کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
حدیث نمبر: 37139
٣٧١٣٩ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: أخبرني معاوية بن صالح قال: حدثني عمرو بن قيس عن عبد اللَّه بن (بسر) (٢) أن أعرابيًا قال لرسول اللَّه ﷺ: أي الناس خير؟ قال: "من طال عمره وحسن عمله" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37139
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٦٨٠)، وعبد بن حميد (٥٠٩)، وابن المبارك في الزهد (٩٣٥)، وابن أبي عصام في الآحاد (١٣٥٦)، والترمذي (٢٣٢٩)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ١١١، والطبراني في الأوسط (٢٢٨٩)، والضياء في المختارة ٩/ (٢٠)، وابن قانع ٢/ ٨١، والبيهقي في الشعب (٥١٥)، وابن عساكر ٢٧/ ١٤١، وأبو القاسم البغوي في الجعديات (٣٥٥٦)، وأبو محمد البغوي في شرح السنة (١٢٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37139، ترقيم محمد عوامة 35561)
حدیث نمبر: 37140
٣٧١٤٠ - حدثنا وكيع عن كثير بن زيد (عن سلمة) (١) بن أبي يزيد عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن من سعادة المرء أن يطول عمره ويرزقه اللَّه الإنابة إليه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا یہ بات آدمی کی خوش بختی کی علامت ہے کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دے دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37140
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37140، ترقيم محمد عوامة 35562)
حدیث نمبر: 37141
٣٧١٤١ - حدثنا جعفر بن عون عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم ⦗٢٩٢⦘ عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خيركم أطولكم أعمارا وأحسنكم أعمالا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور ان کے اعمال اچھے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37141
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، وصرح ابن إسحاق بالتحديث عند ابن حبان، أخرجه أحمد (٧٢١٢)، والبزار (١٩٧١/ كشف)، وابن حبان (٢٩٨١)، والبيهقي ٣/ ٣٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37141، ترقيم محمد عوامة 35563)
حدیث نمبر: 37142
٣٧١٤٢ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى قال: حدثني إبراهيم (١) بن محمد بن طلحة عن عبد اللَّه بن شداد قال: جاء ثلاثة (رهط) (٢) من بني (عذرة) (٣) إلى النبي ﷺ فأسلموا، قال: فقال النبي ﷺ: "من يكفيني هولاء؟ " قال: فقال طلحة: أنا، قال: فكانوا عندي، قال: فضرب على الناس بعث، قال: فخرج أحدهم فاستشهد، ثم ضرب بعث فخرج الثاني فيه فاستشهد، قال: وبقي الثالث حتى مات مريضا على فراشه، قال طلحة: فرأيت في النوم كأني أدخلت الجنة فرأيتهم أعرفهم بأسمائهم وسيماهم، قال: فإذا الذي مات على فراشه دخل أولهم، وإذا الثاني من (المستشهدين) (٤) على أثره، وإذا أولهم آخرهم، قال: فدخلني (من) (٥) ذلك، قال: فأتيت النبي ﷺ فذكرت ذلك له، فقال النبي ﷺ: " (ليس أحد عند اللَّه أفضل) (٦) من معمر يعمر في الإسلام لتهليله وتكبيره وتسبيحه وتحميده" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن شداد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عذرہ کے تین لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لے آئے۔ راوی کہتے ہیں آپ نے پوچھا : ” ان لوگوں کو میری طرف سے کون کفایت کرے گا ؟ “ راوی کہتے ہیں حضرت طلحہ نے کہا میں۔ طلحہ کہتے ہیں پس وہ میرے پاس ہی تھے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایک سفر میں جانا پڑا۔ راوی کہتے ہیں پس ان میں سے ایک باہر سفر میں گیا اور شہید ہوگیا۔ پھر ایک اور سفر درپیش ہوا تو دوسرا آدمی اس میں شامل ہوا اور وہ بھی شہید ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں تیسرا آدمی رہ گیا یہاں تک کہ وہ اپنے بستر پر ہی بیمار ہو کر مرگیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پس میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوگیا ہوں۔ میں ان لوگوں کو ان کے ناموں اور نشانوں سے پہچانتا تھا۔ کہتے ہیں کہ پس جو آدمی ان میں سے اپنے بستر پر مرا تھا وہ ان دونوں سے پہلے جنت میں داخل ہوا۔ اور دوسرا شہید ہونے والا اس کے بعد آیا۔ اور ان میں سے پہلا شہید ہونے والا، سب سے آخر میں آیا۔ راوی کہتے ہیں یہ دیکھ کر میرے دل میں کچھ خیال سا آیا۔ کہتے ہیں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے ہاں اس معمر آدمی سے زیادہ کسی کو فضیلت نہیں ہے جو اسلام میں عمر گزار کر گیا ہو۔ کیونکہ اس نے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ پڑھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37142
