حدیث نمبر: 37301
٣٧٣٠١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة قال: قال أبو الدرداء: اعبدوا اللَّه كأنكم ترونه، وعدوا أنفسكم من (الموتى) (١)، واعلموا أن قليلا يغنيكم خير من كثير يلهيكم، واعلموا أن البر لا يبلى وأن الإثم لا ينسى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔ اور یہ بات جان لو کہ وہ تھوڑا جو تمہیں کفایت کر جائے اس کثیر سے بہتر ہے جو تمہیں غافل کرے اور جان لو کہ نیکی پرانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا۔
حدیث نمبر: 37302
٣٧٣٠٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن رجاء بن (حيوة) (١) قال: جمع أبو الدرداء أهل دمشق فقال: اسمعوا من أخ لكم (ناصح) (٢): أتجمعون ما لا تأكلون، وتؤملون ما لا تدركون، وتبنون ما لا تسكنون، أين الذين كانوا من قبلكم، فجمعوا كثيرا وأملوا بعيدا وبنوا شديدا، فأصبح جمعهم بورا، وأصبح أملهم غرورا، وأصبحت ديارهم قبورا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء بن حیوہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اہل دمشق کو جمع فرمایا پھر ارشاد فرمایا : اپنے خیر خواہ بھائی سے سن لو کیا تم وہ جمع کرتے ہو جس کو تم کھاؤ گے نہیں۔ اور تم اس چیز کی امید کرتے ہو جس کو تم پاؤ گے نہیں۔ اور تم وہ کچھ بناتے ہو جس میں تم نے رہنا نہیں ہے۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو تم سے پہلے تھے ؟ انہوں نے بہت کچھ جمع کیا اور دور دور کی امیدیں باندھیں۔ اور سخت (عمارتیں) بنائیں۔ پھر ان کی جمع کردہ چیزیں بیکار ہوگئیں اور ان کی امیدیں، دھوکہ ہوگئیں اور ان کے گھر قبور بن گئے۔
حدیث نمبر: 37303
٣٧٣٠٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن سفيان عن حبيب قال: كان أبو الدرداء لا يمر على قرية إلا (قال) (١): أين (أهلك؟) (٢) ثم يقول: ذهبوا وبقيت الأعمال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء، جس بستی پر سے بھی گزرتے، فرماتے تیرے اہل کہاں ہیں ؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ فرماتے : وہ تو چلے گئے ہیں لیکن اعمال باقی رہ گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 37304
٣٧٣٠٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مغول عن (عبد الملك) (١) بن عمير (قال) (٢): قال أبو الدرداء: من أكثر من ذكر الموت قل حسده وقل فرحه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں جو موت کا کثرت سے ذکر کرے گا اس کا حسد کم ہوگا اور اس کی خوشی کم ہوگی۔
حدیث نمبر: 37305
٣٧٣٠٥ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي (عن أيوب) (١) عن أبي قلابة عن أبي الدرداء قال: لا تفقه كل الفقه حتى تمقت الناس في جنب اللَّه، ثم ترجع إلى نفسك فتكون (لها أشد) (٢) مقتا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم اس وقت تک مکمل فقیہ نہیں ہوسکتے جب تک تم خدا کے لیے لوگوں پر غصہ نہ کرو۔ پھر تم اپنے نفس کی طرف لوٹو تو تمہیں نفس پر اور زیادہ غصہ ہو۔
حدیث نمبر: 37306
٣٧٣٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن خالد بن دينار عن معاوية بن قرة قال: قال: أبو الدرداء: ليس الخير أن يكثر مالك وولدك، ولكن الخير أن يعظم حلمك وأن يكثر (عملك) (١) وأن (تباري) (٢) الناس في عبادة اللَّه، فإن أحسنت حمدت اللَّه، وإن أسأت استغفرت اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بات خیر نہیں ہے کہ تمہاری اولاد اور مال کثیر ہوجائے بلکہ خیر یہ ہے کہ تیرا حلم بڑھ جائے اور تیرا عمل زیادہ ہوجائے اور خدا کی عبادت میں تو دیگر لوگوں پر سبقت لے جائے۔ پھر اگر تو اچھا کام کرے تو خدا کی حمد کرے اور اگر تو برا کام کرے تو اللہ سے معافی مانگے۔
