کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کلام
حدیث نمبر: 37161
٣٧١٦١ - حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن أسلم مولى عمر قال: لما قدمنا مع عمر الشام أناخ بعيره وذهب لحاجته فألقيت (فروتي) (٢) بين شعبتي الرحل، فلما جاء ركب على الفرو، فلقينا أهل الشام يتلقون عمر فجعلوا ينظرون فجعلت أشير لهم إليه، قال: يقول عمر: تطمح أعينهم إلى مراكب من لا خلاق له -يريد مراكب العجم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام گئے۔ انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اپنی حاجت کے لیے چلے گئے۔ میں نے سواری کے دونوں حصوں کے درمیان چمڑے کا ملبوس ڈال دیا۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہائے تو آپ رضی اللہ عنہ اسی چمڑے پر ہی سوار ہوگئے۔ پس ہم اہل شام سے ملے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا۔ وہ دیکھنے لگے تو میں ان کو حضرت عمر کی طرف اشارہ کرکے بتلانے لگا۔ راوی کہتے ہیں حضرت نے فرمایا : ان کی آنکھیں ایسے لوگوں کے مراکب کی طرف للچاتی ہیں جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد عجمی سواریاں تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37161
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٥٨٥)، وابن شبه (١٣٩٩)، وابن عساكر ٨/ ٤١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37161، ترقيم محمد عوامة 35583)
حدیث نمبر: 37162
٣٧١٦٢ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: لما قدم عمر الشام استقبله الناس وهو على بعيره فقالوا: يا أمير المؤمنين، لو ركبت (برذونا) (١) يلقاك عظماء الناس ووجوههم، قال: فقال عمر: (ألا) (٢) أراكم هاهنا، (إنما) (٣) الأمر من هاهنا وأشار بيده إلى السماء - (٤) خلوا سبيل جملي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہاپنے اونٹ پر تھے۔ لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین ! اگر آپ غیر عربی گھوڑے پر سوار ہوجاتے کہ لوگوں کے سردار اور رئیس آپ سے ملاقات کریں گے راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں یہاں دکھائی نہیں دوں گا۔ معاملہ تو وہاں ہوتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تم لوگ میرے اونٹ کا راستہ چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37162
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء ١/ ٤٧، وابن شبه (١٤٠٩)، والخلال في السنة (٣٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37162، ترقيم محمد عوامة 35584)
حدیث نمبر: 37163
٣٧١٦٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قدم عمر الشام أتته الجنود وعليه إزار وخفان وعمامة وهو آخذ ⦗٣٠٢⦘ برأس بعيره يخوض الماء، فقالوا له: يا أمير المؤمنين، تلقاك الجنود وبطارقة الشام وأنت على هذا الحال، قال: فقال عمر: إنا قوم أعزنا اللَّه بالإسلام فلن نلتمس العز بغيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سے گروہ حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ پر (اس وقت) ایک ازار، دو موزے اور ایک عمامہ تھا۔ اور آپ رضی اللہ عنہاپنے اونٹ کے سر کو پکڑ کر اس کو پانی میں ڈال رہے تھے۔ لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین ! لشکر آپ سے ملاقات کررہے ہیں اور شامی یہودی علماء آپ رضی اللہ عنہ سے مل رہے ہیں۔ اور آپ اس حالت میں ہیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا ہم وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام سے عزت دی ہے۔ پس ہم اس کے علاوہ کسی چیز سے ہرگز عزت کے متلاشی نہیں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37163
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرج الحاكم ١/ ١٣٠، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٤٧، وابن عساكر ٤٤/ ٥، وابن البخاري في مشيخته ١/ ٤١٣، والبيهقي في الشعب (٨١٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37163، ترقيم محمد عوامة 35585)
حدیث نمبر: 37164
٣٧١٦٤ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن الأعمش عن شقيق قال: كتب عمر: إن (الدنيا) (٢) خضرة حلوة، فمن أخذها بحقها كان قمنا أن يبارك له فيها، ومن أخذها بغير ذلك كان كالآكل الذي لا يشبع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط میں تحریر فرمایا : بیشک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ پس جو آدمی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا تو وہ اس لائق ہے کہ اس کے لیے اس میں برکت دی جائے اور جو شخص اس کو اس کے بغیر لے گا تو اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جو سیر نہ ہوتا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37164
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37164، ترقيم محمد عوامة 35586)
حدیث نمبر: 37165
