کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
حدیث نمبر: 37099
٣٧٠٩٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة عن محمد بن عبد الرحمن بن (سعد) (١) بن زرارة أن ابن كعب بن مالك حدثه عن (أبيه عن) (٢) النبي ﷺ قال: "ما ذئبان جائعان أرسلا في غنم، بافسد لها من حرص المرء (على المال) (٣) والشرف لدينه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن مالک کے بیٹے، اپنے والد کے واسطہ سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو بھوکے بھیڑیے جن کو بکریوں میں چھوڑ اگیا وہ بکریوں میں اس قدر فساد نہیں کرتے جس قدر آدمی کا مال وجاہ پر حریص ہونا اس کے دین کو خراب کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37099
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٧٨٤)، والترمذي (٢٣٧٦)، وابن حبان (٣٢٢٨)، والطبراني في الكبير ١٩/ (١٨٩)، والدارمي ٢/ ٣٠٤، والبيهقي في الآداب (٩٧٤)، والبغوي (٤٠٥٤)، وابن المبارك في الزهد (١٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37099، ترقيم محمد عوامة 35521)
حدیث نمبر: 37100
٣٧١٠٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن عجلان عن عياض بن عبد اللَّه عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ وهو على المنبر: "إن أخوف ما أخاف عليكم ما يخرج اللَّه من نبات الأرض أو زهرة الدنيا"، فقام رجل فقال: يا رسول اللَّه (١) هل يأتي الخير بالشر؟ (فسكت) (٢) حتى ظننا أنه ينزل عليه وغشيه ⦗٢٧٨⦘ (بهر) (٣) وعرق، ثم قال: "أين السائل؟ " ولم يرد إلا خيرًا (٤). فقال: " (إن) (٥) الخير لا يأتي إلا بالخير، ولكن الدنيا خضرة حلوة، كل ما ينبت الربيع (يقتل) (٦) (حَبَطا) (٧) أو يلم، إلا آكلة الخضر، تأكل حتى إذا امتلأت خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت (٨)، ثم بالت، ثم أفاضت (فاجترت) (٩)، من أخذ مالا بحقه بورك فيه، ومن أخذ مالا بغير حقه كان كالذي يأكل و (لا) (١٠) يشبع" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا … جبکہ آپ منبر پر تھے … ” مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ زمین کے نباتات میں یا زندگی کی رنگینی میں نکالیں گے۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر لاتا ہے ؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور کپکپی ظاہر ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے خیر کا ہی ارادہ کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقینا خیر تو خیر ہی لاتی ہے لیکن یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ وہ پودے جو بہار میں اگتے ہیں وہ پیٹ کو خوب بھر لینے والے جانوروں کو یا تو مار ڈالتے ہیں یا مارنے کے قریب کردیتے ہیں، سوائے سبزہ کھانے والے ان جانوروں کے جو پیٹ کے معمولی بھر جانے کے بعد دھوپ میں چلے جاتے ہیں، جگالی کرتے ہیں، غذا کو نرم و ہضم کرتے ہیں، پاخانہ کرتے ہیں اور پھر کھانے کے لیے دوبارہ آجاتے ہیں۔ جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس مال میں برکت دی جاتی ہے اور جو شخص مال کو اس کے حق کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37100
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان صدوق، أخرجه البخاري (٦٤٢٧)، ومسلم (١٠٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37100، ترقيم محمد عوامة 35522)
حدیث نمبر: 37101
٣٧١٠١ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن يحيى بن سعيد عن عمر بن كثير عن عبيد (سنوطا) (١) عن خولة عن النبي ﷺ قال: "إن الدنيا (خضرة حلوة) (٢)، فمن أخذها بحقها بورك له فيها، ورب متخوض في مال اللَّه ومال رسوله له النار يوم القيامة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خولہ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیشک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے غور و خوض کرنے والوں کے لیے بروز قیامت جہنم کی آگ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37101
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبيد سنوطا صدوق، أخرجه أحمد (٢٧٠٥٥)، والترمذي (٢٣٧٤)، وابن حبان (٤٥١٢)، والبخاري في التاريخ ٥/ ٤٥٠، وعبد الرزاق (٦٩٦٢)، وعبد بن حميد (١٥٨٨)، والحميدي (٣٥٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٦٠)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٨٩٠)، والطبراني ٢٤/ (٥٨٢)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٣١١، والبيهقي في الشعب (١٠٣٠٤)، والقضاعي في مسند الشهاب (١١٤٣)، وأصل الحديث عند البخاري في الصحيح برقم (٣١١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37101، ترقيم محمد عوامة 35523)
حدیث نمبر: 37102
