کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37214
٣٧٢١٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل وسفيان عن زبيد بن الحارث عن رجل من بني عامر قال: قال علي: إنما أخاف عليكم اثنتين: طول الأمل واتباع الهوى، فإن طول الأمل ينسي الآخرة، وإن اتباع الهوى يصد عن الحق، وإن الدنيا قد ترحلت مدبرة، وأن الآخرة مقبلة، ولكل واحدة منهما بنون فكونوا من أبناء الآخرة فإن اليوم عمل ولا حساب، وغدا حساب ولا عمل (١).
مولانا محمد اویس سرور
بنو عامر کے ایک صاحب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مجھے تم پر صرف دو چیزوں کا خوف ہے۔ لمبی امید، اور خواہشات کی پیروی۔ کیونکہ امید کا لمبا ہونا آخرت کو بھلا دیتا ہے۔ اور خواہشات کی اتباع، حق بات سے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یقینا دنیا پیٹھ پھیر کر کوچ کرجاتی ہے اور آخرت آرہی ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں۔ پس تم لوگ آخرت کے بیٹے بنو۔ پس آج عمل ہے، حساب نہیں ہے اور کل حساب ہوگا عمل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37214
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37214، ترقيم محمد عوامة 35636)
حدیث نمبر: 37215
٣٧٢١٥ - حدثنا حفص عن إسماعيل بن أبي خالد عن (زبيد) (١) عن المهاجر العامري عن علي بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہاجر عامری بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37215
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37215، ترقيم محمد عوامة 35637)
حدیث نمبر: 37216
٣٧٢١٦ - حدثنا ابن علية عن ليث عن الحسن قال: قال علي: طوبى لكل عبد نؤمة (١) عرف الناس ولم يعرفه الناس، وعرفه اللَّه منه برضوان، أولئك مصابيح الهدى، يجلي عنهم كل فتنة مظلمة، ويدخلهم اللَّه في رحمته، ليس أولئك بالمذاييع (٢) البذر ولا بالجفاة المرائين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہر غیر معروف آدمی کے لیے بشارت ہے جو لوگوں کو تو پہچانتا ہے لیکن لوگ اس کو نہیں پہچانتے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رضا کے ساتھ پہچانتے ہیں۔ یہی لوگ ہدایت کے چراغ ہیں۔ ان سے ہر اندھیرا فتنہ دور کردیا جاتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے۔ یہ لوگ کے راز ظاہر کرنے والے نہیں ہوتے اور نہ جفا کرنے اور ریا کاری کرنے والے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37216
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37216، ترقيم محمد عوامة 35638)
حدیث نمبر: 37217
٣٧٢١٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن طلحة عن زبيد قال: قال علي: خير الناس هذا النمط الأوسط يلحق بهم التالي (١)، ويرجع إليهم الغالي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سے بہترین یہ درمیانے لوگ ہیں۔ پیچھے والے ان سے مل جاتے ہیں اور آگے والے ان کی طرف لوٹ آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37217
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37217، ترقيم محمد عوامة 35639)
حدیث نمبر: 37218
٣٧٢١٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إياس بن أبي تميمة قال: سمعت عطاء بن أبي (رياح) (١) قال: كان علي بن أبي طالب إذا بعث سرية (ولى) (٢) أمرها رجلا فأوصاه فقال: أوصيك بتقوى اللَّه، لا بد لك من لقائه، ولا منتهى لك دونه، وهو يملك الدنيا والآخرة، وعليك بالذي يقربك إلى اللَّه، فإن (فيما) (٣) عند اللَّه خلفا من (الدنيا) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب جب کوئی سریہ روانہ فرماتے تو اس پر کسی آدمی کو متولی بناتے اور اس کو وصیت کرتے۔ فرماتے : میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ تمہیں اللہ سے ضرور ملنا ہے اور اس سے پیچھے تمہارے لیے منتہی کوئی نہیں ہے۔ وہی دنیا، آخرت کا مالک ہے اور تم ضرور وہ کام کرو جو تمہیں اللہ کے قریب کرے کیونکہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دنیا کے مال کا بھی خلیفہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37218
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37218، ترقيم محمد عوامة 35640)
