کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
حدیث نمبر: 37059
٣٧٠٥٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج (عن أبي) (١) جعفر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أشد الأعمال ثلاثة: ذكر اللَّه على كل حال، والإنصاف من نفسك، والمواساة في المال" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اعمال میں سے شدید اعمال تین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں ذکر کرنا۔ اور اپنے نفس سے انصاف کرنا اور مال میں مؤاسات کرنا۔
حدیث نمبر: 37060
٣٧٠٦٠ - حدثنا حفص عن هشام عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه لا يقبل عمل عبد حتى يرضى عنه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ کسی بندے کا عمل قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ اس سے راضی ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 37061
٣٧٠٦١ - حدثنا أبو أسامة عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: كان النبي ﷺ إذا قرأ: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ﴾ [الأحزاب: ٧] قال: "بدء بي في ⦗٢٦٤⦘ (الخير) (١) وكنت آخرهم في البعث" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب { وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّینَ مِیثَاقَہُمْ وَمِنْک وَمِنْ نُوحٍ } کی تلاوت کرتے تو فرماتے تھے : میرے ذریعہ سے خیر کا آغاز کیا گیا اور بعثت میں میں ان میں سے آخری ہوں۔
حدیث نمبر: 37062
٣٧٠٦٢ - حدثنا يحيى بن يمان عن هشام عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (كلفوا) (١) من الأعمال ما تطيقون فإن أحدكم لا يدري ما مقدار أجله" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اعمال میں اتنی مشقت برداشت کرو جتنی طاقت تم میں ہو، اس لیے کہ تم میں سے کوئی یہ بات نہیں جانتا کہ اس کی اجل کا وقت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 37063
٣٧٠٦٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن مكحول قال: بلغني أن رسول اللَّه ﷺ قال: "ما أخلص عبد أربعين صباحا إلا ظهرت (ينابيع) (١) (الحكمة) (٢) من قلبه على لسانه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو چالیس صبح خالص کردے مگر یہ کہ حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37064
٣٧٠٦٤ - حدثنا محمد بن بشر (قال: حدثنا) (١): محمد بن عمرو قال: حدثنا صفوان بن سليم عن محمود بن لبيد قال: لما نزلت هذه السورة على رسول اللَّه ﷺ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (١) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ حتى بلغ: ﴿لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ (قالوا) (٢): أي رسول اللَّه (٣) عن أي نعيم نسأل (إنما هما الأسودان: الماء والتمر (٤)، ⦗٢٦٥⦘ وسيوفنا على رقابنا والعدو حاضر، فعن أي نعيم نسأل؟) (٥) قال: "إن ذلك سيكون" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ سورة { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۔ تا۔ ثم لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ } نازل ہوئی تو لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا ؟ یہ صرف دو ہی … نعمتیں … ہیں۔ پانی اور کھجور۔ جبکہ ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن حاضر ہے۔ تو پھر کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا ؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حالات عنقریب آجائیں گے۔
حدیث نمبر: 37065
٣٧٠٦٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الإفريقي عن (مسلم) (١) القرشي عن سعيد بن المسيب قال: سمعته يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا أحسن (٢) (العبد) (٣) فألزق اللَّه به البلاء فإن اللَّه يريد أن يصافيه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم قرشی، حضرت سعید بن مسیب کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بندہ اچھا بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ آزمائشوں کو لگا دیتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ وہ اس کو خوب صاف کردیں۔
حدیث نمبر: 37066
