کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37350
٣٧٣٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن سالم بن أبي الجعد عن جابر قال: ما منا أحد أدرك (الدنيا) (١) إلا مال بها ومالت به، غير عبد اللَّه بن عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم میں سے کوئی آدمی نہیں تھا جس نے دنیا کو پایا مگر یہ کہ وہ اس کی طرف مائل ہوگیا اور دنیا اس کی طرف مائل ہوگئی سوائے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37350
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37350، ترقيم محمد عوامة 35770)
حدیث نمبر: 37351
٣٧٣٥١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن ابن عمر قال: لا يصيب أحد من (الدنيا) (١) إلا نقص من درجاته عند اللَّه وإن كان عليه كريما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس آدمی کو بھی دنیا ملے گی تو وہ اس کے خدا کے ہاں درجات میں کمی کردے گی اگرچہ یہ بندہ اللہ کے ہاں معزز ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37351
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه هناد (٥٥٧)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٣٠١، والبيهقي في الشعب (١٠٦٧٧)، وابن البخاري في مشيخته ٢/ ١٤٨٠، وابن عساكر ٣١/ ١٥٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37351، ترقيم محمد عوامة 35771)
حدیث نمبر: 37352
٣٧٣٥٢ - [حدثنا يحيى بن يمان عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه قال: ما رأيت أحدًا أنقى من ابن عمر] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاوس، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ متقی شخص نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37352
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37352، ترقيم محمد عوامة 35772)
حدیث نمبر: 37353
٣٧٣٥٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن ليث عن رجل عن ابن عمر قال: لا يكون رجل من أهل العلم حتى لا يحسد من فوقه ولا يحقر من دونه، (و) (١) لا (يبتغي) (٢) بعلمه ثمنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی اہل علم میں سے تب ہوتا ہے جب وہ اپنے سے اوپر والوں پر حسد نہ کرے اور اپنے سے نیچے والوں کو حقیر نہ سمجھے اور اپنے علم کے ذریعہ، مال نہ تلاش کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37353
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37353، ترقيم محمد عوامة 35773)
حدیث نمبر: 37354
٣٧٣٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن ابن ⦗٣٦٦⦘ عمر قال: لا يبلغ (عبد) (١) حقيقة الإيمان حتى يعد الناس حمقى في دينه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ لوگ اس کو اس کے دین کے بارے میں پاگل شمار نہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37354
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (١٠٠)، ووكيع في الزهد (٢٧٦)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٠٦، وورد مرفوعًا عند ابن ماجه (٤٢١٥)، والترمذي (٢٤٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37354، ترقيم محمد عوامة 35774)
حدیث نمبر: 37355
٣٧٣٥٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك بن (أبي) (١) سليمان عن سعيد بن جبير قال: دخلت على ابن عمر فإذا هو مفترش ذراعيه (٢)، متوسد وسادة حشوها ليف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنی کہنیاں بچھائے ہوئے تھے اور ایسے تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جس میں گھاس بھرا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37355
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٤٩٣)، وابن عبد البر في الاستذكار ٦/ ٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37355، ترقيم محمد عوامة 35775)
حدیث نمبر: 37356
٣٧٣٥٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن عطية عن ابن عمر قال: يَستقبل المؤمن عند خروجه من قبره أحسن صورة رآها قط، فيقول لها: من أنت؛ فتقول (له) (١): أنا (التي) (٢) كنت معك في (الدنيا) (٣)، لا أفارقك حتى أدخلك الجنة. (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کے قبر سے نکلنے کے وقت اس کی دیکھی ہوئی صورتوں میں سے بہترین صورت اس کا استقبال کرے گی۔ مومن اس سے کہے گا۔ تم کون ہو ؟ وہ مومن سے کہے گی میں وہی ہوں جو دنیا میں تیرے ساتھ تھی۔ میں تمہیں جنت میں داخل کروانے تک نہیں چھوڑوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عطية العوفي، وقد أخرج ابن أبي حاتم نحوه من طريق أبي خالد عن عمر وابن قيس عن ابن مرزوق من كلامه كما في تفسير ابن كثير ٣/ ١٣٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37356، ترقيم محمد عوامة 35776)
حدیث نمبر: 37357
٣٧٣٥٧ - [حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن محمد عن قتادة قال: (قيل لابن عمر) (١): كان أصحاب النبي ﷺ بعضهم على بعض، نعم، والإيمان أثبت في قلوبهم من الجبال الرواسي] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی کیا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ لیکن ان کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37357
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37357، ترقيم محمد عوامة 35777)
حدیث نمبر: 37358
