کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی باتیں
حدیث نمبر: 36983
٣٦٩٨٣ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (خيثمة) (٢) قال: قال سليمان بن داود: كل العيش جربناه لينه وشديده فوجدناه يكفي منه أدناه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد i نے فرمایا : ہم نے ہر طرح کی زندگی آزما دیکھی ہے، راحت و آرام والی بھی ، مصائب و آلام والی بھی، اور ہم نے یہی محسوس کیا کہ (ہم جس حالت میں بھی ہیں) اس سے پتلی حالت میں بھی گزر بسر ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36983
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36983، ترقيم محمد عوامة 35407)
حدیث نمبر: 36984
٣٦٩٨٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن (خيثمة) (١) قال: (أتى) (٢) ملك الموت سليمان بن داود، وكان له صديقا، فقال له سليمان: مالك تأتي أهل البيت (فتقبضهم) (٣) جميعا وتدع أهل البيت إلى جنبهم لا تقبض منهم أحدا، قال: (ما أعلم) (٤) بما أقبض (منها) (٥) إنما أكون تحت العرش فتلقى إلى صكاك فيها أسماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد i کے پاس موت کا فرشتہ حاضر ہوا ، اور آپ علیہ السلام کا اس سے دوستی کا تعلق تھا۔ تو آپ نے اس سے فرمایا : تم عجیب ہو ! ایک گھر میں آتے ہو اور تمام اہل خانہ کی ارواح قبض کرلیتے ہو، جبکہ ان کے پہلو (میں موجود گھر) کے اہل خانہ کو (زندہ سلامت) چھوڑ دیتے ہو، ان میں سے ایک کی بھی روح قبض نہیں کرتے (یہ کیا ماجرا ہے) ؟ موت کے فرشتہ نے (جواب میں) عرض کیا : مجھے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے کس کی روح قبض کرنی ہے۔ میں تو عرش کے نیچے (دست بستہ) ہوتا ہوں، تو ایک پرچی میری جانب گرادی جاتی ہے ، اس میں (ان لوگوں کے) نام درج ہوتے ہیں (جن کی مجھے روح قبض کرنا ہوتی ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36984
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36984، ترقيم محمد عوامة 35408)
حدیث نمبر: 36985
٣٦٩٨٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن (خيثمة) (١) قال: دخل ملك الموت إلى سليمان فجعل ينظر إلى رجل من جلسائه يديم النظر إليه، فلما خرج قال الرجل: من هذا؟ قال: هذا ملك الموت، قال: رأيته ينظر إلي كأنه يريدني، قال: فما تريد؟ قال: أريد أن تحملني على الريح حتى تلقيني بالهند، قال: فدعا (بالريح) (٢) فحمله عليها فألقته في الهند، ثم أتى ملك الموت سليمان فقال: إنك ⦗٢٣٧⦘ كنت تديم النظر إلى رجل من جلسائي؟ قال: كنت أعجب منه، أمرت أن أقبضه بالهند وهو عندك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : موت کا فرشتہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور آپ علیہ السلام کے ہم نشینوں میں سے ایک کی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ جب وہ (وہاں سے) چلا گیا تو اس آدمی نے عرض کیا : یہ کون تھا ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا : یہ موت کا فرشتہ تھا۔ اس نے کہا : مجھے تو وہ یوں میری جانب گھورتا دکھائی دیا کہ بس مجھے ہی لے جانے کا ارادہ ہو۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا : تو تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے دوش ہوا پر ملک ہندو ستان پہنچا دیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ علیہ السلام نے ہوا کو حکم کیا تو ہوا نے اس شخص کو اٹھا کر ملک ہندوستان میں لے جا ڈالا۔ پھر موت کا فرشتہ (دوبارہ) حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا : تم (کیوں) میرے ہمنشینوں میں سے ایک آدمی کو گھورے جا رہے تھے۔ موت کے فرشتے نے کہا : مجھے اس پر تعجب ہو رہا تھا، (کیونکہ) مجھے تو حکم ہوا تھا کہ اس کی روح ہندوستان میں قبض کرنی ہے اور وہ آپ کے پاس (بیٹھا) تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36985، ترقيم محمد عوامة 35409)
