کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
حدیث نمبر: 37019
٣٧٠١٩ - (حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال) (١): حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن بعض (المدنيين) (٢) عن عطاء بن يسار قال: تعرضت الدنيا للنبي ﷺ فقال: "إني لست (أريدك) (٣) "، قالت: إن لم تردني (فسيريدني) (٤) غيرك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دنیا (کی غیرضروری مادی نعمتیں) پیش ہوئیں تو آپ e نے فرمایا : یقینا مجھے تمہاری کوئی خواہش نہیں ہے۔ تو اس نے کہا : اگر آپ کو میری خواہش نہیں ہے تو عنقریب آپ کے سوا دیگر لوگ میری خوہش کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37019
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ عطاء تابعي وبعض المدنيين مبهم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37019، ترقيم محمد عوامة 35443)
حدیث نمبر: 37020
٣٧٠٢٠ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن عمرو بن مرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما مثلي ومثل الدنيا كمثل (راكب) (١) قال في ظل شجرة في يوم (صائف) (٢) ثم راح وتركها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ کہتے ہیں : رسول اللہ e نے فرمایا : میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سوار سخت گرم دن میں کسی درخت کے نیچے رکے، پھر اسے چھوڑ کر (اپنی اصل منزل کی جانب) چل دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37020
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ سماع وكيع من المسعودي جيد، أخرجه أحمد (٤٢٠٨)، وابن ماجه (٤١٠٩)، وأبو يعلى (٤٩٩٨)، والترمذي (٢٣٧٧)، وأبو نعيم ٢/ ١٠٢، والحاكم ٤/ ٣١٠، والشاشي (٣٤١)، والطبراني (١٠٣٢٧)، والطيالسي (٢٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37020، ترقيم محمد عوامة 35444)
حدیث نمبر: 37021
٣٧٠٢١ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال: أخذ النبي ﷺ بيدي أو ببعض جسدي فقال لي: "يا عبد اللَّه بن عمر كن (في الدنيا) (١) غريبا أو عابر سبيل، وعد نفسك في أهل القبور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاھد سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : حضور اکرم e نے میرا ہاتھ۔ یا مجھے۔ پکڑا اور مجھ سے فرمایا : اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی پردیسی یا راہ رو کی مانند زندگی گزار، اور خود کو اہل قبور میں شمار کر۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں : (یہ روایت بیان کرنے کے بعد) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب صبح ہوجائے تو تم آئندہ شام کے بارے میں مت سوچو اور جب شام ہوجائے تو تم آئندہ صبح کے بارے میں مت سوچو۔ اور اپنی موت (کے آنے) سے پہلے اپنی زندگی سے فائدہ اٹھا لو، اور اپنی بیماری (کے آنے) سے پہلے اپنی صحت سے نفع اٹھا لو، کیونکہ یقینا تم نہیں جانتے کہ کل تمہارا کیا نام ہوگا (زندہ یا مردہ) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37021
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (٥٠٠٢)، والترمذي (٢٣٣٣)، وابن ماجه (٤١١٤)، وأصله عند البخاري (٦٤١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37021، ترقيم محمد عوامة 35445)
حدیث نمبر: 37022
٣٧٠٢٢ - قال (١) مجاهد: وقال لي عبد اللَّه ابن عمر: إذا أصبحت فلا تحدث نفسك بالمساء، وإذا أمسيت فلا تحدث نفسك بالصباح، وخذ من حياتك قبل موتك، ومن صحتك قبل سقمك، فإنك لا تدري ما اسمك غدا (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37022
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37022، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 37023
٣٧٠٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي السفر عن عبد اللَّه بن عمرو قال: مر عليَّ رسول اللَّه ﷺ ونحن نصلح خصا لنا فقال: "ما هذا؟ " قلت: خص (١) لنا وها نصلحه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما أرى الأمر إلا أعجل من ذلك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ e کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے۔ آپ e نے دریافت فرمایا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : ہمارا جھونپڑا ہے جسے ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ تو آپ e نے فرمایا : امر (قیامت یا موت) تو اس (کے صحیح ہونے) سے بھی پہلے آجانے والا ہے (لہذا اس کی تیاری کے لئے اپنے اعمال کی اصلاح اور درستی کی بھی فکر کرنی چاہئے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37023
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٥٠٢)، وأبو داود (٥٢٣٥)، والترمذي (٢٣٣٥)، وابن ماجه (٤١٦٠)، وابن حبان (٢٩٩٦)، والبغوي (٤٠٣٠)، والبخاري في الأدب (٤٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37023، ترقيم محمد عوامة 35446)
حدیث نمبر: 37024
٣٧٠٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: سمعت مُسْتَوْرِدًا (أخا بني) (١) (فهر) (٢) يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "واللَّه ما الدنيا في الآخرة إلا كما يضع أحدكم إصبعه في اليم ثم يرفعها فلينظر بم يرجع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مستورد جو کہ بنی فہر سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ e کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ کی قسم آخرت (کے مقابلے) میں (دنیا کی مثال) ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی کو دریا میں ڈبو کر نکال لے ، پھر دیکھے کہ (اس دریا کے پانی میں سے اس کی انگلی کے ساتھ لگ کر) کتنا نکلا ہے (بس جو حیثیت دریا کے پانی کے مقابلے میں انگلی پر لگے ہوئے پانی کی ہے وہی حیثیت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37024
