کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا لقمان علیہ السلام کا کلام
حدیث نمبر: 37008
٣٧٠٠٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن مجاهد قال: كان لقمان ﵇ (٢) عبدا أسود عظيم الشفتين (مشقق) (٣) القدمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاھد فرماتے ہیں : حضرت لقمان علیہ السلام سیاہ رنگت والے غلام تھے ، ان کے ہونٹ موٹے تھے اور پاؤں میں پھٹن (رہا کرتی) تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37008
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37008، ترقيم محمد عوامة 35432)
حدیث نمبر: 37009
٣٧٠٠٩ - حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن ابن أبي مليكة عن عبيد بن عمير قال: (قال) (١) لقمان لابنه: يا بني لا (يعجبك) (٢) (رجل) (٣) رحب الذراعين بالدم، فإن له عند اللَّه قاتلا لا يموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر کہتے ہیں : حضرت لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کوئی خون سے بھرا ہوا طاقتور آدمی تمہیں تعجب میں مبتلا نہ کرے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے ایک ایسا قاتل متعین ہے جو کبھی نہیں مرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37009
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37009، ترقيم محمد عوامة 35433)
حدیث نمبر: 37010
٣٧٠١٠ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن محمد بن واسع أن لقمان كان يقول لابنه: يا بني اتق اللَّه، لا (تري) (١) الناس أنك تخشى وقلبك فاجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں : حضرت لقمان رحمہ اللہ اپنے بیٹے سے فرمایا کرتے تھے : اے میرے بیٹے تو اللہ تعالیٰ سے ڈر (تاکہ) لوگ تجھے اس حالت میں نہ دیکھیں کہ تو (بظاہرتو اللہ تعالیٰ سے) ڈرتا ہو اور تیرا دل گناہوں سے بھرا ہوا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37010
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37010، ترقيم محمد عوامة 35434)
حدیث نمبر: 37011
٣٧٠١١ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: حدثني خالد بن (باب) (١) الربعي -قال جعفر (٢) وكان يقرأ الكتب أن لقمان كان عبدا حبشيا نجارا، وأن سيده قال (له) (٣): اذبح لي شاة، (قال) (٤): فذبح له شاة فقال: ائتني بأطيبها مضغتين، (٥) فأتاه باللسان والقلب، قال: فقال: ما كان فيها شيء أطيب من هذين؟ قال: لا، فسكت عنه ما سكت، ثم قال: اذبح لي شاة، فذبح له شاة (قال) (٦): ألق أخبثها مضغتين، فألقى اللسان والقلب، فقال له: قلت لك ائتني بأطيبها (مضغتين) (٧) فأتيتني باللسان والقلب، ثم قلت لك: ألق أخبثها مضغتين، فألقيت اللسان والقلب، (فقال) (٨): ليس شيء أطيب منهما إذا طابا، ولا (أخبث) (٩) منهما إذا خبثا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر جو کہ کتابوں کا مطالعہ کرنے والے تھے فرماتے ہیں : بیشک لقمان رحمہ اللہ حبشہ کے رہنے والے بڑھئی غلام تھے : (ایک مرتبہ) ان کے آقا نے ان سے کہا : میرے لئے بکری ذبح کرو۔ جعفر کہتے ہیں : انہوں نے ان کے لئے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا : اس کے دو بہترین اعضاء میرے لئے لے آؤ۔ تو وہ اس کے پاس دل اور زبان لے آئے۔ جعفر کہتے ہیں : ان کے آقا نے کہا : کیا اس کے اندر اس سے بہتر کوئی چیز نہ تھی ؟ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے فرمایا : نہیں۔ تو ان کا آقا خاموش ہوگیا اور کچھ عرصہ ایسے ہی گزر گیا۔ پھر (ایک دن) ان کے آقا نے کہا : میرے لئے بکری ذبح کرو۔ تو انہوں نے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا : اس کے دو بد ترین اعضاء نکال دو ۔ تو انہوں نے اس کا دل اور زبان نکال دی۔ ان کے آقا نے کہا : میں نے تم سے کہا دو بہترین اعضاء لے آؤ تو تم دل اور زبان لے آئے پھر میں نے تم سے کہا کہ اس کے دو بدترین اعضاء لے آؤ تو تم پھر دل اور زبان لے آئے (اس کی کیا وجہ ہے ؟ ) ۔ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے فرمایا : جب دل اور زبان پاکیزہ ہوں تو ان سے بہتر کوئی چیز (جسم میں) نہیں ہے۔ اور جب دل اور زبان برے ہوں تو ان سے بدتر کوئی چیز (جسم) میں نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37011
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37011، ترقيم محمد عوامة 35435)
حدیث نمبر: 37012
٣٧٠١٢ - حدثنا شبابة (عن شعبة) (١) عن يسار قال: قيل للقمان: ما حكمتك؟ قال: لا أسأل عما كفيت، ولا أتكلف ما لا يعنيني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سیارکہتے ہیں : حضرت لقمان رحمہ اللہ سے عرض کیا گیا : آپ کی حکمت (و دانائی کا حاصل) کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس چیز کا سوال نہیں کرتا جس کی مجھے حاجت نہ ہو۔ اور ایسا کام نہیں کرتا جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37012
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37012، ترقيم محمد عوامة 35436)
حدیث نمبر: 37013
٣٧٠١٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا إسماعيل المكي ومبارك عن الحسن قال: قال لقمان لابنه: يا بني حملت الجندل والحديد فلم أر (شيئًا) (١) أثقل من جار سوء، وذقت (المرار كله) (٢) فلم أر (شيئا) (٣) أمر من (التجبر) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن کہتے ہیں : حضرت لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں نے پتھر اور لوہا اٹھایا ہے ، مگر برے پڑوسی سے زیادہ وزنی (یعنی تکلیف دہ) چیز کوئی نہیں دیکھی۔ اور میں نے ہر کڑوی چیز کا ذائقہ دیکھا ہے ، مگر تکبر سے زیادہ کڑوی چیز کوئی نہیں دیکھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37013
