کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتیں
حدیث نمبر: 36999
٣٦٩٩٩ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا مالك بن مغول عن الحسن (أبي) (٢) يونس عن هارون بن (رئاب) (٣) قال: حدثني ابن (عم) (٤) حنظلة كاتب النبي ﷺ: أن اللَّه أوحى إلى موسى ﵇ (٥): "أن قومك زينوا مساجدهم وأخربوا قلوبهم، وتسمنوا كما تسمن الخنازير ليوم ذبحها، وإني نظرت (إليهم) (٦) فلعنتهم (ولا) (٧) أستجيب دعاءهم ولا أعطيهم مسائلهم".
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ جو کہ نبی ﷺ کے کاتب ہیں ان کے چچا زاد بھائی نے بیان فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی : بیشک آپ کی قوم نے مساجد کو (تو) سجا سنوار رکھا ہے ، مگر اپنے دلوں کا حال خراب کر رکھا ہے۔ اور (کثرتِ اکل کی وجہ) سے یوں پھول چکے ہیں جیسے خنزیروں کو ذبح کرنے کے لیے موٹا کیا جاتا ہے۔ میں ان (کی اس بری حالت) کو دیکھ کر ان پر لعنت کرتا ہوں ، نہ تو میں ان کی دعا قبول کرتا ہوں اور نہ ان کی مطلوبہ چیز انہیں عطا کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36999
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36999، ترقيم محمد عوامة 35423)
حدیث نمبر: 37000
٣٧٠٠٠ - حدثنا سليمان بن حرب عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن عبيد بن عمير أن داود (١) سجد حتى نبت ما حوله خضراء من دموعه، فاوحى اللَّه إليه: يا داود ما تريد؟ (تريد) (٢) أن أزيدك في مالك (و) (٣) ولدك (وعمرك) (٤)؟ قال: يا رب، (بهذا) (٥) (ترد علي) (٦)، فغفر له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت داؤد ﷺ نے (گریہ وزاری کے ساتھ) اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ ان کے آنسوؤں (کی نمی سے) ان کے ارد گرد سبزہ اگ آیا۔ چناچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی : اے داؤد (علیہ السلام ) تم کیا چاہتے ہو ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ما ل و اولاد اور عمر میں اضافہ کر دوں۔ تو حضرت داؤد علیہ السلام نے (عجزو انکسار کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے) عرض کیا : اے میرے پروردگار ! کیا (آپ کے نزدیک میں دنیا سے محبت کرنے والا اور دنیا کو چاہنے والا ہوں کہ میری طویل آہ وزاری کے نتیجہ میں) آپ نے مجھے یہ جواب دیا ؟ بس اسی وقت اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37000
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37000، ترقيم محمد عوامة 35424)
حدیث نمبر: 37001
٣٧٠٠١ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه أن موسى ﵇ (١) قال: يا رب، أخبرني بأكرم خلقك عليك، قال: الذي يسرع إلى هواي إسراع النسر إلى هواه، (و) (٢) الذي يكلف بعبادي الصالحين كما يكلف الصبي بالناس، والذي يغضب إذا انتهكت محارمي غضب النمر لنفسه، فإن النمر إذا غضب لم يبال أكثر الناس أم قلّوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے عرض کیا : اے میرے رب مجھے بتا دیجئے کہ آپ کی مخلوق میں سے کون آپ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت ہے ؟ اللہ جل جلالہ نے فرمایا : (میرے نزدیک) وہ شخص (سب سے زیادہ قابل احترام ہے) جو میرے احکامات (کو پورا کرنے کے لئے ، ذوق و شوق سے ان) کی طرف یوں پیش قدمی کرے جیسے گدھ اپنی خوراک کی طرف (بڑی رغبت اور ذوق و شوق سے) لپکتا ہے۔ اور وہ شخص (بھی میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت ہے) جو میرے نیک بندوں پر یوں فریفتہ ہو جیسے چھوٹا بچہ لوگوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔ اور وہ شخص بھی (بھی میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت ہے) جو میرے احکامات کی خلاف ورزی کئے جانے پر یوں غضب ناک ہو جیسا چیتا اپنے دفاع کے لئے غضبناک ہوتا ہے۔ اور چیتا جب غضبناک ہوتا ہے تو اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ مدمقابل زیادہ تعداد میں ہیں یا کم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37001
