کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا داؤد علیہ السلام کا تذکرہ
حدیث نمبر: 36963
٣٦٩٦٣ - حدثنا (مروان) (١) بن معاوية عن عوف عن عباس العمى قال: بلغني أن داود النبي ﷺ كان يقول في دعائه: سبحانك اللهم أنت ربي، تعاليت فوق عرشك، وجعلت خشيتك على من في السماوات والأرض، فأقرب خلقك (منك) (٢) منزلة (٣) أشدهم لك خشية، وما (علم) (٤) من لم يخشك، (و) (٥) ما حكمة من لم يطع أمرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس العمّی کہتے ہیں : مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام دعا میں یوں فرمایا کرتے تھے : پاک ہے تو اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے، تو اپنے عرش پر (اپنی شان کے مناسب) جلوہ نما ہے، آسمان و زمین میں بسنے والوں پر تو نے اپنا رعب طاری کر رکھا ہے، مخلوق میں جو تجھ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے وہی سب سے زیادہ تجھ سے قریب ہے۔ جو تجھ سے نہ ڈرتا ہو اس کا علم بےکار ہے ! یا (پھر فرمایا) جو تیری اطاعت نہ کرتا ہو وہ بےعقل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36963
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36963، ترقيم محمد عوامة 35387)
حدیث نمبر: 36964
٣٦٩٦٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبي عبد اللَّه الجدلي (قال) (١): ما رفع داود رأسه إلى السماء حتى مات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ جدلی کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام نے تا حیات اپنا سر آسمان کی طرف نہ اٹھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36964
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36964، ترقيم محمد عوامة 35388)
حدیث نمبر: 36965
٣٦٩٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: لما أصاب داود الخطيئة، وإنما كانت خطيئته أنه لما (أبصر) (١) (أمر بها) (٢) (فعزلها) (٣) فلم يقربها، فأتاه الخصمان (فتسورا) (٤) في المحراب، فلما أبصرهما قام إليهما فقال: أخرجا ⦗٢٢٩⦘ عني، ما جاء بكما إلي؟ قال: (فقالا) (٥): إنما نكلمك بكلام يسير، إن هذا أخي له تسع وتسعون نعجة (ولي نعجة) (٦) واحدة، وهو يريد أن (يأخذها) (٧) مني، فقال داود: واللَّه (إنه) (٨) (أحق) (٩) أن يُكسر منه من لدن (هذا) (١٠) إلى (هذا) (١١) -يعني من أنفه إلى صدره- قال: فقال الرجل: فهذا داود قد فعله، فعرف داود (أنه) (١٢) إنما يعنى (بذلك) (١٣)، وعرف ذنبه فخر ساجدا أربعين يوما وأربعين ليلة، وكانت خطيئته مكتوبة في يده، ينظر إليها لكيلا يغفل حتى (نبت البقل) (١٤) حوله من دموعه، ما غطى رأسه فنادى بعد أربعين يومًا: (قرح) (١٥) الجبين (وجمدت) (١٦) العين، وداود لم يُرجع إليه في خطيئته (بشيء) (١٧)، فنودي أجائع (١٨) فتطعم، أو عريان فتكسى، (أو) (١٩) مظلوم فتنصر، قال: فنحب نحبة هاج (ما) (٢٠) ثم من البقل حين لم يذكر ⦗٢٣٠⦘ ذنبه، فعند ذلك غفر له، فإذا كان يوم القيامة قال له ربه: كن أمامي، فيقول: أي رب ذنبي ذنبي، فيقول (اللَّه) (٢١) له: كن (من) (٢٢) خلفي، فيقول: أي رب ذنبي ذنبي، قال: فيقول له: خذ بقدمي فيأخذ بقدمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کہتے ہیں : جب داؤد علیہ السلام سے لغزش ہوئی ، اور ان کی لغزش کا بھی یہ عالم تھا کہ جونہی آپ کو اس کا احساس ہوا ، آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور ترک کردیا، اور دوبارہ کبھی اس کے قریب بھی نہ گئے ، تو ان کے پاس دو جھگڑنے والے (اپنا جھگڑا لے کر) آئے، اور دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ میں جا گھسے۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف بڑھے اور فرمایا : چلے جاؤمیرے پاس سے ، کس لئے یوں اندر چلے آئے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے جواب دیا : ہم آپ سے چھوٹی سی بات کریں گے، یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک بھیڑ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایک بھیڑ) بھی مجھ سے ہتھیا لے۔ اس پر داؤد علیہ السلام نے فرمایا : بخدا یہ اس لائق ہے کہ اسے یہاں سے یہاں تک۔ یعنی ناک سے سینے تک۔ چیر دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : اس آدمی نے کہا : یہ ہیں داؤد جنہوں نے (اتنی آسانی سے فیصلہ) کر بھی دیا۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ انہیں تنبیہ کی گئی ہے، اور اپنی خطا کو بھی پہچان گئے۔ چناچہ آپ چالیس دن اور چالیس راتیں سجدے میں پڑے رہے، اور وہ لغزش آپ کے دست مبارک پر یوں تحریر تھی کہ آپ اسے دیکھتے رہتے، تاکہ غافل نہ ہوجائیں۔ (آہ وزاری کا یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ آپ کے ارد گرد اتنا بلند سبزہ اگ آیا جس نے آپ کے سر کو بھی ڈھانپ لیا۔ چالیس دن کے بعد آپ پکار اٹھے : پیشانی زخم زدہ ہوگئی، آنکھیں خشک ہو کر رہ گئیں، لیکن داؤد کے قضیے کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس پر ندا سنائی دی : کیا بھوکا ہے کہ تجھے کھانا کھلایا جائے، کیا بےلباس ہے کہ تجھے لباس پہنایا جائے ، کیا مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے۔ راوی کہتے ہیں : جب آپ نے دیکھا کہ (اس ندا میں) آپ کی خطا کا ذکر بھی نہیں کیا گیا تو آپ ایسی شدت سے روئے کہ آس پاس اگا ہوا سبزہ بھی خشک ہوگیا۔ (جب داؤد علیہ السلام کی یہ حالت ہوگئی) تو اس وقت آپ کی لغزش معاف فرما دی گئی۔ بس جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کے ربِ ذوالجلال ان سے فرمائیں گے : میرے سامنے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ عرض کریں گے : اے میرے پروردگار میرا گناہ (اس سے مانع ہے) میرا گناہ۔ اللہ جلّ شانہ فرمائیں گے : میرے پیچھے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ (پھر) عرض کریں گے : اے میرے پالنہار میرا گناہ (مجھے حیا دلاتا ہے) میرا گناہ۔ اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرمائیں گے : میرے قدموں میں آجائیے۔ تو آپ علیہ السلام قدموں میں آجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36965
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36965، ترقيم محمد عوامة 35389)
حدیث نمبر: 36966
٣٦٩٦٦ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (علي) (١) بن الأقمر عن أبي (الأحوص) (٢) قال: دخل الخصمان على داود (٣): أحدهما آخذ برأس صاحبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو حریف اس حالت میں آئے تھے کہ ایک نے دوسرے کو بالوں سے پکڑا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36966
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36966، ترقيم محمد عوامة 35390)
حدیث نمبر: 36967
٣٦٩٦٧ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبي هاشم عن سعيد بن جبير قال: إنما كانت فتنة داود (النظر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام کی آزمائش دانائی کے ذریعے کی گئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36967
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36967، ترقيم محمد عوامة 35391)
حدیث نمبر: 36968
٣٦٩٦٨ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة عن سعيد (الجريري) (٢) أن داود قال: يا (جبرائيل) (٣) أي الليل أفضل؟ قال: ما أدري غير أني (أعلم) (٤) (أن) (٥) العرش (يهتز) (٦) من السحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید جریری سے مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے فرمایا : اے جبرائیل ! رات کا کون سا حصہ سب سے بہتر ہے۔ جبرئیل نے جواب دیا : یہ تو میں نہیں جانتا ، البتہ مجھے یہ معلوم ہے کہ صبح سے کچھ پہلے کا وقت ایسا ہے کہ (اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جوش سے) عرش بھی جھوم اٹھتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36968، ترقيم محمد عوامة 35392)
حدیث نمبر: 36969
٣٦٩٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن خالد الربعي (قال) (١): أخبرت أن ⦗٢٣١⦘ (فاتحة) (٢) الزبور الذي يقال (له) (٣) زبور داود: رأس الحكمة خشية الرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد ربعی کہتے ہیں : مجھے بتایا گیا ہے کہ اس زبور کی ابتدا جسے زبور داؤد کہتے ہیں اس جملہ سے ہوتی ہے : ” دانائی کی بنیادربِ ذو الجلال کا ڈر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36969، ترقيم محمد عوامة 35393)
حدیث نمبر: 36970
