کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37235
٣٧٢٣٥ - [حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يزيد بن أبي زياد عن أبي جحيفة قال: قال عبد اللَّه: ذهب صفو الدنيا وبقي كدرها فالموت تحفة لكل مسلم] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجحیفہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : دنیا کی صفائی چلی گئی اور اس کی کدورت رہ گئی پس موت ہر مسلمان کے لیے تحفہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37235
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد، والخبر أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٥٧)، والطبراني (٨٧٧٤)، ومسدد كما في المطالب (٣١٨٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣١، والخطابي في العزلة (ص ٧٨)، وبنحوه أخرجه عبد الرزاق (٢٠٨٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37235، ترقيم محمد عوامة 35657)
حدیث نمبر: 37236
٣٧٢٣٦ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس عن يزيد عن أبي جحيفة (عن عبد اللَّه) (٢): الدنيا كالثغب (٣) ذهب صفوه وبقي كدره (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے دنیا دامن کوہ کی طرح ہے اس کی صفائی چلی گئی ہے اور اس کی کدورت باقی رہ گئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37236
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37236، ترقيم محمد عوامة 35658)
حدیث نمبر: 37237
٣٧٢٣٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن ابن مسعود قال: بحسب المرء من العلم أن يخاف اللَّه، وبحسبه من الجهل أن يعجب بعمله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی کے علم کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور آدمی کی جہالت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے عمل پر خوش رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37237
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37237، ترقيم محمد عوامة 35659)
حدیث نمبر: 37238
٣٧٢٣٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس عن (هزيل) (١) عن عبد اللَّه قال: من أراد الآخرة أضر بالدنيا، ومن أراد الدنيا أضر بالآخرة، يا قوم فأضروا بالفاني للباقي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص آخرت کا ارادہ رکھتا ہے تو دنیا کا نقصان اٹھاتا ہے اور جو شخص دنیا کا ارادہ کرتا ہے وہ آخرت کا نقصان اٹھاتا ہے۔ اے لوگو ! تم باقی کے لیے فانی کا نقصان اٹھا لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37238
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو قيس عبد الرحمن بن ثروان صدوق، أخرجه الطبراني (٨٥٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٨، وابن عساكر ٣٣/ ٦٧٣، وهناد (٦٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37238، ترقيم محمد عوامة 35660)
حدیث نمبر: 37239
٣٧٢٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن مالك بن مغول عن أبي (صخرة) (١) الضحاك بن مزاحم قال: قال عبد اللَّه: لوددت [أني طير في منكبي ريش (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں پرندہ ہوتا میرے مونڈھے میں پر ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37239
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37239، ترقيم محمد عوامة 35661)
حدیث نمبر: 37240
٣٧٢٤٠ - حدثنا يحيى بن (آدم عن) (١) زهير عن أبي إسحاق قال: قال عبد اللَّه: ليتني شجرة تعضد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : کاش کہ میں کوئی درخت ہوتا جس کو کاٹ لیا جاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37240
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37240، ترقيم محمد عوامة 35662)
حدیث نمبر: 37241
٣٧٢٤١ - حدثنا أبو معاوية (ووكيع) (١) عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: قال عبد اللَّه] (٢): لوددت أن روثة (انفلقت) (٣) عني فنسبت إليها فسميت عبد اللَّه بن روثة، وأن اللَّه غفر لي ذنبا واحدا، إلا أن أبا معاوية قال: لوددت أني علمت أن اللَّه غفر لي - (ثم ذكر مثله) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ گوبر مجھ سے پھٹ جاتا اور میں اس کی طرف منسوب ہوجاتا۔ مجھے عبداللہ بن روثہ کا نام دیا جاتا اور اللہ تعالیٰ میرا ایک گناہ معاف کردیتے۔ راوی ابومعاویہ کہتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : مجھے یہ بات پسند ہے کہ مجھے معلوم ہوجائے کہ اللہ نے مجھے معاف کردیا ہے۔ پھر آگے سابقہ حدیث کے مثل بیان کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37241