٣٧١٦٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن إبراهيم بن عبد الرحمن ابن عوف قال: لما أتي عمر بكنوز، (آل) (١) كسرى فإذا من (الصفراء) (٢) (و) (٣) البيضاء ما يكاد أن (يحارمنه) (٤) البصر، قال: فبكى عمر عند ذلك، (فقال) (٥) عبد الرحمن: ما يبكيك يا أمير المؤمنين؟ إن هذا اليوم (ليوم) (٦) شكر وسرور وفرح، فقال عمر: ما كثر هذا عند قوم إلا ألقى اللَّه بينهم العداوة والبغضاء (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آلِ کسریٰ کے خزانے لائے گئے تو اس میں اس قدر سونا، چاندی تھا کہ جس سے آنکھیں چندھیانے لگیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر روپڑے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبدالرحمن نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ کو کس چیز نے رلا دیا ہے ؟ یقینا آج کا دن تو شکر، خوشی اور فرحت کا دن ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ چیزیں جس قوم کے پاس بھی زیادہ ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37165
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه معمر كما في الجامع من مصنف عبد الرزاق (٢٠٠٣٦)، والبيهقي ٦/ ٣٥٨، وابن المبارك في الزهد (٧٦٨)، والخرائطي (٥٠٢)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37165، ترقيم محمد عوامة 35587)
حدیث نمبر: 37166
٣٧١٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال: رأيت بين كتفي عمر أربع (رقاع) (١) في قميصه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان ان کی قمیص میں چار پیوند دیکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37166
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٩٩٣٤)، وابن سعد ٣/ ٣٢٧، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٦٩، وابن عساكر ٤٤/ ٣٠٤، وهناد (٧٠١)، وابن أبي الدنيا في إصلاح المال (٣٨١)، والتواضع (١٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37166، ترقيم محمد عوامة 35588)
حدیث نمبر: 37167
٣٧١٦٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن سعيد بن أبي بردة قال: كتب عمر إلى أبي موسى: أما بعد! إن أسعد الرعاة من (سعدت) (١) به رعيته، (وإن أشقى) (٢) الرعاة عند اللَّه من شقيت به رعيته، وإياك أن (ترتع فيرتع عمالك) (٣)، فيكون مثلك عند اللَّه مثل البهيمة، نظرت إلى خضرة من الأرض فرتعت فيها تبتغي بذلك السمن، وإنما حتفها في سمنها (والسلام عليك) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی بردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ کی طرف خط لکھا : اما بعد ! پس بیشک خوش بخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعیت خوشحال ہو اور یقینا اللہ کے ہاں بدبخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس سے اس کی رعیت بدحال ہو۔ خبردار ! تم اس بات سے بچو کہ تم (غلط جگہ) چرنے لگو پھر تمہارے عمال بھی چرنے لگیں۔ پس تمہاری مثال اللہ کے ہاں جانور کی سی ہوگی جو زمین کے سبزے کی طرف دیکھتا ہے تو اس میں چرنے لگتا ہے اور اس کا مقصد موٹاپا ہوتا ہے جبکہ اس کے موٹاپے میں ہی اس کی موت ہے۔ والسلام علیک
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37167
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37167، ترقيم محمد عوامة 35589)
حدیث نمبر: 37168
٣٧١٦٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن قال: قال عمر: الرعية مؤدية إلى الإمام ما أدى الإمام إلى اللَّه، فإذا (رتع رتعوا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : رعایا، امام کی طرف وہی چیز ادا کرے گی جو چیز امام اللہ کی طرف ادا کرے گا پس جب امام چرنے لگتا ہے تو رعایا بھی چرتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37168
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37168، ترقيم محمد عوامة 35590)
حدیث نمبر: 37169
٣٧١٦٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن عجلان عن إبراهيم عن محمد ابن شهاب قال: قال عمر: لا تعترض فيما لا يعنيك، واعتزل عدوك، ⦗٣٠٤⦘ و (احتفظ) (١) من خليلك (إلا) (٢) الأمين، فإن الأمين من القوم لا يعادله شيء، ولا تصحب الفاجر فيعلمك من فجوره، ولا تفش إليه سرك، واستشر في أمرك الذين يخشون اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے غیر متعلقہ کاموں میں تعرض نہ کرو۔ اور اپنے دشمن سے علیحدہ رہو۔ اور اپنے دوستوں میں سے صرف امانتدار کو خاص کرو۔ کیونکہ لوگوں میں سے امانتدار آدمی کے مقابل کوئی چیز نہیں ہے۔ اور فاجر آدمی کی صحبت نہ پکڑو کہ وہ تمہیں بھی اپنے فجور کی تعلیم دے گا۔ اور تم اس کو اپنا راز نہ بتاؤ۔ اور تم اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ تعالیٰ سے خوف رکھتے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37169
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37169، ترقيم محمد عوامة 35591)
حدیث نمبر: 37170