حدیث نمبر: 37307
٣٧٣٠٧ - [حدثنا (معاوية) (١) عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن ⦗٣٤٩⦘ سالم ابن أبي الجعد عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال: تفكر ساعة خير من قيام ليلة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک گھڑی کا غور وفکر رات بھر کے قیام سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 37308
٣٧٣٠٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم ابن أبي الجعد عن أم الدرداء قال: قيل لها: ما كان أفضل عمل أبي الدرداء؟ قالت: التفكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد، ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اُن (ام درداء رضی اللہ عنہا ) سے پوچھا گیا کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہا کا افضل ترین عمل کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : تفکر۔
حدیث نمبر: 37309
٣٧٣٠٩ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن أبي الدرداء قال: إن الذين لا تزال ألسنتهم رطبة من ذكر اللَّه يدخلون الجنة وهم يضحكون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی زبانیں خدا کے ذکر سے مسلسل تر رہتی ہیں وہ جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ وہ ہنستے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 37310
٣٧٣١٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن محمد أن أبا عون أخبره أن أبا الدرداء كان يقول: ما بت من ليلة فأصبحت لم يرمني الناس بداهية إلا رأيت أن علي من اللَّه (١) نعمة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔ میں نے جو رات بھی اس طرح گزاری ہے کہ صبح کو لوگ مجھے اس رات میں کسی مصیبت میں مبتلا کرتے ہیں تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ مجھ پر خدا کی نعمت ہے۔
حدیث نمبر: 37311
٣٧٣١١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن زياد بن فياض عن أبي حازم (قال) (١): قالت أم الدرداء (لأبي الدرداء) (٢): يجيء الشيخ فيصلي، ويجيء الشاب فلا يصلي، فقال أبو الدرداء: كل في ثواب قد أعد له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے کہا : بوڑھا آتا ہے تو نماز پڑھتا ہے اور جوان آتا ہے تو نماز نہیں پڑھتا۔ اس پر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہر کوئی ثواب میں ہے اور اسی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 37312
٣٧٣١٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الحميد (بن) (١) جعفر قال: حدثني صالح بن أبي (عريب) (٢) عن كثير بن مرة الحضرمي قال: سمعت أبا الدرداء يقول: ألا أخبركم بخير أعمالكم (٣) أحبها إلى مليككم، وأنماها في درجاتكم، خير من (أن) (٤) تغزوا عدوكم فيضربوا رقابكم وتضربوا رقابهم، خير من إعطاء الدنانير والدراهم، قالوا: وما هي يا أبا الدرداء؟ قال: ذكر اللَّه (٥) أكبر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن مرہ حضرمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا۔ کیا میں تمہیں بہترین اعمال کا نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کو زیادہ محبوب ہے اور تمہارے درجات کو زیادہ بڑھانے والا ہے۔ اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے لڑو، وہ تمہاری گردنیں مارے اور تم ان کی گردنیں مارو۔ دراہم ودنانیر دینے سے بہتر ہے ؟ لوگوں نے پوچھا : اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ! یہ کیا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ذکر خدا۔ اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔
حدیث نمبر: 37313