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٥٨)، وأحمد (١٨٠٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37024، ترقيم محمد عوامة 35447)
حدیث نمبر: 37025
٣٧٠٢٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس عن المستورد عن النبي ﷺ مثله، إلا أنه لم يقل: (ثم) (١) يرفعها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مستور د سے ایک اور روایت بھی اسی طرح کی منقول ہے لیکن اس میں ” نکال لے “ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37025
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37025، ترقيم محمد عوامة 35448)
حدیث نمبر: 37026
٣٧٠٢٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (قالت) (١): كان (أوساد) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣) يتكئ عليه من أدم حشوه ليف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جس تکیہ پر رسول اللہ e ٹیک لگایا کرتے تھے وہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37026
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٥٦)، ومسلم (٢٠٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37026، ترقيم محمد عوامة 35449)
حدیث نمبر: 37027
٣٧٠٢٧ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) يحيى بن جعدة قال: عاد ناس من أصحاب رسول اللَّه ﷺ خبابا فقالوا: أبشر أبا عبد اللَّه، ترد على محمد ﵊ الحوض، فقال: كيف بهذا وهذه أسفل البيت وأعلاه وقد قال لنا رسول اللَّه ﷺ: "إنما يكفي أحدكم من الدنيا كقدر زاد الراكب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ کہتے ہیں : رسول اللہ e کے چند صحابہ کرام حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو ان سے کہا : اے ابو عبداللہ خوشخبری لیجئے کہ آپ (روز قیامت) حضور e کے پاس حوض کوثر پر تشریف لے جائیں گے۔ (یہ سن کر) حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کیسے ہوسکتا ہے ، جب کہ میرے گھر کی یہ شان و شوکت ہے، حالانکہ رسول اللہ e نے ہمیں (آگاہ کرتے ہوئے) فرمایا تھا : تمہارے لئے دنیا میں سے اتنا حصہ کافی ہے جتنا ایک مسافرکا توشہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37027
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحميدي (١٥١)، وأبو يعلى (٧٢١٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٦٠، والطبراني (٣٦٩٥)، والبيهقي في الشعب (١٠٤٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37027، ترقيم محمد عوامة 35450)
حدیث نمبر: 37028
٣٧٠٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (شقيق) (١) قال: دخل معاوية على خاله أبي هاشم بن عتبة يعوده فبكى فقال له معاوية: ما يبكيك يا خالي، أوجع (يشئزك) (٢) (أم) (٣) حرص على الدنيا؟ فقال: كلٌ لا، ولكن النبي ﷺ عهد إلينا (قال) (٤): "يا أبا هاشم، إنها لعلها تدرككم (أموال) (٥) (تؤتاها) (٦) أقوام، ⦗٢٥٢⦘ فإنما يكفيك من جمع المال: خادم ومركب في سبيل اللَّه"، فأراني قد جمعت (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق کہتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہاپنے ماموں ابو ہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو ان کے ماموں رونے لگے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : اے میرے ماموں آپ کیوں رو رہے ہیں، کیا (مرض کی) تکلیف نے آپ کو رنجیدہ کر رکھا ہے یا دنیا سے (طبعی) لگاؤ نے۔ انہوں نے جواب دیا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، بلکہ (مجھے تو اس بات نے رنجیدہ کر رکھا ہے کہ) نبی اکرم e نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا : اے ابو ہاشم ! تمہیں بھی یقینا وہ مال و دولت میسر آئے گا جو دیگر (فاتح) اقوام کو میسر آتا ہے ، مگر تمہارے لئے تو صرف ایک خادم اور راہ خدا میں (جہاد کے لئے) ایک سواری ہی کافی ہوگی۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میں (اس سے کہیں زیادہ) مال جمع کرچکا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37028
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37028، ترقيم محمد عوامة 35451)
حدیث نمبر: 37029
٣٧٠٢٩ - حدثنا حسين بن علي الجعفي عن زائدة عن منصور عن أبي وائل عن سمرة بن سهم قال: دخل معاوية على خاله فذكر مثل حديث أبي معاوية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن سہم کہتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہاپنے ماموں کے ہاں تشریف لے گئے، اس کے بعد راوی نے گزشتہ واقعہ نقل فرمایا اور کہا کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اس روایت میں (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماموں کا یہ قول بھی نقل فرمایا ہے : اے کاش ہمارے چاروں طرف کامل دائمی فقر ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37029
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37029، ترقيم محمد عوامة 35452)
حدیث نمبر: 37030
٣٧٠٣٠ - (وقال) (١): زاد فيه سفيان الثوري بإسناده: يا ليته كان (بعرا) (٢) حولنا (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37030
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37030، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 37031