حدیث نمبر: 37219
٣٧٢١٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن عثمان الثقفي عن زيد بن وهب أن (ابن) (١) نعجة عاتب عليا في لباسه فقال: يقتدي به المؤمن ويخشع (القلب) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ نعجہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لباس کے بارے میں اعتراض کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مومن اقتداء کرتا ہے اور قلب خشوع کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37219
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ١٥٤، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37219، ترقيم محمد عوامة 35641)
حدیث نمبر: 37220
٣٧٢٢٠ - حدثنا أبو معاوية قال: حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن (أبي) (١) صالح الذي كان يخدم أم كلثوم ابنة علي قال: دخلت على أم كلثوم وهي تمشط وستر (بينها وبيني) (٢)، فجلست أنتظرها حتى تأذن لي، فجاء حسن وحسين (فدخلا عليها) (٣) وهي (تمشط) (٤) فقالا: ألا تطعمون أبا صالح شيئا؟ قالت: بلى قال: فأخرجوا قصعة فيها مرق بحبوب، (فقلت) (٥): أتطعموني هذا وأنتم أمراء؟ فقالت أم كلثوم: يا أبا صالح فكيف لو رأيت أمير المؤمنين وأتي بأترنج، فذهب حسن أو حسين يتناول منه أترنجة فنزعها من يده ثم أمر به فقسم (٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37220
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو صالح هو الحنفي كما في فضائل الصحابة لأحمد (٩٠١)، وشرح مشكل الآثار ١١/ ١٢٥، وانظر: إصلاح المال (٣٧٨)، والورع لابن أبي الدنيا (١٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37220، ترقيم محمد عوامة 35642)
حدیث نمبر: 37221
٣٧٢٢١ - حدثنا أبو معاوية قال: حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي (البختري) (١) قال: قال علي لأمه فاطمة بنت أسد: اكفي فاطمة بنت رسول اللَّه (٢) ⦗٣٢٣⦘ الخدمة خارجا: سقاية الماء والحاجة، و (تكفيك) (٣) العمل في البيت: العجن والخبز والطحن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ فاطمہ بنت اسد سے کہا۔ آپ فاطمہ بنت محمد ﷺ کو باہر کی خدمت پانی لانا وغیرہ سے کافی ہوجائیں۔ وہ آپ کو گھر کے کام سے آٹا گوندھنا، روٹی پکانا اور چکی چلانا وغیرہ سے کفایت کرلیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37221
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37221، ترقيم محمد عوامة 35643)
حدیث نمبر: 37222
٣٧٢٢٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن مجالد عن الشعبي عن الحارث عن علي قال: أهديت فاطمة ليلة أهديت إلي وما تحتنا إلا جلد كبش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جس رات حضرت فاطمہ مجھے ہدیہ کی گئیں اس رات ہمارے نیچے صرف مینڈھے کی کھال تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37222
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مجالد والحارث ضعيفان، أخرجه أبو يعلى (٤٧١)، وابن سعد ٨/ ٢٢، وابن عساكر ٤٢/ ٣٧٦، وهناد (٧٥٣)، والدينوري في المجالسة (١٣٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37222، ترقيم محمد عوامة 35644)
حدیث نمبر: 37223
٣٧٢٢٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن أبي إسحاق قال: قال علي: (كلمات) (١) لو رحلتم المطي فيهن لأنضيتموهن قبل أن تدركوا مثلهن: لا يرج عبد إلا ربه، ولا يخف إلا ذنبه، (ولا يستحيي من لا يعلم أن يتعلم) (٢)، ولا يستحي عالم إذا سئل عما (لا) (٣) يعلم أن يقول: اللَّه أعلم، (واعلموا) (٤) أن منزلة الصبر من الإيمان كمنزلة الرأس من الجسد، فإذا ذهب الرأس ذهب الجسد، وإذا ذهب الصبر ذهب الإيمان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : چند باتیں ایسی ہیں کہ اگر تم سواریوں کو چلاؤ تو تم ان باتوں کی مثل پانے سے قبل سواریوں کو ہلاک وفنا کردو گے۔ بندہ اپنے پروردگار کے سوا کسی سے امید نہ رکھے۔ بندہ صرف اپنے گناہ سے ڈرے۔ جو آدمی نہ جانتا ہو وہ جاننے سے حیا نہ کرے اور جب آدمی سے غیر معلوم بات کا سوال ہو تو اس کو اللہ اعلم کہنے سے حیا نہیں آنی چاہیے۔ اور یہ بات جان لو کہ صبر کا ایمان میں وہی مقام ہے جو جسم میں سر کا ہے۔ پس جب سر چلا جاتا ہے تو جسم چلا جاتا ہے اور جب صبر چلا جاتا ہے تو ایمان چلا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37223