٣٧٣١٣ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن أبي وائل عن أبي الدرداء قال: إني لآمركم بالأمر وما أفعله، ولكني أرجو فيه الأجر، وإنَّ أبغض الناس إليّ أظلمه الذي لا يستعين عليّ إلا باللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں ایک کام کا حکم دیتا ہوں جبکہ میں اس کو خود نہیں کرتا۔ لیکن میں اس میں اجر کی امید رکھتا ہوں اور مجھے کسی پر ظلم کرتے ہوئے اس بندے پر بہت بغض آتا ہے جو میرے بارے میں صرف خدا سے مدد مانگے۔
حدیث نمبر: 37314
٣٧٣١٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا موسى بن عقبة قال: حدثني بلال بن سعد الكندي عن أبيه عن أبي الدرداء أنه كان إذا ذكر (الدنيا) (١) قال: إنها ملعونة ملعون ما فيها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ دنیا کا ذکر کرتے تھے تو فرماتے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے۔
حدیث نمبر: 37315
٣٧٣١٥ - حدثنا وكيع عن أبي هلال عن معاوية بن قرة قال: مرض أبو الدرداء فعادوه فقالوا: أي شيء تشتكي؟ قال: ذنوبي، قيل: أي شيء تشتهي؟ قال: الجنة، قيل: ندعو لك (الطبيب؟) (١) قال: هو أضجعني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو لوگوں نے ان کی عیادت کی۔ لوگوں نے پوچھا : آپ کو کس چیز کی شکایت ہے ؟ فرمایا : اپنے گناہوں کی۔ پوچھا گیا کس چیز کی چاہت ہے ؟ فرمایا : جنت کی۔ کہا گیا ہم آپ کے لیے کوئی طبیب بلائیں ؟ فرمایا : اسی نے تو مجھے بستر پر ڈالا ہے۔
حدیث نمبر: 37316
٣٧٣١٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا شيخ منا يقال له الحكم بن الفضيل عن زيد بن أسلم قال: قال أبو الدرداء: التمسوا الخير دهركم كله، وتعرضوا (لنفحات) (١) (رحمة) (٢) اللَّه، فإن للَّه نفحات من رحمته يصيب بها من يشاء من عباده، و (اسألوا) (٣) اللَّه أن يستر عوراتكم ويؤمن روعاتكم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنی پوری زندگی خیر ہی تلاش کرتے رہو اور خدا کی رحمت کے جھونکوں کے سامنے پیش ہوتے رہو کیونکہ اللہ کی رحمت کے کچھ جھونکے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں۔ اور اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہارے رازوں کو چھپائے اور تمہارے خوف کو امن دے۔
حدیث نمبر: 37317
٣٧٣١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن ثور) (١) عن سليم بن عامر عن أبي الدرداء قال: نعم صومعة الرجل بيته، يحفظ فيها لسانه وبصره، وإياك والسوق فإنها تلغي وتلهي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی کا بہترین عبادت خانہ اس کا گھر ہے جس میں وہ اپنی زبان اور اپنی نگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔ اور خبردار، بازار سے بچو۔ کیونکہ یہ لغو میں مبتلا کرتا ہے اور غافل کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 37318
٣٧٣١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن عون بن عبد اللَّه عن أبي الدرداء قال: من يتفقد يفقد، ومن لا يعد الصبر لفواجع الأمور يعجز (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص جائزہ لیتا ہے وہ محروم ہوجاتا ہے اور جو شخص غمگین امور میں صبر نہیں کرتا وہ عاجز ہوجاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو لوگوں کو قرض دے گا تو لوگ بھی تجھے قرض دیں گے اور اگر تو ان کو چھوڑ دے گا تو وہ تجھے نہیں چھوڑیں گے۔ راوی نے کہا : پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو اپنی عزت سے اپنے فقر کے دن کے لیے قرض لے لے۔
حدیث نمبر: 37319
٣٧٣١٩ - قال: وقال أبو الدرداء: إن قارضت الناس قارضوك، وإن تركتهم لم يتركوك، قال: فما تأمرني؟ قال: اقرض من (عرضك) (١) ليوم فقرك (٢).
