کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37275
٣٧٢٧٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: قال عبد اللَّه: كفى بالمرء ⦗٣٣٩⦘ من الشقاء -أو من (الخيبة) (١) - أن يبيت وقد بال الشيطان في أذنه فيصبح ولم يذكر اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : آدمی کی بدبختی کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ رات اس حال میں گزارے کہ شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دے پس وہ صبح اس حال میں کرے کہ خدا کا ذکر نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37275
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن نصر في التهجد (٤٠١)، وقد ورد مرفوعًا بنحوه، أخرجه البخاري (١٠٩٣)، ومسلم (٧٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37275، ترقيم محمد عوامة 35697)
حدیث نمبر: 37276
٣٧٢٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: سمعت عون بن عبد اللَّه يقول قرأ رجل عند عبد اللَّه بن مسعود: ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا﴾ [الإنسان: ١]، فقال: عبد اللَّه: ألا ليت ذلك تم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن مسعود کے پاس یہ آیت { ہَلْ أَتَی عَلَی الإِنْسَان حِینٌ مِنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَذْکُورًا } پڑھی۔ اس پر حضرت عبداللہ نے کہا : خبردار ! کاش یہ بات پوری ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37276
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37276، ترقيم محمد عوامة 35698)
حدیث نمبر: 37277
٣٧٢٧٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن قرة عن الضحاك عن ابن مسعود قال: ما أصبح اليوم أحد من الناس إلا وهو ضيف، وماله (عارية) (١)، فالضيف مرتحل، والعارية مؤداة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں آج کے دن جس نے بھی صبح کی ہے تو وہ مہمان ہے اور اس کا مال عاریت ہے۔ پس مہمان جانے والا ہے اور عاریت قابل واپسی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37277
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37277، ترقيم محمد عوامة 35699)
حدیث نمبر: 37278
٣٧٢٧٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن المنهال بن عمرو عن قيس بن سكن عن عبد اللَّه في قوله: ﴿يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ﴾ [الحديد: ١٢]، قال: يؤتون نورهم على قدر أعمالهم، منهم من نوره مثل الجبل، (ومنهم من نوره مثل النخلة) (١)، وأدناهم نورا من نوره على إبهامه يطفأ (مرة) (٢) (ويقد) (٣) أخرى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے قول خداوندی { یَسْعَی نُورُہُمْ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا : ان لوگوں کو ان کے اعمال کے بقدر نور دیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا نور پہاڑ کی طرح ہوگا اور ان میں سے کم ترین نور والا یوں ہوگا کہ اس کا نور اس کے انگوٹھے پر ہوگا۔ کبھی بجھے گا اور کبھی جلے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37278
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم (١٨٨١٧)، كما ذكره ابن كثير ١/ ٥٦، وأخرجه الحاكم ٢/ ٥٢٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37278، ترقيم محمد عوامة 35700)
حدیث نمبر: 37279
٣٧٢٧٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن عاصم عن أبي رزين عن عبد اللَّه ابن مسعود قال: موسع عليه في (الدنيا) (١) موسع عليه في الآخرة، مقتور عليه في (الدنيا) (٢) مقتور عليه في الآخرة، (موسع عليه في (الدنيا) (٣) مقتور عليه في الآخرة) (٤)، مستريح ومستراح منه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : دنیا میں خوش حال، آخرت میں خوشحال دنیا میں تنگ حال، آخرت میں تنگ حال، دنیا میں خوشحال، آخرت میں تنگ حال آرام و سکون سے ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37279
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه هناد (٦٠١)، والطبراني (٨٥١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37279، ترقيم محمد عوامة 35701)
حدیث نمبر: 37280
٣٧٢٨٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه في قوله: ﴿تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ [التحريم: ٨] قال: التوبة النصوح أن يتوب ثم لا يعود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے ارشاد خداوندی { تُوبُوا إِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَصُوحًا } کے بارے میں منقول ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : توبۃ نصوح یہ ہے کہ آدمی توبہ کرے پھر اس گناہ کو دوبارہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37280