٣٧٠٦٦ - حدثنا عبدة عن الإفريقي عن (سعد) (١) بن مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (الفقر) (٢) (أزين) (٣) للمؤمن من عذار حسن على خد الفرس" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن مسعود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البتہ فقر مومن کو اس سے بڑھ کر زینت دیتا ہے جتنا کہ گھوڑے کی رخسار پر خوبصورت لگام۔
حدیث نمبر: 37067
٣٧٠٦٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن الحسن قال: كان النبي ⦗٢٦٦⦘ ﷺ تأخذه العبادة حتى يخرج على الناس كأنه (الشن) (١) البالي (٢)، وكان أصبح الناس، فقيل: (يا) (٣) رسول اللَّه (٤) أليس قد غفر اللَّه لك؟ قال: "أفلا أكون عبدا شكورا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ کی) عبادت اس طرح سے مصروف کرتی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لاتے تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پرانے مشکیزہ کی طرح ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ چناچہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو کیا میں شکر کرنے والا بندہ نہ بنوں۔
حدیث نمبر: 37068
٣٧٠٦٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن بن عجلان عن زيد بن أسلم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما يدخل اللَّه الجنة من يرجوها، وإنما يجنب النار من يخشاها، وإنما يرحم اللَّه من يرحم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جنت میں صرف اس کو داخل کریں گے جو جنت کی امید رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ جہنم سے صرف اس کو بچائیں گے جو اس سے خوف کھاتا ہو اور اللہ تعالیٰ صرف اسی پر رحم کریں گے جو رحم کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 37069
٣٧٠٦٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن عامر قال: (و) (١) ربما قال (٢): قال أصحابنا عن أبي ذر قال: (أوصاني) (٣) خليلي بسبع: حب المساكين، وأن أدنو منهم، وأن أنظر إلى من أسفل مني، ولا أنظر إلى من فوقي، وأن أصل رحمي وإن جفاني، وأن أكثر من لا حول ولا قوة إلا باللَّه، وأن أتكلم بمر الحق لا تأخذني في اللَّه لومة لائم، وأن لا أسأل الناس شيئا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے دوست نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی۔ مساکین سے محبت کرنے اور مجھے ان کے قریب ہونے کی وصیت کی۔ اور یہ بات کہ میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھوں اور یہ کہ میں رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ میرے ساتھ جفا کریں اور یہ کہ میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھوں اور یہ کہ میں کڑوا سچ بھی کہہ دوں اور یہ کہ اللہ کے معاملہ میں مجھے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ ہو اور یہ کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔
حدیث نمبر: 37070
٣٧٠٧٠ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن (الجريري) (١) عن أبي نضرة قال: أكل رسول اللَّه ﷺ وناس من أصحابه أكلة من خبز (شعير) (٢) لم ينخل بلحم، وشربوا من جدول، وقال: (هذه) (٣) أكلة من النعيم تسئلون عنها يوم القيامة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابونضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے ان چھنے جو کی روٹی گوشت کے ساتھ کھائی اور نہر کا پانی پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کھانا بھی نعمتوں میں سے ہے۔ قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔
حدیث نمبر: 37071
٣٧٠٧١ - حدثنا وكيع عن علي بن علي بن رفاعة عن الحسن قال: كان رسول اللَّه ﷺ في مسير له فنزل منزلا (جرزًا) (١) (مجدبا) (٢)، وأمر أصحابه فنزلوا، قال: ثم أمرهم أن يجمعوا، فجعل الرجل يجيء بالصغير إلى الصغير والكبير إلى الكبير والشيء (إلى الشيء) (٣) حتى جمعوا (سوادا) (٤) عظيما فقال رسول اللَّه ﷺ: "هذه مثل أعمالكم يا بني آدم في الخير والشر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا ایک ایسی جگہ پر جو قحط زدہ اور بےآب وگیاہ تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ م کو بھی اترنے کا حکم دیا۔ پس وہ بھی اتر گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمع ہونے کا حکم فرمایا۔ راوی کہتے ہیں پس آدمی نے چھوٹے کو چھوٹے کی طرف اور بڑے کو بڑے کی طرف اور ایک چیز کو دوسری چیز کی طرف لانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ایک بہت بڑا جم غفیر جمع ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بنی آدم ! یہ شر اور خیر میں تمہارے اعمال کی مثال ہے۔