حدیث نمبر: 37320
٣٧٣٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي (البختري) (١) قال: بينا أبو الدرداء يوقد تحت قدر له، وسلمان عنده، إذ سمع أبو الدرداء في القدر صوتا، ثم ارتفع الصوت (بنشيج) (٢) كهيئة صوت الصبي، قال: ثم ندرت القدر فانكفأت، ثم رجعت إلى مكانها (لم) (٣) ينصب منها شيء، فجعل أبو الدرداء ينادي: يا سلمان انظر إلى العجب، انظر إلى ما لم (تنظر) (٤) إلى ⦗٣٥٣⦘ مثله أنت ولا أبوك، فقال سلمان: أما إنك لو سكت لسمعت من آيات اللَّه الكبرى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی ہانڈی کے نیچے آگ جل رہی تھی اور حضرت سلمان ان کے پاس تھے کہ اچانک حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ہانڈی میں سے ایک آواز سنی۔ پھر وہ آواز آنسو نکلنے کی آواز ہوگئی جیسے بچہ کی آواز ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر ہانڈی گرگئی اور اوندھی ہوگئی پھر وہ واپس اپنی جگہ آگئی لیکن اس میں سے کچھ بھی نہیں گرا تھا۔ پس حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے آواز دینی شروع کی۔ اے سلمان ! عجیب بات دیکھو ! ایسی چیز دیکھو جس کی مثل نہ تم نے دیکھی نہ تمہارے باپ نے دیکھی۔ حضرت سلمان نے فرمایا : اگر آپ خاموش رہتے تو آپ اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے سنتے۔
حدیث نمبر: 37321
٣٧٣٢١ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن الغيرة عن حميد بن هلال قال: قال أبو الدرداء: إن أخوف ما أخاف إذا وقفتُ على الحساب أن يقال لي: قد علمت فما (عملت) (١) فيما علمت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب میں حساب کے لیے کھڑا ہوں تو مجھے جس بات سے سب سے زیادہ خوف ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مجھے کہا جائے تحقیق تجھے علم تھا۔ پس جو تجھے علم تھا تو نے اس میں کیا عمل کیا ہے ؟ “
حدیث نمبر: 37322
٣٧٣٢٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن الأعمش عن عمرو بن مرة أو غيره عن سالم بن أبي الجعد قال: مر ثوران على أبي الدرداء وهما يعملان، فقام أحدهما فقام الآخر، فقال أبو الدرداء: إن في هذا (لمعتبرا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : دو بیل حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ دونوں کام میں جتے ہوئے تھے۔ پھر ان میں سے ایک کھڑا ہوا تو دوسرا بھی کھڑا ہوگیا اس پر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا اس میں عبرت ہے۔
حدیث نمبر: 37323
٣٧٣٢٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن غيلان بن (بشر) (١) عن يعلى ابن الوليد قال: كنت أمشي مع أبي الدرداء، قال: قلت: يا أبا الدرداء ما تحب لمن تحب؟ قال: الموت، قال: قلت (له) (٢): (فإن) (٣) لم ⦗٣٥٤⦘ يمت؟ قال: يقل ماله وولده (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن ولید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہتے ہیں میں نے کہا : اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ! آپ کو جس سے محبت ہے اس کے لیے آپ کیا پسند کرتے ہیں ؟ فرمایا : موت۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے آپ سے کہا : لیکن اگر وہ نہ مرے ؟ فرمایا : اس کے بچے اور مال کم ہو۔
حدیث نمبر: 37324