٣٧٠٣١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن أشياخه قال: دخل سعد بن أبي وقاص على سلمان يعوده فبكى، قال: فقال له سعد: ما يبكيك أبا عبد اللَّه؟ توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنك راض، وتلقاه وترد عليه الحوض، فقال سلمان: أما إني لا أبكي جزعا من الموت، ولا حرصا على الدنيا، ولكن رسول اللَّه ﷺ عهد إلينا فقال: " (لتكن) (١) بلغة أحدكم مثل زاد الراكب"، قال: وحولي هذه ⦗٢٥٣⦘ (الأساود) (٢)، قال: وإنما حوله وسادة وجفنة ومطهرة، فقال سعد: يا أبا عبد اللَّه أعهد إلينا عهدا نأخذ به من بعدك، فقال: يا سعد اذكر اللَّه عند همك إذا هممت، وعند حكمك إذا حكمت، وعند يدك إذا قسمت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفیان اپنے مشایخ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے وہ رونے لگے۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا : آپ کو کس بات نے رلا دیا ؟ حالانکہ رسول اللہ e نے اس حال میں رحلت فرمائی کہ وہ آپ سے راضی تھے، آپ (روز قیامت) ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کریں گے اور حوض کوثر پر بھی ان کے پاس تشریف لے جائیں گے۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا : میں موت سے وحشت یا دنیا سے لگاؤ کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ (مجھے تو یہ بات غمگین کئے ہوئے ہے کہ رسول اللہ e نے ہمیں (یہ) وصیت فرمائی تھی : تمہارے گزر بسر کا انحصار صرف اتنی مقدار پر ہونا چاہئے جتنا ایک سوار (مسافر) کا توشہ ہوتا ہے۔ جب کہ میرے اردگرد یہ تکئے رکھے ہوئے ہیں (جو کہ مسافر کے توشہ سے زائد چیز ہے) ۔ راوی کہتے ہیں : حالانکہ ان کے پاس صرف ایک تکیہ ، ایک بڑا پیالہ اور ایک لوٹا رکھا تھا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو عبداللہ ! آپ بھی ہمیں کوئی وصیت فرمائیں جسے ہم آپ کے بعد اپنائے رکھیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : اے سعد ! (تین موقعوں پر) اللہ تعالیٰ کو (خصوصیت سے) یاد رکھو، (اول) اس وقت جب تمہیں کوئی غم لاحق ہو، (دوسرا) اس وقت جب تم کوئی فیصلہ کرنے لگو، اور (تیسر ١) اس وقت جب تم (شرکاء کے درمیان کوئی ایسی) تقسیم کرنے لگو (جس میں شرعا برابری لازم ہو) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37031
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37031، ترقيم محمد عوامة 35453)
حدیث نمبر: 37032
٣٧٠٣٢ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا معاوية (النصري) (١) عن نهشل عن الضحاك بن مزاحم عن الأسود قال: قال عبد اللَّه: لو أن أهل العلم صانوا علمهم ووضعوه عند أهله لسادوا به أهل زمانهم، ولكنهم بذلوه لأهل الدنيا لينالوا به من دنياهم، فهانوا على أهلها، سمعت نبيكم ﷺ (٢) يقول: "من جعل الهموم هما واحدا كفاه اللَّه هم آخرته، ومن تشعبت به الهموم وأحوال الدنيا لم يبال اللَّه في أي أوديتها وقع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود کہتے ہیں : عبد اللہ نے فرمایا : اگر اہل علم اپنے علم کی حفاظت کریں، اور اس (علم) کو ان ہی لوگوں میں پھیلائیں جو اس کے اہل ہیں، تو وہ اس کے باعث اہل زمانہ پر حکومت کریں۔ لیکن انہوں نے وہ علم اہل دنیا میں لٹا ڈالا تاکہ اس کے ذریعہ ان سے ان کی دنیا (کا مال و دولت اور فوائد) حاصل کریں۔ تو وہ اہل دنیا میں رسوا ہو (کر رہ) گئے۔ میں نے تمہارے نبی e کو (یہ) فرماتے سنا ہے : جس نے اپنی تمام فکروں میں سے ایک (دین کی فکر) کو اختیار کرلیا، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کے معاملہ میں اس کے لئے کافی ہوجائیں گے۔ اور جس شخص کو (دنیاوی) فکروں اور دنیا کے حالات نے (الجھا کر) متفرق (خواہشات اور آرزوؤں میں مبتلا) کر ڈالاتو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ وہ (مصائب و گمراہی کی) کس وادی میں جا پڑے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37032
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ نهشل متروك، أخرجه ابن ماجه (٢٥٧)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد الزهد (١١٩)، وابن أبي عاصم في الزهد (٢٧٤)، وابن أبي حاتم في العلل (١٨٥٩)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ١٠٥، والآجري في الأخلاق (٥٩)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ١/ ١٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37032، ترقيم محمد عوامة 35454)
حدیث نمبر: 37033
٣٧٠٣٣ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي جعفر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الإيمان إذا دخل القلب انفسح له القلب وانشرح وذكر هذه الآية: ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾ [الأنعام: ١٢٥] ". ⦗٢٥٤⦘ (قالوا) (١): يا رسول اللَّه وهل لذلك من آية يعرف (بها؟) (٢) قال: "نعم الإنابة إلى دار الخلود، (والتجافي) (٣) عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل الموت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب ایمان دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کھل جاتا ہے اور اس میں انشراح پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی { فَمَنْ یُرِدِ اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ } لوگوں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس کی کوئی علامت ہے جس کے ذریعے اسے پہچانا جائے ؟ آپ نے فرمایا اس کی علامت آخرت کی طرف رجوع، دھوکے کے گھر سے بیزاری اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37033