حدیث نمبر: 37072
٣٧٠٧٢ - حدثنا أبو خالد وعيسى بن يونس عن ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال: ذكر النبي ﷺ ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ (لِرَبِّ الْعَالَمِينَ) (١)﴾ [المطففين: ٦]: "يحبسون حتى يبلغ الرشح آذانهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا ذکر فرمایا جب سب لوگ رب العالمین کے پاس کھڑے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان سے حساب لیا جائے گا یہاں تک کہ ان کے کانوں تک پسینہ پہنچ جائے گا۔
حدیث نمبر: 37073
٣٧٠٧٣ - حدثنا وكيع عن عمر بن ذر (قال) (١): قال أبي: قال رسول اللَّه ﷺ: " [إن اللَّه (عند) (٢) لسان كل قائل، فلينظر عبد ماذا يقول" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ہر بولنے والے کی زبان کے پاس اللہ تعالیٰ ہے۔ پس بندہ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کہتا ہے۔
حدیث نمبر: 37074
٣٧٠٧٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن إسماعيل (بن) (١) أبي خالد عن (سعد) (٢) الطائي أنه بلغه أن رسول اللَّه ﷺ قال] (٣): "ما من مؤمن يطعم مؤمنا جائعا إلا (أطعمه) (٤) اللَّه من ثمار الجنة، (و) (٥) ما من مؤمن يسقي مؤمنا على ظمأ إلا سقاه اللَّه من رحيق مختوم، وما من مؤمن يكسو مؤمنا عاريا إلا كساه اللَّه من خضر الجنة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد طائی سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی بندۂ مومن کسی مومن کو کھانا نہیں کھلاتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھلوں میں سے کھلائے گا اور کوئی بھی بندہ مومن کسی مومن کو پیاس کی وجہ سے پانی نہیں پلاتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو خالص شراب پلائیں گے اور کوئی بھی مومن کسی مومن کو جو ننگا ہو کپڑا نہیں پہناتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائیں گے۔
حدیث نمبر: 37075
٣٧٠٧٥ - حدثنا وكيع عن (زياد) (١) بن (أبي) (٢) (مسلم) (٣) عن صالح أبي ⦗٢٦٩⦘ الخليل قال: ما رئي رسول اللَّه ﷺ ضاحكا (أو) (٤) متبسما منذ نزلت: ﴿أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ (٥٩) وَتَضْحَكُونَ﴾ [النجم: ٥٩ - ٦٠] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالخلیل صالح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب سے یہ آیت نازل ہوئی : ” تو کیا تم اسی بات پر حیرت کرتے ہو اور (اس کا مذاق بنا کر) ہنستے ہو “ اس کے بعد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنستے ہوئے یا مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
حدیث نمبر: 37076
٣٧٠٧٦ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن سعيد بن أبي هند عن أبيه عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الفراغ والصحة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں مبتلا ہیں : صحت اور فراغت۔
حدیث نمبر: 37077
٣٧٠٧٧ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (اسألوا) (١) اللَّه علما نافعا، وتعوذوا باللَّه من علم لا ينفع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے علم نافع کا سوال کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس علم سے پناہ مانگو جو نفع نہ دے۔
حدیث نمبر: 37078
٣٧٠٧٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زياد بن فياض عن أبي عبد الرحمن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا آمركم أن (تكونوا) (١) قسيسين (ورهبانا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبد الرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں یہ حکم نہیں دیتا کہ تم علم دوست عالم (محض) اور تارک دنیا درویش بن جاؤ۔
حدیث نمبر: 37079
٣٧٠٧٩ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ⦗٢٧٠⦘ ﷺ: "إن اللَّه لا يقبل عمل عبد حتى يرضى عنه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ بندہ کا عمل قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ اس سے راضی ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 37080