٣٧١٧٠ - حدثنا مروان بن معاوية عن محمد بن سوقة قال: أتيت نعيم بن أبي هند فأخرج إلي صحيفة فإذا فيها: من أبي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل إلى عمر (ابن الخطاب) (١): سلام عليك أما بعد، فإنا عهدناك وأمر نفسك لك مهم، وأصبحت (و) (٢) قد وليت أمر هذه الأمة أحمرها وأسودها، (يجلس) (٣) بين يديك الشريف والوضيع والعدو والصديق، و (لكل) (٤) (حصته) (٥) من العدل، فانظر كيف أنت عند ذلك يا عمر، فإنا نحذرك يوما تعنو فيه الوجوه، و (تجف) (٦) فيه القلوب، وتُقطع فيه الحجج، (ملك) (٧) قهرهم بجبروته، والخلق داخرون له، يرجون رحمته ويخافون (عقابه) (٨)، وإنا كنا نُحدث أن أمر هذه الأمة سيرجع (في) (٩) آخر زمانها: ⦗٣٠٥⦘ أن يكون إخوان العلانية أعداء السريرة، (وإنا) (١٠) نعوذ باللَّه أن ينزل كتابنا إليك سوى المنزل الذي نزل من قلوبنا، فإنا كتبنا به نصيحة لك والسلام (عليك) (١١)، فكتب إليهما: من عمر بن الخطاب: إلى أبي عبيدة ومعاذ بن جبل سلام عليكما أما بعد، فإنكما كتبتما إلي تذكران أنكما عهدتماني وأمر نفسي لي مهم، وأني قد أصبحت قد وليت أمر هذه الأمة أحمرها وأسودها يجلس بين يدي الشريف والوضيع والعدو والصديق، ولكل (حصته) (١٢) من ذلك، وكتبتما فانظر كيف أنت عند ذلك يا عمر، وأنه لا حول ولا قوة (عند ذلك لعمر) (١٣) إلا باللَّه، وكتبتما تحذراني ما حُذرت به الأمم قبلنا، وقديما كان اختلاف الليل والنهار بآجال الناس يقربان كل بعيد، ويبليان كل جديد، ويأتيان بكل موعود، حتى يصير الناس إلى منازلهم من الجنة والنار، كتبتما تذكران أنكما كنتما تحدثان أن أمر هذه الأمة سيرجع في آخر زمانها: أن يكون إخوان العلانية أعداء السريرة، ولستم بأولئك، ليس هذا بزمان ذلك، وإن (ذلك) (١٤) زمان تظهر فيه الرغبة والرهبة، تكون رغبة بعض الناس إلى بعض لصلاح دنياهم، ورهبة بعض الناس من بعض، كتبتما به نصيحة تعظاني باللَّه أن أنزل كتابكما سوى المنزل الذي (نزل) (١٥) من قلوبكما، وأنكما كتبتما به (نصيحة تعظان باللَّه) (١٦) وقد صدقتما، فلا تدعا الكتاب إليّ فإنه لا ⦗٣٠٦⦘ غنى (بي) (١٧) عنكما والسلام عليكما (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سوقہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت نعیم بن ابی ہند کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے ایک صحیفہ نکال کر دکھایا۔ اس میں یہ لکھا ہوا تھا۔ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف یہ خط ہے۔ آپ پر سلامتی ہو۔ اما بعد ! ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں۔ تمہارے لیے تمہاری ذات کا معاملہ بہت اہم ہے۔ آپ اس وقت ایسی حالت میں ہیں کہ آپ کو اس امت کے سرخ اور سفید پر اختیار حاصل ہوا ہے۔ آپ کے سامنے شریف اور گھٹیا آدمی بیٹھتا ہے اور دوست، دشمن بیٹھتا ہے۔ اور ہر ایک کو انصاف میں اس کا حصہ ملتا ہے۔ اے عمر رضی اللہ عنہ ! پس آپ دیکھیں کہ اس وقت آپ کیسے ہو ؟ کیونکہ ہم آپ کو اس دن سے ڈراتے ہیں جس دن چہرے جھکے ہوں گے اور دل خشک ہوچکے ہوں گے اور اس دن دلیلیں کاٹ دی جائیں گی۔ ایک بادشاہ ہوگا جو لوگوں پر اپنی جبروت کی وجہ سے غالب ہوگا۔ اور مخلوق اس کے لیے ذلیل ہوگی۔ اپنے رب کی رحمت کی امید کرتے ہوں گے اور اس کے عذاب سے خوف کرتے ہوں گے۔ اور ہمیں یہ بات بیان کی جاتی تھی کہ اس امت کے آخر کا معاملہ اس طرح سے لوٹے گا کہ وہ علانیہ طور پر بھائی اور خلوت کے دشمن ہوں گے۔ اور ہم اس بات سے اللہ کی پناہ پکڑتے ہیں کہ ہمارا یہ آپ کو خط، اس جگہ کے علاوہ اترے جس جگہ ہمارے دلوں سے اترا ہے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو صرف خیر خواہی کے لیے لکھا ہے۔ والسلام علیک پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو تحریر فرمایا : عمر بن خطاب کی طرف سے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے نام۔ آپ دونوں کو سلام ہو۔ اما بعد ! تم نے میری طرف خط لکھا ہے اور مجھے یہ بات یاد دلائی ہے کہ تم مجھے نصیحت کررہے ہو اور میرے لیے میری ذات کا معاملہ بہت اہم ہے اور یہ کہ میں ایسی حالت میں ہوں کہ مجھے اس امت کے سرخ و سیاہ پر اختیار حاصل ہے۔ میرے سامنے شریف اور ذلیل آدمی بیٹھتا ہے اور دوست، دشمن بیٹھتا ہے۔ اور ہر ایک کے لیے اس میں سے حصہ ہے۔ اور تم نے مجھے یہ بات بھی لکھی ہے کہ اے عمر ! تم خیال رکھو کہ اس وقت تم کیسے رہتے ہو ؟ ایسے وقت میں عمر کے پاس اللہ کی طاقت اور قوت کے علاوہ کسی شے کا سہارا نہیں ہے۔ اور تم نے میری طرف خط لکھ کر مجھے اس بات سے ڈرایا جس سے ہم سے پہلی امتوں کو ڈرایا گیا۔ اور زمانہ قدیم سے یہ دستور ہے کہ گردش لیل ونہار ہر دور کو قریب کردیتی ہے اور ہر جدید کو بوسیدہ کردیتی ہے۔ اور ہر موعود کو حاضر کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ لوگ جنت یا جہنم میں اپنی منازل کو لوٹ جاتے ہیں اور تم نے یہ بات لکھ کر بھی مجھے یاد دہانی کروائی کہ تمہیں یہ بات بیان کی جاتی تھی کہ اس امت کا معاملہ آخر زمانہ میں اس طرف لوٹے گا کہ یہ ظاہری طور پر بھائی ہوں گے اور خلوت کے دشمن ہوں گے لیکن تم لوگ ایسے نہیں ہو اور یہ زمانہ بھی وہ نہیں ہے۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جس میں خوف اور شوق ظاہر ہوگا۔ بعض لوگوں کا شوق بعض لوگوں کی طرف اپنی دنیا کی بہتری کے لیے ہوگا اور بعض لوگوں سے بعض کا خوف ہوگا۔ تم نے مجھے یہ خط لکھ کر خدا کے نام پر وصیت کی کہ یہ خط اسی جگہ اترے جس جگہ تمہارے دلوں سے اترا ہے۔ تم لوگوں نے یہ خط لکھا ہے اور تم نے سچ لکھا ہے۔ پس تم مجھے خط لکھنا نہ چھوڑنا کیونکہ میرے لیے تمہارے خط کے بغیر چارہ کار نہیں ہے۔ والسلام علیکما
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37170
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37170، ترقيم محمد عوامة 35592)
حدیث نمبر: 37171