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37223، ترقيم محمد عوامة 35645)
حدیث نمبر: 37224
٣٧٢٢٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن قيس عن عدي بن ثابت قال: (أتي) (١) علي (بطست خوان) (٢) فالوذج فلم يأكل منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دستر خوان پر فالودہ کا طشت لایا گیا تو آپ نے اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37224
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37224، ترقيم محمد عوامة 35646)
حدیث نمبر: 37225
٣٧٢٢٥ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن عمرو بن كثير الحنفي عن علي قال: اكظموا الغيظ وأقلوا الضحك لا تمجه القلوب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں غصہ کو قابو کرو اور ہنسی کو کم کرو دل اس کو گوارا نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37225، ترقيم محمد عوامة 35647)
حدیث نمبر: 37226
٣٧٢٢٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن بن أبي هذيل قال: رأيت على علي قميصا، كمه إذا أرسله بلغ نصف ساعده، وإذا مده لم يجاوز ظفره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابوالہذیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ایک قمیص دیکھی جس کی آستین جب آپ چھوڑتے تو آپ کی نصف کلائی تک پہنچتی اور جب آپ اس کو کھینچتے تو آپ کے ناخن کو تجاوز نہ کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37226
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الأجلح صدوق، أخرجه ابن سعد ٣/ ٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37226، ترقيم محمد عوامة 35648)
حدیث نمبر: 37227
٣٧٢٢٧ - حدثنا عيسى بن (يونس) (١) عن أبي بكر بن أبي مريم عن ضمرة (بن حبيب) (٢) قال: قضى رسول اللَّه ﷺ على ابنته فاطمة بخدمة البيت، وقضى على علي بما كان خارجًا (من) (٣) البيت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضمرہ بن حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی پر گھر کے کام کاج کا فیصلہ فرمایا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر گھر سے باہر والا کام۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37227
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ ضمرة تابعي، وابن أبي مريم ضعيف، أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (١٦٤٩)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ١٠٤، وهناد (٧٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37227، ترقيم محمد عوامة 35649)
حدیث نمبر: 37228
٣٧٢٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن مجاهد عن عبد اللَّه بن سخبرة عن علي قال: ما أصبح بالكوفة أحد إلا ناعما، وإن أدناهم منزلة من يأكل البر ويجلس في الظل ويشرب من ماء الفرات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو بھی کوفہ میں ہے وہ ناز ونعم والا ہے۔ اور ان میں سے کم تر درجہ کا آدمی بھی گندم کھاتا ہے، سایہ میں بیٹھتا ہے اور فرات کا پانی پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37228
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٨٣ (٣٦٦٣)، وأحمد في فضائل الصحابة (٨٨٣)، وهناد في الزهد (٦٩٩)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٠٣٣١)، ورواه ابن جرير ٣٠/ ٢٨٨ من كلام ابن سخبرة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37228، ترقيم محمد عوامة 35650)
حدیث نمبر: 37229
٣٧٢٢٩ - حدثنا أبو معاوية قال: حدثنا أبو حيان عن مجمع عن إبراهيم التيمي عن يزيد بن شريك قال: خرج عليٌّ (ذات) (١) يوم بسيفه فقال: من (يبتاع) (٢) مني ⦗٣٢٥⦘ سيفي هذا، فلو كان عندي ثمن إزار ما بعته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن شریک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن اپنی تلوار لے کر نکلے اور فرمایا : کون مجھ سے میری یہ تلوار خریدے گا ؟ اگر میرے پاس ازار کے پیسے ہوتے میں یہ تلوار نہ بیچتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37229، ترقيم محمد عوامة 35651)