حدیث نمبر: 36986
٣٦٩٨٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال: قال سليمان بن داود ﵇ (١) لابنه: يا بني (كما يدخل) (٢) الوتد بين الحجرين كذلك تدخل الخطيئة بين البائع والمشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد i نے اپنے بیٹے سے (معاملات میں احتیاط کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے) فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ! جیسے کیل (بڑے غیر محسوس انداز میں) دو پتھروں میں گھس جاتا ہے، ایسے ہی خریدو فروخت کرنے والوں کے درمیان بھی (معاملات کی) خرابی (بڑے غیر محسوس انداز میں) داخل ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36986
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36986، ترقيم محمد عوامة 35410)
حدیث نمبر: 36987
٣٦٩٨٧ - حدثنا أبو أسامة عن الإفريقي عن (سلامان) (١) بن عامر (الشعباني) (٢) قال: أرأيتم سليمان وما أوتي (من) (٣) ملكه فإنه لم يرفع رأسه إلى السماء حتى قبضه اللَّه تخشعا للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلامان بن عامر شیبانی کہتے ہیں : حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کی سلطنت (کی شان و شوکت) کو دیکھئے ! اور ان کی (ایمانی) حالت یہ تھی کہ انہوں نے تاحیات اللہ تعالیٰ کے ڈر سے آسمان کی جانب سر نہ اٹھایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36987
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36987، ترقيم محمد عوامة 35411)
حدیث نمبر: 36988
٣٦٩٨٨ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن ابن عباس قال: كان سليمان بن داود (النبي) (١) ﷺ لا يكلم إعظاما له، قال: فلقد فاتته العصر فما أطاق أحد يكلمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی حضرت سلیمان بن داؤد i کے رعب و دبدبہ کی بنا پر (کسی سے) ان کے ساتھ بات تک نہ کی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں : حتیٰ کہ (ایک شام) ان سے (بےخبری میں) نمازِ عصر بھی جاتی رہی، مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ان سے کلام (کر کے انہیں مطلع) کرسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36988
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36988، ترقيم محمد عوامة 35412)
حدیث نمبر: 36989
٣٦٩٨٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي الدرداء قال: مات ابن (لسليمان) (١) (بن داود) (٢) فوجد عليه وجدا شديدا حتى عرف ذلك فيه وفي قضائه، ⦗٢٣٨⦘ (فبرز) (٣) ذات يوم (ملكان) (٤) بين (يديه للخصوم) (٥) فقال أحدهما: إني بذرت بذرًا، حتى إذا اشتد واستحصد مر هذا به (أفسده) (٦)، فقال للآخر: ما تقول؟ فقال: صدق، أخذت الطريق فأتيت على زرع فنظرت يمينا وشمالا، فإذا الطريق عليه فأخذت عليه، فقال سليمان للآخر: (لم) (٧) بذرت على الطريق؟ أما علمت أن مأخذ الناس على الطريق؟ فقال: يا سليمان فلم تحزن على ابنك وأنت تعلم أنك ميت، وأن سبيل الناس إلى الآخرة؟ (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے فوت ہوگئے تو آپ علیہ السلام نے اس پر شدید رنج و غم محسوس کیا۔ حتی کہ ان کی شخصیت اور فیصلوں میں بھی اس کا اثر محسوس کیا گیا۔ چناچہ ایک دن جب آپ (مجلسِ قضا میں) تشریف لائے تو دو فرشتے (انسانوں کی شکل میں) آپ کی خدمت میں ایک جھگڑے کے تصفیہ کے لئے حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک بولا : میں نے بیج بویا، جب وہ پک کر کاٹنے کے قابل ہوگیا تو یہ (دوسرا شخص) وہاں سے گزرا اور اس کو برباد کر گیا۔ آپ علیہ السلام نے دوسرے سے دریافت فرمایا : تم کیا کہتے ہو ؟ تو اس نے جواب دیا : یہ سچ کہتا ہے۔ میں راستے پر جا رہا تھا کہ اس کے کھیت پر جا پہنچا، میں نے دائیں بائیں دیکھا مگر راستہ وہی تھا (جس پر اس نے کھیت اگا رکھا تھا) ، چناچہ میں اس (کے کھیت) میں ہی چل پڑا (تو وہ خراب ہوگیا) ۔ (یہ سنا) تو سلیمان علیہ السلام نے پہلے شخص سے دریافت فرمایا : تم نے راستے میں کیوں بیج بو دیا تھا ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ لوگوں نے تو راستے پر سے ہی گزرنا ہوتا ہے ؟ اس پر اس شخص نے جواب دیا : اے سلیمان (علیہ السلام ) ! (اگر ایسا ہے) تو تم کیوں اپنے بیٹے پر (اتنا زیادہ) غمگین ہوتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ ایک دن تم بھی مرنے والے ہو، اور یہ (بھی جانتے ہو) کہ تمام لوگ آخرت کی جانب ہی رواں دواں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36989
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء بن السائب اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36989، ترقيم محمد عوامة 35413)
حدیث نمبر: 36990
٣٦٩٩٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن زيد العمي عن أبي الصديق الناجي: أن سليمان بن داود خرج بالناس (ليستسقي) (١) فمر على نملة مستلقية على قفاها رافعة قوائمها إلى السماء وهي تقول: اللهم (أنا) (٢) خلق من خلقك ليس بنا غنى عن رزقك، فإما أن تسقينا وإما أن تهلكنا، فقال سليمان للناس: ارجعوا فقد سقيتم بدعوة غيركم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد i لوگوں کو لے کر (اللہ تعالیٰ سے) بارش کی دعا کرنے نکلے تو آپ کا گزر ایک ایسی چیونٹی پر ہوا جو اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف اٹھائے چت لیٹی کہہ رہی تھی : اے اللہ ! میں بھی تیری مخلوقات میں سے (ایک ادنی سی) مخلوق ہوں، میں تیرے رزق سے بےنیاز نہیں ہوں ، یا تو مجھے پانی پلا دے، یا پھر مجھے موت دیدے۔ سلیمان علیہ السلام نے لوگوں سے فوراً کہا : لوٹ چلو، تمہیں کسی اور کی دعا نے ہی سیراب کر وا دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36990
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36990، ترقيم محمد عوامة 35414)
حدیث نمبر: 36991
٣٦٩٩١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: ذكر عن بعض الأنبياء (١) أنه قال: اللهم لا تكلفني طلب ما لم (تقدره) (٢) لي، وما (قدرت) (٣) لي (به) (٤) من رزق فإنني به في يسر منك وعافية، وأصلحني بما ⦗٢٣٩⦘ أصلحت به الصالحين، فإنما (أصلح) (٥) الصالحين أنت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں : کسی نبی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! مجھے اسی چیز کی تلاش کی تکلیف مت دیجئے جو آپ نے میرے مقدر میں لکھی ہی نہیں، اور جو رزق آپ نے میرے مقدر میں لکھ دیا ہے اسے بسہولت و عافیت مجھ تک پہنچا دیجئے۔ اور جس طرح سے آپ نے صالح لوگوں کی اصلاح فرمائی میری بھی اسی طرح سے اصلاح فرما دیجئے۔ کیونکہ (میں جانتا ہوں کہ) صالحین کی اصلاح بھی آپ ہی نے فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36991، ترقيم محمد عوامة 35415)
حدیث نمبر: 36992