٣٧١٧١ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن سليم بن حنظلة عن عمر بن الخطاب (أنه) (١) كان يقول: اللهم إني أعوذ بك أن (تأخذني) (٢) على غرة، أو (تذرني) (٣) في غفلة، أو تجعلني من الغافلين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے دھوکہ لگ جائے یا میں غفلت میں پڑا رہوں یا آپ مجھے غافلین میں ڈال دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37171
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث بن أبي سليم، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥٤، وابن فضيل في الدعاء (٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37171، ترقيم محمد عوامة 35593)
حدیث نمبر: 37172
٣٧١٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن يسار بن نمير قال: (واللَّه) (١) ما (تحلت) (٢) لعمر الدقيق قط إلا وأنا له عاص (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسار بن نمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے کبھی آٹا نہیں چھانا مگر یہ کہ میں نے ان کی (اس معاملہ میں) نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37172
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٣١٩، وابن المبارك في الزهد (٥٨٢)، وهناد (١٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37172، ترقيم محمد عوامة 35594)
حدیث نمبر: 37173
٣٧١٧٣ - حدثنا وكيع (عن) (١) هشام بن عروة عن أبي (الليث) (٢) الأنصاري قال: قال عمر: املكوا العجين، فهو (أحد) (٣) (الطحنين) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواللیث انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : آٹے کو خوب اچھی طرح گوندھو کیونکہ یہ بھی ایک طرح کا پیسنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37173
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37173، ترقيم محمد عوامة 35595)
حدیث نمبر: 37174
٣٧١٧٤ - حدثنا محمد بن مروان عن يونس قال كان الحسن ربما ذكر عمر فيقول: واللَّه ما كان بأولهم إسلاما ولا بأفضلهم نفقة في سبيل اللَّه، ولكنه غلب الناس بالزهد في (الدنيا) (١) و (الصرامة) (٢) في أمر اللَّه، (ولا يخاف) (٣) في (اللَّه) (٤) لومة لائم.
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حسن جب کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے تو کہتے خدا کی قسم ! یہ صحابہ کرام میں سے اسلام لانے میں اول نہ تھے۔ اور بقیہ صحابہ رضی اللہ عنہ م سے راہ خدا میں خرچ کے معاملہ میں بھی افضل نہ تھے لیکن پھر بھی یہ صحابہ رضی اللہ عنہ م میں سب پر دنیا سے بےرغبتی، خدا کے حکم میں پختہ عزمی کی وجہ سے غالب تھے۔ اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37174
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37174، ترقيم محمد عوامة 35596)
حدیث نمبر: 37175
٣٧١٧٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا مالك بن دينار عن الحسن قال: ما ادهن عمر حتى قتل إلا بسمن أو إهالة أو زيت مقتت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے تک سوائے گھی، چکناہٹ اور مخلوط زیتون کے تیل کے کسی تیل سے نہیں لگایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37175
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37175، ترقيم محمد عوامة 35597)
حدیث نمبر: 37176
٣٧١٧٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا هشام عن الحسن قال: كان عمر بن الخطاب يمر بالآية في ورده فتخنقه فيبكي حتى يسقط، (حتى) (١) يلزم بيته حتى يعاد، يحسبونه مريضًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہاپنے ورد میں ایک آیت پر سے گزرتے تو آپ رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ جاتی۔ آپ اس قدر روتے کہ گرجاتے۔ یہاں تک کہ آپ گھر کے ہو کے رہ جاتے آپ کی عیادت کی جاتی۔ لوگ آپ کو مریض خیال کرنے لگتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37176
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37176، ترقيم محمد عوامة 35598)
حدیث نمبر: 37177
٣٧١٧٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: كان عمر يمشي في طريق ومعه عبد اللَّه بن عمر فرأى جارية مهزولة تطيش مرة وتقوم أخرى، فقال: (هابؤس) (١) لهذه هاه، من يعرف تياه، فقال عبد اللَّه: هذه واللَّه إحدى بناتك، قال: بناتي؟ قال: نعم، قال: من هي؟ قال: بنت عبد اللَّه بن عمر، قال: (ويلك) (٢) يا عبد اللَّه (بن عمر) (٣) أهلكتها هزلا، قال: ما نصنع، منعتنا ما عندك، ⦗٣٠٨⦘ فنظر إليه فقال: ما عندي؟ عزك أن تكسب لبناتك كما تكسب الأقوام، لا واللَّه، مالك عندي إلا سهمك مع المسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ راستہ میں چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک کمزور سی بچی کو دیکھا جو کبھی اٹھتی اور کبھی گرتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہائے، اس کی بدحالی۔ ہائے ! اس کو کون جانتا ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ خدا کی قسم ! یہ آپ کی ہی ایک بچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ میری بچیوں میں سے۔ حضرت عبداللہ نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ حضرت عبداللہ نے کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے عبداللہ بن عمر ! تم اس کو کمزوری سے ہلاک کرو گے۔ عبداللہ نے کہا ہم کیا کریں جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کو آپ نے ہم سے روک رکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور فرمایا : میرے پاس کیا ہے ؟ تمہیں یہ بات شاق گزرتی ہے کہ جس طرح دیگر لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے کماتے ہیں تم بھی اپنی بیٹیوں کے لیے کماؤ۔ نہیں، خدا کی قسم ! میرے پاس تمہارے لیے دیگر مسلمانوں کے ساتھ (برابر کا) حصہ ہی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37177