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٣٥٧، وابن وهب في الجامع (٢٩)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٣١٩، وابن عساكر ٣٣/ ١٦٩، والبيهقي في الشعب (٨٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37241، ترقيم محمد عوامة 35663)
حدیث نمبر: 37242
٣٧٢٤٢ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن أخيه عن أبي عبيدة قال: قال: عبد اللَّه من استطاع منكم أن يجعل كنزه في السماء حيث لا يأكله السوس ولا يناله السرق فليفعل، فإن قلب الرجل مع كنزه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص اس کی استطاعت رکھتا ہو کہ اس کا خزانہ آسمان میں ہو جہاں اس کو سرسری نہ کھائے اور چور نہ پائے تو اس کو ایسا کرنا چاہیے۔ کیونکہ آدمی کا دل اس کے خزانہ کے ساتھ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37242
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37242، ترقيم محمد عوامة 35664)
حدیث نمبر: 37243
٣٧٢٤٣ - حدثنا أبو أسامة عن مسر عن عمر بن أيوب عن أبي بردة قال: سمع عبد اللَّه بن مسعود (صيحة) (١) فاضطجع مستقبل القبلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ایک چیخ سنی تو آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37243
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37243، ترقيم محمد عوامة 35665)
حدیث نمبر: 37244
٣٧٢٤٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير قال: أخبرني آل عبد اللَّه أن عبد اللَّه أوصى ابنه عبد الرحمن (فقال) (١): أوصيك بتقوى اللَّه وليسعك بيتك، واملك عليك لسانك، وأبك على خطيئتك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
آلِ عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کو یہ وصیت کی تھی۔ فرمایا : میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اور تمہارے لیے تمہارا گھر وسیع ہونا چاہیے اور اپنی زبان کو اپنے قابو میں رکھو اور اپنی غلطیوں پر رویا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37244
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37244، ترقيم محمد عوامة 35666)
حدیث نمبر: 37245
٣٧٢٤٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن بيان عن قيس قال: قال عبد اللَّه: لوددت أني أعلم أن اللَّه غفر لي ذنبا من ذنوبي، وأني لا أبالي أي ولد آدم ولدني (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ مجھے معلوم ہوجائے اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ مجھے بنو آدم کی کس اولاد نے جنم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37245
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37245، ترقيم محمد عوامة 35667)
حدیث نمبر: 37246
٣٧٢٤٦ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن صالح بن خباب عن حصين بن عقبة قال: قال عبد اللَّه: إن من أكثر الناس خطأ يوم القيامة أكثرهم خوضًا في الباطل] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : بیشک جنت ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور بیشک جہنم خواہشات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ پس جو شخص پردہ سے (پرے) جھانک لیتا ہے تو وہ ماوراء میں چلا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37246
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حصين صدوق، أخرجه الطبراني (٨٥٤٧)، والبيهقي في الشعب (١٠٨٠٨)، وأحمد في الزهد (ص ١٦٠)، وابن المبارك (٣٧٨)، وهناد (١١١٩)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37246، ترقيم محمد عوامة 35668)
حدیث نمبر: 37247
٣٧٢٤٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن صالح بن خباب عن حصين بن عقبة قال: قال عبد اللَّه: (و) (١) إن الجنة حفت بالمكاره، وإن النار حفت بالشهوات، فمن اطلع (الحجاب) (٢) واقع ما وراءه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : بیشک قیامت کے دن سب سے زیادہ خطاؤں والا وہ شخص ہوگا جو باطل میں زیادہ غور وخوض کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حصين بن عقبة صدوق، أخرجه الطبراني (٨٥٤٦)، وهناد (٢٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37247، ترقيم محمد عوامة 35669)
حدیث نمبر: 37248