٣٧٣٥٨ - حدثنا عبد اللَّه بن (نمير) (١) عن عاصم عمن حدثه قال: كان ابن عمر إذا رآه أحد ظن أن به شيئا من تتبعه آثار النبي ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب کوئی آدمی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرتے دیکھتا تو وہ یہ گمان کرتا کہ ان پر کسی شے کا اثر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37358
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37358، ترقيم محمد عوامة 35778)
حدیث نمبر: 37359
٣٧٣٥٩ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن عمرو أن ابن عمر قال: ما وضعت لبنة ولا غرست نخلة منذ قبض رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے۔ جب سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی ہے میں نے ایک اینٹ، اینٹ پر نہیں رکھی اور نہ ہی کوئی درخت لگایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37359
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٩٤٤)، وابن سعد ٤/ ١٧٠، وأبو نعيم ١/ ٣٠٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37359، ترقيم محمد عوامة 35779)
حدیث نمبر: 37360
٣٧٣٦٠ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن نافع عن ابن عمر كان يكره أن يصلي إلى (أميال) (١) صنعها مروان من حجارة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ان نشانات کے پاس نماز پڑھنے کو ناپسند کرتے تھے جو مروان نے پتھر سے بنائے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37360
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٢٧٨)، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37360، ترقيم محمد عوامة 35780)
حدیث نمبر: 37361
٣٧٣٦١ - حدثنا جرير عن داود بن (السليك) (١) عن أبي سهل قال: سمعت ابن عمر قال: في هذه الآية: ﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ (٣٨) إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ﴾ [المدثر: ٣٨ - ٣٩] قال: أطفال المسلمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسہل کہتے ہیں کہ میں نے اس آیت { کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَہِینَۃٌ إِلاَّ أَصْحَابَ الْیَمِینِ } کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مسلمانوں کے بچوں کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37361
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37361، ترقيم محمد عوامة 35781)
حدیث نمبر: 37362
٣٧٣٦٢ - حدثنا هشيم قال: حدثنا يعلى بن عطاء عن الوليد بن عبد الرحمن عن ابن عمر أنه قال لحمران: لا تلقين اللَّه بذمة لا وفاء بها، فإنه ليس يوم القيامة دينار ولا درهم، إنما يجازى الناس بأعمالهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے حمران سے فرمایا : تم ایسی ذمہ داری کے ساتھ خدا کی ملاقات نہ کرنا جس کے پورا کرنے کے لیے کچھ نہ ہو کیونکہ قیامت کے دن کوئی درہم و دینار نہیں ہوگا۔ اور لوگوں کو صرف ان کے اعمال کے ذریعہ جزا دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37362
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37362، ترقيم محمد عوامة 35782)
حدیث نمبر: 37363
٣٧٣٦٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد قال: نبئت عن ابن عمر أنه كان ⦗٣٦٨⦘ يقول: إني (ألفيت) (١) أصحابي على أمر، وإني إن خالفتهم خشيت أن لا ألحق بهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو ایک امر پر پایا ہے۔ پس اگر میں ان کی مخالفت کروں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں ان کو نہ مل سکوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37363
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37363، ترقيم محمد عوامة 35783)
حدیث نمبر: 37364
٣٧٣٦٤ - حدثنا بن إدريس عن أبيه عن عطية عن ابن عمر: ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ [الإسراء: ٥١] قال: الموت لو كنتم الموت لأحييتكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے { أَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ } کے بارے میں روایت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : موت۔ اگر تم مردہ ہوتے تو میں تمہیں زندہ کردیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37364
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عطية، أخرجه ابن جرير ١٥/ ٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37364، ترقيم محمد عوامة 35784)
حدیث نمبر: 37365
٣٧٣٦٥ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن عطية عن ابن عمر قال (١): ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ﴾ [البلد: ١١] قال: جبل (زلال) (٢) في جهنم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے { فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ } کے بارے میں روایت ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ جہنم میں زلال کا پہاڑ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37365
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عطية العوفي، أخرجه ابن جرير ٣٠/ ٢٠١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37365، ترقيم محمد عوامة 35785)
حدیث نمبر: 37366