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37013، ترقيم محمد عوامة 35437)
حدیث نمبر: 37014
٣٧٠١٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حاتم بن وردان قال: حدثنا يونس عن الحسن قال: سأل موسى جماعا (من) (١) العمل (٢) (فقيل) (٣) (له) (٤): انظر ما تريد (٥) (يصاحبك) (٦) (به) (٧) الناس (تصاحب الناس به) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حسن کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسی بات کے بارے میں سوال کیا جو تمام اعمال کی جامع ہو (کہ اس کے مفہوم میں تمام بھلائیاں شامل ہوجائیں) ۔ تو انہیں جواب ملا : غور کیجئے کہ آپ اپنے ساتھ لوگوں کا کیسا معاملہ پسند فرماتے ہیں ، پھر لوگوں کے ساتھ بھی ویساہی معاملہ کیجئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37014
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37014، ترقيم محمد عوامة 35438)
حدیث نمبر: 37015
٣٧٠١٥ - حدثنا معاوية بن هشام (قال) (١): حدثنا سفيان (عن) (٢) أسلم المنقري عن حبيب بن أبي ثابت قال: كان حاجبا يعقوب قد وقعا على عينيه، فكان يرفعهما بخرقة، فقيل له ما بلغ بك هذا؟ (٣) قال: طول الزمان وكثرة الأحزان، ⦗٢٤٨⦘ فأوحى اللَّه إليه يا يعقوب شكوتني؟ قال: (يا) (٤) رب خطيئة أخطأتها فاغفرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں : حضرت یعقوب علیہ السلام کے ابرو آپ کی آنکھوں پر جھک گئے تھے۔ آپ کپڑے کی ایک دھجی سے انہیں اٹھایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان سے عرض کیا گیا : آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا : لمبی عمر اور غموں کی کثرت (کی وجہ سے) ۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی : اے یعقوب علیہ السلام آپ نے میری شکایت کی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! یہ بہت بڑی خطا ہے جو مجھ سے سرزد ہوگئی۔ بس آپ میری مغفرت فرما دیجئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37015
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37015، ترقيم محمد عوامة 35439)
حدیث نمبر: 37016
٣٧٠١٦ - حدثنا سعيد بن شرحبيل عن ليث بن سعد عن عَقيل عن ابن شهاب قال: جلست يوما إلى أبي إدريس الخولاني وهو يقص فقال: ألا (أخبرك) (١) من كان أطيبَ الناس طعاما [فلما رأى الناس قد (نظروا) (٢) إليه قال: إن يحيى بن زكريا كان أطيبَ الناس طعاما] (٣)، إنماكان يأكل مع الوحش كراهة أن يخالط الناس في معايشهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شھاب کہتے ہیں : ایک دن میں ابو ادریس خولانی کے پاس بیٹھا تھا اور وہ گفتگو کر رہے تھے۔ چناچہ فرمانے لگے : کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ عمدہ غذا استعمال کرنے والی ہستی کون سی تھی ؟ اس پر انہوں نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ پایا تو فرمایا : یحییٰ بن زکریا i سب سے بہتر غذا استعمال فرماتے تھے، ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ جانوروں کی معیت میں کھاپی لیا کرتے تھے، کیونکہ وہ یہ بات ناپسند فرماتے تھے لوگوں کی (ناجائز) کمائیوں میں شریک ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37016
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37016، ترقيم محمد عوامة 35440)
حدیث نمبر: 37017
٣٧٠١٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة قال: حدثنا حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: (لقد) (١) قال موسى ﵇ (٢): ﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾ [القصص: ٢٤] وهو أكرم خلقه عليه، ولقد كان افتقر إلى شق تمرة، ولقد أصابه الجوع حتى (لزق) (٣) بطنه (بظهره) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تحقیق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : ” اے میرے رب بیشک میں اس اچھی چیز کا محتاج ہوں جو آپ میری طرف اتاریں “ حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ معزز تھے۔ اور یقینی بات ہے کہ آپ کے پاس کھجورکا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا۔ اور بھوک کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ آپ کا پیٹ کمر سے جا لگا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37017
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الضياء في المختارة ١٠/ (١٥٠)، وابن عساكر ٦١/ ٣٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37017، ترقيم محمد عوامة 35441)
حدیث نمبر: 37018
٣٧٠١٨ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن مسلم عن عثمان بن عبد اللَّه ابن أوس قال: كان نبي من الأنبياء يدعو اللهم احفظني بما تحفظ به الصبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن اوس فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے ایک نبی یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ پاک آپ میری یوں حفاظت فرمائیے جیسے آپ بچے کی حفاظت فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37018
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37018، ترقيم محمد عوامة 35442)