٣٧٠٨٠ - حدثنا بن نمير قال: حدثنا هشام عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "العلم علمان: علم في القلب فذاك العلم النافع، وعلم على اللسان فتلك حجة اللَّه على عباده" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علم، دو طرح کے علم ہیں : ایک علم دل میں ہوتا ہے، یہی علم نافع ہے۔ اور ایک علم زبان پر ہوتا ہے، سو یہ خدا کی اپنے بندوں پر حجت ہے۔
حدیث نمبر: 37081
٣٧٠٨١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن موسى بن مسلم الطحان عن عمرو بن مرة عن أبي جعفر المدائني رفعه قال: يا عجبا كل العجب لمصدق بدار الخلود وهو يسعى لدار الغرور، يا عجبا كل العجب (للمختال) (١) الفخور، وإنما خلق من (نطفة) (٢) ثم يعود جيفة، وهو بين ذلك لا يدري ما يفعل به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر مدائنی سے روایت ہے وہ اس کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہائے تعجب ! پورا تعجب ہے اس آدمی پر جو دارالخلود … جنت … کی تصدیق کرتا ہے لیکن محنت وہ دارالغرور … دنیا … کے لیے کرتا ہے۔ ہائے تعجب ! پورا تعجب ہے اس شخص پر جو فخر وتکبر کرتا ہے جبکہ وہ محض نطفہ کی پیداوار ہے پھر وہ مردار ہوجائے گا۔ اور اس دوران بھی وہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 37082
٣٧٠٨٢ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) أبي سنان عن عبد اللَّه بن الحارث أن النبي ﵊ حج على رحل فاجتنح به، فقال: " (لبيك) (٢) إن العيش عيش الآخرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا سواری پر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دونوں ہاتھوں پر اوندھا ہو کر تکیہ کی طرح سہارا کیا اور ارشاد فرمایا : میں حاضر ہوں یقینا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
حدیث نمبر: 37083
٣٧٠٨٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن رجل من جهينة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خير ما أعطي المؤمن (١) خلق حسن، وشر ما أعطي الرجل (قلب) (٢) سوء في صورة حسنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کو عطا ہونے والی چیزوں میں سے بہترین چیز اچھا اخلاق ہے۔ اور آدمی کو ملنے والی چیزوں میں سے بدترین چیز خوبصورت شکل میں برا دل ہے۔
حدیث نمبر: 37084
٣٧٠٨٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: لما قدم معاذ إلى اليمن خطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه وقال: (أنا) (١) (رسول) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣) (إليكم) (٤) أن تعبدوا اللَّه (لا) (٥) تشركوا به شيئًا، وتقيموا الصلاة، وتؤتوا الزكاة، وإنما هو اللَّه وحده والجنة والنار (٦)، (إقامة) (٧) فلا (ظعن) (٨) وخلود فلا موت (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ یمن کی طرف تشریف لائے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا پس اللہ کی تعریف کی اور ثنا بیان کی اور آپ نے فرمایا : میں تمہاری طرف اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کرو اور تم نماز کو قائم کرو اور تم زکوٰۃ کو ادا کرو۔ اس لیے کہ وہ اللہ اکیلا ہی ہے اور جنت وجہنم ٹھہرنے کی جگہ ہیں پس (وہاں سے) کوچ نہیں کرنا اور ہمیشہ کی جگہ ہے۔ پس (وہاں) موت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 37085
٣٧٠٨٥ - حدثنا حفص بن (غياث) (١) عن الأعمش (عن) (٢) أبي إسحاق ⦗٢٧٢⦘ عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الإسلام بدأ (غريبًا، وسيعود (٣) كما بدأ) (٤)، فطوبى للغرباء قيل ومن الغرباء؟ قال: النزاع من القبائل" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیشک اسلام نے غربت کی حالت میں ظہور و آغاز کیا تھا اور عنقریب یہ اپنے ظہور و آغاز کی حالت کی طرف عود کرے گا۔ پس غرباء کو خوشخبری ہو۔ عرض کیا گیا غرباء کون ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مختلف قبائل سے نکالے ہوئے لوگ۔
حدیث نمبر: 37086
٣٧٠٨٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا عبد الرحمن بن إبراهيم قال: حدثنا العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الدين بدأ غريبا وسيعود كما كان فطوبى للغرباء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک دین کا آغاز غربت کی حالت میں ہوا ہے اور عنقریب یہ پہلی حالت میں عود کر جائے گا۔ پس غرباء کے لیے خوشخبری ہے۔
حدیث نمبر: 37087