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37001، ترقيم محمد عوامة 35425)
حدیث نمبر: 37002
٣٧٠٠٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن زيد بن أسلم عن عبد اللَّه بن عبيد عن أبيه قال: قال موسى ﵇ (١): أي رب، ذكرت إبراهيم وإسحاق ويعقوب، بم أعطيتهم ذاك؟ قال: إن إبراهيم لم يعدل (بي شيئًا) (٢) إلا اختارني، وإن إسحاق جاد (لي) (٣) بنفسه وهو (بما) (٤) سواها أجود، ⦗٢٤٣⦘ وإن يعقوب لم (ابتله) (٥) ببلاء إلا ازداد بي حسن ظن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عبید کے والد ماجد کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (اللہ تبارک و تعالیٰ کی خدمت میں) عرض کیا : اے میرے رب ! آپ نے ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ۔ کا ذکر (اپنے محبوب بندوں میں) فرمایا ہے، یہ (مقام و مرتبہ) آپ نے انہیں (ان کے) کس (عمل کی برکت کی) وجہ سے عطا فرمایا ؟ اللہ تبارک وتعالیٰ نے (جواب میں) ارشاد فرمایا : بیشک ابراہیم (علیہ السلام ) نے جب بھی (کسی معبودِ باطل یا ناجائز کام کو میرے یا میرے حکم کے مقابلے میں آتے دیکھا اور مجبورا انہوں نے اس سے) میرا موازنہ کیا تو (اس معبودِ باطل اور غیر شرعی کام کو چھوڑ کر میرے حکم کو اور) مجھے ہی اختیار کیا۔ اور اسحاق (علیہ السلام ) نے میری رضا کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ 1 پیش کردیا تھا، اور جان کے علاوہ دیگر اشیاء (کو میری رضا کی خاطر صدقہ و خیرات کی مد میں خرچ کرنے کے سلسلے) میں تو ان کی فیاضی (اس سے بھی) بہت زیادہ تھی۔ اور یعقوب (علیہ السلام کے مجھ پر بھروسہ کا یہ عالم تھا کہ ان) کو میں نے جب بھی آزمایا ، میرے ساتھ ان کا حسن ظن ہی بڑھا (بد گمانی پیدا نہیں ہوئی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37002
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37002، ترقيم محمد عوامة 35426)
حدیث نمبر: 37003
٣٧٠٠٣ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: قال موسى ﵇ (١): أي رب أي عبادك أحب إليك، قال: أكثرهم لي ذكرا، قال: (رب) (٢) أي عبادك أغنى، قال: الراضي بما أعطيته، قال: أي رب (أي) (٣) عبادك أحكم؟ قال: الذي يحكم على نفسه (ما) (٤) يحكم على الناس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کیا): اے میرے پروردگا ! آپ کے بندوں میں سے کون آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا : سب سے زیادہ میرا ذکر کرنے والا۔ انہوں نے پھر عرض کیا : اے میرے پالنہار ! آپ کے بندوں میں سے کون سب سے زیادہ امیر ہے ؟ اللہ جل شانہ نے فرمایا : میری عطا (کردہ نعمتوں) پر راضی ہوجانے والا۔ آپ نے پھر عرض کیا : اے میرے رب ! آپ کے بندوں میں سے کون سب سے زیادہ عمدہ فیصلہ کرنے والا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو لوگوں کے لئے ویسا ہی (درست اور برحق) فیصلہ کرے جیسا (درست و برحق) فیصلہ وہ اپنے لئے کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37003