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر المدائني عبد اللَّه بن مسور تابعي متروك، وأخرجه ابن أبي حاتم (٧٨٧٢)، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ١/ ٤٥٣، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٣٦٠، وسعيد بن منصور ٢/ ١١، وورد عن عبد اللَّه بن مسور عن أبيه في تاريخ أصبهان ١/ ٤٦٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37033، ترقيم محمد عوامة 35455)
حدیث نمبر: 37034
٣٧٠٣٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن (مسعود) (١) قال: تلا رسول اللَّه ﷺ: ﴿(فَمَنْ) (٢) يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾، فقالوا: يا رسول اللَّه وما هذا الشرح؟ قال: "نور يقذف به في القلب فينفسح له القلب"، قال: فقيل: فهل لذلك من أمارة يعرف بها؟ قال: "نعم"، (قيل: وما هي؟) (٣) قال: "الإنابة إلى دار الخلود، والتجافي عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل لقاء الموت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسور فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی { فمَنْ یُرِدِ اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ } لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ شرح کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک نور ہے جب یہ دل میں آتا ہے تو دل کھل جاتا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس کی کوئی علامت ہے جس کے ذریعے اسے پہچانا جائے ؟ آپ نے فرمایا اس کی علامت آخرت کی طرف توجہ، دھوکے کے گھر سے بیزاری اور مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37034
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37034، ترقيم محمد عوامة 35456)
حدیث نمبر: 37035
٣٧٠٣٥ - حدثنا أبو معاوية ويعلى عن الأعمش (عن) (١) زيد بن وهب عن أبي ذر قال: قال (لي) (٢) النبي ﷺ: "انظر يا أبا ذر أرفع رجل تراه في المسجد"، قال: فنظرت فإذا برجل عليه حلة فقلت: هذا، قال: فقال: "انظر أوضع رجل تراه في المسجد"، قال: فنظرت فإذا (رجل) (٣) عليه أخلاق، فقلت: هذا، فقال: هذا خير من ملأ الأرض من هذا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ دیکھ تمہیں مسجد میں سب سے زیادہ عالی شان شخص کون نظر آرہا ہے ؟ میں نے غور کیا تو مسجد میں ایک آدمی ایسا تھا جس کے بدن پر عمدہ لباس تھا۔ میں نے کہا یہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مسجد میں سب سے زیادہ کم تر شخص کون سا ہے ؟ میں نے غور کیا تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے جس کے جسم پر بوسیدہ لباس ہے میں نے عرض کیا کہ یہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر پہلے جیسوں سے ساری زمین بھی بھر جائے تو یہ دوسرا ان سب سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37035
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٣٩٦)، وهناد في الزهد (٨١٥)، والبزار (٣٩٧٩)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١١٥، وانظر ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37035، ترقيم محمد عوامة 35457)
حدیث نمبر: 37036
٣٧٠٣٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة عن أبي ذر عن النبي ﷺ بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور راوی سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37036
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ ولا يبعد من مثل الأعمش أن يروي الحديث من طريقين، أخرجه أحمد (٢١٣٩٥)، ووكيع في الزهد (١٤٤)، وابن حبان (٦٨١)، والبزار (٤٠١٨)، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37036، ترقيم محمد عوامة 35458)
حدیث نمبر: 37037
٣٧٠٣٧ - حدثنا أبو معاوية عن (سليمان) (١) بن فروخ عن الضحاك بن مزاحم قال: أتى النبي ﷺ (رجل) (٢) (فقال) (٣): يا رسول اللَّه من أزهد الناس في الدنيا؟ فقال: "من لم ينس المقابر والبلى، وترك أفضل زينة الدنيا، وآثر ما يبقى على ما يفنى، ولم يعد غدا من أيامه، وعد نفسه من الموتى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دنیا کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے بڑا زاہد کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قبروں اور بوسیدہ ہونے کو نہ بھولے۔ اور دنیا کی زینت میں سے افضل کو چھوڑ دے، اور باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دے اور کل کے دن کو اپنے ایام (حیوۃ) میں سے شمار نہ کرے اور اپنے کو مردوں میں شمار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37037
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ الضحاك تابعي، وسليمان مجهول، أخرجه البيهقي في الشعب (١٠٥٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37037، ترقيم محمد عوامة 35459)
حدیث نمبر: 37038
٣٧٠٣٨ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن زياد بن جراح عن عمرو بن ميمون أن النبي ﷺ قال لرجل: "اغتنم خمسا قبل خمس: حياتك قبل موتك، ⦗٢٥٦⦘ وفراغك قبل شغلك، وغناك قبل فقرك، وشبابك قبل هرمك، وصحتك قبل سقمك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا : ” تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو : اپنی زندگی کو موت سے پہلے، اور اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے، اپنی تونگری کو اپنے فقر سے پہلے، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے اور اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے۔ (غنیمت جانو)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37038