٣٦٩٧٠ - حدثنا أبو أسامة عن (الفزاري) (١) عن الأعمش (عن المنهال) (٢) عن عبد اللَّه بن الحارث عن ابن عباس قال: أوحى اللَّه (إلى) (٣) داود ﵇ (٤): (قل) (٥) للظلمة (لا تذكروني) (٦)، فإنه حق علي أن أذكر من ذكرني، وأن (ذكري) (٧) إياهم أن ألعنهم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ جلّ شانہ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی : ظالموں سے کہہ دیجئے : میرا ذکر مت کیا کریں، کیونکہ میرا ذکر کرنے والوں کا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں بھی ان کا ذکر کروں، اور ان (ظالموں) کے لئے میرا ذکر یہی ہے کہ میں ان پر لعنت کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36970
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٧٣، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٤٨٣)، وهناد (٧٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36970، ترقيم محمد عوامة 35394)
حدیث نمبر: 36971
٣٦٩٧١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن المنهال عن عبد اللَّه بن الحارث قال: أوحى اللَّه إلى داود ﵇ (١): أن أحبني وأحب أحبائي وحببني إلى عبادي، قال: يا رب (٢) أحبك، وأحب أحباءك؟ فكيف أحببك إلى (عبادك) (٣)؟ قال: (اذكرني) (٤) لهم، فإنهم لن يذكروا مني (إلا) (٥) خيرًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں : اللہ جل شانہ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ مجھ سے محبت کرو اور میرے چاہنے والوں سے بھی محبت کرو اور مجھے میرے بندوں کا محبوب بنادو۔ داؤد علیہ السلام نے عرض کیا : اے میرے رب ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور آپ کے چاہنے والوں سے بھی محبت کرتا ہوں، لیکن میں آپ کو آپ کے بندوں کا محبوب کیسے بناؤں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کے سامنے میرا ذکر کیجئے، کیونکہ وہ یقینا میرا ذکر بھلائی کی باتوں سے ہی کریں گے (توخود بخود ان کے دل میں میری محبت پیدا ہوجائے گی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36971
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36971، ترقيم محمد عوامة 35395)
حدیث نمبر: 36972
٣٦٩٧٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن (أبي) (١) إسحاق عن (٢) (ابن) (٣) أبزى قال: قال: داود نبي اللَّه ﵇ (٤): كان أيوب (أحلم) (٥) الناس، وأصبر الناس، (وأكظمه لغيظ) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابزٰی کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : ایوب (علیہ السلام ) لوگوں میں سب سے زیادہ بردبار تھے، اور سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے، اور سب سے زیادہ اپنے غصہ کو دبانے والے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36972
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36972، ترقيم محمد عوامة 35396)
حدیث نمبر: 36973
٣٦٩٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا مبارك عن الحسن قال: كان داود النبي ﷺ (يقول) (١): اللهم لا مرض (يضنيني) (٢) ولا صحة تنسيني (ولكن) (٣) بين ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کہتے ہیں : حضرت داؤد نبی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! نہ تو مجھے ایسا مرض لاحق کیجئے جو مجھے بالکل بےکار کر دے، اور نہ ہی ایسی صحت عطا کیجئے جو مجھے (حق سے) غافل کر دے، بلکہ اعتدال والی کیفیت عطافرمائیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36973
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36973، ترقيم محمد عوامة 35397)
حدیث نمبر: 36974
٣٦٩٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن محمد بن سليم عن ثابت البناني عن صفوان بن محرز قال: كان لداود نبي اللَّه ﷺ (١) يومٌ يتأوه (فيه) (٢)، (فيقول) (٣): أَوّه من عذاب اللَّه، أوه من عذاب اللَّه، أوه من عذاب اللَّه، (أوه من عذاب اللَّه) (٤)، (و) (٥) لا أوه، قال: (فذكرها) (٦) ذات يوم في مجلس، فغلبه البكاء حتى قام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن محرز کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام کبھی بہت درد مند ہوجاتے تو فرمایا کرتے : میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، اس کے سوا مجھے اور کوئی غم نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن کسی مجلس میں آپ علیہ السلام کو عذاب اِلٰہی کا خیال آگیا تو آپ پر اس طرح آہ وزاری کا غلبہ ہوا کہ آپ کو وہاں سے اٹھنا پڑا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36974