٣٧١٠٢ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن الزهري عن عروة وسعيد عن حكيم بن (حزام) (١) قال: سألت النبي ﷺ فأعطاني ثم سألته فأعطاني ثم (سألته فأعطاني) (٢) ثم قال: "إن (هذا) (٣) المال (خضرة حلوة) (٤)، فمن أخذه بطيب نفس بورك له فيه، ومن أخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي يأكل ولا يشبع، واليد العليا خير من اليد السفلى" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن حزام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ نے مجھے عطا کیا۔ میں نے پھر آپ سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھر عطا کیا۔ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھر عطا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جو شخص اس کو طیب نفس کے ساتھ لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے۔ اور جو شخص اس مال کو اشرافِ نفس کی وجہ سے لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔ اور اس شخص کی مثال اس آدمی کی طرح ہوتی ہے جو کھانا کھاتا ہے لیکن شکم سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ، نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37102
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٤١)، ومسلم (١٠٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37102، ترقيم محمد عوامة 35524)
حدیث نمبر: 37103
٣٧١٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن (١) سعد بن إبراهيم عن (معبد) (٢) الجهني عن معاوية قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن هذا المال (حلو خضر) (٣)، ممن أخذه بحقه يبارك له فيه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : ” بیشک یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے۔ پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37103
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معبد صدوق، أخرجه أحمد (١٦٩٠٣)، والطحاوي في شرح المشكل (١٦٨٧)، والقضاعي في مسند الشهاب (٩٥٣)، والطبراني ١٩/ (٨١٥)، والبيهقي في الشعب (٤٨٧٠)، وابن قانع ٣/ ٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37103، ترقيم محمد عوامة 35525)
حدیث نمبر: 37104
٣٧١٠٤ - حدثنا محمد بن فضيل (عن يزيد) (١) (عن زيد) (٢) بن وهب عن أبي ذر قال: قام رجل ورسول اللَّه ﷺ يخطب فقال: يا رسول اللَّه أكلتنا (الضبع) (٣)، ⦗٢٨٠⦘ قال: فدفعه الناس حتى وقع، ثم قام أيضا فنادى بصوته، ثم التفت إليه رسول اللَّه ﷺ فقال: "أخوف عليكم عندي من ذلك أن تصب عليكم الدنيا صبا، فليت أمتي لا تلبس الذهب"، فقلت لزيد: ما (الضبع؟) (٤) قال: (السنة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قحط سالی نے ہمیں کھالیا ہے۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کو بٹھایا اور وہ بیٹھ گیا۔ وہ پھر دوبارہ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی آواز سے ندا لگائی پھر اس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے التفات فرمایا اور ارشاد فرمایا : مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ تم پر دنیا خوب بہا دی جائے، کاش کہ میری امت سونا نہ پہنے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37104
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أحمد (٢١٣٥٣)، والطيالسي (٤٤٧)، والبزار (٣٩٨٤)، والطبراني في الأوسط (٣٩٧٦)، والحارث (٥٨٦/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37104، ترقيم محمد عوامة 35526)
حدیث نمبر: 37105
٣٧١٠٥ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير ووكيع عن الأعمش عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال: انتهيت إلى النبي ﷺ وهو جالس في ظل الكعبة، فلما رآني قال: "هم الأخسرون ورب الكعبة"، فجئت فجلست فلم أتقار (١) أن قمت فقلت: يا رسول اللَّه فداك أبي وأمي من (هم؟) (٢) قال: "هم الأكثرون أموالا إلا من قال بالمال هكذا وهكذا (وهكذا) (٣) من بين يديه ومن خلفه وعن يمينه وعن شماله" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا : ” رب کعبہ کی قسم ! یہ لوگ بہت گھاٹے والے ہیں۔ پس میں آیا اور میں بیٹھ گیا۔ پس ابھی میں جمنے بھی نہ پایا تھا کہ میں کھڑا ہوگیا۔ اور میں نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ لوگ مال کے اعتبار سے کثرت والے ہیں۔ ہاں مگر جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح دے۔ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37105
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٨)، ومسلم (٩٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37105، ترقيم محمد عوامة 35527)
حدیث نمبر: 37106
٣٧١٠٦ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أبشركم يا معشر الفقراء أن فقراء المؤمنين يدخلون الجنة قبل أغنيائهم بنصف يوم خمسمائة عام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے فقیروں کی جماعت ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ “ بیشک مومن فقرائ، مالدار مومنین سے نصف یوم یعنی پانچ سو سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37106
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، وأخرجه ابن ماجه (٤١٢٤)، وعبد بن حميد (٧٩٧)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٤٧٧)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ١٨، والبزار كما في المطالب العالية (٣٢٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37106، ترقيم محمد عوامة 35528)