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمرو بن ميمون تابعي، أخرجه وكيع في الزهد (٧)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٤٨، والبغوي في التفسير ٣/ ٤٥٥، وابن المبارك في الزهد (٢)، والبيهقي في الشعب (١٠٢٥٠)، والبغوي في مسند الشهاب (٧٢٩)، والمزي ٩/ ٤٤٣، وابن عساكر ١٤/ ٢٩٧، والخطيب في الفقيه المتفقه ٢/ ١٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37038، ترقيم محمد عوامة 35460)
حدیث نمبر: 37039
٣٧٠٣٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن (أبان) (١) بن إسحاق عن الصباح بن محمد الأحمسي عن مرة الهمداني عن عبد اللَّه بن مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "استحيوا من اللَّه حق الحياء"، قال: قلنا: إنا لنستحي (٢) يا رسول اللَّه (ﷺ؟) (٣) قال: "ليس ذلك، ولكن من استحيا من اللَّه حق الحياء فليحفظ الرأس وما حوى، وليحفظ (البطن وما وعى) (٤)، وليذكر الموت والبلى، ومن أراد الآخرة ترك زينة الدنيا، فمن فعل ذلك فقد استحيا من اللَّه حق الحياء" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسی حیا کرو جیسا کہ حیا کا حق ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم تو حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ حیا نہیں بلکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیا کرے جیسا کہ حیا کا حق ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سر اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ پیٹ اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ وہ موت اور بوسیدہ ہونے کو یاد کرے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص یہ کام کرلے تو پس تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے میں حق ادا کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37039
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ الصباح ضعيف، أخرجه أحمد (٣٦٧١)، والترمذي (٢٤٥٨)، والحاكم ٤/ ٤٢٣، وأبو يعلى (٥٠٤٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٧٣٠)، والطبراني (١٠٢٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٠٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37039، ترقيم محمد عوامة 35461)
حدیث نمبر: 37040
٣٧٠٤٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ كانت له ناقة يقال لها (العضباء) (١) لا (تسبق) (٢)، فجاء أعرابي على قعود فسبقها فشق ⦗٢٥٧⦘ على المسلمين فقالوا: يا رسول اللَّه سُبقت (العضباء) (٣)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنه حق (أن) (٤) لا يرتفع منها شيء إلا وضعه"، -يعني الدنيا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اونٹنی تھی جس کو عضباء کہا جاتا تھا۔ اس اونٹنی سے آگے نہیں گزرا جاسکتا تھا۔ پس ایک اعرابی ایک جوان اونٹ پر بیٹھ کر آیا اور اس اونٹنی سے آگے نکل گیا۔ تو یہ بات مسلمانوں کو بہت شاق گزری۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عضباء پر سبقت کردی گئی ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیشک یہ بات اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ اس دنیا سے جو چیز بھی بلندی حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیچا (بھی) کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37040
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٢٨٧١)، وأحمد (١٢٠١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37040، ترقيم محمد عوامة 35462)
حدیث نمبر: 37041
٣٧٠٤١ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك (عن) (١) النعمان بن بشير قال: (سمعته) (٢) يقول: ألستم في طعام وشراب ما شئتم، لقد (رأيت) (٣) نبيكم ﷺ (٤) (وما) (٥) يجد من الدقل (٦) ما يملأ به بطنه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو یہ کہتے سنا : کیا تم اپنی چاہت والے کھانے اور مشروبات میں نہیں ہو ؟ جبکہ میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ ان کے پاس گھٹیا اور خشک کھجوریں بھی اتنی مقدار میں موجود نہیں تھیں کہ جس کے ذریعہ سے وہ اپنا پیٹ بھر لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37041
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (٢٩٧٧)، وأحمد (١٨٣٠٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37041، ترقيم محمد عوامة 35463)
حدیث نمبر: 37042
٣٧٠٤٢ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن أبي (بردة) (١) قال: دخلت على عائشة فأخرجت لي إزارا غليظا من الذي يصنع باليمن وكساء من هذه الأكسية التي تدعونها (الملبدة) (٢) فأقسمت لي: لقبض رسول اللَّه ﷺ (فيهما) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے ایک موٹا ازار نکال کر دکھایا۔ یہ ازار ان کپڑوں سے بنا ہوا تھا جو یمن میں بنائے جاتے ہیں۔ اُن چادروں میں سے ایک چادر نکالی جس کو تم پیوند لگی چادر کہتے ہو۔ پھر مجھے قسم کھا کر کہا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک انہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37042
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٨١٨)، ومسلم (٢٠٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37042، ترقيم محمد عوامة 35464)
حدیث نمبر: 37043