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ اضطرب طلحة فيه فرواه على أوجه مختلفة، أخرجه أحمد (١٤٠١)، والنسائي (١٠٦٧٤)، وعبد بن حميد (١٠٤)، والبزار (٩٥٤)، وأبو يعلى (٦٣٤)، والضياء في المختارة ٣/ (٨٣٠)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ٢٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37142، ترقيم محمد عوامة 35564)
حدیث نمبر: 37143
٣٧١٤٣ - حدثنا الفضل بن دكين (عن زهير) (١) عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: أي الناس أفضل؟ قال: "من طال عمره وحسن عمله"، قال: (فأي) (٢) الناس شر؟ قال: "من طال عمره وساء عمله" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : لوگوں میں سے کون سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو۔ سائل نے پوچھا : لوگوں میں سے سب سے برا کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے عمل برے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37143
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (٢٠٤٩٢)، والترمذي (٢٣٣٠)، والبزار (٣٦٢٣)، والحاكم ١/ ٣٣٩، والطيالسي (٨٦٤)، والدارمي (٢٧٤٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٢٠٨)، والبيهقي ٣/ ٣٧١، والطبراني في الصغير (٨١٨)، والأوسط (٥٤٤٩)، والبزار (٣٦٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37143، ترقيم محمد عوامة 35565)
حدیث نمبر: 37144
٣٧١٤٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عمرو بن ميمون عن عبد اللَّه بن ربيعة عن عبيد بن خالد السلمي قال: (آخى) (١) رسول اللَّه ﷺ بين رجلين، فقتل أحدهما ومات الآخر بعده، فصلينا عليه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما (قلتم) (٢)؟ " قالوا: دعونا اللَّه له: اللهم ألحقه بصاحبه، قال رسول اللَّه ﷺ: "فأين صلاته بعد (صلاته) (٣) وصيامه بعد (صيامه) (٤) وأين عمله بعد عمله؟ - (٥) شك في الصوم- والعمل الذي بينهما كما بين السماء والأرض" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن خالد سلمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ پھر ان میں سے ایک (راہ خدا میں) قتل ہوا اور دوسرا اس کے بعد مرا۔ پھر ہم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے کیا کہا ہے ؟ “ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے کہا : ہم نے اس کے لیے دعا کی ہے کہ اے اللہ ! اس کو اس کے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر اس کے (پہلے کے) بعد اس کی نمازیں کہاں جائیں گی ؟ اور اس کے روزوں کے بعد اس کے روزے کہاں جائیں گے۔ اور اس کے عمل کے بعد اس کا عمل کہاں جائے گا ؟ “ راوی کو روزے کے بارے میں شک ہے۔ ” ان دونوں کے درمیان جو عمل ہے وہ زمین و آسمان کے درمیان کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37144
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عبد اللَّه بن ربيعة ثقة، أخرجه أحمد (١٧٩٢١)، وأبو داود (٢٥٢٤)، والطيالسي (١١٩١)، والنسائي ٤/ ٧٤، والبيهقي ٣/ ٣٧١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٣٩٥)، وابن المبارك في الزهد (١٣٤١)، وابن جرير في مسند ابن عوف من تهذيب الآثار (٦٨٠)، والطبراني في الأوسط (٤٣٥٨)، والبيهقي في الزهد (٦٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37144، ترقيم محمد عوامة 35566)
حدیث نمبر: 37145