حدیث نمبر: 37107
٣٧١٠٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن (الجريري) (١) عن أبي نضرة عن عبد اللَّه بن مولة عن بريدة الأسلمي عن النبي ﷺ قال: "يكفي أحدكم من (الدنيا) (٢) خادم ومركب" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ اسلمی، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی ایک کو دنیا میں سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37107، ترقيم محمد عوامة 35529)
حدیث نمبر: 37108
٣٧١٠٨ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا الأوزاعي عن الزهري عن عبيد اللَّه (عن) (١) ابن عباس: أن النبي ﷺ مر بشاة ميتة قد ألقاها أهلها فقال: "لزوال (الدنيا) (٢) أهون على اللَّه من هذه على أهلها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے جس کو اس کے گھر والوں نے پھینک دیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کا زوال، اس سے بھی ہلکا ہے جس قدر کہ یہ بکری اپنے گھر والوں پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37108
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، والخبر أخرجه أحمد (٣٠٤٧)، وأبو يعلى (٢٥٩٣)، وأبو النعيم في الحلية ٢/ ١٨٩، وابن أبي عاصم في الزهد (٦٠)، وابن أبي الدنيا (٣)، والبزار (٢٦٩١/ كشف)، وابن حبان في المجروحين ٢/ ٢٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37108، ترقيم محمد عوامة 35530)
حدیث نمبر: 37109
٣٧١٠٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت ابن أبي ليلى يحدث عن عبد اللَّه بن ربيعة قال: كان رسول اللَّه ﷺ في سفر فإذا هو (بشاة) (١) منبوذة فقال: "أترون هذه هينة على أهلها"، قالوا: نعم، قال: " (الدنيا) (٢) أهون على اللَّه من هذه (على) (٣) أهلها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پھینکی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اس بکری کو اس کے گھر والوں پر ہلکا دیکھ رہے ہو ؟ “ لوگوں نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بکری اپنے گھر والوں کے ہاں جتنی ہلکی ہے، اس سے بھی زیادہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں بےوقعت (اور ہلکی) ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37109
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، عبد اللَّه بن ربيعة ليس من الصحابة، أخرجه أحمد (١٨٩٦٤)، والنسائي ٢/ ١٩، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٥٨، وابن قانع ٢/ ١٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37109، ترقيم محمد عوامة 35531)
حدیث نمبر: 37110
٣٧١١٠ - حدثنا (١) أبو خالد الأحمر عن حجاج عن أبي جعفر عن جابر قال: مر رسول اللَّه ﷺ على شاة ميتة فقال: "لم (ترون) (٢) ألقى هذه أهلها؟ " (فقالوا) (٣): يا رسول اللَّه وهل ينتفعون بها وقد ماتت؟ فقال: "لزوال الدنيا أهون على اللَّه من هذه على أهلها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری پر سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اس بکری کو اس کے گھر والوں نے کیوں پھینک دیا ہے ؟ “ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ لوگ اس سے منتفع ہوتے جبکہ یہ مرچکی ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس قدر یہ بکری، اپنے گھر والوں پر ہلکی (بےقیمت) ہے، دنیا اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہلکی (اور بےقیمت) ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37110
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37110، ترقيم محمد عوامة 35532)
حدیث نمبر: 37111
٣٧١١١ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يدخل فقراء المؤمنين الجنة قبل الأغنياء بنصف يوم: خمسمائة عام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل ایمان فقرائ، اغنیاء سے نصف یوم … یعنی پانچ سو سال … قبل جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37111
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٧٩٤٦)، والترمذي (٢٣٥٣)، وابن ماجه (٤١٢٢)، والنسائي في الكبرى (١١٣٤٨)، وابن حبان (٦٧٦)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٩١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37111، ترقيم محمد عوامة 35533)
حدیث نمبر: 37112
٣٧١١٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة قال: حدثني موسى بن أنس قال: (سمعا) (١) أنسًا يقول: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن انس بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم وہ کچھ جان لو جو کچھ میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37112
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٢١)، ومسلم (٢٣٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37112، ترقيم محمد عوامة 35534)
حدیث نمبر: 37113