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البيهقى في الشعب (٧٠٣٥)، وابن جرير ٢٨/ ١٦٧، وأخرجه أحمد (٤٢٦٤) مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37280، ترقيم محمد عوامة 35702)
حدیث نمبر: 37281
٣٧٢٨١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: من أراد (الدنيا) (١) أضر بالآخرة، ومن أراد الآخرة أضر (بالدنيا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں جو شخص دنیا کا ارادہ کرے تو اس کو آخرت کا نقصان ہوگا اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے تو اس کو دنیا کا نقصان ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37281
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37281، ترقيم محمد عوامة 35703)
حدیث نمبر: 37282
٣٧٢٨٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن المسيب) (١) بن رافع قال: قال عبد اللَّه: أني لأمقت الرجل أن أراه فارغا ليس في شيء من عمل ⦗٣٤١⦘ (الدنيا) (٢) ولا عمل الآخرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس آدمی پر سخت غصہ آتا ہے جس کو میں اس طرح فارغ دیکھوں کہ وہ دنیا، آخرت کے کسی کام میں مشغول نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37282
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37282، ترقيم محمد عوامة 35704)
حدیث نمبر: 37283
٣٧٢٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: قال عبد اللَّه: من أحب أن ينصف اللَّه من نفسه فليأت إلى الناس الذي يحب أن يؤتى إليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس سے اللہ کو پورا حق دلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اپنے پاس آنے کو پسند کرتے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37283
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37283، ترقيم محمد عوامة 35705)
حدیث نمبر: 37284
٣٧٢٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (خيثمة) (١) قال: قال عبد اللَّه: والذي لا إله غيره (ما أعطي عبد مؤمن من شيء أفضل من أن يحسن باللَّه ظنه، والذي لا إله غيره) (٢) لا يحسن عبد مؤمن باللَّه ظنه إلا أعطاه (اللَّه) (٣) ذلك، فإن (كل الخير) (٤) بيده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ؟ کسی بندۂ مومن کو اس سے افضل چیز عطا نہیں کی گئی کہ وہ اللہ کے ساتھ حسن ظن کرے اور قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ کوئی بندۂ مومن خدا کے ساتھ حسن ظن نہیں کرتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو خیر دے دیتے ہیں۔ کیونکہ ساری خیر اسی کے قبضہ میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37284
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37284، ترقيم محمد عوامة 35706)
حدیث نمبر: 37285
٣٧٢٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (إسحاق) (١) عن أبي (الأحوص) (٢) عن عبد اللَّه قال: كاد الجعل أن يعذب في (جحره) (٣) بذنب بن آدم، ثم قرأ: ﴿وَلَوْ ⦗٣٤٢⦘ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا (٤)﴾ [فاطر: ٤٥] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں قریب ہے کہ بھنورے کو بھی اپنی بل میں ابن آدم کے گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جائے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : { وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللَّہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوا }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37285
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم (١٨٠١٩)، وابن جرير ١٤/ ١٢٦، والحاكم ٢/ ٤٦٤، والبيهقي في شعب الإيمان ٦/ ٥٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37285، ترقيم محمد عوامة 35707)
حدیث نمبر: 37286
٣٧٢٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي (الأحوص) (١) قال: قال عبد اللَّه: لا تغالبوا هذا الليل فإنكم (لا تطيقونه) (٢)، فإذا (نعس) (٣) أحدكم فلينم على فراشه فإنه أسلم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : تم لوگ اس رات پر غلبہ حاصل نہ کرو کیونکہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ پس جب تم میں سے کسی کو اونگھ آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے بستر پر سو جائے۔ کیونکہ یہ زیادہ بہتر بات ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37286
