوں کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔ چناچہ آپ نے ان کے ہاں رات گزاری۔ اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہاٹھنے کا ارادہ کرتے تو حضرت سلمان ان کو روک دیتے یہاں تک کہ فجر سے پہلے کا وقت ہوگیا تو آپ کھڑے ہوئے وضو کیا اور چند رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت ابوالدراء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ آپ نے مجھے میری نماز سے روکا ہے۔ حضرت سلمان نے ان سے کہا۔ نماز پڑھو اور سو جاؤ۔ روزہ رکھو اور افطار کرو کیونکہ تمہارے اہل خانہ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔
حدیث نمبر: 37396
٣٧٣٩٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عثمان بن غياث عن أبي عثمان النهدي عن سلمان وغيره من أصحاب محمد (١) قالوا: إن الرجل يجيء يوم القيامة قد عمل ⦗٣٧٨⦘ عملا يرجو أن ينجو به، قال: فما يزال الرجل (يأتيه) (٢) فيشتكي مظلمة فيؤخذ من حسناته فيعطاها حتى ما تبقى له حسنة، ويجيء المشتكي يشتكي مظلمة فيؤخذ من سيئاته فتوضع على سيئاته، ثم يكب في النار أو يلقى في النار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر صحابہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا جس نے ایسے اعمال کیے ہوں گے جن کے ذریعہ اس کو نجات کی امید ہوگی۔ راوی کہتے ہیں۔ لیکن کوئی نہ کوئی آدمی آکر اس کے مظالم کی شکایت کرتا رہے گا۔ پس اس کی نیکیوں سے لے کر اس شکایت کرنے والے کو دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور پھر اس کے مظالم کی شکایت کرنے والا آئے گا تو اس شکایت کرنے والے کی غلطیوں میں لے کر اس آدمی کے گناہوں پر رکھ دی جائیں گی پھر اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دیا جائے گا یا اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔
حدیث نمبر: 37397
٣٧٣٩٧ - حدثنا (معاذ بن معاذ) (١) عن التيمي عن أبي عثمان عن سلمان [قال: (لو بات) (٢) الرجلان أحدهما يعطي (القنيات) (٣) البيض، وبات الآخر يقرأ القرآن ويذكر اللَّه لرأيت أن ذاكر اللَّه أفضل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک آدمی سفید غلام دے کر رات گزارے اور دوسرا آدمی قرآن کی تلاوت اور ذکر خدا کرتے ہوئے گزارے تو میرے خیال میں خدا کا ذکر کرنے والا افضل ہے۔
حدیث نمبر: 37398
٣٧٣٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن زيد بن صوحان] (١) عن سلمان أنه كان إذا تعار من الليل قال: سبحان رب النبيين وإله المرسلين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جب رات کو بےخواب ہوتے تو کہتے انبیاء کے پروردگار اور رسولوں کے الٰہ پاک ہیں۔
حدیث نمبر: 37399
٣٧٣٩٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة قال: كان سلمان إذا أصاب شاة من المغنم ذبحها، فقدد لحمها، وجعل جلدها سقاء، وجعل صوفها حبلا، فإن رأى رجلا قد احتاج إلى حبل لفرسه أعطاه، (وإن رأى رجلا احتاج إلى سقاء أعطاه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان کو جب غنیمت میں سے بکری ملتی تو آپ اس کو ذبح کرتے پھر اس کے گوشت کے ٹکڑے کرتے اور اس کے چمڑے کا مشکیزہ بنا لیتے اور اس کے بالوں کی رسی بنا لیتے پھر اگر وہ کسی کو گھوڑے کی رسی کا محتاج دیکھتے تو آپ یہ رسی اس کو دے دیتے اور اگر کسی کو مشکیزہ کا محتاج دیکھتے تو اس کو مشکیزہ دے دیتے۔
حدیث نمبر: 37400
٣٧٤٠٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي البختري قال: صحب سلمانَ رجلٌ من بني عبس فأتى (دجلة) (١) فقال له سلمان: اشرب، فشرب، ثم قال له: اشرب، فشرب، (ثم قال له: اشرب، فشرب) (٢)، ثم قال له: يا أخا بني (عبس) (٣) أترى شربتك هذه نقصت من ماء دجلة شيئا؟ كذلك العلم لا ينفد، فابتغ من العلم ما ينفعك، ثم مر بنهر دَنّ فإذا (أطعمة) (٤) وكدوس تذرى (٥)، (فقال) (٦): يا أخا بني عبس إن الذي (٧) كان يملك خزائنه ومحمد ﷺ (حي) (٨)، وكانوا يمسون ويصبحون وما فيهم قفيز حنطة، ثم ذكر جلولاء وما فتح اللَّه على المسلمين فيها، فقال: (يا) (٩) أخا بني عبس إن اللَّه أعطاكم هذا وخولكموه قد كان يقدر عليه ومحمد حى (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبس کا ایک آدمی حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔ وہ دریائے دجلہ پر آیا تو حضرت سلمان نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا۔ اے بنو عبس کے بھائی ! ؛ تو کیا دیکھتا ہے کہ تیرے اس گھونٹ نے اس دجلہ کے پانی میں کمی کی ہے ؟ اسی طرح علم نہ ختم ہونے والی چیز ہے۔ پس تو اپنے لیے نفع مند علم تلاش کر۔ پھر آپ کا گزر نہروں پر ہوا تو وہاں کچھ کھانے تھے اور دانے ہوا میں اڑائے جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اے بنو عبس کے بھائی ! وہ آدمی جو اس کے خزانوں کا مالک تھا جبکہ آپ زندہ تھے۔ وہ لوگ صبح وشام اس حال میں کرتے کہ ان میں ایک قفیز گندم نہ ہوتی۔ پھر آپ نے جلولاء اور اس کے بارے میں مسلمانوں کی فتوحات کا ذکر فرمایا اور کہا : اے بنو عبس کے بھائی ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ عطا فرما دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس پر اس وقت بھی قادر تھا جب محمد ﷺ زندہ تھے “
حدیث نمبر: 37401
٣٧٤٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن نافع بن جبير بن مطعم أن حذيفة وسلمان قالا لامرأة أعجمية: أهاهنا مكان طاهر (نصلي) (١) فيه؟ فقالت: ⦗٣٨٠⦘ طهر قلبك وصل حيث شئت، فقال أحدهما لصاحبه: فَقِهَتْ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان نے ایک عجمی عورت سے کہا کیا یہاں پر کوئی پاک جگہ ہے جہاں پر ہم نماز پڑھیں ؟ اس عورت نے کہا تم اپنے دل کو پاک کرلو اور جہاں چاہو نماز پڑھو۔ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : یہ عورت تو سمجھ دار ہے۔
حدیث نمبر: 37402
٣٧٤٠٢ - حدثنا أبو أسامة عن (عوف) (١) عن أبي عثمان قال: قال لي سلمان الفارسي: إن السوف مبيض الشيطان ومفرخه، فإن استطعت أن لا تكون أولى من يدخلها ولا آخر من يخرج منها فافعل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعثمان سے روایت ہے کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا بازار شیطان کے انڈے دینے اور بچہ نکلنے کی جگہ ہے۔ پس اگر تو یہ کرسکے کہ تو بازار میں پہلا داخل ہونے والا نہ ہو اور نکلنے والوں میں سے آخری نہ ہو تو تو یہ کام کر۔
حدیث نمبر: 37403
٣٧٤٠٣ - حدثنا يحيى بن آدم عن عمار بن زريق عن أبي إسحاق عن أوس بن ضمعج قال: قلنا لسلمان: (يا أبا عبد اللَّه) (١) ألا تحدثنا، قال: ذكر اللَّه (أكبر) (٢)، وإطعام الطعام، وإفشاء السلام، والصلاة والناس نيام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوس بن ضمعج سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت سلمان سے عرض کیا : اے ابوعبداللہ ! آپ ہمیں حدیث کیوں نہیں بیان کرتے ؟ انہوں نے کہا ذکر خدا بہت بڑا ہے۔ کھانا کھلانا، سلام کو پھیلانا اور لوگوں کے سوتے ہوئے نماز پڑھنا۔
حدیث نمبر: 37404
٣٧٤٠٤ - حدثنا (معاذ بن معاذ) (١) عن سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال: إن اللَّه يستحي أن يبسط إليه عبد يديه يسأله بهما خيرا فيردهما خائبتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات سے حیا آتی ہے کہ بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے اور ان کے ذریعہ خیر کا سوال کرے اور اللہ تعالیٰ ان کو ناکام واپس کردے۔
حدیث نمبر: 37405
٣٧٤٠٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن سليمان بن ميسرة والمغيرة بن شبيل عن طارق بن شهاب قال: كان لي أخ أكبر مني يكنى أبا عزرة، وكان يكثر ذكر سلمان، فكنت (أشتهي) (١) لقاءه لكثرة ذكر أخي إياه، قال: فقال لي ذات ⦗٣٨١⦘ يوم: هل لك في (أبي عبد اللَّه؟) (٢) (قد نزل) (٣) القادسية، قال: وكان سلمان إذا قدم من الغزو نزل القادسية، وإذا قدم من الحج نزل المدائن غازيًا، قال: قلت: نعم، قال: فانطلقنا حتى دخلنا عليه (في) (٤) بيت بالقادسية، فإذا هو جالس، بين (رجليه) (٥) خرقة، (وهو) (٦) يخيط زنبيلا أو يدبغ إهابًا، قال: فسلمنا عليه وجلسنا، قال: (فقال) (٧): يا ابن أخي عليك (بالقصد) (٨) فإنه أبلغ (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرا ایک مجھ سے بڑا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعزرہ تھی۔ وہ حضرت سلمان کا ذکر بڑی کثرت سے کرتا تھا۔ تو اپنے بھائی سے حضرت سلمان کا بہت زیادہ ذکر سن کر مجھے آپ سے ملاقات کا شوق تھا۔ راوی کہتے ہیں ایک دن میرے بھائی نے مجھے کہا کیا تمہیں ابوعبداللہ سے ملنے کا شوق ہے ؟ وہ قادسیہ مقام میں فروکش ہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت سلمان جب جہاد سے واپس آتے تو قادسیہ میں اترتے اور جب حج سے واپس آتے تو مدائن میں پڑاؤ ڈالتے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : ہاں (شوق ہے) ۔ راوی کہتے ہیں پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم قادسیہ میں ان کے گھر میں اترے۔ وہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے ایک کپڑے کا ٹکڑا تھا۔ وہ ٹوکری سی رہے تھے یا چمڑے کو دباغت دے رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں پس ہم نے انہیں سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا : اے بھتیجے ! تم پر ارادہ لازم ہے کیونکہ یہ مؤثر ہے۔
حدیث نمبر: 37406
٣٧٤٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عمر بن قيس عن عمرو بن أبي قرة الكندي قال: عرض أبي على سلمان أخته (أن يزوجه، فأبى) (١) وزوجه مولاة له يقال (لها) (٢): (بُقَيْرَة) (٣)، قال: فبلغ أبا قرة أنه كان بين حذيفة وسلمان شيء، فأتاه يطلبه فأخبرأنه في مبقلة له، فتوجه إليه فلقيه معه زنبيل فيه بقل، قد أدخل عصاه في عروة الزنبيل، وهو على عاتقه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ابی قرہ کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے حضرت سلمان کو یہ پیشکش کی کہ وہ ان کی بہن سے شادی کریں۔ آپ نے انکار کردیا اور اپنی آزا دکردہ لونڈی جس کا نام بقیرہ تھا اس سے شادی کرلی۔ راوی کہتے ہیں ابوقرہ کو یہ بات پہنچی کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان کے درمیان کوئی معاملہ تھا۔ چناچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ، سلمان کے پاس ان کو بلانے آئے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی سبزیوں کے اگانے کی جگہ میں ہیں چناچہ وہ اس طرف گئے تو وہ ان سے ملے۔ ان کے پاس ایک ٹوکری تھی جس میں سبزی تھی۔ اپنی لاٹھی کو انہوں نے ٹوکری کے کڑے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ لاٹھی ان کی گردن پر تھی۔
حدیث نمبر: 37407
٣٧٤٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان قال: تعطي الشمس يوم القيامة حر عشر سنين، ثم تدنى من جماجم الناس حتى تكون قاب قوسين، قال: فيعرقون حتى يرشح العرق في الأرض قامة، ثم يرتفع حتى (يغرغر) (١) الرجل -قال سلمان: حتى يقول: الرجل غرغر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج کو دس سال کی حرارت دی جائے گی پھر اس کو لوگوں کی کھوپڑیوں کے قریب کیا جائے گا یہاں تک کہ یہ غلیل کے دو کناروں کے برابر ہوجائے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر ان لوگوں کو پسینہ آئے گا یہاں تک کہ پسینہ زمین میں قد کے برابر ہوجائے گا پھر اوپر اٹھے گا یہاں تک کہ آدمی غرارہ کرنے لگے گا۔ حضرت سلمان نے فرمایا : یہاں تک کہ آدمی کہے گا : غر غر۔
حدیث نمبر: 37408
٣٧٤٠٨ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن هبيرة قال: كتب أبو الدرداء إلى سلمان: (أما بعد، فإني أدعوك إلى الأرض المقدسة وأرض الجهاد، قال: فكتب إليه سلمان: أما بعد) (١)، فإنك قد كتبت إلي تدعوني إلى الأرض المقدسة وأرض الجهاد، ولعمري ما الأرض تقدس أهلها ولكن المرء يقدسه عمله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ہبیرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان کو خط لکھا۔ اما بعد ! پس بیشک میں تمہیں ارض مقدس اور ارض جہاد کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت سلمان نے ان کو تحریر فرمایا۔ اما بعد ! پس بیشک آپ نے یہ تحریر فرمایا کہ آپ مجھے ارض مقدس اور ارض جہاد کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ میری عمر کی قسم ! کوئی زمین اپنے اہل کو پاک نہیں بناتی بلکہ آدمی کو اس کے عمل پاک کرتے ہیں۔