٣٧١١٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حاتم بن أبي صَغِيرة عن ابن أبي مليكة عن القاسم قال: قالت عائشة: قلت: يا رسول اللَّه، كيف يحشر الناس يوم القيامة؟ قال: (عراة حفاة) (١)، قلت: والنساء؟ قال: (والنساء)، قلت: يا رسول اللَّه، فما ⦗٢٨٣⦘ (نستحي؟) (٢) قال: "الأمر أشد من أن ينظر بعضهم إلى (بعض) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز لوگوں کو کس طرح اکٹھا کیا جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ننگے جسم اور ننگے پاؤں۔ میں نے عرض کیا : اور عورتیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورتیں بھی۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں (ایک دوسرے سے) حیا نہیں آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ معاملہ اس سے سخت ہوگا کہ بعض، بعض کی طرف دیکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37113
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٦٥٢٧)، ومسلم (٢٨٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37113، ترقيم محمد عوامة 35535)
حدیث نمبر: 37114
٣٧١١٤ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس سمع النبي ﷺ يخطب وهو يقول: "إنكم ملاقو اللَّه (مشاة) (١) حفاة عراة غرلا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” یقینا تم لوگ، اپنے پروردگار سے اس حالت میں ملو گے کہ ننگے جسم، ننگے پاؤں اور غیر مختون ہوگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37114
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢٤)، ومسلم (٢٨٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37114، ترقيم محمد عوامة 35536)
حدیث نمبر: 37115
٣٧١١٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الوليد بن جميع عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أَسِيد قال: قال أبو ذر: أيها الناس، قولوا (ولا تختلفوا) (١) فإن الصادق المصدوق حدثني: "أن الناس يحشرون يوم القيامة على ثلاثة أفواج: فوج (طاعمون كاسون راكبون) (٢)، وفوج (يمشون ويسعون) (٣)، وفوج (تسحبهم) (٤) الملائكة على وجوههم"، قال: قلنا: أما هذان فقد عرفناهما، فما الذي يمشون ويسعون؟ (قال) (٥): "يلقي اللَّه الآفة على الظهر، حتى لا يبقى ظهر، حتى أن الرجل ليعطي (الحديقة) (٦) -المعجبة بالشارف ذات القتب فما يجدها" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! بات کہو اور پھر اس کے خلاف نہ کرو۔ کیونکہ مجھے الصادق المصدوق نے بیان کیا ہے کہ ” یقینا لوگوں کو قیامت کے دن تین گروہوں میں میدانِ محشر میں لایا جائے گا۔ ایک گروہ آسودہ حال کپڑوں میں ملبوس، سواری پر سوار ہوگا اور ایک گرو ہ پیدل چلتا اور دوڑتا ہوگا اور ایک گروہ کو فرشتے ان کے منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا : ان دو گروہوں کو تو ہم پہچانتے ہیں لیکن چلنے اور دوڑنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سواریوں پر موت کی آفت کو نازل کر دے گا۔ یہاں تک کہ ایک گھنے باغ والا شخص اگر اس کو عبور کرنے کے لیے کسی زین والی اونٹنی پر سوار ہوگا تو وہ اونٹنی اسے پار نہ کرسکے گی۔ (محدثین کے بیان کے مطابق اس جملے کا تعلق آخرت کے احوال سے نہیں ہے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37115
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الوليد صدوق، ومن فوقه ثلاثة صحابة، والخبر أخرجه أحمد (٢١٤٥٧)، والنسائي (٢٢١٣)، والحاكم ٤/ ٥٦٤، والبزار ٤/ ٥٦٤، والطبراني في الأوسط (٨٤٣٧)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٨٥، وقد أعله ابن أبي حاتم ٢/ ٢١٦ (٢١٣٧) اعتمادًا على رواية أضعف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37115، ترقيم محمد عوامة 35537)
حدیث نمبر: 37116
٣٧١١٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن المغيرة بن النعمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ بموعظة فقال: " (إنكم) (١) محشورون إلى اللَّه حفاة غرلا ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كنا فَاعِلِينَ﴾ [الأنبياء: ١٠٤]، فأول الخلائق يلقى بثوب إبراهيم خليل الرحمن"، قال: "ثم يؤخذ قوم منكم ذات الشمال فأقول: يا رب أصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، إنهم لم يزالوا مرتدين على أعقابهم، فأقول كما قال العبد الصالح: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا﴾ إلى قوله: ﴿الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة: ١١٧، ١١٨] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ کہنے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا تم لوگ اللہ کی طرف ننگے سر، ننگے پاؤں اور غیر مختون حالت میں جمع کیے جاؤ گے۔ { کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ } مخلوق میں سے سب سے پہلے جس کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ وہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم میں سے بائیں ہاتھ والے لوگوں کو پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا۔ اے پروردگار ! یہ میرے ساتھی ہیں۔ کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا ایجاد کیا۔ یہ لوگ مسلسل اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹتے رہے۔ اس پر میں وہی بات کہوں گا جو عبد صالح … حضرت عیسیٰ علیہ السلام … نے کہی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37116
