حدیث نمبر: 37201
٣٧٢٠١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أبي نعامة عن حجير بن (ربيع) (١) قال: قال عمر: إن الفجور هكذا -وغطى رأسه إلى ⦗٣١٦⦘ حاجبيه، (ألا) (٢) إن البر هكذا وكشف رأسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجیر بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک گناہ ایسا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کو اپنی ابروؤں کی طرف جھکا لیا۔ خبردار ! بیشک نیکی اس طرح ہے اور آپ نے اپنے سر کو چھپالیا۔
حدیث نمبر: 37202
٣٧٢٠٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: قال ثابت: قال أنس: غلا (السعر) (١) غلا (الطعام) (٢) بالمدينة (على عهد عمر) (٣)، فجعل يأكل الشعير فاستنكره بطنه، فأهوى بيده إلى بطنه فقال: واللَّه ما هو إلا ما ترى، حتى يوسع اللَّه على المسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس کہتے ہیں کہ قیمتیں بڑھ گئیں، مدینہ منورہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کھانا مہنگا ہوگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کھانا شروع کیا تو وہ ان کے پیٹ کو موافق نہ آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : خدا کی قسم ! جب تک اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر وسعت نہ کردیں تب تک یہی کھاؤ گے۔
حدیث نمبر: 37203
٣٧٢٠٣ - حدثنا معاوية بن هشام عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: كنت أمشي مع عمر بن الخطاب فرأى تمرة مطروحة فقال، خذها، قلت: وما أصنع بتمرة قالت: مرة وتمرة حتى تجتمع، (فأخذتها) (١) فمر بمربد تمر فقال: ألقها فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے ایک گری ہوئی کھجور دیکھی تو فرمایا اس کو پکڑ لو۔ میں نے عرض کیا۔ میں اس کھجور کو کیا کروں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک ایک کھجور ہی جمع ہوتی ہے۔ پس میں نے وہ پکڑ لی پھر آپ رضی اللہ عنہ کھجوروں کے ڈھیر کے پاس سے گزرے تو فرمایا : اس کھجور کو یہاں پھینک دو ۔
حدیث نمبر: 37204
٣٧٢٠٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن (عبد اللَّه) (١) ابن عامر (٢) قال: خرجت مع عمر فما رأيته مضطربا ⦗٣١٧⦘ فسطاطا (٣) حتى رجع، قال: قلت: بأي شيء كان يستظل؟ قال: يطرح النطع على الشجرة يستظل به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلا تو میں نے ان کو واپس آنے تک خیمہ لگاتے نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : پھر وہ کس چیز سے سایہ حاصل کرتے تھے ؟ استاد نے جواب دیا : چمڑے کو درخت پر ڈال دیتے تھے اور اس سے سایہ حاصل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 37205
٣٧٢٠٥ - حدثنا وكيع عن أسامة عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن قال: قال عمر: لو هلك (حَمَل من ولد) (١) الضان ضياعا بشاطئ الفرات خشيت أن يسألني اللَّه عنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبدالرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر دریائے فرات کے کنارہ پر کوئی بھیڑ کا بچہ ہلاک ہوجائے تو مجھے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال نہ کرے۔
حدیث نمبر: 37206
٣٧٢٠٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: لما أتى عمر بن الخطاب الشام أتي ببرذون فركب عليه، فلما هزه نزل عنه وضرب (وجهه) (٢) وقال: قبحك اللَّه وقبح من علمك هذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو ایک عجمی گھوڑا لایا گیا چناچہ آپ رضی اللہ عنہ اس پر سوار ہوئے۔ پھر جب اس نے حرکت کرنا شروع کیا تو آپ اس سے نیچے اتر آئے اور اس کے چہرے کو مارا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تیرا برا کرے اور جس نے تجھے یہ سکھایا ہے اس کا بھی برا ہو۔
حدیث نمبر: 37207
٣٧٢٠٧ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن حذيفة قال: دخلت على عمر وهو قاعد على جذع في داره، وهو يحدث نفسه فدنوت منه فقلت: ما الذي أهمك يا أمير المؤمنين؟ فقال: هكذا بيده وأشار بها، قال: قلت: الذي يهمك، واللَّه لو رأينا منك أمرا ننكره لقومناك، قال: آللَّهِ الذي لا إله إلا هو، لو رأيتم مني أمرا تنكرونه لقومتموه، فقلت: آللَّهِ الذي لا إله إلا هو، لو رأينا منك أمرا ننكره لقومناك، قال: ففرح بذلك فرحا شديدا، ⦗٣١٨⦘ وقال: الحمد للَّه الذي جعل فيكم أصحاب محمد (١) من الذي [إذا رأى مني أمرا ينكره قومني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس گیا جبکہ وہ اپنے گھر کی چوکھٹ پر تھے اور اپنے آپ سے باتیں کررہے تھے۔ میں آپ کے قریب ہوا اور میں نے پوچھا : اے امیر المومنین ! کس چیز نے آپ کو فکر مند کر رکھا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ فرما کر کچھ کہا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : آپ کو کس چیز نے وہم میں ڈالا ہے ؟ خدا کی قسم ! اگر ہم آپ سے کسی امر منکر کو دیکھیں گے تو ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بخدا ! اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر تم نے مجھ سے کوئی امر منکر دیکھا تو تم مجھے سیدھا کردو گے ؟ میں نے کہا : اس خدا کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہم نے اگر آپ سے کوئی امر منکر دیکھا تو البتہ ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہارے اندر محمد ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہ م پیدا فرمائے جو مجھ سے بھی کوئی امر منکر دیکھیں گے تو مجھے سیدھا کریں گے۔