٣٧٢٤٨ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عبد الرحمن بن عبد اللَّه عن أبيه ⦗٣٣٠⦘ قال: مثل المحقرات من الأعمال (مثل) (١) قوم نزلوا منزلا ليس به حطب ومعهم لحم، فلم يزالوا يلقطون حتى جمعوا ما أنضجوا به لحمهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : چھوٹے چھوٹے عملوں کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی جگہ پڑاؤ ڈالیں جہاں پر ایندھن نہ ہو اور ان لوگوں کے پاس گوشت ہو۔ پس یہ لوگ مسلسل چنتے رہیں یہاں تک کہ یہ اتنا ایندھن جمع کرلیں جس پر یہ اپنا گوشت پکا لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37248
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه هناد (٨٩٣)، والطبراني (٨٧٩٦)، والبيهقي في الشعب (٧٢٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37248، ترقيم محمد عوامة 35670)
حدیث نمبر: 37249
٣٧٢٤٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: مرض عبد اللَّه مرضا فجزع فيه، فقلنا: ما رأيناك جزعت في (مرض ما جزعت في) (١) مرضك هذا؟ قال: إنه (أخذني) (٢) (وقرب) (٣) (بي) (٤) من الغفلة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کو ایک خاص مرض لاحق ہوا جس میں انہوں نے جزع کرنا شروع کیا۔ ہم نے عرض کیا ہم نے آپ کو کسی مرض میں ایسی جزع کرتے نہیں دیکھا جیسی آپ نے اس مرض میں جزع کی ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مرض مجھ پر غالب ہوگیا اور غفلت کو میرے قریب کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37249
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ١٥٨، والبيهقي في شعب الإيمان (٩٩٣٦)، وعبد الرزاق (٢٠٣١٦)، وابن المبارك في الزهد (١٤٦٣)، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (٢٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37249، ترقيم محمد عوامة 35671)
حدیث نمبر: 37250
٣٧٢٥٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن القاسم قال: قال عبد اللَّه: لا تعجلوا بحمد الناس وبذمهم، فإن الرجل يعجبك اليوم ويسوءك غدا، ويسوءك اليوم ويعجبك غدا، وإن العباد يغيرون، واللَّه يغفر الذنوب يوم القيامة، واللَّه أرحم (بعبده يوم يأتيه) (١) من أم واحد فرشت له في الأرض (في) (٢) ثم قامت تلتمس فراشه بيدها، فإن كانت لدغة كانت بها، وإن كانت شوكة كانت بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لوگوں کی حمد اور لوگوں کی مذمت کی وجہ سے جلد بازی نہ کرو۔ کیونکہ آج کے دن ایک آدمی تمہیں پسند کرے گا اور کل کے دن یہی آدمی تمہیں برا سمجھے گا۔ اور آج (اگر) برا سمجھے گا تو کل تمہیں اچھا سمجھے گا۔ کیونکہ لوگ بدلتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔ جس دن بندہ اللہ کے پاس آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر اس ماں سے زیادہ رحم کرنے والے ہوں گے جو ماں بچے کے لیے خالی زمین میں فرش بچھائے پھر اس کے بچھونے کو اپنے ہاتھ سے ٹٹول کر تلاش کرنے لگے چناچہ اگر کوئی ڈسنا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا اور اگر کوئی کانٹا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف والقاسم لم يدرك ابن مسعود، أخرجه الطبراني (٨٩٢٩)، وابن المبارك في الزهد (٨٩٩)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٨، والبيهقي في الشعب (٦٦٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37250، ترقيم محمد عوامة 35672)
حدیث نمبر: 37251
٣٧٢٥١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن المسعودي عن القاسم قال: قال عبد اللَّه: وددت أني من الدنيا فرد (كالغادي) (١) الراكب الرائح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں دنیا میں ایک ایسے فرد کی طرح ہوں جو صبح کو آئے سوار ہو اور چلا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37251
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ المسعودي اختلط والقاسم لم يدرك ابن مسعود، أخرجه ابن عساكر ٣٣/ ١٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37251، ترقيم محمد عوامة 35673)
حدیث نمبر: 37252
٣٧٢٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قال عبد اللَّه: كفى بخشية اللَّه علما، وكفى بالاغترار به جهلا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبدالرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : خدا کے خوف کے لیے علم ہی کافی ہے اور خدا کے بارے میں دھوکہ کے لیے جہالت ہی کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37252
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ أخرجه الطبراني (٨٩٢٧)، وأحمد في الزهد (١٥٨)، وابن المبارك (٤٦)، والبيهقي في الشعب (٧٤٦)، وابن بطة في إبطال الحيل (ص ١٤)، وابن أبي يعلى في طبقات الحنابلة ٢/ ١٤٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37252، ترقيم محمد عوامة 35674)