٣٧٣٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن البراء بن سليم عن نافع عن ابن عمر قال: ما تلا هذه الآية قط إلا بكى: ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ﴾ (١) [البقرة: ٢٨٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ جب بھی یہ آیت پڑھتے تو رو پڑتے : {إِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللَّہُ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37366
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ البراء صدوق، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٣٠٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37366، ترقيم محمد عوامة 35786)
حدیث نمبر: 37367
٣٧٣٦٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا خالد بن أبي عثمان قال: حدثنا سليط بن عبد اللَّه قال: قال ابن عمر: (راؤوا) (١) بالخير و (لا) (٢) (تراؤوا) (٣) بالشر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم خیر کا مظاہرہ کرو۔ شر کا مظاہرہ نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37367
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37367، ترقيم محمد عوامة 35787)
حدیث نمبر: 37368
٣٧٣٦٨ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن جبلة بن سحيم عن ابن عمر: ﴿وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الذاريات: ١٨] قال: يصلون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وَبِالأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37368
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٢٤٥، وابن جرير ٢٦/ ٢٠٠، وابن أبي الدنيا في التهجد وقيام الليل (٤٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37368، ترقيم محمد عوامة 35788)
حدیث نمبر: 37369
٣٧٣٦٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن سعد عن نافع قال: كان ابن عمر يعمل في خاصة نفسه بالشيء لا يعمل به في الناس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے آپ کو بتا کر ایک کام کرتے تھے جو آپ عام لوگوں میں نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37369
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ هشام بن سعد فيه ضعف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37369، ترقيم محمد عوامة 35789)
حدیث نمبر: 37370
٣٧٣٧٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد قال: كان ابن عمر كلما استيقظ من الليل صلى (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت جب بھی بیدار ہوتے تو نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37370
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم ١/ ٣٠٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37370، ترقيم محمد عوامة 35790)
حدیث نمبر: 37371
٣٧٣٧١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عمرو بن ميمون عن أبيه قال: قيل لابن عمر: توفي زيد بن حارثة وترك مائة ألف (١)، قال: (لكن) (٢) لا (تتركه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا۔ حضرت زید بن ثابت فوت ہوئے اور انہوں نے ایک لاکھ درہم چھوڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لیکن تم ایک لاکھ درہم مت چھوڑنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37371
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني (٥١٤٩)، وهناد (٦١٣)، والبيهقي في الشعب (١٠٦٧٨)، وأبو نعيم ١/ ٣٠٦، وابن عساكر ٣١/ ١٧٢، وابن الأعرابي في الزهد (١١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37371، ترقيم محمد عوامة 35791)
حدیث نمبر: 37372
٣٧٣٧٢ - حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن واقد (عن نافع) (١) قال: (قال) (٢) (٣) عبد اللَّه بن عمر (٤) هذه الآية: ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ ⦗٣٧٠⦘ اللَّهِ﴾ (٥) [الحديد: ١٦] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : { أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِینَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ } تو روپڑے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37372
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عثمان صدوق، أخرجه أبو نعيم ١/ ٣٠٥، وابن عساكر ٣١/ ١٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37372، ترقيم محمد عوامة 35792)
حدیث نمبر: 37373
٣٧٣٧٣ - حدثنا وكيع عن أبي مودود عن نافع عن ابن عمر أنه كان في طريق مكة يقول برأس راحلته يثنيها ويقول: لعل خفا يقع على خف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ وہ مکہ کے راستہ پر چل رہے تھے کہ انہوں نے اپنی سواری کے سر کو جھکایا اور فرمایا : شاید کہ نشان پر نشان آجائے یعنی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کا نشان۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37373
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم ١/ ٣١٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37373، ترقيم محمد عوامة 35793)
حدیث نمبر: 37374
٣٧٣٧٤ - يعني: خف راحلة النبي ﷺ.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37374
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37374، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 37375
٣٧٣٧٥ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن آدم بن علي قال: سمعت ابن عمر يقول: خالفوا سنن المشركين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت آدم بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا۔ مشرکوں کے طریقوں کی مخالفت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37375