٣٧٣٢٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن محمد بن سعد الأنصاري قال: حدثني عبد اللَّه بن (يزيد) (١) بن ربيعة الدمشقي قال: قال أبو الدرداء: أدلجت ذات ليلة (إلى) (٢) المسجد، فلما دخلت مررت على رجل وهو ساجد وهو يقول: اللهم إني خائف مستجير فأجرني من عذابك، وسائل فقير فارزقني من فضلك، لا (بريء) (٣) من ذنب فأعتذر، ولا ذو قوة فأنتصر، و (لكني) (٤) مذنب مستغفر، قال: فأصبح أبو الدرداء يعلمهن أصحابه إعجابا بهن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ایک رات منہ اندھیرے مسجد کی طرف گیا۔ پس جب میں داخل ہوا تو میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا۔ وہ سجدہ میں تھا اور کہہ رہا تھا۔ اے اللہ ! میں خوفزدہ ہوں، پناہ کا طالب ہوں پس تو مجھے اپنے عذاب سے پناہ دے دے۔ اور میں مانگنے والا فقیر ہوں پس تو مجھے اپنے فضل میں سے رزق دے دے۔ میں گناہ سے بری نہیں ہوں لیکن تو (میرا) عذر قبول کرلے اور نہ میں طاقت ور ہوں لیکن تو میری مدد فرما۔ بلکہ میں گناہگار اور معافی کا طلب گار ہوں۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے صبح کے وقت یہ کلمات اپنے شاگردوں کو سکھانے شروع کردئیے ان کو اچھا سمجھتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 37325
٣٧٣٢٥ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: حدثنا شعبة قال: أخبرنا يزيد بن خمير الشامي (قال: أخبرني) (٢) سليمان بن مرثد قال: سمعت ابنة أبي الدرداء عن أبي الدرداء قال: لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرًا، ولخرجتم تبكون لا تدرون: تنجون أو لا تنجون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن مرثد بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ا کہ انہوں نے فرمایا : اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو البتہ تم لوگ کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔ اور تم روتے ہوئے نکل پڑو۔ تمہیں معلوم نہ ہو کہ تم نجات پاؤ گے کہ نہیں۔
حدیث نمبر: 37326
٣٧٣٢٦ - حدثنا وكيع عن مسعر عن إبراهيم السكسكي قال: حدثنا أصحابنا عن أبي الدرداء قال: إن شئتم لأقسمن لكم: إن أحب العباد إلى اللَّه الذين يحبون اللَّه (ويحببون) (١) اللَّه إلى عباده (٢) والذين يراعون الشمس والقمر والنجوم (والأظلة) (٣) لذكر اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں قسم کھا کر کہہ دیتا ہوں۔ بیشک اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں سے محبوب ترین وہ بندے ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے بندوں کی محبت کرواتے ہیں۔ جو لوگ شمس وقمر اور ستاروں، سایوں کا خیال اللہ کے ذکر کی وجہ سے رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37327
٣٧٣٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن أبي (ليلى) (١) قال: كتب أبو الدرداء إلى مسلمة بن مخلد وهو أمير بمصر: أما بعد فإن العبد إذا عمل بطاعة اللَّه أحبه اللَّه، وإذا أحبه اللَّه حببه إلى خلقه، وإذا أبغضه (اللَّه) (٢) بغضه إلى خلقه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت مسلمہ بن مخلد کو خط لکھا جبکہ وہ مصر کے امیر تھے۔ اما بعد ! پس بیشک بندہ جب اللہ کی اطاعت والا عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں تو اس کو اپنی مخلوق میں محبوبیت عطا کرتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے بغض رکھتے ہیں تو اس کو اپنی مخلوق میں سے مبغوض بنا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37328