حدیث نمبر: 37253
٣٧٢٥٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: قال عبد اللَّه: والذي لا إله غيره ما أصبح عند آل عبد اللَّه شيء يرجون أن يعطيهم اللَّه به خيرا أو يدفع عنهم به سوء إلا أن اللَّه قد علم أن عبد اللَّه لا يشرك به شيئا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن سوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ آل عبداللہ نے کبھی اس حال میں صبح نہیں کی کہ ان کے پاس کوئی چیز ہو جس کے ذریعہ سے یہ امید رکھتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعہ سے خیر دیں یا اس کے ذریعہ ان سے کوئی برائی دور کریں مگر یہ کہ خدا جانتا ہے کہ عبداللہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37253
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٢، وابن عساكر ٣٣/ ١٦٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37253، ترقيم محمد عوامة 35675)
حدیث نمبر: 37254
٣٧٢٥٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شمر بن عطية (عن) (١) مغيرة بن سعد بن الأخرم عن أبيه قال: قال عبد اللَّه: والذي لا إله غيره، ما يضره عبد يصبح على الإسلام ويمسي عليه: ماذا (أصابه) (٢) من الدنيا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ کہتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! جو بندہ صبح اس حال میں کرے کہ وہ مسلمان ہو اور شام اس حال میں کرے کہ وہ مسلمان ہو تو اس کو دنیا کی جو حالت بھی ملے، اس کو کوئی نقصان نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37254
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37254، ترقيم محمد عوامة 35676)
حدیث نمبر: 37255
٣٧٢٥٥ - حدثنا معتمر بن سليمان عن عباد بن عباد بن علقمة المازني عن أبي مجلز قال: قرص أصحابَ ابن مسعود البردُ قال: فجعل الرجل (يستحي أن ⦗٣٣٢⦘ يجيء) (١) في الثوب الدون (أو) (٢) الكساء الدون، فأصبح أبو عبد الرحمن في عباية ثم أصبح فيها، ثم أصبح في اليوم الثالث فيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابومجلز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو سردی نے تکلیف پہنچائی۔ راوی کہتے ہیں چناچہ آدمی اس بات سے حیا کرنے لگا کہ وہ گھٹیا کپڑے یا گھٹیا چادر میں آئے۔ اس پر حضرت ابوعبدالرحمن ایک (دن ایک) چغہ میں آئے پھر اگلی صبح بھی اسی میں آئے پھر تیسری صبح بھی اسی میں آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37255
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37255، ترقيم محمد عوامة 35677)
حدیث نمبر: 37256
٣٧٢٥٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن الشعبي قال: [قال عبد اللَّه: إني لا أخاف عليكم في الخطأ ولكني أخاف عليكم في العمد، إني لا أخاف عليكم أن تستقلوا أعمالكم، ولكني أخاف عليكم أن تستكثروها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : مجھے تم پر خطا کرنے میں کوئی خوف نہیں ہے۔ لیکن مجھے تمہارے بارے میں جان بوجھ کر غلطی کا خوف ہے۔ مجھے تم پر اس بات کا خوف نہیں ہے کہ تم اپنے عملوں کو کم سمجھنے لگو لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ تم اعمال کو زیادہ سمجھنے لگو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37256
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37256، ترقيم محمد عوامة 35678)
حدیث نمبر: 37257
٣٧٢٥٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير قال: قال عبد اللَّه: دعوا الحكاكات (١) فإنها الإثم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : وسوسوں کو چھوڑ دو کیونکہ یہ گناہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37257
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37257، ترقيم محمد عوامة 35679)
حدیث نمبر: 37258
٣٧٢٥٨ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص قال: قال عبد اللَّه: المؤمن يرى ذنبه كأنه صخرة يخاف أن (تقع) (٢) عليه، والمنافق يرى ذنبه كذباب وقع على أنفه فطار فذهب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : مومن، اپنے گناہ کو یوں خیال کرتا ہے گویا کہ وہ ایک چٹان ہے جس کے بارے میں مومن خوف رکھتا ہے کہ کہیں اس پر گر نہ جائے۔ اور منافق اپنے گناہ کو مکھی کی طرح سمجھتا ہے جو اس کے ناک پر بیٹھی پھر اڑ گئی اور چلی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37258
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٩٤٩)، وأحمد (٣٦٢٧)، والترمذي (٢٤٩٧)، وهناد (٨٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37258، ترقيم محمد عوامة 35680)