٣٧٠٤٣ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس عن محمد بن (عمارة) (٢) عن عبد اللَّه ابن عبد الرحمن (بن) (٣) معمر عن رجل من بني سالم أو (فهم) (٤) أن النبي ﷺ أتي بهدية، فنظر فلم يجد شيئا يجعلها فيه، فقال: "ضعه بالحضيض، فإنما هو عبد يأكل كما يأكل العبد، ويشرب كما يشرب العبد، ولو كانت الدنيا تزن عند اللَّه جناح بعوضة ما (سقى) (٥) (منها) (٦) كافرا شربة ماء" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ بنو سالم … یا فہم … کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ہدیہ لایا گیا۔ پس آپ نے (اردگرد) دیکھا تو آپ کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس میں آپ اس کو رکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو زمین پر (ہی) رکھ دو ۔ سو یہ بھی ایک بندہ ہے جو اور بندوں کی طرح کھاتا ہے۔ اور اسی طرح پیتا ہے جس طرح اور بندے پیتے ہیں۔ اور اگر دنیا کا وزن اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے بقدر بھی ہوتا تو کوئی کافر دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پی سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37043
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن معمر لا يروي عن أحد من الصحابة، وقد أخرجه المصنف في المسند (٩٦٣)، كما في المطالب (٣٨٣١)، وأخرجه من غير ذكر الرجل المبهم: ابن أبي الدنيا في ذم الدنيا (٣٦٥)، والبيهقي في الشعب (١٠٤٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37043، ترقيم محمد عوامة 35465)
حدیث نمبر: 37044
٣٧٠٤٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (محمد بن عمرو قال: حدثنا أبو سلمة) (١) قال: قال معاذ بن جبل: أي رسول اللَّه أوصني، قال: "اعبد اللَّه كأنك تراه، واعدد نفسك من الموتى، واذكر اللَّه عند كل حجر وشجر، وإذا عملت السيئة فاعمل بجنبها حسنة، السر بالسر والعلانية بالعلانية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے کوئی وصیت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کی عبادت یوں کرو کہ گویا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اور تم اپنے نفس کو مردوں میں شمار کرو۔ اور اللہ کا ذکر ہر درخت اور پتھر کے پاس کرو، اور جب تم کوئی گناہ کر بیٹھو تو اس کے پیچھے ہی کوئی نیکی کرلو۔ پوشیدہ کے بدلہ پوشیدہ اور اعلانیہ کے بدلہ اعلانیہ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37044
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37044، ترقيم محمد عوامة 35466)
حدیث نمبر: 37045
٣٧٠٤٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو قال: حدثنا أبو سلمة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "أكثروا ذكر هاذم (١) اللذات" -يعني الموت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” تم لذتوں کو توڑنے والی چیز … یعنی موت … کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37045
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو سلمة تابعي، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37045، ترقيم محمد عوامة 35467)
حدیث نمبر: 37046
٣٧٠٤٦ - [حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن إبراهيم قال: حدثنا محمد ابن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أكثروا ذكر هاذم اللذات" -يعني الموت] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لذتوں کو توڑنے والی چیز … یعنی موت … کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37046
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، ومحمد بن إبراهيم والد المؤلف ثقة، وقد روى عنه بواسطة مما يدلك على ثقة المؤلف واحتياطه، والخبر أخرجه أحمد (٧٩٢٥)، والنسائي ٤/ ٤ (١٩٥٠)، والترمذي (٢٣٠٧)، وابن ماجه (٤٢٥٨)، وابن حبان (٢٩٩٢)، والحاكم ٤/ ٣٢١، ونعيم بن حماد في زوائد الزهد (١٤٦)، والطبراني في الأوسط (٨٥٦٠)، والخطيب ١/ ٣٨٤، والقضاعي في مسند الشهاب (٦٦٩)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٥٩)، وابن النجار في تكملة تاريخ بغداد ١٦/ ٢٨٣، وابن الجوزي في العلل (١٤٧٩)، وابن عدي ٥/ ٢٢٢، والمزي ٢٤/ ٣٢٠، والقزويني في التدوين ٢/ ٢٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37046، ترقيم محمد عوامة 35468)
حدیث نمبر: 37047
٣٧٠٤٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن علقمة بن مرثد عن ابن (سابط) (١) قال: ذكر رجل عند النبي ح فأحسن عليه الثناء، فقال النبي ﷺ: "كيف ذكره للموت؟ " فلم يذكر ذلك، (فقال) (٢): "ما هو كما تذكرون" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر ہوا اور اس کی اچھی تعریف کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اس کا موت کو یاد کرنے کا رویہ کیسا ہے ؟ “ تو یہ بات ان کے حوالہ سے ذکر نہیں کی گئی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ایسا نہیں ہے جیسا تم نے ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37047
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن سابط تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37047، ترقيم محمد عوامة 35469)
حدیث نمبر: 37048
٣٧٠٤٨ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن أبي جعفر الرازي عن الربيع قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كفى بالموت مزهدا في الدنيا ومرغبا في الآخرة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دنیا سے بےرغبتی دلانے اور آخرت کا شوق دلانے کے لیے موت ہی کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37048
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الربيع بن أنس تابعي، وأخرجه البيهقي في الشعب (١٠٥٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37048، ترقيم محمد عوامة 35470)
حدیث نمبر: 37049