٣٧١٤٥ - حدثنا بن علية عن أيوب عن عكرمة قال: قال العباس: لأعلمن ما (بقاء) (١) رسول اللَّه ﷺ فينا فقلت يا رسول اللَّه لو اتخذت عريشًا؟ فكلمت الناس فإنهم قد آذوك، قال: "لا أزال بين أظهرهم يطؤون عقبي، وينازعوني ردائي ويصيبني غبارهم، حتى يكون اللَّه يريحني منهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں ضرور بالضرور بتاؤں گا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے درمیان رہنا کیسا تھا ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ شامیانہ بنالیں پھر لوگوں سے با تیں کریں۔ کیونکہ لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں مسلسل ان کے درمیان ہی رہوں گا۔ یہ لوگ میری ایڑیاں روندتے رہیں گے اور میری چادر کے اندر میرے ساتھ جھگڑتے رہیں گے۔ اور مجھے ان کی گرد لگتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان سے آرام دے دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه الدارمي (٧٥)، وأخرجه البزار (١٢٩٣) من حديث عكرمة عن ابن عباس.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37145، ترقيم محمد عوامة 35567)
حدیث نمبر: 37146
٣٧١٤٦ - حدثنا يحيى بن (أبي) (١) بكير قال: أخبرنا (مستلم) (٢) بن (سعيد) (٣) الواسطي عن منصور بن زاذان عن الحسن قال: كان رسول اللَّه ﷺ (يؤاسي) (٤) الناس بنفسه حتى جعل يرفع إزاره بالأدم، وما جمع بين عشاء وغداء ثلاثة أيام، ولا، حتى قبضه اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اپنی ذات کے ذریعہ تسلی دیتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ازار کو چمڑے کے ذریعہ پیوند لگاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک کبھی تین دن مسلسل صبح وشام کا کھانا اکٹھا نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37146
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37146، ترقيم محمد عوامة 35568)
حدیث نمبر: 37147
٣٧١٤٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: قلت: يا رسول اللَّه هذا ديننا؟ قال: "هذا دينكم وأينما (تحسن) (١) (يكفك) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بہز بن حکیم، اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہمارا دین ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہارا دین ہے۔ جس طرح بھی اس کو خوب صورت کرو تمہیں کفایت کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37147
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وحكيم صدوقان، والحديث أخرجه أحمد (٢٠٠٣٧)، وعبد الرزاق (٢٠١١٥)، والطبراني ١٩/ (١٠٣٣)، والمروزي في زياداته على زهد على زهد ابن المبارك (٩٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37147، ترقيم محمد عوامة 35569)
حدیث نمبر: 37148
٣٧١٤٨ - حدثنا يحيى بن (أبي) (١) بكير قال: حدثنا زهير بن محمد عن خالد بن سعيد عن المطلب بن حنطب أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من قال: قبح اللَّه (الدنيا) (٢)، قالت الدنيا: قبح اللَّه أعصانا له" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطلب بن حنطب سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو آدمی یہ کہے اللہ تعالیٰ دنیا کو برا کرے، تو دنیا کہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو برا کرے جو اللہ کا نافرمان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37148
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ المطلب تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37148، ترقيم محمد عوامة 35570)
حدیث نمبر: 37149
٣٧١٤٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن (نسطاس) (١) عن سعيد المقبري أن النبي ﷺ قال: "خير الناس من يرجى خيره ويؤمن شره، وشر الناس من لا يرجى خيره ولا يؤمن شره" (٢). (زهد الصحابة ﵃ (٣)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید المقبری سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سے بہترین آدمی وہ ہے جس کے خیر کی امید کی جائے اور اس کے شر سے امن ہو اور لوگوں میں سے بدترین آدمی وہ ہے جس کے خیر کی امید نہ ہو اور شر سے امن نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37149
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37149، ترقيم محمد عوامة 35571)