حدیث نمبر: 37259
٣٧٢٥٩ - حدثنا ابن إدريس عن مالك بن مغول قال: كنا جلوسا مع القاسم ابن عبد الرحمن فقال رجل -وأشار إلى القاسم- قال: قال عبد اللَّه: [وددت أني إذا مت لم أبعث، فقال القاسم برأسه هكذا: أي: نعم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم حضرت قاسم بن عبدالرحمن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے … اس پر ایک آدمی نے کہا … اور اس نے حضرت قاسم کی طرف اشارہ کیا … فرمایا : حضرت عبداللہ نے کہا تھا … مجھے یہ بات محبوب ہے کہ جب میں مرجاؤں تو پھر مجھے نہ اٹھایا جائے۔ اس پر حضرت قاسم نے اپنے سر سے یوں اشارہ کیا۔ یعنی ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37259
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37259، ترقيم محمد عوامة 35681)
حدیث نمبر: 37260
٣٧٢٦٠ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل (عن) (١) زبيد] (٢) قال: قال عبد اللَّه: قولوا خيرا تعرفوا به، واعملوا به تكونوا من أهله، ولا تكونوا عجلا مذاييع بذرا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا : خیر کی بات کہو تو تم خیر کے ذریعہ معروف ہوگے۔ خیر پر عمل کرو تو اہل خیر بن جاؤ گے۔ جلد باز، راز فاش کرنے والے نہ بنو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37260
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37260، ترقيم محمد عوامة 35682)
حدیث نمبر: 37261
٣٧٢٦١ - حدثنا أبو معاوية عن السري بن يحيى (عن الحسن) (١) قال: قال عبد اللَّه: لو (وقفت) (٢) بين الجنة والنار فقيل لي: (نخبرك) (٣) من أيهما تكون أحب إليك أو تكون رمادا، لاخترت أن أكون رمادا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : اگر مجھے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے اور مجھے کہا جائے … ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ تم ان دونوں میں سے کس میں ہو … یہ بات تمہیں زیادہ محبوب ہے … یا یہ کہ تم راکھ ہوجاؤ ؟ تو میں راکھ ہونے کو پسند کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37261
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37261، ترقيم محمد عوامة 35683)
حدیث نمبر: 37262
٣٧٢٦٢ - حدثنا وكيع عن محمد بن (قيس) (١) عن معن قال: قال عبد اللَّه: (لا تفترقوا) (٢) فتهلكوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : فرقوں میں نہ پڑو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37262
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37262، ترقيم محمد عوامة 35684)
حدیث نمبر: 37263
٣٧٢٦٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: وددت أني صولحت على تسع سيئات (وحسنة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے ساتھ ایک نیکی اور نو برائیوں پر صلح کرلی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37263
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37263، ترقيم محمد عوامة 35685)
حدیث نمبر: 37264
٣٧٢٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن المسعودي عن أبي حازم عن (١) عون قال: قال عبد اللَّه: المؤمن (مألف) (٢)، (ولا خير فيمن لا يألف) (٣). ولا يؤلف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : مومن محبت کرتا ہے اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو نہ محبت کرے اور نہ اس سے محبت کی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37264
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37264، ترقيم محمد عوامة 35686)
حدیث نمبر: 37265
٣٧٢٦٥ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن زبيد) (١) عن مرة قال: قال عبد اللَّه: إن اللَّه يعطي الدنيا من يحب ومن لا يحب، ولا يعطي الإيمان إلا من يحب، فإذا أحب اللَّه عبدا أعطاه (٢) الإيمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ دنیا اس کو بھی دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں اور اس کو بھی دیتے ہیں جس سے محبت نہیں کرتے۔ لیکن جس سے محبت کرتے ہیں ایمان اسی کو دیتے ہیں۔ پس جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتے ہیں تو اس کو ایمان دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37265
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٢٧٥)، وأحمد في الزهد (١١٣٤)، والطبراني (٨٩٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٦٥، واللالكائي (١٦٩٧)، والبيهقي في القدر (٣٦٨)، وورد مرفوعًا، أخرجه الحاكم ١/ ٨٨، والإسماعيلي في معجمه ٣/ ٧٢٧، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٦٦، والقزويني في التدوين ٢/ ٢٧٤، وابن عساكر ٤٩/ ٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37265، ترقيم محمد عوامة 35687)