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36974، ترقيم محمد عوامة 35398)
حدیث نمبر: 36975
٣٦٩٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن محمد بن سليم عن ثابت قال: كان داود نبي اللَّه ﵇ (١) إذا ذكر عقاب اللَّه تخلعت أوصاله لا يشدها (إلا (الأسر)) (٢) (٣)، فإذا ذكر رحمة اللَّه (تراجعت) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا خیال آجاتا تو آپ کا جوڑ جوڑ اپنی جگہ سے اس طرح کھسک جاتا کہ اسے باقاعدہ (ـفنِ جراحت کے زریعے) واپس بٹھانا پڑتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36975
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36975، ترقيم محمد عوامة 35399)
حدیث نمبر: 36976
٣٦٩٧٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: حدثني علقمة بن مرثد عن (ابن) (١) بريدة قال: لو عدل بكاء أهل الأرض ببكاء داود ما عدله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ کہتے ہیں : اگر روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کی آہ وزاری کا مقابلہ اکیلے حضرت داؤد علیہ السلام کی آہ وزاری سے کیا جائے، تو (ان لوگوں کی آہ وزاری حضرت داؤد علیہ السلام کی آہ وزاری کے) برابر نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36976
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36976، ترقيم محمد عوامة 35400)
حدیث نمبر: 36977
٣٦٩٧٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مغول قال: كان في زبور داود أني أنا اللَّه لا إله إلا أنا، ملك الملوك، قلوب الملوك بيدي، فأيما قوم كانوا على طاعة جعلت الملوك عليهم رحمة، وأيما قوم كانوا على معصية جعلت الملوك عليهم نقمة، لا تشغلوا أنفسكم (بسب) (١) الملوك ولا (تتوبوا) (٢) إليهم، توبوا إلي أعطف قلوب الملوك عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام (پر نازل) کی (گئی کتاب) زبور میں تھا : بیشک میں ہی سب کا معبود ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ (میں) بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں۔ بس جو قوم بھی (میری) طاعت گزاری پر (مداومت کرتی) ہوگی، میں بادشاہوں کو ان پر رحم کرنے والا بنا دوں گا۔ اور جو قوم بھی (میری) نافرمانی پر (ڈھٹائی کرتی) ہوگی، میں بادشاہوں کو ان سے انتقام لینے والا بنا دوں گا۔ (تو) بادشاہوں کو برا بھلا کہنے میں مت لگے رہو، نہ ہی (اپنی حاجتوں میں) ان کی طرف رجوع کرو، بلکہ میری طرف لوٹ آؤ، میں بادشاہوں کے دلوں کو بھی تمہارے لئے نرم کر دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36977
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36977، ترقيم محمد عوامة 35401)
حدیث نمبر: 36978
٣٦٩٧٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي إسحاق عن (عبد الرحمن) (١) ابن أبزى قال: قال: داود النبي ﵇ (٢): خطبة الأحمق في نادي القوم كمثل الذي يتغنى عند رأس الميت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمٰن ابنِ ابزی فرماتے ہیں : نبی داؤد علیہ السلام نے فرمایا : لوگوں کی مجلس میں بیوقوف شخص کا تقریر کر نا ایسا ہے جیسے کوئی شخص میت کے سرہانے کھڑا ہو کر گیت گانے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36978
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36978، ترقيم محمد عوامة 35402)
حدیث نمبر: 36979