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37177، ترقيم محمد عوامة 35599)
حدیث نمبر: 37178
٣٧١٧٨ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن رجل لم يكن يسميه عن عمر بن الخطاب أنه قال في خطبته: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوا أنفسكم قبل أن توزنوا، وتزينوا للعرض الأكبر يوم تعرضون لا يخفى منكم خافية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے نفسوں کا خود ہی حساب لو قبل اس کے کہ ان کا حساب لیا جائے اور اپنے نفسوں کا وزن ہونے سے قبل ہی ان کا خود وزن کرلو۔ اور عرض اکبر کے لیے خوب صورت ہوجاؤ۔ جس دن تم پیش کیے جاؤ گے تم میں سے کوئی چیز مخفی نہ رہے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37178
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37178، ترقيم محمد عوامة 35600)
حدیث نمبر: 37179
٣٧١٧٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن (عمرو) (١) قال: حدثنا أبو سلمة (٢) (قال) (٣): قال سعد: أما واللَّه ما كان بأقدمنا إسلاما ولا أقدمنا هجرة ولكن قد عرفت (بأي) (٤) شيء فضلنا كان أزهدنا في (الدنيا) (٥) -يعني: عمر بن الخطاب (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے فرمایا : خدا کی قسم ! وہ ہم میں سے قدیم الاسلام نہیں تھے اور نہ ہی ہم میں قدیم الہجرت تھے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ کس چیز کی وجہ سے ہم پر فضیلت پاگئے۔ وہ دنیا کے معاملہ میں ہم سب سے زیادہ زاہد تھے۔ حضرت سعد کی مراد، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37179
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37179، ترقيم محمد عوامة 35601)
حدیث نمبر: 37180
٣٧١٨٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر وابن إدريس وابن عيينة عن ابن عجلان (١) بكير بن عبد اللَّه بن الأشج عن (معمر) (٢) بن أبي (حَبيبة) (٣) عن عبيد اللَّه بن ⦗٣٠٩⦘ عدي بن الخيار قال: قال عمر: إن العبد إذا [تواضع للَّه رفع اللَّه حكمته، وقال: انتعش نعشك اللَّه، فهو في نفسه صغير وفي (أنفس) (٤) الناس كبير] (٥)، (و) (٦) إن العبد إذا تعظّم وعَدَا طوره (وهصه) (٧) اللَّه إلى الأرض وقال: اخسأ أخساك اللَّه، فهو في نفسه كبير، وفي أنفس الناس صغير، حتى لهو أحقر عنده من خنزير (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک بندہ جب اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی شان بلند کردیتے ہیں اور فرماتے ہیں : اٹھ کھڑا ہو، اللہ تجھے بلند کرے۔ پس یہ آدمی اپنے آپ میں چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کے ہاں بڑا ہوتا ہے۔ اور بیشک بندہ بڑائی اختیار کرتا ہے اور اپنی حد کو تجاوز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں : ذلیل ہوجا۔ اللہ نے تجھے ذلیل کیا۔ پس یہ آدمی اپنے آپ میں بڑا ہوتا ہے اور لوگوں کے ہاں چھوٹا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ لوگوں کے ہاں خنزیر سے بھی حقیر ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37180
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان صدوق، وأخرجه موقوفًا ابن حبان في روضة العقلاء (ص ٥٩)، والبيهقي في الشعب (٨١٣٩)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٢٦٨)، وأخرجه مرفوعًا الطبراني في الأوسط (٨٣٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37180، ترقيم محمد عوامة 35602)
حدیث نمبر: 37181
٣٧١٨١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: لما نفر عمر كوم كومة من تراب ثم بسط عليها ثوبه (وأستلقى) (١) عليها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو مٹی کا ایک ڈھیر اکٹھا کرلیتے پھر اس پر اپنا کپڑا بچھا لیتے اور اس پر لیٹ جاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37181
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه الحاكم ٣/ ٩٨، ومالك ٢/ ٨٢٤ (١٥٠٦)، ومسدد كما في المطالب (٣٨٩٧)، وابن عساكر ٦٤/ ٣٩٤، والفاكهي في أخبار مكة (١٨٣١)، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٨٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37181، ترقيم محمد عوامة 35603)
حدیث نمبر: 37182
٣٧١٨٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن مصعب بن محمد عن رجل من غفار عن أبيه قال: أقبلت بطعام أحمله من (الجار) (١) على إبل من إبل الصدقة فتصفحها عمر فأعجبه بكر فيها، قلت: خذه يا أمير المؤمنين فضرب بيده على كتفي وقال: واللَّه، ما أنا بأحق به من رجل من بني غفار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