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٤٢٢٣)، والطبراني (٨٥٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37286، ترقيم محمد عوامة 35708)
حدیث نمبر: 37287
٣٧٢٨٧ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن أبي الحكم عن أبي وائل عن ابن مسعود قال: ما أحد من الناس يوم القيامة إلا (١) (يتمنى) (٢) أنه كان يأكل في الدنيا قوتًا، وما يضر أحدكم على أي حال أمسى وأصبح من الدنيا (أن لا) (٣) تكون في النفس (حزازة) (٤)؛ ولأن يعض أحدكم على جمرة حتى تطفأ خير من أن يقول لأمر قضاه اللَّه: (ليت) (٥) هذا لم يكن (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس بات کی خواہش کرے گا کہ وہ دنیا میں جو کچھ کھاتا تھا وہ قوت … زندگی بچانے کی مقدار کھانا … ہوتا اور تم میں سے کسی کو دنیا کی صبح وشام … جس حالت کی بھی ہو … نقصان نہیں دے گی اگر اس کے دل میں درد نہ ہو۔ اور تم میں سے کوئی انگارے کو پکڑے یہاں تک کہ وہ بجھ جائے یہ کام اس بات سے بہتر ہے کہ آدمی خدا کے کسی فیصلہ شدہ کام کے بارے میں یہ کہے : کاش کہ یہ نہ ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37287
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٧، وأحمد في الزهد (ص ١٥٦)، وأخرجه مرفوعًا الخطيب في تاريخ بغداد ٤/ ٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37287، ترقيم محمد عوامة 35709)
حدیث نمبر: 37288
٣٧٢٨٨ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: إنه لمكتوب في التوراة: لقد أعد اللَّه للذين تتجافى جنوبهم عن المضاجع ما لم تر عين ولم تسمع أذن ولم يخطر على قلب بشر وما (لا) (٢) يعلمه ملك ولا مرسل، قال: ونحن نقرؤها: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [السجدة: ١٧] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبیدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : یقینا یہ بات تورات میں لکھی ہوئی ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بندہ کے دل پر ان کا خیال نہیں گزرا اور جن کو کوئی فرشتہ، رسول نہیں جانتا۔ پھر فرمایا : ہم اس بات کو (یہاں) پڑھتے ہیں : { فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37288
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37288، ترقيم محمد عوامة 35710)
حدیث نمبر: 37289
٣٧٢٨٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم البطين عن (عدسة) (١) (الطائي) (٢) قال: أُتي (عبد اللَّه) (٣) (بطير) (٤) (صيد) (٥) (بشراف) (٦) فقال عبد اللَّه: لوددت إني بحيث صيد هذا الطير، لا يكلمني بشر ولا أكلمه حتى ألقى اللَّه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدسہ طائی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس مقام شراف سے شکار کردہ ایک پرندہ لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں اس مقام پر رہوں جہاں اس پرندہ کو شکار کیا گیا ہے۔ نہ مجھ سے کوئی بشر کلام کرے اور نہ میں کسی بشر سے کلام کروں یہاں تک کہ میں اللہ سے مل جاؤں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37289
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37289، ترقيم محمد عوامة 35711)
حدیث نمبر: 37290
٣٧٢٩٠ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن (خيثمة) (١) قال: قال عبد اللَّه: انظروا الناس عند (مضاجعهم) (٢)، فإذا رأيتم العبد يموت على ⦗٣٤٤⦘ خير ما ترونه فارجوا له الخير، وإذا رأيتموه يموت على شر ما ترونه فخافوا عليه، فإن العبد إذا كان شقيا وإن أعجب الناسَ بعضُ عمله قُيض له شيطان (فأرداه) (٣) وأهلكه حتى يدركه الشقاء الذي كتب عليه، وإذا كان (٤) سعيدا وإن كان الناس يكرهون بعض عمله (٥) قيض له ملك فأرشده وسدده حتى تدركه السعادة التي كتبت له (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : لوگوں کو ان کی خواب گاہوں کے پاس دیکھو۔ پس جب تم کسی بندے کو بہترین حالت پر مرتے دیکھو تو اس کے لیے خیر کی امید رکھو اور جب تم کسی بندے کو بدترین حالت میں مرتے دیکھو تو پھر تم اس پر خوف کرو۔ کیونکہ جب بدبخت ہوتا ہے … تو اگرچہ اس کے بعض اعمال لوگوں کو متعجب کرتے ہیں … تو اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیا جاتا ہے وہ اس کو بہکاتا ہے اور ہلاکت میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ وہ بدبختی اس کو پالیتی ہے جو اس کا مقدر ہوتی ہے اور جب بندہ خوش بخت ہوتا ہے … اگرچہ اس کے بعض اعمال لوگوں کو ناپسند ہوتے ہیں … اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے جو اس کی راہنمائی کرتا ہے اور راہ راست پر لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو مقدر کی سعادت پالیتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37290