٣٧٠٨٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن إبراهيم (بن) (١) المغيرة (أو ابن) (٢) (أبي المغيرة) (٣) (قال) (٤): قال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (وسلم) (٥): "طوبى للغرباء"، قيل: ومن الغرباء؟ قال: "قوم يصلحون حين يفسد الناس" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مغیرہ … یا ابن ابی مغیرہ … سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوشخبری ہو غرباء کے لیے “ پوچھا گیا غرباء کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے فساد کے وقت اصلاح کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 37088
٣٧٠٨٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اسلام کا آغاز غربت کی حالت میں ہوا تھا اور یہ عنقریب اپنے آغاز والی حالت کی طرف عود کرے گا۔ پس غرباء کے لیے خوش خبری ہے۔
حدیث نمبر: 37089
٣٧٠٨٩ - حدثنا بن نمير قال: حدثنا عبيد اللَّه ابن عمر عن نافع (عن) (١) ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "إذا مات أحدكم عرض عليه مقعده بالغداة والعشي، إن كان من أهل الجنة فمن أهل الجنة، وإن كان من أهل النار فمن أهل النار، ويقال (له) (٢)] (٣): هذا مقعدك حتى يبعثك اللَّه يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس پر اس کا ٹھکانہ صبح وشام پیش کیا جاتا ہے۔ اگر یہ شخص اہل جنت میں سے ہے تو جنت سے ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو جہنم سے ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اس کو کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن تجھے اللہ تعالیٰ اٹھائے۔
حدیث نمبر: 37090
٣٧٠٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ (في مرضه) (١) (الذي مات فيه) (٢): "ما فعلت الذهبُ؟ " فقلت: عندي يا رسول اللَّه، قال: "ائتني بها"، فأتيته بها، وهي ما بين الخمسة إلى التسعة فجعلها في كفه، فقال: بها، ثم قال: "ما ظن محمد (٣) بها أن لو لقي اللَّه وهذه عنده، أنفقيها (يا) (٤) عائشة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، یہ ارشاد فرمایا : ” سونے کا کیا ہوا ؟ “ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ پانچ سے نو کے درمیان تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ہتھیلی میں رکھا اور اس کو پلٹا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر یہ سونا محمد ﷺ کے پاس ہوتا اور وہ اللہ سے جا ملتا تو ان کے بارے محمد ﷺ کا خیال کیا ہوتا ؟ اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! تم ان کو خرچ کردو۔
حدیث نمبر: 37091
٣٧٠٩١ - حدثنا حسين بن علي وأبو أسامة عن زائدة عن (عبد) (١) الملك بن عمير عن ريعي عن أم سلمة قالت: دخل (٢) علي رسول اللَّه ﷺ وهو ساهم الوجه، فظننت أن (ذاك) (٣) من تغير، فقلت: يا رسول اللَّه أراك ساهم الوجه، أمن علة؟ قال: "لا، ولكن السبعة الدنانير التي أتينا بها أمس نسيتها في خُصْم الفراش (٤)، فبت ولم أقسمها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر تھا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ (شاید) کسی تبدیلی کی وجہ سے ہے تو میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا متغیر چہرہ دیکھ رہی ہوں۔ کیا یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں۔ لیکن اس کی وجہ وہ سات دنانیر ہیں جو کل ہمارے پاس لائے گئے تھے۔ میں ان کو بستر کے کنارے میں (رکھ کر) بھول گیا تھا۔ پس میں نے ان کو تقسیم کیے بغیر رات گزار دی ہے۔
حدیث نمبر: 37092
٣٧٠٩٢ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه بن الزبير عن (عمر) (١) بن سعيد (بن) (٢) أبي حسين المكي قال: حدثني عبد اللَّه بن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال: انصرف رسول اللَّه ﷺ من صلاة العصر سريعًا، فتعجب الناس من سرعته، فخرج إليهم، (فعرف الذي في وجوههم) (٣) فقال: "ذكرت تبرا في البيت عندنا فخفت أن يبيت عندنا فأمرت بقسمه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) عصر کی نماز سے جلدی فارغ ہو کر مڑے تو لوگ آپ کی جلدی کی وجہ سے بہت متعجب ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں میں تعجب محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اپنے ہاں گھر میں رکھا ہوا ٹکڑا (سونے وغیرہ کا) یاد آگیا تھا۔ تو مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ وہ رات ہمارے ہاں نہ رہ جائے۔ چناچہ میں نے اس کو بانٹنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 37093