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢٦)، ومسلم (٢٨٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37116، ترقيم محمد عوامة 35538)
حدیث نمبر: 37117
٣٧١١٧ - حدثنا أحمد بن إسحاق عن وهيب قال: حدثنا عبد اللَّه بن طاوس عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين راهبين، واثنان على بعير، وثلاثة على بعير" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو تین طریقوں سے جمع کیا جائے گا۔ رغبت کرنے والے، خوف کرنے والے اور ایک اونٹ پر دو ، اور ایک اونٹ پر تین۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37117
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢٢)، ومسلم (٢٨٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37117، ترقيم محمد عوامة 35539)
حدیث نمبر: 37118
٣٧١١٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "من حوسب يوم القيامة عذب"، قلت: أليس قال اللَّه: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [الانشقاق: ٨]، قال: "ليس (ذاك) (١) بالحساب، إنما ذاك العرض من نوقش الحساب يوم القيامة عذب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس آدمی سے حساب لیا گیا قیامت کے دن، اس کو عذاب دیا جائے گا۔ میں نے پوچھا کیا یہ ارشاد خداوندی نہیں ہے : { فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا } آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ حساب نہیں ہے یہ تو صرف پیشی ہے جس آدمی سے حساب میں مناقشہ ہوا قیامت کے دن تو اس کو عذاب ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37118
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٣٩)، ومسلم (٢٨٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37118، ترقيم محمد عوامة 35540)
حدیث نمبر: 37119
٣٧١١٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا (حماد) (١) بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن ⦗٢٨٥⦘ أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "يؤتى بأشد الناس (كان) (٢) بلاء في (الدنيا) (٣) من أهل الجنة، فيقول (اللَّه) (٤): اصبغوه صبغة في الجنة، فيصبغ فيها صبغة فيقول اللَّه: يا ابن آدم هل رأيت بؤسا قط، أو شيئا تكرهه؟ فيقول: لا، وعزتك، ما رأيت شيئا أكرهه قط، ثم يؤتى بأنعم الناس في (الدنيا) (٥) من أهل النار فيقول: اصبغوه صبغة (في النار) (٦)، فيصبغ فيها (فيقول) (٧): يا ابن آدم هل رأيت (قط) (٨) قرة عين؟ فيقول: لا، وعزتك ما رأيت خيرًا قط" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت میں سے ایک ایسے آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بہت زیادہ مصیبتوں کا شکار ہوگا۔ تو ارشاد خداوندی ہوگا۔ اس آدمی کو جنت میں ایک غوطہ دو ۔ چناچہ اس آدمی کو جنت میں غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم کے بیٹے ؟ کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف یا ناپسندیدہ چیز دیکھی ہے ؟ وہ جواب دے گا۔ نہیں، آپ کی عزت کی قسم ! میں نے کبھی کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھی۔ پھر اس کے بعد اہل جہنم میں سے اس آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں میں رہا ہوگا۔ ارشاد خداوندی ہوگا۔ اس کو جہنم میں ایک غوطہ دو ۔ چناچہ اس کو جہنم میں غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے : اے آدم کے بیٹے ! تم نے کبھی آنکھوں کی ٹھنڈک دیکھی ہے ؟ وہ جواب دے گا۔ آپ کی عزت کی قسم ! نہیں، میں نے تو کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37119
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ مسلم (٢٨٠٧)، وأحمد (١٣٦٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37119، ترقيم محمد عوامة 35541)
حدیث نمبر: 37120
٣٧١٢٠ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا جعفر بن زياد عن موسى الجهني عن رجل من ثقيف عن أنس قال: كنت أخدم النبي ﷺ فقال لي يوما: "هل عندك شيء تطعمنا"، قلت: نعم يا رسول اللَّه، فضل من الطعام الذي كان أمس قال: "ألم أنهكْ أن تدعَ طعامَ يومٍ لغد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا : ” کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو تم ہمیں کھلاؤ ؟ “ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گزشتہ کل کے کھانے میں سے بچا ہوا موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ آنے والے کل کے لیے آج کا کھانا بچا کر رکھو ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37120
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37120، ترقيم محمد عوامة 35542)
حدیث نمبر: 37121