حدیث نمبر: 37266
٣٧٢٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن أبي حنيفة سمعه من عون بن عبد اللَّه عن ابن مسعود قال: (يعرض) (١) الناس يوم القيامة على ثلاثة دواوين: ديوان فيه الحسنات، وديوان فيه النعيم، وديوان فيه السيئات، فيقابل بديوان الحسنات ديوان النعيم، فيستفرغ النعيم الحسنات، وتبقى السيئات مشيئتها إلى اللَّه تعالى، إن شاء عذب، وإن شاء غفر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین دفتروں پر پیش کیا جائے گا۔ ایک دفتر جس میں نیکیاں ہوں گی اور ایک دفتر جس میں نعمتیں ہوں گی اور ایک دفتر جس میں گناہ ہوں گے۔ پس نعمتوں والے دفتر کو نیکیوں والے دفتر کے مقابل لایا جائے گا۔ چناچہ نیکیاں تو نعمتوں کے بدلے میں فارغ ہوجائیں گی اور خطائیں باقی رہ جائیں گی جو اللہ کی مشیت کے متعلق ہوں گی۔ اگر اللہ چاہے تو عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37266
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37266، ترقيم محمد عوامة 35688)
حدیث نمبر: 37267
٣٧٢٦٧ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: تعلموا (تعلموا) (١)، فإذا علمتم فاعملوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں علم حاصل کرو علم حاصل کرو پھر جب علم حاصل کر چکو تو عمل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37267
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ يزيد بن أبي زياد ضعيف، أخرجه الدارمي (٣٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣١، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٧٩، والخطيب في اقتضاء العلم والعمل (٢٣)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37267، ترقيم محمد عوامة 35689)
حدیث نمبر: 37268
٣٧٢٦٨ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن معن قال: قال عبد اللَّه: لا يشبه الزي الزي حتى تشبه (القلوبَ) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : ظاہری شکل و صورت، ظاہری شکل و صورت سے مشابہت تب کھاتی ہے جب دل، دل کے مشابہ ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37268
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف ومعن بن عبد الرحمن لم يدرك جده ابن مسعود، أخرجه هناد (٨٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37268، ترقيم محمد عوامة 35690)
حدیث نمبر: 37269
٣٧٢٦٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن محمد بن عجلان عن أبي عيسى قال: قال (عبد اللَّه) (١): إن من رأس التواضع أن ترضى بالدون من شرف المجلس، وأن تبدأ بالسلام من لقيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : بیشک تواضع کا بڑا حصہ یہ ہے کہ تم مجلس میں عزت کی جگہ سے کم درجہ جگہ پر راضی ہوجاؤ اور جس سے ملو سلام میں پہل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37269
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37269، ترقيم محمد عوامة 35691)
حدیث نمبر: 37270
٣٧٢٧٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه قال: أنتم أكثر صياما وأكثر صلاة وأكثر (جهادًا) (١) من أصحاب رسول اللَّه ﷺ وهم كانوا خيرا منكم، قالوا: لم يا أبا عبد الرحمن؟ قال: كانوا أزهد في الدنيا وأرغب في الآخرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ م سے روزوں میں، نمازوں میں، جہاد میں زیادہ ہو لیکن وہ تم سے بہتر تھے۔ لوگوں نے پوچھا : اے ابوعبدالرحمن ! کیوں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ دنیا میں زیادہ بےرغبت تھے اور آخرت میں زیادہ رغبت کرنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37270
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٣٥٠، والطبراني (٨٧٦٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٦، والبيهقي في الشعب (١٠٦٣٦)، وهناد (٥٧٥)، وابن المبارك في الزهد (٥٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37270، ترقيم محمد عوامة 35692)
حدیث نمبر: 37271
٣٧٢٧١ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن هارون بن عنترة عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال: قال عبد اللَّه بن مسعود: إنما هذه القلوب أوعية، فاشغلوها بالقرآن ولا تشغلوها بغيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ دل تو صرف برتن ہیں۔ پس تم ان کو قرآن سے بھرو کسی اور چیز سے دلوں کو نہ بھرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37271