٣٧٠٤٩ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن عن النبي ﷺ قال: " (لو شاء اللَّه لجعلكم أغنياء كلكم لا فقير فيكم، و) (١) لو شاء (اللَّه) (٢) لجعلكم فقراء ⦗٢٦٠⦘ كلكم لا غني فيكم، ولكن ابتلى بعضكم ببعض" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب لوگوں کو غنی بنا دیتا کہ تم میں کوئی فقیر نہ ہوتا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب لوگوں کو فقیر بنا دیتا کہ تم میں کوئی غنی نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37049
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37049، ترقيم محمد عوامة 35471)
حدیث نمبر: 37050
٣٧٠٥٠ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا أبو رجاء عن محمد بن مالك عن البراء قال: كنا مع النبي ﷺ في جنازة، فلما انتهى إلى القبر جثى النبي ﷺ على القبر، قال: فاستدرت فاستقبلته قال: فبكى حتى بل (الثرى) (١)، ثم قال: "إخواني لمثل هذا فليعمل العاملون فأعدوا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر دو زانو بیٹھ گئے۔ … راوی کہتے ہیں … میں بھی مڑ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کرلیا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے یہاں تک کہ زمین تر ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بھائیو ! اس کے مثل عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ پس تم تیاری کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37050
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف محمد بن مالك، أخرجه أحمد (١٨٦٠١)، وابن ماجه (٤١٩٥)، والبخاري في التاريخ ١/ ٢٢٩، والطبراني في الأوسط (٢٦٠٩)، والبيهقي ٣/ ٣٦٩، والخطيب في التاريخ ١٤٠/ ١، والقزويني في التدوين ١/ ١٨٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37050، ترقيم محمد عوامة 35472)
حدیث نمبر: 37051
٣٧٠٥١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الملك ابن عمير قال: (أخبرت) (١) أن (ابن) (٢) مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيها الناس، إنه ليس من شيء يقربكم من الجنة ويبعدكم من النار إلا قد أمرتكم به، وليس شيء يقربكم من النار ويبعدكم من الجنة إلا قد نهيتكم عنه، وإن الروح (الأمين) (٣) نفث في روعي أنه ليس من نفس تموت حتى (تستوفي) (٤) رزقها، فاتقوا اللَّه وأجملوا في الطلب، ولا يحملكم استبطاء الرزق على أن تطلبوه بمعاصي اللَّه، فإنه لا ينال (ما عند اللَّه) (٥) إلا بطاعته" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” اے لوگو ! کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں جنت سے قریب کرے اور جہنم سے تمہیں دور کرے مگر یہ کہ میں نے تمہیں اس چیز کا حکم دے دیا ہے۔ اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں جہنم سے قریب کرے اور جنت سے دور کرے مگر یہ کہ میں نے تمہیں اس چیز سے منع کردیا ہے۔ اور روح الامین نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی جان ایسی نہیں ہے جو اپنا رزق پورا کرنے سے پہلے موت کا شکار ہوجائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور طلب رزق میں اچھا طریقہ اختیار کرو۔ اور رزق کا سست رو ہو کر آنا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کو اللہ کی نافرمانیوں سے تلاش کرو۔ کیونکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کو اللہ کی اطاعت کے ذریعہ ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37051
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37051، ترقيم محمد عوامة 35473)
حدیث نمبر: 37052
٣٧٠٥٢ - حدثنا أبو أسامة عن عوف (عن الحسن) (١) قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا ذكر أصحاب الأخدود تعوذ باللَّه من جهد البلاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اصحاب الاخدود کا ذکر ہوتا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت ابتلاء سے خدا کی پناہ مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37052
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37052، ترقيم محمد عوامة 35474)
حدیث نمبر: 37053
٣٧٠٥٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: حدثني أخي نعمان عن مصعب بن سعد عن حفصة بنت عمر قال: قالت لأبيها: يا أمير المؤمنين ما عليك لو لبست ألين من ثوبك هذا، وأكلت أطيب من طعامك هذا، قد فتح اللَّه عليك الأرض، وأوسع عليك الرزق، قال: سأخاصمك إلى نفسك أما تعلمين ما كان يلقى رسول اللَّه ﷺ من شدة العيش، وجعل يذكرها شيئا مما كان يلقى رسول اللَّه ﷺ حتى أبكاها، قال: قد قلت لك: إنه كان لي صاحبان سلكا طريقا فإني إن سلكت غير طريقهما سلك بي غير طريقهما، فإني واللَّه لأشاركنهما في مثل عيشهما الشديد، لعلي أدرك معهما عيشهما الرخي، -يعني بصاحبيه النبي ﷺ وأبا بكر رضي اللَّه (١) عنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد، حضرت حفصہ بنت عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا اے امیر المومنین ! اگر آپ اپنے ان کپڑوں سے نرم کپڑے پہنیں اور اپنے اس کھانے سے اچھا کھانا کھائیں تو آپ کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر زمین کی فتوحات کو کھول دیا ہے اور آپ پر رزق کو وسعت دے دی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ جھگڑے میں تمہیں ہی فیصل بناتا ہوں۔ کیا تم اس بات کو نہیں جانتی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی کی کتنی سختی کا سامنا کرنا پڑا تھا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش آنے والے واقعات یاد دلانے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آپ نے حضرت حفصہ کو رلا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تحقیق میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرے جو دو ساتھی تھے وہ ایک راستہ چل گئے ہیں پس اگر میں ان کے راستے کے علاوہ راستہ پر چلوں گا تو میری وجہ سے ان کے راستہ کے علاوہ راستہ چلا جائے گا۔ پس میں … خدا کی قسم … البتہ ضرور بالضرور ان کی سخت زندگی کی طرح ان کے ساتھ شریک ہوں گا۔ شاید کہ میں ان کے ساتھ ان کی آسودہ زندگی میں بھی پایا جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اپنے دو ساتھیوں سے مراد، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37053