٣٧١٢١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: ما شبع رسول اللَّه ﷺ ثلاثة أيام تباعا من خبز بر حتى مضى (لسبيله) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک کبھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر گندم کے آٹے کی روٹی نہیں کھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37121
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٥٥)، ومسلم (٢٩٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37121، ترقيم محمد عوامة 35543)
حدیث نمبر: 37122
٣٧١٢٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن القعقاع عن القاسم قال: قالت عائشة: (إن) (١) كنا لنمكث الشهر أو نصف الشهر ما يدخل بيتنا نار لمصباح ولا لغيره، فقلت: (بأي شيء) (٢) كنتم تعيشون؟ قالت: بالأسودين: الماء والتمر، وكان لنا جيران من الأنصار -جزاهم اللَّه خيرًا- لهم منائح فربما بعثوا إلينا من ألبانها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ پورا پورا مہینہ یا آدھا مہینہ اس حال میں ٹھہرے رہتے کہ ہمارے گھر میں کوئی آگ … چراغ کی ہو یا غیر چراغ کی … داخل نہ ہوتی۔ میں نے (قاسم سے) کہا۔ پھر تم لوگ کس چیز کے ذریعہ زندگی گزارتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا دو چیزوں کے ذریعہ۔ یعنی پانی اور کھجور۔ اور کچھ انصار ہمارے پڑوس میں تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ ان کے پاس اونٹنیاں تھیں تو بسا اوقات وہ ان اونٹنیوں کا دودھ ہماری طرف بھیج دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37122
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، وأخرجه البخاري (٢٥٦٧)، ومسلم (٢٩٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37122، ترقيم محمد عوامة 35544)
حدیث نمبر: 37123
٣٧١٢٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن بعض المدنيين عن عطاء بن يسار قال: تعرضت (الدنيا) (١) للنبي ﷺ فقال: "إني لست أريدك"، (قالت) (٢): إن لم تردني (فسيردني) (٣) غيرك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دنیا پیش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تجھے نہیں چاہتا۔ دنیا نے کہا اگر آپ مجھے نہیں چاہتے تو عنقریب مجھے آپ کے علاوہ لوگ چاہیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37123
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ عطاء تابعي، وبعض المدنيين مبهم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37123، ترقيم محمد عوامة 35545)
حدیث نمبر: 37124
٣٧١٢٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن قيس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "فضل (العلم) (١) خير من فضل العبادة، وملاك دينكم الورع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علم کی فضیلت، عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے اور تمہارے دین کا خلاصہ پرہیزگاری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37124
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37124، ترقيم محمد عوامة 35546)
حدیث نمبر: 37125
٣٧١٢٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي الفضل عن الشعبي عن عائشة قالت: قلت: يا رسول اللَّه أتذكرون أهاليكم يوم القيامة؟ فقال: "أما عند ثلاث فلا: عند الكتاب، وعند الميزان، وعند الصراط" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین مقامات پر تو نہیں یاد کروں گا۔ نامہ اعمال کے وقت، میزان کے وقت اور پل صراط پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37125
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37125، ترقيم محمد عوامة 35547)
حدیث نمبر: 37126
٣٧١٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن بهز (بن) (١) حكيم عن أبيه عن جده قال: قلت: يا رسول اللَّه، أين تأمرني؟ قال: "هاهنا -وقال بيده نحو الشام- إنكم (تحشرون) (٢) رجالا وركبانا وتحشرون على وجوهكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کہاں کا حکم دیتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے شام کی طرف اشارہ فرمایا : ” یقینا تم لوگ سوار اور پاپیادہ جمع کیے جاؤ گے اور تم اپنے منہ کے بل جمع کیے جاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37126
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وحكيم صدوقان، أخرجه أحمد (٢٠٠٣١)، والترمذي (٢١٩٢)، والحاكم ٤/ ٦٤، والنسائي في الكبرى (١٤٣١)، والطبراني ١٩/ (٩٧٤)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٢٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37126، ترقيم محمد عوامة 35548)
حدیث نمبر: 37127