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37290، ترقيم محمد عوامة 35712)
حدیث نمبر: 37291
٣٧٢٩١ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن أبي (الأحوص) (١) قال: قال عبد اللَّه: تعودوا الخير فإنما الخير في العادة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : خیر کی عادت بناؤ۔ کیونکہ عادت میں بہتری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37291
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٤٧٤٢)، وابن أي عاصم في الزهد (٧٨)، والطبراني (٨٧٥٥)، والبيهقي ٣/ ٨٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37291، ترقيم محمد عوامة 35713)
حدیث نمبر: 37292
٣٧٢٩٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (خيثمة) (١) عن الأسود قال: قال عبد اللَّه: ما من نفس برة ولا فاجرة إلا وإن الموت خير لها من الحياة، لئن كان برا لقد قال اللَّه: ﴿وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ﴾ [آل عمران: ١٩٨]، (ولئن) (٢) كان فاجرا لقد قال اللَّه: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ (خَيْرٌ) (٣) لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾ [آل عمران: ١٧٨] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : نفس اچھا ہو یا برا ہو۔ بہرحال موت اس کے لیے زندگی سے بہتر ہے۔ اگر نفس نیک ہو تو ارشاد خداوندی ہے : { وَمَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِلأَبْرَارِ } اور اگر نفس برا ہو تو ارشاد خداوندی ہے : { وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَمَّا نُمْلِی لَہُمْ خَیْرٌ لأَنْفُسِہِمْ إنَّمَا نُمْلِی لَہُمْ لِیَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُہِینٌ}۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37292
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ١/ ٤٤٣، وأخرجه ابن جرير ٤/ ١٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37292، ترقيم محمد عوامة 35714)
حدیث نمبر: 37293
٣٧٢٩٣ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن أبي (كنف) (١) أن رجلا رأى رؤيا فجعل يقصها على ابن مسعود وهو سمين، فقال ابن مسعود: إني لأكره أن يكون القارئ سمينًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوکنف سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے خواب دیکھا۔ چناچہ اس نے وہ خواب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بیان کرنا شروع کیا … وہ آدمی موٹا تھا … حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کو ناپسند کرتاہوں کہ قاری موٹا ہو … راوی اعمش کہتے ہیں … میں نے یہ روایت ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا : موٹا آدمی قرآن کو بھلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37293
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37293، ترقيم محمد عوامة 35715)
حدیث نمبر: 37294
٣٧٢٩٤ - قال الأعمش: فذكرت ذلك لإبراهيم فقال: سمين نَسي للقرآن.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37294
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37294، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 37295
٣٧٢٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي (الأحوص) (١) قال: قال عبد اللَّه: مع كل فرحة (ترحة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : ہر خوشی کے ساتھ غم ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37295
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٦٣)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (٩٧٧)، والبيهقي في الشعب ٧/ ٣٧٥، وورد مرفوعًا عند الخطيب ٣/ ١١٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37295، ترقيم محمد عوامة 35716)
حدیث نمبر: 37296