٣٦٩٩٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم أن نبيا من أنبياء اللَّه قال: من أهلك الذين هم أهلك الذين في ظل عرشك قال: هم البريئة أيديهم الطاهرة قلوبهم، الذين يتحابون (بجلالي) (١)، الذين (إذا ذكروا ذكرت بهم) (٢)، وإذا ذكرت ذكروا (بي) (٣)، (الذين) (٤) (يسبغون الوضوء على المكاره، والذين يكلفون بحبي كما يكلف الصبي بالناس) (٥)، (و) (٦) الذين (يأوون) (٧) إلى ذكري كما تأوي الطير إلى وكرها، والذين يغضبون لمحارمي إذا استحلت كما يغضب النمر إذا حرم، أو قال: حرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ کے نبیوں (o) میں سے کسی نبی نے فرمایا : تیرے کون سے برگزیدہ بندے ایسے برگزیدہ ہیں جو (روزِ قیامت) تیرے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے ہاتھ (ظلم و ستم) سے بری ہیں، جن کے دل پاکیزہ ہیں، جو میری بزرگی کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ان کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان (کے میرے ساتھ انتہائی تعلق) کی وجہ سے میرا ذکر بھی کیا جاتا ہے، اور جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو میری (ان پر انتہائی شفقت و مہربانی کی) وجہ سے اُ ن کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو باوجود (سردی کی) تکلیف کے اپنا وضو مکمل طور پر کرتے ہیں، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو میری محبت کے یوں دیوانے ہیں جیسا بچہ (اپنے شناسا) لوگوں کا دیوانہ ہوتا ہے، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو (تپشِ معاصی سے ڈر کر) میرے ذکر (کی ٹھنڈی چھاؤں) میں یوں پناہ لیتے ہیں جیسے پرندہ اپنے گھونسلے میں پناہ لیتا ہے، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو میری حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھے جانے (یا ان کا ارتکاب کئے جانے) پر یوں غضبناک ہوتے ہیں جیسے چیتا (شکار سے) محروم کئے جانے پر (غضبناک ہوتا ہے) ، یا پھر فرمایا : (جیسے چیتا) لڑائی کے وقت (غضبناک ہوتا ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36992
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36992، ترقيم محمد عوامة 35416)
حدیث نمبر: 36993
٣٦٩٩٣ - (حدثنا عفان قال) (١): حدثنا المبارك عن الحسن (أن) (٢) داود النبي ﷺ (٣) قال: اللهم (إني) (٤) أسألك (من) (٥) الإخوان و (الأصحاب والجيران) (٦) ⦗٢٤٠⦘ والجلساء من إن نسيت ذكروني، (وإن ذكرت) (٧) أعانوني، وأعوذ بك من الأصحاب والاخوان والجيران والجلساء من إن نسيت لم يذكروني، وإن ذكرت (لم) (٨) يعينوني.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ داؤد نبی ﷺ نے فرمایا : اے اللہ تعالیٰ ! آپ مجھے ایسے بھائی ، دوست، پڑوسی اور ہم نشین عطا فرما دیجئے کہ اگر مجھ سے (تقاضہِ بشری کے تحت معمولی سی) غفلت (بھی) سر زد ہوجائے تو وہ مجھے اس پر متنبہ کردیں، اور تنبہ کے عالم میں (نیکی کے کاموں میں) میری معاونت کریں۔ اور مجھے ایسے بھائیوں، دوستوں، پڑوسیوں اور ہم نشینوں سے اپنی پناہ میں لے لیجئے جو نہ تو غفلت پر تنبیہ کریں، اور نہ ہی تنبہ کے وقت اعانت کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36993
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36993، ترقيم محمد عوامة 35417)
حدیث نمبر: 36994
٣٦٩٩٤ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا مبارك عن الحسن أن داود النبي ﷺ قال: اللهم لا مرض يضنيني ولا صحة تنسيني، ولكن بين ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کہتے ہیں : حضرت داؤد نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! نہ تو مجھے ایسا مرض لاحق کیجئے جو مجھے بالکل بےکار کر دے، اور نہ ہی ایسی صحت عطا کیجئے جو مجھے (حق سے) غافل کر دے، بلکہ اعتدال والی کیفیت عطافرمائیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36994، ترقيم محمد عوامة 35418)