” قبیلہ غفار کا ایک آدمی، اپنے والد سے روایت کرتا ہے اس کے والد کہتے ہیں کہ میں مقام جار سے صدقہ کے اونٹوں پر کھانا لاد کر لا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں کو غور سے دیکھا تو ان اونٹوں میں ایک جوان اونٹ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پسند آیا۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اس کو لے لیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا : میں بنو غفار کے آدمی سے زیادہ اس کا حقدار نہیں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37182
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37182، ترقيم محمد عوامة 35604)
حدیث نمبر: 37183
٣٧١٨٣ - حدثنا أبو (خالد) (١) الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن (حبان) (٢) قال: كان بين يدي عمر صحفة فيها خبز مفتوت فيه فجاء رجل كالبدوي، قال: فقال: كل، قال: فجعل يتبع باللقمة الدسم في جانب الصحفة، فقال عمر: كأنك مقفر، فقال: واللَّه ما ذقت (سمنا) (٣) ولا (رأيت) (٤) (له) (٥) آكلا، فقال عمر: واللَّه لا أذوق سمنا حتى يحيى الناس من أول ما يحيون (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک پلیٹ تھی جس میں روٹی، گھی میں چورا کی ہوئی تھی کہ ایک دیہاتی قسم کا آدمی آگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کھاؤ، راوی کہتے ہیں : پس اس نے پلیٹ کے کنارے میں موجود چکناہٹ کے ساتھ لقمہ لگانا شروع کیا اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا لگتا ہے تم بھوکے ہو ؟ اس نے کہا : خدا کی قسم ! میں نے گھی کو چکھا ہے اور نہ ہی میں نے اس کو کھانے والا دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! اس وقت تک میں گھی نہیں چکھوں گا جب تک یَحْیَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا یَحْیَوْنَ
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37183
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37183، ترقيم محمد عوامة 35605)
حدیث نمبر: 37184
٣٧١٨٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن عون بن عبد اللَّه بن عتبة قال: قال عمر: جالسوا التوابين فإنهم أرق شيء (أفئدة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ، توبہ کرنے والے کی مجلس میں بیٹھا کرو کیونکہ یہ دل کو سب سے زیادہ نرم کرنے والی چیز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37184
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37184، ترقيم محمد عوامة 35606)
حدیث نمبر: 37185
٣٧١٨٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن مسعر عن حبيب عن يحيى بن جعدة قال: قال عمر: لولا أن أسير في سبيل اللَّه، (أو لأضع) (١) (جنبي) (٢) للَّه في التراب، أو أجالس قوما (يلتقطون) (٣) طيب الكلام كما (يلتقط) (٤) التمر، ⦗٣١١⦘ لأحببت أن أكون قد لحقت باللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں راہ خدا میں چلتا ہوں یا اپنی پیشانی کو اللہ کے لیے مٹی میں رکھتا ہوں یا میں ایسے لوگوں میں بیٹھتا ہوں جو عمدہ کلام کو اس طرح چن لیتے ہیں جیسے کھجور کو چنا جاتا ہے تو پھر مجھے خدا سے ملنا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37185
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37185، ترقيم محمد عوامة 35607)
حدیث نمبر: 37186
٣٧١٨٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن شيخ قال: قال عمر: من أراد الحق فلينزل بالبراز-يعني (يظهر) (١) أمره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک بوڑھے سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو آدمی حق کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنے معاملہ کو ظاہر رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37186
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37186، ترقيم محمد عوامة 35608)
حدیث نمبر: 37187
٣٧١٨٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن التيمي عن أبي عثمان قال: قال عمر: الشتاء (غنيمة) (١) العابد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعثمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : سردیاں، عبادت گزار کے لیے غنیمت ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37187
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥١، و ٣/ ٣١ و ٩/ ٢٠، وابن أبي الدنيا في التهجد وقيام الليل (٤٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37187، ترقيم محمد عوامة 35609)
حدیث نمبر: 37188
٣٧١٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا أشرس أبو شيبان قال: حدثنا عطاء الخرساني قال: قال: احتبس عمر بن الخطاب على جلسائه فخرج إليهم من العشي فقالوا: ما حبسك؟ فقال: غسلت ثيابي فلما جفت خرجت إليكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب نے اپنے ہم مجلسوں کو روکے رکھا پھر آپ رضی اللہ عنہ شام کو ان کے پاس آئے۔ لوگوں نے پوچھا : آپ کو کس چیز نے روکا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے کپڑوں کو دھویا تھا جب وہ خشک ہوئے تو میں تمہارے پاس آیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37188
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37188، ترقيم محمد عوامة 35610)
حدیث نمبر: 37189