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ قابوس فيه لين، أخرجه أحمد في الزهد ص ٨٧، وابن جرير في التفسير ١٥/ ٢٧٧، وأبو خيثمة في كتاب العلم (٨٦)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٠٣٤٨)، وابن عساكر ٦١/ ١٤٢ والخطيب في الرحلة (٣٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37003، ترقيم محمد عوامة 35427)
حدیث نمبر: 37004
٣٧٠٠٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عطاء (بن) (١) أبي مروان الأسلمي عن أبيه عن كعب قال: قال موسى: أي (رب) (٢) (أقريب) (٣) أنت فأناجيك أم بعيد فأناديك؟ قال: يا موسى أنا جليس من ذكرني، قال: يا رب، فإنا نكون من الحال على حال نعظمك أو نجلك أن نذكرك عليها، قال: (وما هي؟) (٤) قال: الجنابة والغائط، قال: يا موسى اذكرني على كل حال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا : اے میرے رب ! (مجھے بتا دیجئے ، ) کیا آپ (مجھ سے اتنا) قریب ہیں کہ (میں جب آپ کی جناب میں کچھ عرض کرنا چاہوں تو) آپ سے سرگوشی میں بات کروں، یا آپ (مجھ سے اتنا) دور ہیں کہ میں (عرضِ حاجات کے وقت) آپ کو (ذرا بلند آواز میں) پکار کے کلام کیا کروں ؟ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا : اے موسیٰ ! میں اپنے ہر یاد کرنے والے کے قریب (ہی) ہوتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کیا : اے میرے پروردگار ! ہم کبھی ایسی حالت میں بھی ہوتے ہیں جس میں ہم آپ کا ذکر کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں سمجھتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : وہ کون سی حالت ہے (جس میں تم میرا ذکر کرنا میرے شایانِ شان نہیں سمجھتے) ؟ انہوں نے (جواب میں) عرض کیا : ناپاکی (کی حالت میں) اور قضاء حاجت (کے وقت) ۔ اللہ جل جلالہ نے فرمایا : اے موسیٰ ہر حال میں میرا ذکر کیا کرو (البتہ قضاء حاجت اور دیگر ایسے مواقع پر جہاں زبان سے ذکر کرنا مناسب نہ ہو دل ہی دل میں ذکر کرلیا جائے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37004، ترقيم محمد عوامة 35428)
حدیث نمبر: 37005
٣٧٠٠٥ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا بن أبي ذئب عن سعيد المقبري (عن أبيه) (١) عن عبد اللَّه بن سلام قال: قال موسى ﵇ (٢) لربه: (يا ⦗٢٤٤⦘ رب) (٣)، ما الشكر الذي ينبغي لك؟ قال: لا يزال لسانك رطبا من ذكري، قال: يا رب، إني أكون على حال أجلك أن أذكرك: من الجنابة والغائط وإراقة الماء وعلى غير وضوء، قال: بلى، قال: كيف أقول؟ قال: (قل) (٤) سبحانك وبحمدك لا إله إلا أنت فاجنبني الأذى سبحانك وبحمدك لا إله إلا أنت (فقني) (٥) الأذى (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل شانہ سے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! وہ کون سا شکر (ادا کرنے کا طریقہ) ہے جو (قدرے) آپ کے شایانِ شان ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : (وہ طریقہ یہ ہے کہ) آپ کی زبان ہمیشہ میرے ذکر سے تر رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب میں کبھی ایسی حالت میں ہوتا ہوں جس میں آپ کا ذکر کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں سمجھتا، جیسے حالت جنابت، قضاء حاجت، غسل کا وقت اور بےوضو ہونے کی حالت میں (تو کیا ایسے حالتوں میں بھی میں آپ کا ذکر کیا کروں) ۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا : کیوں نہیں 1 (ایسی حالت میں بھی دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاسکتا ہے) ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا : (ایسے مواقع میں دل ہی دل میں حمد وثنا کے کلمات میں سے) کیسے (کلمات) کہا کروں ؟ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : (یوں) کہو : پاک ہیں آپ (اے اللہ تعالیٰ) اور تعریف آپ (ہی) کے لئے ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبودحقیقی نہیں ہے تو آپ ہی مجھے گندگی سے دور رکھئے۔ پاک ہیں آپ (اے اللہ تعالیٰ) اور تعریف آپ (ہی) کے لئے ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے تو آپ ہی مجھے گندگی سے بچائیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37005