٣٦٩٧٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد (عن الحسن) (١) عن الأحنف بن قيس عن ((النبي) (٢) ﷺ قال: "إن داود) (٣) ﵇ (٤) قال: يا رب إن بني إسرائيل يسألونك بإبراهيم وإسحاق ويعقوب، فاجعلني يا رب لهم رابعا، (قال) (٥): فأوحى (اللَّه) (٦) إليه (٧) يا داود إن إبراهيم ألقي في النار (في شيء) (٨) فصبر، (٩) وتلك بلية لم تنلك، وإن إسحاق بذل (مهجة دمه في شيء) (١٠) فصبر (١١)، (وتلك) (١٢) بلية لم (تنلك) (١٣)، [وإن يعقوب أخذت حبيبه حتى أبيضت عيناه (فصبر) (١٤)، وتلك بلية لم تنلك] (١٥) " (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت احنف بن قیس نبی اکرم علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک داؤد علیہ السلام نے فرمایا : اے میرے رب ! بیشک بنی اسرائیل آپ سے ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب ۔ (تین نبیوں) کے وسیلہ سے سوال کرتے ہیں ، تو آپ مجھے بھی ان کے ساتھ چوتھا بنا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف (یہ) وحی نازل فرمائی : اے داؤد ! ابراہیم کو میری (توحید بیان کرنے کی) وجہ سے آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے (اس پر) صبر کیا، اور آپ اس امتحان سے نہیں گزرے۔ اسحق 1 کو میری (رضا کی) خاطرنذرانہ جان پیش کرنا پڑا، تو انہوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ پر یہ آزمائش نہیں آئی۔ اور یعقوب ان کے تو محبوب کو میں نے ان سے جدا کئے رکھا ، یہاں تک کہ (رو رو کر) ان کی آنکھوں میں سفیدی اتر آئی، تو انہوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ سے یہ ابتلا (بھی) دور رہی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36979
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف مرسل؛ علي بن زيد هو ابن جدعان ضعيف، والأحنف ليس من الصحابة، وأخرجه الحاكم ٦/ ٦٠٢، والدولابي ٢/ ٥٨٧، وابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٢/ ٤٨٨، وابن عدي ٢/ ٢٩٩، وابن عساكر ٦/ ٢٢٢، وابن الجوزي في التبصرة ١/ ١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36979، ترقيم محمد عوامة 35403)
حدیث نمبر: 36980
٣٦٩٨٠ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن أبي (المصعب) (١) عن أبيه عن كعب قال: كان إذا أفطر الصائم استقبل القبلة فقال: اللهم خلصني من كل مصيبة نزلت (الليلة) (٢) من السماء إلى الأرض -ثلاثًا، وإذا طلع حاجب الشمس قال: اللهم اجعل لي سهما في كل حسنة نزلت من السماء -ثلاثًا، قال: فقيل له فقال: دعوة داود فلينوا بها ألسنتكم وأشعروها قلوبكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب کہتے ہیں : جب افطار کا وقت آتا تو ایک روزہ دار قبلہ رو ہو کر کہتا : اے اللہ ! مجھے ہر اس مصیبت سے خلاصی عطا فرما دیجئے جو آج کی رات میں آسمان سے زمین پر نازل ہونے والی ہے۔ (وہ ایسا) تین مرتبہ (کہتا) ۔ اور جب سورج کی روشنی پھیلنے لگتی تو کہتا : اے اللہ ! ہر اس بھلائی میں میرا حصہ بھی رکھئے جو آسمان سے نازل ہونے والی ہے۔ (وہ ایسا بھی) تین مرتبہ (کہتا) راوی کہتے ہیں : اس شخص سے (ان کلمات کے بارے میں) پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا : یہ داؤد علیہ السلام کی دعا ہے، اس سے اپنی زبانوں کو آسودگی بخشو، اور اپنے دلوں پر اسے چسپاں کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36980
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36980، ترقيم محمد عوامة 35404)
حدیث نمبر: 36981
٣٦٩٨١ - حدثنا وكيع عن (يونس) (١) (بن) (٢) أبي إسحاق عن أبيه عن ابن أبزى (قال) (٣): قال داود ﵇ (٤): نعم العون اليسار على الدين (أو الغنى) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابزی کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : بہترین امداد دین پر (چلنے میں) سہولت (ہو جانا) ہے۔ یا (پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا): (بہترین امداد) مالداری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36981
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36981، ترقيم محمد عوامة 35405)
حدیث نمبر: 36982
٣٦٩٨٢ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن العلاء بن المسيب عن رجل عن مجاهد قال: قال داود ﵇ (١): يا رب طال عمري وكبرت سني وضعف (ركني) (٢) (فأوحى) (٣) اللَّه إليه: يا داود طوبى لمن طال عمره وحسن عمله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : اے میرے پروردگار ! میری حیات طویل ہوگئی ہے، اور میں عمر رسیدہ ہوگیا ہوں، اور میری قوّت ماند پڑگئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی : اے داؤد ! خوش بخت ہے وہ شخص جس کی عمر طویل ہوجائے اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36982، ترقيم محمد عوامة 35406)