٣٧١٢٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن هارون بن أبي وكيع عن أبيه قال: لما نزلت هذه الآية: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ [المائدة: ٣]، قال: يوم الحج الأكبر، قال: فبكى عمر، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "ما يبكيك؟ " قال: يا رسول اللَّه، أبكاني أنا كنا في زيادة من ديننا، (فأما إذ كمل) (١) فإنه لم يكمل (قط شيء) (٢) إلا نقص، قال: "صدقت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہارون بن ابی وکیع، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت { الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ } نازل ہوئی راوی کہتے ہیں یہ حج اکبر کا دن تھا۔ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” تمہیں کس بات پر رونا آرہا ہے ؟ “ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس بات نے رلا دیا ہے کہ ہم پہلے اپنے دین میں زیادتی میں (امیدوار) ہوتے تھے۔ پس جب یہ دین کامل ہوگیا تو بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز کامل ہوتی ہے تو پھر اس میں نقص آنے لگتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سچ کہہ رہے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37127
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو وكيع عنترة بن عبد الرحمن الشيباني تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37127، ترقيم محمد عوامة 35549)
حدیث نمبر: 37128
٣٧١٢٨ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من قطرتين أحب إليّ اللَّه من قطرة (دم) (١) في سبيله، أو من قطرة دموع ⦗٢٨٨⦘ قطرت من عين رجل قائم (في جوف) (٢) الليل من خشية اللَّه، وما من جرعتين أحب إلى اللَّه من جرعة محزنة موجعة ردها صاحبها بحسن صبر وعزاء، أو جرعة غيظ كظم عليها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان دو قطروں سے بڑھ کر کوئی قطرہ اللہ تعالیٰ کو محبوب نہیں ہے۔ ایک خون کا وہ قطرہ جو راہ خدا میں گرے اور ایک وہ قطرہ جو اس آدمی کی آنکھ سے خوف خدا کی وجہ سے ٹپک پڑے جو درمیان شب میں خدا کے حضور کھڑا ہو اور ان دو گھونٹوں سے بڑھ کر کوئی گھونٹ اللہ کو محبوب نہیں ہے۔ ایک تکلیف دہ اور غمناک گھونٹ جس کو آدمی اچھے صبر اور برداشت کے ذریعہ قبول کرے اور دوسرا غصہ کا گھونٹ جس کو آدمی ضبط کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37128
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، الحسن تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٢٨٩)، وابن المبارك في الزهد (٦٧٢)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٣٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37128، ترقيم محمد عوامة 35550)
حدیث نمبر: 37129
٣٧١٢٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن هشام عن الحسن قال: كانت العبادة تأخذ النبي ﷺ (فيخرج) (١) على أصحابه (كأنه) (٢) شن بال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عبادت کا اس قدر غلبہ ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ م کے پاس تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مثل پرانے مشکیزہ کے محسوس ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37129
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37129، ترقيم محمد عوامة 35551)
حدیث نمبر: 37130
٣٧١٣٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مثل المؤمن مثل الزرع (لا تزال) (١) الريح تميله، ولا يزال المؤمن يصيبه بلاء، ومثل الكافر مثل شجرة الأرز لا تهتز حتى (تستحصد) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال، کھیتی کی طرح ہے۔ ہوا اس کو مسلسل ہلاتی رہتی ہے۔ مومن کو بھی مسلسل آزمائشیں پہنچتی رہتی ہیں۔ اور کافر کی مثال، صنوبر کے درخت کی طرح ہے کہ وہ حرکت ہی نہیں کرتا یہاں تک کہ بالکل کاٹ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37130
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٤٣)، ومسلم (٢٨١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37130، ترقيم محمد عوامة 35552)
حدیث نمبر: 37131
٣٧١٣١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير ومحمد بن بشر قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: حدثني (ابن) (٢) كعب (بن مالك) (٣) عن أبيه قال: ⦗٢٨٩⦘ قال رسول اللَّه ﷺ: "مثل المؤمن (كمثل) (٤) الخامة من الزرع (تفيئها) (٥) الريح (تصرعها) (٦) مرة وتعدلها أخرى حتى (تهيج) (٧)، ومثل الكافر كمثل الأرزة (المجذية) (٨) على أصلها، لا (يفيئها) (٩) شيء حتى يكون انجعافها مرة واحدة" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال، کچی کھیتی کی سی ہے کہ ہوائیں اس کو حرکت دیتی ہیں، کبھی اس کو ٹیڑھا کرتی ہیں اور کبھی اس کو سیدھا کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ زرد ہوجاتی ہے اور کافر کی مثال، اس صنوبر کی سی ہے جو زمین میں موجود اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔ کوئی شے اس کو حرکت نہیں دے سکتی یہاں تک کہ وہ ایک ہی مرتبہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37131
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٤٣)، ومسلم (٢٨١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37131، ترقيم محمد عوامة 35553)
حدیث نمبر: 37132