٣٧١٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: كتب عمر إلى أبي موسى: إنك لن تنال الآخرة بشيء أفضل من الزهد في (الدنيا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : بیشک تم آخرت کو اس سے بہتر کسی چیز سے حاصل نہیں کرسکتے کہ دنیا میں بےرغبتی اختیار کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37189
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37189، ترقيم محمد عوامة 35611)
حدیث نمبر: 37190
٣٧١٩٠ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن أبي فروة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى ⦗٣١٢⦘ قال: قدم على عمر ناس من (١) العراق، فرأى كأنهم يأكلون تعذيرا (٢)، فقال: ما هذا يا أهل العراق؟ لو شئت أن يدهمق (٣) (لي) (٤) كما يدهمق لكم لفعلت، ولكننا نستبقي من دنيانا (ما) (٥) نجده في آخرتنا، أما سمعتم اللَّه قال: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس، عراق کے کچھ لوگ آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا کہ گویا وہ کھانا تھوڑا کھا رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! یہ کیا ہے ؟ اگر میں چاہتا کہ جس طرح تمہارے لیے کھانا عمدہ بنایا گیا، میرے لیے بھی بنایا جائے تو میں بنوا سکتا ہوں۔ لیکن ہم اپنی دنیا میں سے بچاتے ہیں جس کو ہم آخرت میں پائیں گے۔ کیا تم نے حق تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : { أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37190
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٤٩، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٢٦٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37190، ترقيم محمد عوامة 35612)
حدیث نمبر: 37191
٣٧١٩١ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا هشام بن عروة عن أبيه قال: لما قدم عمر الشام كان قميصه قد تجوب عن مقعده قميص سنبلاني (١) غليظ، فأرسل به إلى صاحب أذرعات أو (أيلة) (٢)، قال: فغسله ورقعه وخيط له قميص (قبطري) (٣)، فجاء بهما جميعا فألقى إليه القبطري، فأخذه عمر فمسه فقال: هذا (ألين) (٤)، (فرمى) (٥) به إليه وقال: ألق إلي قميصي، فإنه أنشفهما للعرق (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ کی قمیص، بیٹھنے کی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی۔ وہ ایک موٹی اور سنبلانی قمیص تھی۔ چناچہ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ قمیص صاحب اذرعات یا ایلہ کی طرف بھیجی۔ راوی کہتے ہیں پس اس نے اس قمیص کو دھویا اور اس میں پیوند لگا دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے قبطری قمیص سی گئی۔ پھر ان دونوں قمیصوں کو لے کر آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو قبطری قمیص دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس قمیص کو پکڑا اور اس کو چھوا پھر فرمایا : یہ نرم ہے۔ پھر آپ نے وہ قمیص اسی آدمی کی طرف پھینک دی اور فرمایا : مجھے میری قمیص دے دو کیونکہ وہ ان دونوں قمیصوں میں سے پسینہ کو زیادہ چوسنے والی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37191
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37191، ترقيم محمد عوامة 35613)
حدیث نمبر: 37192
٣٧١٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر قال: كان عمر يقول: يحفظ اللَّه المؤمن، كان عاصم بن ثابت بن الأفلح نذر أن لا يمس مشركا ولا يمسه مشرك، فمنعه اللَّه بعد وفاته كما امتنع منهم في حياته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والے کی حفاظت کرتا ہے۔ حضرت عاصم بن ثابت بن افلح نے اس بات کی نذر مانی تھی کہ وہ کسی مشرک کو نہیں چھوئیں گے اور کوئی مشرک ان کو نہ چھوئے۔ چناچہ جس طرح یہ اپنی زندگی میں اس سے بچتے رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی وفات کے بعد بھی بچایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37192
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37192، ترقيم محمد عوامة 35614)
حدیث نمبر: 37193
٣٧١٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الرَبِيع بن (قزيع) (١) قال: سمعت ابن عمر قال: كان عمر بن الخطاب يؤتى بخبزه ولحمه ولبنه وزيته وبقله وخله، فيأكل ثم يمص أصابعه ويقول هكذا، فيمسح يديه بيديه، ويقول: هذه مناديل آل عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن قزیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس، روٹی، گوشت، دودھ، زیتون، سبزی اور سرکہ لایا جاتا تھا۔ وہ کھانا تناول کرتے پھر اپنی انگلیوں کو چاٹ لیتے۔ پھر یوں اشارہ کرتے۔ پھر اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے مل لیتے اور فرماتے ۔ آلِ عمر رضی اللہ عنہ کے رومال یہی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37193
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37193، ترقيم محمد عوامة 35615)
حدیث نمبر: 37194
٣٧١٩٤ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن (أبي مليح) (١) قال: قال عمر: ما (الدنيا) (٢) في الآخرة إلا (كنفجة) (٣) أرنب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوملیح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حیثیت خرگوش کی ایک چھلانگ کی سی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37194