٣٧٢٩٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق قال: أتي عبد اللَّه بشراب فقال: أعطه علقمة قال: إني صائم ثم قال: (أعط) (١) الأسود، فقال: إني صائم حتى مر (بكلهم) (٢)، ثم أخذه فشربه ثم تلا هذه الآية: ﴿يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ﴾ [النور: ٣٧] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس کوئی مشروب لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مشروب علقمہ کو دے دو ۔ علقمہ نے کہا : میں روزے سے ہوں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مشروب اسود کو دے دو ۔ اسود نے کہا میں روزے سے ہوں۔ یہاں تک کہ سب لوگوں کے پاس سے وہ مشروب ہو آیا پھر آپ نے خود وہ مشروب پکڑا اور اس کو نوش فرمایا پھر یہ آیت پڑھی : { یَخَافُونَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیہِ الْقُلُوبُ وَالأَبْصَارُ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37296
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (١٤٦٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37296، ترقيم محمد عوامة 35717)
حدیث نمبر: 37297
٣٧٢٩٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: ما شبهت ما غبر من (الدنيا) (١) إلا (الثغب) (٢) شرب صفوه وبقي كدره، ولا يزال ⦗٣٤٦⦘ أحدكم بخير ما اتقى اللَّه، وإذا (حاك) (٣) في صدره شيء أتي رجلا فشفاه منه، وأيم اللَّه (لأوشك) (٤) أن لا تجدوه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : جس قدر دنیا گزر گئی ہے اس کی مثال اس کوہ دامن کی سی ہے جس کی صفائی ختم اور کدورت باقی ہو اور تم میں سے ایک جب تک اللہ سے ڈرے گا خیر پر ہوگا اور جب اس کے دل میں کوئی بات کھٹکے اور وہ آدمی کے پاس آئے اور اس سے شفا پالے۔ خدا کی قسم ! ہوسکتا ہے کہ تم اس کو نہ پاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37297
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٠٣)، والحاكم ١/ ٢١٠، وأبو يعلى (٥١٣٤)، والبزار (١٦٧١)، والشاشي (٥٩٢)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٣٣، والخطيب في الفقيه ٢/ ٣٦٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37297، ترقيم محمد عوامة 35718)
حدیث نمبر: 37298
٣٧٢٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن المسيب عن وائل بن ربيعة عن عبد اللَّه قال: ما حال أحب إلى اللَّه يرى العبد عليها منه وهو ساجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس حالت سے زیادہ کوئی حالت پسند نہیں ہے کہ وہ بندہ کو سجدہ میں دیکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37298
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ وائل بن ربيعة روى عنه جمع وذكره ابن حبان والعجلي في الثقات، وأخرجه الطبرني (٨٥٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37298، ترقيم محمد عوامة 35719)
حدیث نمبر: 37299
٣٧٢٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زبيد عن مرة عن عبد اللَّه قال: إن اللَّه يعطي الدنيا من يحب ومن لا يحب، ولا يعطي الإيمان إلا من يحب، فإذا أحب اللَّه عبدا أعطاه الإيمان، (فمن) (١) جبن منكم عن الليل أن يكابده، والعدو أن يجاهده، وضن بالمال أن ينفقه، فليكثر من سبحان اللَّه والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : یقینا اللہ تعالیٰ دنیا اس کو دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں اور جس سے محبت نہیں کرتے لیکن ایمان اسی کو عطا کرتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اس کو ایمان عطا کرتے ہیں۔ پس جو شخص تم میں سے رات کے وقت مشقت برداشت کرنے سے ڈرتا ہو اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنے سے بزدل ہو اور مال کو خرچ کرنے میں بخیل ہو تو وہ کثرت سے سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٢٧٥)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٣٤)، والطبراني (٨٩٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٦٥ و ٤/ ١٦٦، واللالكائي (١٦٩٧)، والبيهقي في القدر (٣٦٨)، وورد مرفوعًا، أخرجه الحاكم ١/ ٨٨، والإسماعيلي في معجمه ٣/ ٧٢٧، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٦٦، والقزويني في التدوين ٢/ ٢٧٤، وابن عساكر ٤٩/ ٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37299، ترقيم محمد عوامة 35720)
حدیث نمبر: 37300
٣٧٣٠٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن مسعر عن عون بن عبد اللَّه بن عتبة قال: قال عبد اللَّه: إن الجبل لينادي بالجبل هل مر بك اليوم من ذاكر للَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : بیشک پہاڑ، پہاڑ کو آواز دے کر کہتا ہے۔ کیا آج کے دن تم پر سے کوئی خدا کا ذکر کرنے والا گزرا ہے ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37300
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37300، ترقيم محمد عوامة 35721)