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ هارون وعبد الرحمن ثقتان، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١٣١، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ١/ ٦٦، وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37271، ترقيم محمد عوامة 35693)
حدیث نمبر: 37272
٣٧٢٧٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا عبد (اللَّه) (١) بن (عابس) (٢) قال: حدثني (إياس) (٣) عن عبد اللَّه أنه كان يقول في خطبته: إن أصدق الحديث كلام اللَّه، وأوثق العرى (كلمة) (٤) التقوى، وخير الملل ملة إبراهيم، وأحسن القصص هذا القرآن وأحسن السنن سنة محمد ﷺ (٥)، وأشرف الحديث ذكر اللَّه، وخير الأمور عزائمها، وشر الأمور محدثاتها، وأحسن الهدي هدى الأنبياء، وأشرف الموت قتل الشهداء، وأغرّ الضلالة: الضلالة بعد الهدى، وخير العلم ما نفع، وخير الهدى ما اتبع، وشر العمى عمى القلب، واليد العليا خير من اليد السفلى، وما قل وكفى خير مما كثر وألهى، ونفس تنجيها خير من إمارة لا تحصيها، وشر (العذلة) (٦) عند حضرة الموت، وشر الندامة (ندامة) (٧) يوم القيامة، ومن الناس من لا يأتي الصلاة إلا (دبريًا) (٨)، ومن الناس من لا يذكر اللَّه إلا ⦗٣٣٧⦘ (هاجرا) (٩)، وأعظم الخطايا اللسان الكذوب، وخير الغنى غنى النفس، (وخير) (١٠) الزاد التقوى، ورأس الحكمة مخافة اللَّه، وخير ما ألقي في القلب اليقين، والريب من الكفر، والنوح من عمل الجاهلية، والغلول من جمر جهنم، والكنز كي من النار، والشعر (مزامير) (١١) إبليس، والخمر جماع الإثم، والنساء حبائل الشيطان، والشباب شعبة من الجنون، وشر الكاسب كسب الربا، وشر المآكل أكل مال اليتيم، والسعيد من وعظ بغيره، والشقي من شقي في بطن أمه، وإنما يكفي أحدكم ما قنعت به نفسه، وإنما (يصير) (١٢) إلى موضع أربع أذرع، والأمر بآخره، وأملك العمل به خواتمه، وشر (الروايا) (١٣) روايا الكذب، وكل ما هو آت قريب، وسباب المؤمن فسوق، وقتاله كفر، وأكل لحمه من معاصي (اللَّه) (١٤)، وحرمة ماله كحرمة دمه، ومن يتألّ على اللَّه يكذبه، ومن يغفر يغفر اللَّه له، ومن يعف يعف اللَّه عنه، ومن يكظم الغيظ يأجره اللَّه، ومن يصبر على (الرزايا) (١٥) يعقبه (١٦) اللَّه، ومن يعرف البلاء يصبر عليه، ومن لا يعرفه ينكره، ومن (يستكبر) (١٧) (يضعه) (١٨) اللَّه، ومن يبتغي السمعة يسمع اللَّه به، ومن ينوي الدنيا (تعجزه) (١٩)، ومن يطع الشيطان يعص اللَّه، ⦗٣٣٨⦘ ومن يعص اللَّه يعذبه (٢٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے خطبہ میں کہا کرتے تھے : سب سے سچی بات کلام اللہ ہے اور مضبوط ترین کڑا کلمۃ التقویٰ ہے اور بہترین ملت، ملت ابراہیمی ہے اور خوبصورت قصوں میں سے یہ قرآن ہے اور خوبصورت راستہ، سنت محمد ﷺ ہے۔ سب سے زیادہ شرافت والی بات ذکر اللہ ہے۔ بہترین امور میں سے پختہ امر ہے۔ امور میں سے بدترین امور بدعات ہیں اور اچھی ہدایت، انبیاء کی ہدایت ہے۔ سب سے عزت والی موت شہداء کا قتل ہوتا ہے۔ سب سے خطرناک گمراہی، ہدایت کے بعد کی ضلالت ہے۔ بہترین علم وہ ہے جو نفع مند ہو اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی اتباع کی جائے۔ بدترین اندھا پن، دل کا اندھا پن ہے۔ ٢۔ اور اوپر کا ہاتھ، نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے جو چیز کم ہو اور کافی ہو اس چیز سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔ وَنَفْسٌ تُنْجِیہَا خَیْرٌ مِنْ أَمَارَۃٍ لاَ تُحْصِیہَا بدترین ملامت موت کے وقت کی ملامت ہے اور بدترین ندامت، قیامت کے دن کی ملامت ہے۔ اور بعض لوگ نماز کے لیے آخری وقت میں آتے ہیں۔ اور بعض اللہ کا ذکر غافل دل کے ساتھ کرتے ہیں۔ غلطیوں میں سے سب سے بڑی غلطی جھوٹی زبان ہے۔ بہترین تونگری، دل کی تونگری ہے۔ بہترین زاد تقویٰ ہے۔ حکمت کا بڑا حصہ، خوفِ خدا ہے۔ دلوں میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے اس میں سے بہترین چیز یقین ہے اور کفر کے بارے میں شک اور نوحہ، جاہلیت کا عمل ہے۔ خیانت (مالِ غنیمت میں) جہنم کا انگارہ ہے اور خزانہ جہنم کا داغنا ہے۔ ٣۔ شعر، شیطان کے باجوں میں سے ہے۔ شراب، گناہوں کا مجموعہ ہے۔ عورتیں، شیطان کی رسیاں ہیں۔ جوانی، جنون کا شعبہ ہے۔ بدترین کمائی، سود کی کمائی ہے اور بدترین کھانا یتیم کا کھانا ہے۔ خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے اور بدبخت وہ ہے جو بطن مادر میں بدبخت لکھا گیا ہے۔ تم میں سے کسی کو اتنی مقدار کافی ہے جس پر اس کا نفس قناعت کرلے۔ کیونکہ لوٹنا تو چار بالشت (زمین) کی طرف ہے۔ معاملہ، آخر کا معتبر ہوتا ہے۔ کسی شے پر عمل کا دار و مدار خاتمہ پر ہوتا ہے۔ بدترین روایت کرنے والے، جھوٹ کے روایت کرنے والے ہیں اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ ٤۔ مومن کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور اس کے گوشت کو کھانا خدا کی نافرمانیوں میں سے ہے۔ اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے۔ جو اللہ پر جرأت کرتا ہے اللہ اسے جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ اور جو معاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو معاف کردیتے ہیں اور جو درگزر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی درگزر کرتے ہیں اور جو اپنے غصہ کو قابو کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اجر دیتے ہیں اور جو شخص رزایا پر صبر کرتا ہے اللہ اس کی اعانت کرتے ہیں اور جو آزمائش کو پہچانتا ہے وہ اس پر صبر کرتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ اس کو ناپسند کرتا ہے اور جو بڑا بنتا ہے اللہ اس کو گرا دیتے ہیں اور جو ناموری چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرتے ہیں اور جو دنیا کی چاہت کرتا ہے۔ دنیا اس کو تھکا دیتی ہے اور جو شیطان کی مانتا ہے خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے خدا اس کو عذاب دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37272
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عمر في المطالب العالية (٣١٢٥)، والبخاري في خلق أفعال العباد (ص ٤٢)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٩، والبيهقي المدخل (٨٧٦)، والاعتقاد (ص ١٠٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٨، وهناد (٤٩٧)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٤٧٩)، والخطابي في غريب الحديث ٢/ ١٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37272، ترقيم محمد عوامة 35694)
حدیث نمبر: 37273
٣٧٢٧٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن زبيد بن الحارث عن مرة بن (شراحيل) (١) قال: قال عبد اللَّه: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [آل عمرن: ١٠٢]، (وحق تقاته) (٢) أن يطاع فلا يعصى، وأن يذكر فلا ينسى، وأن يشكر فلا يكفر، وإيتاء المال على حبه أن تؤتيه وأنت صحيح شحيح، تأمل العيش (وتخاف) (٣) الفقر، وفضل صلاة الليل على صلاة النهار كفضل صدقة السر على صدقة العلانية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ بن شراحیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : { اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ } اور حق تقاتہ یہ ہے کہ فرماں برداری کی جائے۔ نافرمانی نہ کی جائے۔ یاد کیا جائے، بھلایا نہ جائے اور شکر کیا جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔ اور مال کا محبت کے باوجود دینا یہ ہے کہ تم مال کو اس حالت میں خرچ کرو جبکہ تم صحت مند، تندرست ہو، تم عیش کرنا چاہتے ہو اور فقر سے ڈرتے ہو اور رات کی نماز کی فضیلت دن کی نماز پر ایسی ہے جیسے مخفی صدقہ کی اعلانیہ صدقہ پر فضیلت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37273
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث، وقد توبع، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٣٩٠٨)، والثوري في التفسير (ص ٧٩)، والطبراني (٨٥٠٢)، وأبو نعيم في حلية الأولياء ٧/ ٢٣٨، وابن المبارك في الزهد (٢٢)، والبيهقي في القضاء (ص ٢٣٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37273، ترقيم محمد عوامة 35695)
حدیث نمبر: 37274
٣٧٢٧٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقيق عن عبد اللَّه قال: لا تنفع الصلاة إلا من أطاعها ثم قرأ (عبد اللَّه) (١): ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أكبر﴾ [العنكبوت: ٤٥]، فقال عبد اللَّه: ذكر اللَّه العبد أكبر من ذكر العبد لربه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نماز اسی کو نفع دیتی ہے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : {إنَّ الصَّلاَۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللہِ أَکْبَرُ } پھر حضرت عبداللہ نے کہا : اللہ کا بندے کو یاد کرنا، بندہ کا اپنے ربّ کو یاد کرنے سے بڑا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37274
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم هو ابن أبي النجود ضعيف في أبي وائل، وأخرجه ابن جرير ٢٠/ ١٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37274، ترقيم محمد عوامة 35696)