٣٧٣٢٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن سالم بن أبي الجعد عن أبي الدرداء أنه قال: مالي أرى علماءكم يذهبون، وأرى جهالكم لا يتعلمون، اعلموا قبل أن يرفع العلم فإنّ رفعَ العلم ذهابُ العلماء، مالي أراكم تحرصون على ما تكفل لكم به، وتضيعون ما وكلتم به، لأنا أعلم بشراركم من البيطار بالخيل، هم الذين لا ⦗٣٥٦⦘ يأتون الصلاة إلا دبرًا، ولا يسمعون القرآن إلا هجرًا، ولا يعتق محررهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہارے علماء کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جا رہے ہیں اور میں تمہارے جاہل لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ علم حاصل نہیں کرتے ؟ علم کے اٹھائے جانے سے قبل علم حاصل کرو کیونکہ علم کا اٹھنا علماء کا جانا ہے۔ مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں ان چیزوں کے بارے میں حریص دیکھتا ہوں جو تمہارے سپرد کی گئی ہیں ؟ میں تم میں شریر لوگوں کو اس سے زیادہ جانتا ہوں جتنا کہ جانوروں کا علاج کرنے والا گھوڑوں کو جانتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو وقت نکل جانے کے بعد پڑھتے ہیں اور قرآن مجید کو بےرخی کے ساتھ سنتے ہیں اور اپنے غلاموں کو آزاد نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 37329
٣٧٣٢٩ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم قال: صعد رجل إلى أبي الدرداء وهو جالس فوق بيت يلتقط حبا قال: فكأن الرجل أستحيا منه فرجع، فقال أبو الدرداء: تعال فإن (من) (١) فقهك رفقك بمعيشتك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس اوپر گیا جبکہ وہ کمرے کے اوپر دانے چن رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں گویا کہ اس آدمی نے آپ سے حیا کرتے ہوئے واپسی کا راستہ لے لیا۔ اس پر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آجاؤ۔ کیونکہ تمہارا اپنی معیشت میں نرم برتاؤ تمہاری سمجھ داری ہے۔
حدیث نمبر: 37330
٣٧٣٣٠ - حدثنا علي بن إسحاق عن (ابن) (١) مبارك عن عبد الرحمن بن يزيد (ابن) (٢) جابر قال: أخبرني إسماعيل بن عبيد اللَّه قال: حدثتني أم الدرداء أنه أغمي على أبي الدرداء فأفاق، فإذا بلال ابنه عنده، فقال: قم فأخرج عني، ثم قال: من يعمل (لمثل) (٣) مضجعي هذا؟ (من يعمل لمثل مضجعي هذا؟) (٤) من يعمل لمثل ساعتي هذه؟ ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ [الأنعام: ١١٠]، قالت: ثم يغمى عليه (فيلبث) (٥) لبثا ثم يفيق فيقول مثل ذلك، فلم يزل يرددها حتى قبض (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بےہوش ہوگئے پھر انہیں ہوش آیا تو ان کے بیٹے حضرت بلال ان کے پاس تھے۔ حضرت ابوالدرادء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اٹھو اور میرے پاس سے باہر چلے جاؤ۔ پھر فرمایا : میرے اس خواب گاہ کی طرح کس نے کام کیا ہے ؟ میری اس گھڑی کی طرح کس نے کام کیا ہے ؟ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر آپ پر بیہوشی طاری ہوگئی۔ آپ کچھ دیر گزارتے پھر آپ کو افاقہ ہوتا اور آپ پھر یہی بات دہراتے۔ چناچہ آپ یہ بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کی جان قبض ہوگئی۔
حدیث نمبر: 37331