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37053، ترقيم محمد عوامة 35475)
حدیث نمبر: 37054
٣٧٠٥٤ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثني عبد الرحمن بن شريح قال: حدثني شرحبيل بن (يزيد) (٢) (المعافري) (٣) قال: سمعت محمد بن هدية الصدفي يقول: سمعت عبد اللَّه بن عمر (و) (٤) يقول سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "أكثر ⦗٢٦٢⦘ منافقي أمتي قراؤها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سنا : میری امت کے منافقین میں سے اکثر امت کے قراء ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37054
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شرحبيل بن يزيد صدوق، أخرجه أحمد (٦٦٣٣)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٩٥٨)، والفريابي في صفة المنافق (٣٧)، والفسوي في المعرفة ٢/ ٥٢٨، وابن بطة في الإبانة (٩٤٢)، وابن المبارك في الزهد (٤٥١)، والبخاري في التاريخ ٢١/ ٥٧، وابن وضاح في البدع (ص ٨٨)، والبغوي ١/ ٧٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37054، ترقيم محمد عوامة 35476)
حدیث نمبر: 37055
٣٧٠٥٥ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير رفعه ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ [يونس: ٦٢]: يذكر اللَّه لرؤيتهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے { ألا إنَّ أَوْلِیَائَ اللہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ } کی تفسیر میں یہ بات مرفوعاً روایت ہے کہ ان کو دیکھ کر خدا کی یاد آتی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37055
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير ١١/ ١٣١، وورد من حديث سعيد عن ابن عباس مرفوعًا أخرجه الضياء ١٠/ ١٠٧، والطبراني ١٢/ (١٢٣٢٥)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٧٦، والنحاس في معاني القرآن ٣/ ٣٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37055، ترقيم محمد عوامة 35477)
حدیث نمبر: 37056
٣٧٠٥٦ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثني سعيد بن مسلم بن (بانك) (١) قال: سمعت عامر بن عبد اللَّه بن الزبير قال: حدثني عوف بن الحارث عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "يا عائشة، إياك ومحقرات الأعمال، فإن لها من اللَّه طالبًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! تم چھوٹے چھوٹے اعمال … گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ۔ کیونکہ ان کے لیے بھی اللہ کی طرف سے طلب کرنے والا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37056
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٤١٥)، وابن ماجه (٤٢٤٣)، وابن حبان (٥٥٦٨)، والدارمي (٢٧٢٦)، وإسحاق (١١٢٠)، والطبراني في الأوسط (٢٣٩٨)، والبيهقي في الشعب (٧٢٦١)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٠٠٥)، وأبو نعيم ٣/ ١٦٨، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان (٣٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37056، ترقيم محمد عوامة 35478)
حدیث نمبر: 37057
٣٧٠٥٧ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عمرو بن مرة -زاد جرير عن معاوية ابن سويد- عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أوثق عرى الإيمان الحب في اللَّه والبغض في اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایمان کے کڑوں میں سے مضبوط ترین کڑا اللہ کے لیے محبت ہے اور اللہ کے لیے بغض ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37057
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (١٨٥٢٤)، والطيالسي (٧٤٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٤)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٤٣١، وأخرجه مرسلا وكيع في الزهد (٣٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37057، ترقيم محمد عوامة 35479)
حدیث نمبر: 37058
٣٧٠٥٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن مورق (١) العجلي قال: قرأ رسول اللَّه ﷺ ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (١) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "ليس لك من مالك إلا ما أكلت (فأفنيت) (٢)، (أو) (٣) (لبست) (٤) (فأبليت) (٥)، أو تصدقت (فأمضيت) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مؤرق عجلی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ } کی تلاوت کی۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لیے تمہارے مال میں سے صرف وہی کچھ مال ہے جو تم نے کھالیا اور ختم کردیا۔ یا تم نے پہن لیا اور پرانا کردیا یا تم نے صدقہ کردیا اور (آگے) چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37058
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مورق ليس من الصحابة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37058، ترقيم محمد عوامة 35480)