حدیث نمبر: 37208
٣٧٢٠٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى عن إسحاق بن عبد اللَّه] (١) بن أبي طلحة عن أنس قال: رأيت عمر بن الخطاب (يأكل) (٢) الصاع من التمر بحشفه (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو کھجور کے صاع میں سے گھٹیا کھجوریں کھاتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 37209
٣٧٢٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن مطرف عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: كنت آتي عمر بالصاع من التمر فيقول يا أسلم حت عني قشره فاحشفه فيأكله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کھجور کے صاع لاتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے : اے اسلم ! اس کے چھلکے مجھ سے ہٹا دو ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ گھٹیا کھجور کھالیتے۔
حدیث نمبر: 37210
٣٧٢١٠ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن سماك عن النعمان بن بشير قال: سئل عمر (عن) (٢) التوبة النصوح، فقال: التوبة النصوح أن يتوب العبد من العمل السيء ثم لا يعود إليه أبدا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے توبۃ نصوح کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : توبۃ نصوح : یہ ہے کہ آدمی برے کام سے توبہ کرے اور پھر کبھی بھی اس کی طرف نہ لوٹے۔
حدیث نمبر: 37211
٣٧٢١١ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن سماك عن النعمان بن بشير قال: سئل عمر عن قول اللَّه: ﴿وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ﴾ [التكوير: ٧]، قال: يقرن بين الرجل الصالح مع الرجل الصالح في الجنة، ويقرن بين الرجل السوء مع الرجل السوء في النار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے قول { وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ } کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جنت میں نیک آدمی کو نیک آدمی کے ساتھ ملایا جائے گا اور جہنم میں برے آدمی کے ساتھ برے آدمی کو ملایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 37212
٣٧٢١٢ - حدثنا حسين بن علي قال: حدثني طعمة بن غيلان الجعفي عن رجل يقال: له ميكائيل شيخ من أهل خراسان قال: كان (عمر) (١) إذا قام من الليل قال: قد ترى مقامي وتعلم حاجتي، فأرجعني من عندك -يا اللَّه- بحاجتي مفلحا منجحا مستجيبا مستجابا لي، قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته قال: اللهم لا أرى شيئا من (الدنيا) (٢) يدوم، ولا أرى حالا فيها يستقيم، (اللهم) (٣) اجعلني أنطق فيها بعلم وأصمت فيها بحكم، اللهم لا تكثر لي من (الدنيا) (٤) فأطغى، ولا تقل لي منها فأنسى، فإن ما قل وكفى خير مما كثر وألهى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
میکائیل نامی ایک آدمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب رات کو قیام کرتے تو فرماتے ۔ تحقیق تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے اور میری ضرورت کو جانتا ہے۔ پس اے اللہ ! تو مجھے اپنے پاس سے کامیاب، اور دعا قبول کیا ہوا واپس فرما۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور مجھ پر رحمت کی اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہاپنی نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے۔ اے اللہ ! میں دنیا کی کسی چیز میں دوام نہیں دیکھتا۔ اور میں دنیا کی کسی حالت کی استقامت نہیں دیکھ رہا۔ اے اللہ ! تو دنیا میں مجھے علم کے ساتھ بولنے والا بنا دے اور دنیا میں مجھے اپنے حکم کے ساتھ خاموش رہنے والا بنا دے۔ اے اللہ ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ نہ کرنا کہ پھر میں سرکش ہوجاؤں اور میرے لیے دنیا اتنی کم بھی نہ کرنا کہ میں بھول جاؤں۔ بیشک اتنی کم دنیا جو کافی ہو اس زیادہ سے بہتر ہے جو غافل کرے۔
حدیث نمبر: 37213
٣٧٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن عامر عن ابن عباس قال: دخلت على عمر حين طعن فقلت: أبشر بالجنة يا أمير المؤمنين أسلمت حين كفر الناس وجاهدت مع رسول اللَّه حين خذله الناس، وقبض رسول ⦗٣٢٠⦘ اللَّه (١) وهو عنك راض، ولم يختلف في خلافتك اثنان، وقتلت شهيدًا، فقال: أعد علي، فأعدت عليه فقال: والذي لا إله غيره، لو أن لي ما على الأرض من صفراء وبيضاء (لافتديت) (٢) به من هول المطلع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ جب دیگر لوگوں نے کفر کیا تب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ جب دیگر لوگ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسوا کررہے تھے تب آپ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت اس حال میں آئی کہ آپ تم سے راضی تھے۔ اور آپ کی خلافت میں کوئی دو آدمی اختلاف کرنے والے نہیں ہیں اور آپ شہید ہو کر مر رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بات دوبارہ کہو۔ چناچہ میں نے یہ بات آپ کو دوبارہ کہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر میرے پاس زمین پر موجود چیزوں کے برابر سونا چاندی ہوتا تو میں اس کے ذریعہ قیامت کی ہولناکی سے جان چھڑا لیتا۔