٣٧٣٣١ - حدثنا غندر عن شعبة عن (يعلى) (١) بن عطاء قال: حدثني (تميم) (٢) بن غيلان بن سلمة قال: جاء رجل إلى أبي الدرداء وهو مريض فقال: يا أبا الدرداء إنك قد أصبحت على جناح فراق (الدنيا) (٣)، فمرني بأمر ينفعني اللَّه (به) (٤)، وأذكرك به، (فقال) (٥): إنك من أمة معافاة، فأقم الصلاة وأد الزكاة إن كان لك مال، وصم رمضان واجتنب الفواحش، ثم أبشر، فأعاد الرجل على أبي الدرداء فقال له أبو الدرداء: مثل ذلك. فنفصن الرجل رداءه ثم قال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ﴾ إلى قوله: ﴿وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾ [البقرة: ١٥٩] فقال أبو الدرداء: عليّ بالرجل، (فجاء) (٦) فقال أبو الدرداء: ما قلت؟ قال: كنت رجلًا معلما، عندك من العلم ما ليس عندي، فأردت أن (تحدثني) (٧) بما ينفعني اللَّه به، فلم ترد عليّ إلا قولًا واحدًا، فقال له أبو الدرداء: اجلس ثم اعقل ما أقول لك: أين أنت من يوم ليس لك من الأرض إلا عرض ذراعين في طول أربع أذرع، أقبل بك أهلك الذين كانوا لا يحبون فراقك وجلساؤك وإخوانك، فأتقنوا عليك (البنيان) (٨) وأكثروا عليك التراب، وتركوك (لمثل) (٩) ذلك، وجاءك ملكان أسودان أزرقان جعدان، اسماهما منكر ونكير، فأجلساك ثم سألاك: ما أنت وعلى ماذا ⦗٣٥٨⦘ كنت؟ (و) (١٠) ما تقول في هذا الرجل؟ فإن قلت: واللَّه ما أدري، سمعت الناس قالوا قولا فقلت قول الناس، فقد واللَّه رديت وهويت، وإن قلت: محمد رسول اللَّه ﷺ (١١)، أنزل اللَّه عليه كتابه فآمنت به وبما جاء به، فقد واللَّه (نجوت وهديت) (١٢)، ولن تستطيع ذلك إلا بتثبيت من اللَّه مع ما ترى من الشدة والتخويف، ثم أين أنت من يوم ليس لك من الأرض إلا موضع قدميك، ويوم كان مقداره خمسين ألف سنة، (الناس فيه) (١٣) قيام لرب العالمين، ولا ظل إلا ظل عرش رب العالمين، وأدنيت الشمس، (فإن) (١٤) كنت من أهل الظل فقد -واللَّه- نجوت وهديت، وإن كنت من أهل الشمس فقد واللَّه رديت وهويت، ثم أين أنت من يوم (جيء) (١٥) بجهنم قد سدت ما بين الخافقين وقيل: لن تدخل الجنة حتى تخوض النار، فإن كان معك نور استقام بك الصراط فقد واللَّه نجوت وهديت، وإن لم يكن معك نور تشبثتْ بك بعض خطاطيف جهنم أو كلاليبها أو (شبابيثها) (١٦) فقد واللَّه رديت وهويت. فورب أبي الدرداء إنما أقول (حق) (١٧) فاعقل ما أقول (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن غیلان بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ! یقینا آؤ اس دنیا سے ایک کنارے پر ہو رہے ہیں پس آپ مجھے کوئی ایسا حکم دیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے اور میں آپ کو اس کے ذریعہ یاد رکھوں۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ایک درگزر کی ہوئی امت سے ہو۔ پس تم نماز قائم کرو۔ اگر تمہارے پاس مال ہے تو زکوٰۃ ادا کرو۔ اور رمضان کا روزہ رکھو۔ اور فواحش سے اجتناب کرو پھر تمہیں بشارت ہے۔ اس آدمی نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بات دوبارہ کہی تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اس سے پھر ایسی بات کہی۔ اس پر اس آدمی نے اپنی چادر جھاڑی اور کہا : {إنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ } إِلَی قَوْلِہِ : { وَیَلْعَنَہُمُ اللاَّعِنُوْنَ } چناچہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس وہ آدمی آیا تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم نے کیا کہا ؟ اس آدمی نے کہا : آپ صاحب علم آدمی ہیں۔ آپ کے پاس وہ علم ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں گے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے گا لیکن آپ نے تو مجھے ایک ہی جواب دیا۔ اس پر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا : بیٹھو اور جو بات میں تمہیں کہنے لگا ہوں اس کو سمجھو۔ تم اس دن کے بارے میں کہاں ہو جس دن تمہیں زمین سے صرف دو ہاتھ چوڑی اور چار ہاتھ لمبی زمین نصیب ہوگی۔ اور تمہیں تمہارے وہ اہل خانہ لے کر آئیں گے جو تمہاری جدائی پسند نہیں کرتے اور تمہارے وہ ہم مجلس اور بھائی لے کر آئیں گے جو تمہاری جدائی پسند نہیں کرتے۔ پس وہ تم پر اچھی عمارت بنا کر تم پر خوب مٹی ڈال دیں گے اور تمہیں { ذلک بمیتک } چھوڑ جائیں گے۔ اور تمہارے پاس دو گھنگریالے بالوں والے کالے، نیلے فرشتے آئیں گے۔ ان کے نام منکر اور نکیر ہوں گے۔ یہ دونوں تمہیں بٹھائیں گے پھر یہ دونوں تم سے پوچھیں گے تم کیا ہو ؟ اور تم کس دین پر تھے اور تم اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ پس اگر تو نے کہا : بخدا ! مجھے معلوم نہیں ہے۔ میں تو لوگوں کو سنتا تھا کہ وہ ایک بات کہتے تھے تو میں بھی لوگوں کی طرح کی بات کہتا تھا۔ تو تحقیق تو ہلاک و برباد ہوگیا۔ اور اگر تم نے یہ کہا : یہ اللہ کے رسول محمد ﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے۔ اور میں ان پر ایمان لایا ہوں اور جو کچھ یہ لے کر آئے ہیں اس پر بھی ایمان لایا ہوں تو تحقیق تو نجات پا گیا اور راہ راست پا گیا۔ اور تم اس بات کی خدا کی طرف سے ثابت قدمی کے بغیر ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ تم شدت اور تخویف بھی دیکھ رہے ہو۔ پھر تم اس دن کے بارے میں کہاں ہو۔ جس دن تمہیں زمین میں سے صرف اپنے دو قدموں کے بقدر جگہ نصیب ہوگی اور یہ ایسا دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اور رب العالمین کے عرش کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ اور سورج کو قریب کردیا جائے گا۔ پس اگر تو سایہ والوں میں سے ہوا تو پھر بخدا تو یقینا نجات پا گیا اور ہدایت پا گیا اور اگر تو دھوپ والوں میں سے ہوا تو پھر بخدا یقینا تو ہلاک و برباد ہوگیا۔ پھر تو اس دن کے بارے میں کہاں ہے جس دن جہنم کو لایا جائے گا جس نے دونوں اطراف … مشرق ومغرب … کو گھیر رکھا ہوگا اور کہا جائے گا کہ تو ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ تو جہنم کو عبور کرے پس اگر تیرے پاس نور ہوگا تو تو پل صراط پر سیدھا جائے گا۔ پھر تو تحقیق تو نجات پا گیا اور ہدایت حاصل کرگیا اور اگر تیرے پاس نور نہ ہوا تو تیرے ساتھ جہنم کی بعض ابابلیں یا جہنم کے کتے یا وہاں کی کوئی چمٹنے والی چیزیں چمٹ جائیں گی۔ تو پھر تحقیق تو ہلاک و برباد ہوجائے گا۔ ابوالدرداء کے رب کی قسم ! میں نے جو کچھ کہا ہے وہ برحق ہے۔ پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کو سمجھو۔
حدیث نمبر: 37332
٣٧٣٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: قال أبو الدرداء: كنت تاجرا قبل أن يبعث محمد ﷺ، فلما بعث محمد (١) ⦗٣٥٩⦘ (زاولت) (٢) التجارة والعبادة فلم (تجتمعا) (٣)، فأخذت العبادة وتركت التجارة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبعوث ہونے سے پہلے تجارت کرتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو میں نے عبادت اور تجارت کو (اکٹھا کرنے کی) مسلسل مشق کی لیکن یہ دونوں جمع نہیں ہوئے۔ چناچہ میں نے عبادت کو لے لیا اور تجارت کو چھوڑ دیا۔