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البيهقي في الشعب ٤/ ١٠٣ (٤٤٢٨)، وابن المبارك في الزهد (٩٤٢)، وابن عساكر ٦١/ ١٤٨، وابن المنذر في الأوسط (٢٩٢)، وابن أبي الدنيا في الشكر (٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37005، ترقيم محمد عوامة 35429)
حدیث نمبر: 37006
٣٧٠٠٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن خلف بن حوشب قال: دخل (جبرائيل) (١) ﵇ (٢) -أو قال: الملك- على يوسف ﵇ (٣) وهو في السجن، فقال: أيها الملك الطيب الريح، الطاهر الثياب، أخبرني عن يعقوب أو ما فعل يعقوب؟ قال: ذهب بصره، قال: ما بلغ من حزنه؟ قال: حزن سبعين ثكلى، قال: ما أجره؟ قال: أجر مائة شهيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلف بن حوشب کہتے ہیں : جبرائیل -علیہ السلام یا وہ کہتے ہیں : کوئی فرشتہ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس قید خانہ میں حاضر ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا : اے خوش مہک و پاکیزہ فرشتے ! مجھے یعقوب علیہ السلام کے بارے میں بتلائیے۔ یا انہوں نے فرمایا : یعقوب علیہ السلام کا کیا عمل تھا ؟ فرشتے نے جواب دیا : ان کی بینائی چلی گئی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے پھر دریافت فرمایا : انہیں کس قدر غم ہوا تھا ؟ فرشتے نے جواب دیا : ستر ایسی ماؤں کے غم کے بقدر جن کے بچے گم ہوگئے ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے پھر دریافت فرمایا : ان کے لئے (اس پر) کیا اجر ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا : (ان کے لئے اس پر) سو شہیدوں کے برابر اجر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37006
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37006، ترقيم محمد عوامة 35430)
حدیث نمبر: 37007
٣٧٠٠٧ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرني الأحوص بن حكيم عن زهير بن عبد الرحمن عن يزيد بن ميسرة وكان قد قرأ الكتب قال: إن اللَّه أوحى فيما أوحى إلى موسى ﵇ (١): أنَّ أحب عبادي إلي الذين يمشون (٢) في الأرض بالنصيحة، والذين يمشون على أقدامهم إلى (الجمعات) (٣) ⦗٢٤٥⦘ (والمستغفرين بالأسحار) (٤)، أولئك الذين إذا أردت أن أصيب أهل الأرض بعذاب ثم رأيتهم كففت (٥) عذابي، وأن أبغض عبادي إليّ (الذي) (٦) يقتدي بسيئة المؤمن ولا يقتدي بحسنته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن میسرہ (جو کہ کتاب اللہ کا علم رکھتے تھے) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وحی فرمایا اس میں یہ بھی تھا : بیشک میرے بندوں میں سے وہ لوگ مجھے زیادہ پسندیدہ ہیں جو دنیا میں خیر خواہی کرنے والے ہیں، اور وہ لوگ جو جمعہ کی نمازوں کے لئے چل کر جاتے ہیں، اور سحر کے وقت میں مغفرت طلب کرنے والے۔ جب میرا ارادہ ہوتا ہے کہ میں اہل زمین کو عذاب دوں تو میں ان لوگوں کی وجہ سے ان پر سے عذاب کو ٹال دیتا ہوں۔ اور لوگوں میں سب سے زیادہ وہ لوگ مجھے ناپسند ہیں جو مومن کی برائی کی تلاش میں رہتے ہیں اور اس کی نیکی کو نہیں دیکھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37007
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37007، ترقيم محمد عوامة 35431)