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37375، ترقيم محمد عوامة 35794)
حدیث نمبر: 37376
٣٧٣٧٦ - حدثنا حسين بن علي عن فضيل بن مرزوق عن عطية عن ابن عمر: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ [الحجر: ٩٢] قال: عن لا إله إلا اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے { فَوَرَبِّکَ لَنَسْأَلَنَّہُمْ أَجْمَعِینَ } کے بارے میں روایت ہے کہ لا الہ الا اللہ کے بارے میں سوال ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37376
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطية العوفي ضعيف، وأخرجه الطبراني في الدعاء (١٤٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37376، ترقيم محمد عوامة 35795)
حدیث نمبر: 37377
٣٧٣٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن إدريس عن (١) عطية عن ابن عمر: ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ (٢)﴾ [النمل: ٨٢] قال: حين لا يأمرون (بمعروف) (٣) ولا ينهون عن المنكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے { وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ أَخْرَجْنَا لَہُمْ دَابَّۃً مِنَ الأَرْضِ تکلمہم } کے بارے میں روایت ہے۔ جب لوگ اچھی بات کا حکم نہیں کریں گے اور بری بات سے منع نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37377
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عطية، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٨٥، وابن أبي حاتم (١٦٥٨٥)، وابن جرير ٢٠/ ١٤، والثعلبي ٧/ ٢٢٣، والحاكم ٤/ ٤٨٥، ونعيم بن حماد في الفتن (١٨٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37377، ترقيم محمد عوامة 35796)
حدیث نمبر: 37378
٣٧٣٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن نافع أن ابن عمر كان إذا قرأ القرآن كره أن يتكلم -أو لم يتكلم- حتى يفرغ مما يزيد، أو لم يتكلم حتى يفرغ إلا يوما كنت قد أخذت عليه المصحف وهو يقرأ فأتى على (الآية) (١) فقال: أتدري (فيم) (٢) أنزلت؟ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب قراءت کرتے تو کلام کرنے کو ناپسند کرتے تھے … یا فرمایا… فارغ ہونے تک اپنی مراد کی بات نہیں کرتے تھے۔ یا فرمایا … فارغ … ہونے تک کلام نہیں کرتے تھے۔ مگر ایک دن جب میں ان کے پاس مصحف لے کر بیٹھا تھا اور وہ قراءت کر رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہایک آیت پر پہنچے تو فرمایا : تمہیں معلوم ہے یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37378
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37378، ترقيم محمد عوامة 35797)
حدیث نمبر: 37379
٣٧٣٧٩ - حدثنا حفص بن غياث عن عمرو بن ميمون عن أبيه قال: دخل ابن عمر في أناس من أصحابه على عبد اللَّه بن عامر بن كريز وهو مريض (يرون أنه يموت) (١)، فقالوا له: أبشر، فإنك قد (حفرت) (٢) الحياض برفات، يشرع فيها حاج بيت اللَّه، وحفرت الآبار بالفلوات، قال: وذكروا خصالا من خصال الخير، قال: فقالوا: إنا لنرجو للث خيرا إن شاء اللَّه، وابن عمر جالس لا يتكلم، فلما أبطأ عليه (بالكلام) (٣) قال: يا أبا عبد الرحمن ما تقول؟ فقال: إذا طابت (المكسبة) (٤) زكت النفقة، وسترد فتعلم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عامر کے ہاں تشریف لے گئے جبکہ وہ بیمار تھے اور لوگوں کا خیال یہ تھا وہ مرجائیں گے۔ چناچہ لوگوں نے انہیں کہا تمہیں بشارت ہو کہ تم نے عرفات میں بہت سے حوض بنوائے ہیں جن سے بیت اللہ کے حاجی سیراب ہوں گے۔ اور آپ نے جنگلوں میں کنوے کھدوائے۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے بہت سی خیر کی باتیں ذکر کردیں۔ راوی کہتے ہیں پھر لوگ کہنے لگے۔ ان شاء اللہ ہمیں آپ کے لیے خیر کی امید ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما خاموش بیٹھے رہے۔ پھر بعد میں جب آپ نے کلام فرمایا : تو کہا اے ابوعبدالرحمن آپ کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب کمائی پاکیزہ ہوتی ہے تو خرچ اچھا ہوتا ہے۔ ابو عنقریب تم وارد ہو گے تو پھر تم جان لوگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37379
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٩١)، وفي الورع (٨٩)، وابن عساكر ٢٩/ ٢٧٠، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37379، ترقيم محمد عوامة 35798)
حدیث نمبر: 37380
٣٧٣٨٠ - حدثنا حسين بن علي عن بن (أبجر) (١) عن ثوير قال: مر ابن عمر في (خربة) (٢) ومعه رجل فقال: اهتف، فهتف فلم يجبه ابن عمر، ثم قال له: اهتف، ⦗٣٧٢⦘ فأجابه ابن عمر: ذهبوا وبقيت أعمالهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثویر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک ویرانہ پر گزر ہوا آپ کے ہمراہ ایک آدمی تھا۔ آپ نے فرمایا : آواز دو ۔ چناچہ اس نے آواز دی۔ لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو جواب نہیں دیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا۔ آواز دو ۔ پھر آپ نے اس کو جواب دیا۔ وہ لوگ چلے گئے اور ان کے اعمال باقی رہ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37380
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ثوير.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37380، ترقيم محمد عوامة 35799)