٣٧٠٩٣ - حدثنا ابن نمير عن فضيل بن غزوان عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ أتى فاطمة فوجد على بابها سترا، فلم يدخل قال: وقلما كان يدخل إلا (بدأ ⦗٢٧٥⦘ بها) (١)، فجاء عليٌّ فرآها (مهتمة) (٢) فقال: مالك؟ قالت: جاء إلي رسول اللَّه ﷺ فلم يدخل (عليّ) (٣)، فأتاه عليٌّ فقال: (يا رسول اللَّه) (٤) إن فاطمة اشتد عليها أنك جئتها فلم تدخل عليها، فقال: "وما (أنا) (٥) (و) (٦) الدنيا، أو ما أنا والرقم"، قال: فذهب إلى فاطمة (فأخبرها) (٧) بقول رسول اللَّه ﷺ فقالت: قل لرسول اللَّه ﷺ ما (تأمرني) (٨)؟. قال: "قل لها فلترسل به إلى (بني) (٩) فلان" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دروازہ پر پردہ ڈلا ہوا دیکھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف نہیں لائے۔ راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو بہت کم ایسا ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے ہاں پہلے نہ آتے۔ چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (جب گھر) تشریف لائے تو انہوں نے حضرت فاطمہ کو فکر مند اور مغموم دیکھا تو پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لائے لیکن میرے پاس اندر تشریف نہیں لائے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حضرت فاطمہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بہت بھاری گزرا ہے کہ آپ ان کی طرف تشریف لائے اور آپ ان کے پاس اندر داخل نہیں ہوئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اور دنیا کیسے ؟ “ یا فرمایا ” میں اور نقش ونگار کیسے ؟ “ راوی کہتے ہیں پس حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور انہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتادی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔
حدیث نمبر: 37094
٣٧٠٩٤ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن الحسن قال: جاء رسول اللَّه ﷺ إلى بيت (ابنته) (١) فاطمة، فرأى سترا (منشورًا) (٢) فرجع، قال: فأتاه علي فقال: ألم أخبر أنك أتيت ابنتك فلم تدخل، قال: فقال: "أفلم أرها سترت بيتها بنفقة في سبيل اللَّه"، فقيل للحسن: وما كان ذلك الستر؟ قال: قرام أعرابي (ثمنه) (٣) أربعة (الدراهم) (٤)، كانت تنشره في مؤخر البيت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تشریف لائے تو آپ نے پھیلا ہوا ایک پردہ دیکھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ مجھے یہ کیا خبر ملی ہے کہ آپ اپنی بیٹی کے ہاں تشریف لائے لیکن اندر نہیں آئے ؟ راوی کہتے ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے راہ خدا کے خرچہ سے اپنے گھر پر پردہ لٹکایا ہوا تھا ؟ “ حضرت حسن سے پوچھا گیا یہ پردہ کون سا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : دیہاتی پردہ تھا جس کی قیمت چار دراہم کی تھی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کو گھر کے پچھلے حصہ میں پھیلا دیتی تھیں۔
حدیث نمبر: 37095
٣٧٠٩٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن قال: كان ثمن مروط (نساء) (١) النبي ﷺ ستة ونحو ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کے پردوں کی قیمت چھ (درہم) یا اس کے قریب تھی۔
حدیث نمبر: 37096
٣٧٠٩٦ - حدثنا وكيع عن أسامة (بن زيد عن ابن أبي لبيبة) (١) عن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خير الرزق ما يكفي، وخير (الذكر) (٢) الخفي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کرجائے اور بہترین ذکر، ذکر خفی ہے۔
حدیث نمبر: 37097
٣٧٠٩٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن عمارة بن قعقاع عن أبي (زرعة) (١) (٢) عمرو بن (جرير) (٣) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم اجعل رزق آل محمد قوتًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو آل محمد ﷺ کے رزق کو قوت … بقدر ضرورت … بنا دے۔
حدیث نمبر: 37098
٣٧٠٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (شمر) (١) عن مغيرة بن (سعد) (٢) ابن الأخرم (عن أبيه) (٣) عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا"، قال عبد اللَّه: (و) (٤) براذان، ما براذان ⦗٢٧٧⦘ (و) (٥) بالمدينة (ما بالمدينة) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمینیں نہ بناؤ، کہ تم دنیا میں رغبت کرنے لگو۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں راذان، کیا ہے راذان، اور مدینہ، کیا ہے مدینہ۔
…