٣٧١٣٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن بريد بن عبد اللَّه عن أبي بردة عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض، بعض کو مضبوط کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37132
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠٢٦)، ومسلم (٢٥٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37132، ترقيم محمد عوامة 35554)
حدیث نمبر: 37133
٣٧١٣٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: مثل المؤمن كمثل (النحلة) (١) تأكل طيبا وتضع طيبا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے جو کھاتی بھی طیب ہے اور نکالتی بھی طیب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37133
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37133، ترقيم محمد عوامة 35555)
حدیث نمبر: 37134
٣٧١٣٤ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المؤمنون كرجل واحد إن اشتكى رأسه تداعى له سائر جسده بالحمى والسهر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمام اہل ایمان کی مثال ایک آدمی کی سی ہے۔ اگر آدمی کا سر شکایت کرتا ہے تو آدمی کا سارا بدن بخار اور شب بیداری میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37134
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠١١)، ومسلم (٢٥٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37134، ترقيم محمد عوامة 35556)
حدیث نمبر: 37135
٣٧١٣٥ - حدثنا علي بن إسحاق عن ابن مبارك عن مصعب بن ثابت قال: حدثني أبو حازم قال: سمعت سهل بن سعد يحدث عن النبي ﷺ قال: "المؤمن من ⦗٢٩٠⦘ أهل الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد، يألم المؤمن لأهل الإيمان كما يألم الجسد لما في الرأس" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن (دیگر) اہل ایمان کے لیے جسم میں بمنزلہ سر کے ہے۔ مومن، اہل ایمان کا دکھ اسی طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سر کا دکھ درد بقیہ جسم محسوس کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37135
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مصعب بن ثابت ضعيف، أخرجه أحمد (٢٢٨٧٧)، وابن المبارك في الزهد (٦٩٣)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٣٦)، والطبراني (٥٧٤٣)، وفي الأوسط (٤٦٩٣)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37135، ترقيم محمد عوامة 35557)
حدیث نمبر: 37136
٣٧١٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن سماك عن (النعمان) (١) بن بشير عن النبي ﷺ قال: " (مثل) (٢) المؤمن كمثل الجسد إذا ألم بعضه تداعى لذلك كله" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مومن کی مثال، جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا بعض حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو بقیہ جسم بھی اس تکلیف میں اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه البخاري (٦٠١١)، ومسلم (٢٥٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37136، ترقيم محمد عوامة 35558)
حدیث نمبر: 37137
٣٧١٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون (عن) (١) محمد بن طلحة عن محمد بن (جحادة) (٢) عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يرفع عبد نفسه إلا وضعه اللَّه ولا يضع عبد نفسه إلا رفعه اللَّه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی آدمی اپنے آپ کو اوپر نہیں اٹھاتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیچا کردیتے ہیں اور کوئی آدمی اپنے آپ کو نیچا نہیں کرتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، الحسن تابعي، أخرجه ابن أبي الدنيا في التواضع والخمول (١٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37137، ترقيم محمد عوامة 35559)
حدیث نمبر: 37138
٣٧١٣٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم عن (عبيدة) (١) عن عبد اللَّه قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "اقرأ علي القرآن"، (قال) (٢): قلت: يا رسول اللَّه أقرأ عليك وعليك أنزل؟ قال: "إني أشتهي أن أسمعه من غيري"، قال: فقرأت ⦗٢٩١⦘ النساء حتى إذا بلغت: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: ٤١]، رفعت رأسي أو غمزني رجل إلى جنبي، فرأيت دموعه تسيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا : ” تم مجھے قرآن سناؤ۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سناؤں ؟ حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی سے قرآن سنوں۔ راوی کہتے ہیں پس میں نے سورة نساء پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ جب میں { فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا } پر پہنچا میں نے اپنا سر اٹھایا … یا مجھے پہلو میں بیٹھے آدمی نے متوجہ کیا … تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37138
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٥٨٢)، ومسلم (٨٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37138، ترقيم محمد عوامة 35560)