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37194، ترقيم محمد عوامة 35616)
حدیث نمبر: 37195
٣٧١٩٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (مسعر قال: حدثنا) (١) وديعة الأنصاري قال: قال عمر: (لا تعترض) (٢) لما لا يعنيك واعتزل (عدوك) (٣) (واحذر) (٤) صديقك إلا الأمين من الأقوام، ولما أمين إلا من خشي اللَّه، ولا ⦗٣١٤⦘ تصحب الفاجر فتعلم من فجوره، ولا تطلعه على سرك، واستشر في أمرك الذين يخشون اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ودیعہ انصاری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو بات تمہارے مقصد کی نہ ہو اس سے تعرض نہ کرو۔ اور اپنے دشمن سے علیحدگی رکھو۔ لوگوں میں اپنے دوستوں میں سے امین کے ماسوا سے ڈرو اور امین شخص وہ ہوتا ہے جو خوفِ خدا رکھتا ہو۔ فاجر آدمی سے صحبت نہ رکھو پھر اس کے فجور کو سیکھ جاؤ گے۔ اور اس کو اپنے راز پر مطلع نہ کرو اور اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37195، ترقيم محمد عوامة 35617)
حدیث نمبر: 37196
٣٧١٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إسماعيل بن أمية قال: قال عمر: في (العزلة) (١) راحة من خلطاء السوء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن امیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خلوت میں برے دوستوں سے راحت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37196
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37196، ترقيم محمد عوامة 35618)
حدیث نمبر: 37197
٣٧١٩٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب قال: قدم (أناس) (١) من العراق (على عمر) (٢) وفيهم جرير بن عبد اللَّه قال: فأتاهم يحفنة قد صنعت بخبز وزيت، قال: فقال لهم: (خذوا، فأخذوا أخذًا ضعيفًا قال: فقال لهم) (٣): قد (أرى) (٤) ما (تقرمون) (٥) إليه فأي شيء تريدون حلوا وحامضا وحارا وباردا، وقذفا في البطون (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ ان میں حضرت جریر بن عبداللہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر کوئی ان کے پاس ایک بڑا برتن لے کر آیا جس میں روٹی اور زیتون بنایا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا۔ لے لو راوی کہتے ہیں انہوں نے آرام سے ہلکے سے لیا۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ تحقیق میں تمہاری گوشت کے لیے شدت خواہش کو دیکھ رہا ہو۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ کھٹا میٹھا، ٹھنڈا گرم، پیٹوں میں ڈالنا ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37197
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37197، ترقيم محمد عوامة 35619)
حدیث نمبر: 37198
٣٧١٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب عن بعض أصحابه عن عمر أنه دعي إلى طعام فكانوا إذا جاؤا (بلون) (١) خلطه (بصاحبه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر کے بارے میں روایت ہے کہ انہیں ایک دعوت میں مدعو کیا گیا پس وہ لوگ جب کوئی مختلف شے لاتے تو اس کو اپنے ساتھی کے ساتھ ملا لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37198، ترقيم محمد عوامة 35620)
حدیث نمبر: 37199
٣٧١٩٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن عاصم (بن) (١) عبيد اللَّه عن عبد اللَّه بن عامر قال: رأيت عمر بن الخطاب أخذ تبنة من الأرض فقال: ليتني هذه التبنة، ليتني لم أك شيئا، ليت أمي لم تلدني، ليتني كنت نسيا منسيا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ انہوں نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا (اور فرمایا : ہائے کاش ! میں یہ تنکا ہوتا۔ کاش ! میں کچھ نہ ہوتا۔ کاش میری ماں نے مجھے جنا نہ ہوتا۔ کاش ! میں بھولا بسرا ہوچکا ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37199
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عاصم، أخرجه ابن شبه في تاريخ المدينة (١٥٧٩)، وابن سعد في الطبقات ٣/ ٣٦٠، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٨٩)، وابن المبارك في الزهد (٢٣٤)، وابن أبي الدنيا في المتمنين (١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37199، ترقيم محمد عوامة 35621)
حدیث نمبر: 37200
٣٧٢٠٠ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن عاصم بن عبيد اللَّه عن (عبد) (١) اللَّه بن عامر (عن ابن عمر) (٢) قال: كان رأس عمر على حجري فقال: ضعه (لا أم لك) (٣)، ثم قال: ويلي ويل أم عمر إن لم يغفر لي ربي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سر مبارک میری گود میں تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیری ماں نہ رہے۔ اس کو (زمین پر) رکھ دو ۔ پھر فرمایا : میری ہلاکت ! اگر میرے رب نے مجھے معاف نہ کیا تو میری ماں کی ہلاکت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37200
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عاصم وابن سعد، وأخرجه الطبراني في الأوسط (٥٧٩)، وبنحوه مسدد كما في المطالب العالية (٣٩٠٣)، وابن شبه في أخبار المدينة (١٥٧٨)، وابن سعد ٣/ ٣٦٠، وابن المبارك في الزهد (٢٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37200، ترقيم محمد عوامة 35622)