حدیث نمبر: 36995
٣٦٩٩٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا مبارك قال: سمعت الحسن يقول: إن أيوب ﵇ (١) كان (كلما) (٢) أصابته مصيبة قال: اللهم أنت أخذت، وأنت أعطيت مهما تبقى نفسي أحمدك على حسن بلائك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کہتے ہیں : بیشک ایوب علیہ السلام کو جب کوئی آزمائش پیش آتی تو آپ علیہ السلام فرماتے : آپ ہی (اپنی نعمتیں روک لیتے ہیں یا واپس) لے لیتے ہیں، اور آپ ہی (نعمتیں) عطا فرماتے ہیں، آپ جب تک میری سانسوں کی ڈور باندھے رکھیں گے میں آپ کے عمدہ (اندازِ ) امتحان پر آپ کا شکر گزار رہوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36995
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36995، ترقيم محمد عوامة 35419)
حدیث نمبر: 36996
٣٦٩٩٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي عن ثابت البناني قال: بلغنا أن داود النبي ﷺ (كان) (١) جزأ الصلاة على بيوته: على نسائه وولده، فلم تكن (تأتي ساعة) (٢) من الليل والنهار إلا وإنسان من آل داود ﵇ (٣) قائم يصلي، فعمتهن هذه الآية: ﴿اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾ [سبأ: ١٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بنانی کہتے ہیں : ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ نبی حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے گھروں میں اپنی بیویوں اور بچوں کے لئے بطورِ مصلیٰ جگہیں مقرر کر رکھی تھیں۔ دن کی کوئی گھڑی ہوتی یا رات کا کوئی پہر، ہر وقت آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی نہ کوئی شخص (ان مصلوں پر) نماز میں مشغول رہتا۔ چناچہ یہ آیت (آپ علیہ السلام کے) ان تمام (اہلِ و عیال) کے بارے میں عام ہے (جو اس کار خیر میں شریک رہتے تھے : اے آلِ داؤد (اپنے رب کا) شکر بجا لاؤ، اور میرے بندوں میں سے بہت کم لوگ (صحیح معنوں میں) شکر گزار ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36996
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36996، ترقيم محمد عوامة 35420)
حدیث نمبر: 36997
٣٦٩٩٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا معاوية بن عبد الكريم عن الحسن أن داود النبي ﷺ (١) قال: إلهي، لو أن لكل شعرة مني لسانين يسبحانك الليل والنهار ما ⦗٢٤١⦘ (قضينا) (٢) نعمة من نعمك علي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ نبی حضرت داؤد ﷺ نے فرمایا : میرے معبود برحق ! اگر میرے ہر ہر بال کی دو دو زبانیں ہوتیں اور دن رات آپ کی تسبیح میں مشغول ہوتیں، تو بھی آپ کی کسی ادنیٰ سی نعمت کا (شکر بجا لانے کا) حق ادا نہ کر پاتیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36997
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36997، ترقيم محمد عوامة 35421)
حدیث نمبر: 36998
٣٦٩٩٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: (حدثنا) (١) الجعد أبو عثمان قال: بلغنا أن داود ﵇ (٢) قال: إلهي، ما جزاء من فاضت عيناه من خشيتك؟ قال: جزاؤه (٣) أؤمنه يوم الفزع الأكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں : ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : میرے معبودِ برحق ! اس شخص کے لئے کیا انعام ہے جس کی آنکھیں آپ کے ڈر سے آنسو بہا دیں ؟ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : اس کا انعام یہ ہے کہ میں اسے بہت بڑی گھبراہٹ (یعنی قیامت) کے دن امن میں رکھوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36998
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36998، ترقيم محمد عوامة 35422)