حدیث نمبر: 37230
٣٧٢٣٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عثمان (١) أبي اليقطان عن زاذان عن علي: ﴿إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ﴾ [المدثر: ٣٩] قال: هم أطفال المسلمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے … {إِلاَّ أَصْحَابَ الْیَمِینِ }… کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کے بچے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37230
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أبو اليقطان ضعيف، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٢٧٠، وابن جرير ٢٩/ ١٦٥، والحاكم ٢/ ٥٥١، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٣٥٢، والدولابي ٣/ ١١٩٩، وابن عدي ٥/ ١٦٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37230، ترقيم محمد عوامة 35652)
حدیث نمبر: 37231
٣٧٢٣١ - حدثنا أبو أسامة عن الحسن بن الحكم النخعي قال: حدثتني أمي عن أم عثمان أم ولد لعلي قال: جئت عليا وبين يديه قرنفل (مكبوب) (١) في الرحبة فقلت: يا أمير المؤمنين هب لابنتي من هذا القرنفل قلادة، فقال: هكذا، (ونقد) (٢) بيديه: (أدني) (٣) درهما جيدا، فإنما هذا مال المسلمين، وإلا فاصبري حتى يأتينا حظنا (٤) فنهب لابنتك منه زيادة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد، ام عثمان سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان کے سامنے صحن میں لونگ کا ڈھیر تھا۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اس لونگ میں سے ایک ہار میری بیٹی کو ہدیہ کردیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے ٹھونکا۔ ایک عمدہ درہم قریب کرو کیونکہ یہ مسلمانوں کا مال ہے۔ بصورت دیگر صبر کر یہاں تک کہ اس میں سے ہمیں ہمارا حصہ مل جائے پھر ہم اس میں سے تمہاری بیٹی کو ہدیہ کردیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37231
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37231، ترقيم محمد عوامة 35653)
حدیث نمبر: 37232
٣٧٢٣٢ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: مثل الذي جمع الإيمان والقرآن مثل الأترنجة الطيبة ((الريح) (٢) الطيبة) (٣) الطعم، ⦗٣٢٦⦘ ومثل الذي لم يجمع الإيمان ولم يجمع القرآن متل الحنظلة خبيثة الريح وخبيثة الطعم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص قرآن اور ایمان کو جمع کرتا ہے اس کی مثال مالٹے کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ اور خوشبو بھی عمدہ۔ اور جو شخص ایمان کو اور قرآن کو جمع نہیں کرتا اس کی مثال حنظل کی طرح ہے۔ ذائقہ بھی برا، بو بھی بری۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37232
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال الحارث، أخرجه الدارمي (٣٣٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37232، ترقيم محمد عوامة 35654)
حدیث نمبر: 37233
٣٧٢٣٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني عبد اللَّه بن محمد بن عمر بن علي قال: حدثني أبي قال: قيل لعلي: ما شأنك يا أبا حسن (جاورت) (١) المقبرة؟ قال: إني أجدهم جيران صدق، (يكفون) (٢) السيئة ويذكرون الآخرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اے ابوالحسن ! کیا بات ہے کہ آپ قبرستان والوں کی مجاورت کرتے ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے انہیں سچا دوست پایا ہے۔ یہ برائی سے روکتے اور آخرت یاد دلاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37233
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37233، ترقيم محمد عوامة 35655)
حدیث نمبر: 37234
٣٧٢٣٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن عطاء قال: إن كانت فاطمة لتعجن وإن (قصتها) (١) لتكاد تضرب الجفنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آٹا گوندھا کرتی تھیں اور ان کی پیشانی کے بال آٹے کے برتن میں لگتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37234
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37234، ترقيم محمد عوامة 35656)